Daily Roshni News

شکٓی فطرت انسان کی نفسیات.!!!

شکٓی فطرت انسان کی نفسیات.!!!

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  سید  اسلم  شاہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  سید  اسلم  شاہ)شک کرنے کی بیماری عموماً ان لوگوں کو ہوتی ہے جن میں شدید احساس کمتری ہو۔ جنکو اپنی مارکیٹ ویلو کا پتہ ہو کہ بڑی مشکلوں سے ہم کو یہ بے وقوف جیون ساتھی ملا ہے جوکہ ناکارہ الگ ہے (اس لئے کہ انکو جو مل گیا ہے) ساتھ ہی یہ بات انکو کھائے جاتی ہے کہ یہ ہمیں اتنی عزت و محبت کیوں دے رہا ہے ضرور دال میں کچھ کالا ہے ۔ اس لئے یہ احساس ہر پل بےچین رکھتا ہے کہ یہ کنفرم ناکارہ ہی تھا اس لئے تو مجھ سے شادی کرلی ورنہ اسکو کوئی اور نہی مل جاتا۔ ساتھ ہی یہ خدشہ بھی کھائے جارہا ہوتا ہے کہ کہیں اسکو کوئی اور نا مل جائے اور مل کر اسکی چھپی صلاحیتیں ابھار نا دے یا اب تک اسکو صرف ہم ہی ملے ہیں اس لئے اسکو کوئی موازنہ نہی اگر کوئی دوسرا مل گیا تب کہیں یہ ہماری اصل اوقات سے واقف ہوجائیں اور ہمیں ہماری اوقات دکھا کر ہاتھ سے نکل جائے۔

اس طرح کی بیمار ذہنیت والوں کا کام سوائے طعنہ تشنع اور کچوکے لگانا ہی ہوتا ہے۔ ہر دم شکوہ شکایت کا بازار ۔ کچھ نہی تو عورتیں سسرال کا رونا لے کر بیٹھ جاتی ہیں کہ تمہاری وجہ سے مصیبت میں ہوں ۔ بھلے منہ سے نا بولیں لیکن بار بار شکایت کا انبار یہی جتانے کی کوشش ہواکرتی ہے۔ ساتھ ہی شوہر کو اسکی کسی بھی کمی خصوصاً روزگار کے سلسلے میں رویؤں سے طعنہ دینا۔

ہر وقت سیٹالائٹ کی طرح شریک حیات پر نظر رکھنا۔

کیونکہ یہ کام انتہائی احساس کمتری کا مارا شخص ہی کرتا ہے ایک نارمل کانفیڈینٹ انسان نہی۔

اس بیچ اگر ان کو پختہ شک ہوجائے کہ شوہر یا بیوی کی کہیں دوستی ہے۔ تو اتنا زلیل کرنا اتنا تنگ کرنا کہ اسکو خون تھکوادینا۔

اکثر لوگوں کو اس بات پر کلام ہوسکتا ہے کہ مرد یا عورت کی کسی جگہ اپنی بیوی یا شوہر ہوتے دوستی ہوئی کیوں؟ خود کو اس مرد یا عورت کی جگہ رکھ کر سوچیں ۔ ہر وقت بےسکونی ماحول خراب ڈسٹربینس — ایسے میں اگر کسی مخلص دوست کی توجہ اور محبت مل جائے تو انسان ہونے کے ناطے مرد کیا عورت بھی اس راہ کی مسافر ہوجائے۔

ایسے تمام ہی بیشرم شکی مزاج شوہروں اور بیویوں کو مشورہ ہے کہ ﷲ کا شکر ادا کرلیں یہ جو اوقات سے بڑھ کر مل گیا ہے اپنی کم عقلی سے اسکو دور نا کریں۔ اور عورتیں خصوصاً انسان بن کر رہیں یہ بات بے بات علیحدگی کی باتیں کسی طور عورت زات پر نہی جچتی۔ سیدھی بات ہے اگر کسی مرد کی بیوی اسکو چھوڑ جانےکی دھمکی دے رہی ہے تو اس سے پوچھے کہ کیا کوئی نیا ٹھکانا ڈھونڈ لیا ہے کہ شادی شدہ زندگی گزار کر بچوں کی اماں ہوکر بھی علیحدگی کی باتیں کررہی ہو۔ بہت شوق ہورہا ہے تو باندھو بوریا بستر اور معاف کرو میرا حق مہر ۔ تب آزاد کرتا ہوں تم کو ۔ ورنہ لٹکا ماروں گا ۔

اس بیچ بیچارا ویکٹم مرد ایک کام کرے کسی طرح ملک سے باہر چلا جائے۔ کما بھی لے گا اور ٹیکنالوجی کے زریعے ساتھ کا ساتھ الگ کا الگ بھی ہوگا۔ کیونکہ یہ وہ عورتیں ہوتی ہیں جو اپنے نصیب میں بیوگی لکھا کر آئی ہوتی ہیں۔ لیکن انکی شادی بےجوڑ ہوئی ہوتی ہے اس لئے انکا میاں حیات ہوتا ہے۔

اور جو بیویاں ایسے شکی نامردوں کو بھگت رہی ہیں وہ انکو اس بات کی یاد دھیانی کروادیں کہ جو عورتیں معاشرے میں عزت کرواسکتی ہیں وہ عزت اچھال بھی سکتی ہیں ۔

ایک مکمل مرد یا مکمل عورت کو اگر کبھی اس سچویشن کا سامنا ہو کہ اسکا جیون ساتھی کہیں اور انوالؤ ہے تو وہ الرٹ ہوجاتے ہیں۔ اور اپنے جیون ساتھی کو پہلی ترجیح پر رکھ کر اسکو محبت اور توجہ کا احساس دلاتے ہیں اپنی خلوت کے لمحات سجادیتے ہیں۔ شکوہ شکایت میں نہی پڑتے کیونکہ مرد کو محبوبہ اسی لئے بھاتی ہے کہ نا اس پر خرچنا پڑتا ہے نا ہی وہ اپنے معاشی یا معاشرتی مسائل کا رونا روتی ہے۔ جبکہ محبوب کا معاملہ الگ ہے وہ اپنی محرومیوں کا رونا روکے ہی جگہ بنا پاتا ہے۔اس لے عقل و ہوش کریں۔ایسی سیچؤیشن میں کبھی علیحدگی کی باتیں نا کریں۔ ورنہ آپ خود شریک حیات کی ڈولی تیار کرنے کے ذمہ دار ہونگے۔

ہمارا معاشرہ بہت سی قیود اور پابندیوں کے باعث شرافت میں جکڑا ہے ورنہ اگر یہ حدود و قیود نا ہوں ۔ بچوں کے مستقبل کی گارنٹی ہو تو بہت سے گھروں کو ٹوٹتے دیر نا لگے۔ میرے ایک بہت عزیز دوست کا قول ہے کہ خوشیاں تقدیروں میں ہونی چاہئے ورنہ تصویروں میں تو ہر کوئی خوش دیکھتا ہے۔

Loading