Daily Roshni News

اللہ کی محبت کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول ﷺ کو کس طرح اور کن کن تسبیحات کے ذریعے پکا کیا جا سکتا ہے

اللہ کی محبت کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول ﷺ کو کس طرح اور کن کن تسبیحات کے ذریعے پکا کیا جا سکتا ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اللہ کی محبت کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول ﷺ کو کس طرح اور کن کن تسبیحات کے ذریعے پکا کیا جا سکتا ہے

پروفیسر صاحب: خدا اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں تفریق اور جدائی ہو ہی نہیں سکتی. کسی pattern میں نہیں ہو سکتی۔

حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ حاضر ہوئے حضورِگرامیﷺ کی خدمت میں۔ پوچھا

“اے کعب! کیا پڑھتے ہو۔”

فرمایا “یارسول اللہ ﷺ میں یہ، یہ اور یہ تسبیحات پڑھتاہوں۔”

فرمایا: “کعب! درود پڑھا کرو مجھ پہ۔”

فرمایا: “یا رسول اللہﷺ ایک تہائی کرلوں۔”

آپ ﷺ نےفرمایا: “کعب! اور پڑھا کرو۔”

فرمایا: “یا رسول اللہ ﷺ نصف کردوں۔”

فرمایا حضور اکرم ﷺنے: “اور پڑھ لو.”

فرمایا کعب نے “یا رسول اللہﷺ میں درود ہی نہ پڑھا کروں۔”

فرمایا: “کفایت کرے گا”

تو درود کی فضیلت یہ ہے کہ یہ تسبیحِ تسبیحات ہے اور درود کا اصل مطلب جو ہے وہ یاد ہے۔۔۔۔ محبت کی یاد۔۔۔۔ اور یہ جو آپ دیکھتے ہو کہ اللہ اور اس کے ملائکہ کا رسول اللہﷺ پر درود بھیجتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے ملائکہ محمدﷺ کو یاد کرتے ہیں۔ سو آپ بھی اپنے رسول اللہﷺ کو یاد کرو۔ ادھر اللہ نے اپنے بارے میں حکم دیا:

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠(۱۵۲)

(تو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکرادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو)

ایک اللہ کے ولی سے کسی نے پوچھا کہ یار! یہ جو طویل اور بے ہنگم قسم کی تسبیح تم لیے پھرتے ہو تو کیا خدا بھی تم کو یاد کرتا ہے کہ نہیں۔ تو اس نے کہا کہ اے جاہلِ مطلق! میں اللہ کے وعدے پر اعتبار نہ کروں اور تیری بات پر کروں۔ جب وہ قرآن پاک میں کہتا ہے کہ جو مجھے یاد کرتا ہے میں اسے ضرور یاد کرتا ہوں۔ میری یاد تو ناقص ہے، فضول سی ہے، لذاتِ دنیا میں، ہزار interests میں الجھی ہوئی یاد ہے۔ لیکن جب اللہ مجھے یاد کرے گا تو یقیناً میری ذات کے اندر اور باہر ضرور اس کا بےپناہ فرق پڑے گا۔ جب وہ مجھے یاد کرے گا تو میں اپنے آپ پر ناز کرنے کے قابل ہوں گا اور محمد رسول اللہﷺ کی یاد، اور اللہ کی یاد، یہ درود میں آکر مکمل ہوجاتی ہے۔ لوگ یہ درود پڑھتے ہیں “صلی اللہ علیہ وسلم” یہ ناقص ہے جن بزرگوں نے یہ تلقین کیا ان کو مطلب سمجھ نہیں آیا۔ درود کا تو مطلب ہی بیک وقت اللہ اور رسولﷺ کے نام کی تلاوت کرنا ہے۔

“اللھم صلی علی محمد” تو جوں جوں یہ درود پڑھا جائے گا، اللہ کا اسمِ گرامی آپ کی زبان پر آئے گا۔

محمد رسول اللہ ﷺ کا اسمِ گرامی مبارک آپ کی زبان پر آئے گا اور حضورﷺ فرماتے ہیں، جس نے میرا نام لیا اور مجھ پر سلام نہ پڑھا وہ بخیل ہے۔ اب دیکھئے! درود پڑھنے والا بخیل کیسے ہو سکتا ہے؟ فطرتِ انسان کو بدل دے گا درود۔ رحمتِ کبریا اس کے شاملِ حال ہوگی۔ رحمت اللعالمین کی دعا ان کے شریک ہوگی۔ البتہ تسبیحات میں ہم اس کی تلقین کم کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر تسبیح کے خلاف ایک Mechanism کھڑا ہوتا ہے۔ جیسے “رحمان” کے خلاف غضب کھڑا ہے۔ جیسے “شکور حلیم” کے خلاف “احضرت الا نفس الشح” کھڑی ہے۔ اسی طرح درود پاک کے خلاف بعض اوقات انسانی ذہن میں Sacrilege کے خیالات ابھرتے ہیں اور ایک عام انسان جس کا اچھا ذہن  نہیں ہے  تو درود پڑھتے ہوئے وہ Guilt کا شکار ہو جاتا ہے۔ تو درود آخری تسبیح ہے اور اللہ کی یاد میں اس کو ایک معتبر ترین مقام حاصل ہے اور محبتِ خداو رسولﷺ دونوں کے لئے درود کافی ہے۔

Peman e Azal

Page#633

#allahistheonlytoppriority

#profahmadrafiqueakhtar

#islamicthought

Loading