*آج 13مئی….عظیم مجاہد آزادی اور لاجواب شاعر حسرت موہانی صاحب کا یوم وفات*
انتخاب و پیشکش ۔۔۔ طارق اسلم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ انتخاب و پیشکش ۔۔۔ طارق اسلم)سید فضل الحسن نام ، حسرت تخلص۔4 اکتوبر ۱۸۷۵ء میں قصبہ موہان ضلع اناو(اودھ) میں پیدا ہوئے۔۱۸۹۴ء میں آپ نے اردو مڈل کا امتحان موہان سے پاس کیا اور پورے صوبے میں اول آئے۔ ۱۸۹۹ء میں انٹرنس کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا اور وظیفہ لے کر اعلا تعلیم کے لیے علی گڑھ پہنچے۔ ۱۹۰۳ء میں حسرت نے علی گڑھ سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۰۴ء میں انھوں نے علی گڑھ سے ’’اردوئے معلی‘‘ جاری کیا۔ تسلیم لکھنوی سے تلمذ حاصل تھا۔ آزادئ وطن کی خاطر متعدد بار جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ شاعر کے علاوہ ایک اچھے نقاد اور سیاست دان تھے۔ حسرت’’رئیس المتغزلین‘‘ کہلاتے تھے۔ وہ اپنے گھر کا کام خود کرتے تھے۔ ان کی زندگی بہت سادہ اور فقیرانہ تھی۔ ریل میں ہمیشہ وہ تیسرے درجے میں سفر کرتے تھے۔ انھوں نے کئی بار حج کی سعادت حاصل کی۔ ۱۳؍مئی ۱۹۵۱ء کو لکھنؤمیں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’’کلیات حسرت‘‘، ’’شرح دیوان غالب‘‘، ’’مشاہدات زنداں‘‘۔ اس کے علاوہ حسرت نے اساتذہ قدیم وجدید کے کلام کا انتخاب متعدد جلدوں میں کیا ہے۔
بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:262
موصوف کے یوم وفات پر کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں