سائنس موت پر قابو پا لے ،
تو مذہب کا کیا بنے گا ؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )غامدی صاحب سے ایک ںار ایک معقول سوال کیا گیا کہ اگر سائنس نے کل موت پر قابو پالیا تو مذہب کا کیا بنے گا جس کی بنیاد ہی اس مقدمے پر ہے کہ یہ موت کے بعد کام آئے گا۔
جواب میں غامدی صاحب کا یہ جُملہ قابلِ غور تھا کہ اگر خدا ہے تو وہ سائنس سے نمٹ لے گا، اور پھر باقی باتوں کے دوران ان کے چہرے کے تاثرات۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کوئی امر ہونا چاہتا ہے یا نہیں۔ اپنی بات کروں تو میں کم از کم امر نہیں ہونا چاہوں گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ مذہبی حضرات خواہ غامدی صاحب جیسے منکسر مزاج ہی کیوں نہ ہوں ، عروجِ آدمِ خاکی سے سہمے ہوئے ہیں۔ موت اور بیماری کے خوف سے لڑتا لڑتا انسان کتنی بیماریوں پر قابو پاچکا ہے لیکن ان کے کریڈیٹ پر انسان کو زمین پر درپیش کسی بھی مسئلے کا حل پیش کرنا نہیں رہا بلکہ یہ انسان کو درپیش مصائب اور تکالیف پر خوش ہوتے رہے ہیں کہ یہ تکالیف ، یہ عذاب ان کے نزدیک ایک دائمی ناراض خدا کے ہونے کی دلیل ہیں۔ یہ عذابوں اور بیماریوں کی ان دلیلوں کا خاتمہ چاہیں گے اور نہ ہی ان عذابوں سے نجات دلانے والوں کی صف میں شامل ہوسکیں گے۔ یہ عذابوں پر پلتے ہیں۔ انہیں احساس ہے کہ عذاب ہیں تو خدا بھی ہے اور ہمارا کاروبار بھی۔
لہٰذا انسانوں کو بیماریوں سے نجات دلانے والی ٹیکنالوجی سے نفرت ان کے چہروں سے عیاں ہوتی ہے۔ یہ کیسی عاجزی ہے؟ یہ کیسی انکساری ہے؟
غامدی صاحب کی وہ ویڈیو نظر سے گزری ہے جس میں وہ غارِ حرا میں پہلی وحی اور اس سے جڑے بعد کے واقعات کا ابطال کرتے دکھائی دیتے ہیں اور پھر کچھ پرانے اور کچھ نئے سوالات ذہن میں ابھرے۔
کیونکہ غار حرا کے واقعے کا انکار یہ محض ایک تاریخی اختلاف نہیں بلکہ ایک گہرا فکری اور نفسیاتی مسئلہ ہے۔ غارِ حرا میں جانا، بار بار جانا، اور پھر ایک دن وہیں وحی کا آغاز ہونا یہ سب پیغمبرِ اسلام کو محض ایک مصلح نہیں بلکہ انبیا اور دیو قامت روحانی شخصیات کی اُس ازلی لڑی میں پرو دیتا ہے جسے انسانی شعور صدیوں سے پہچانتا آیا ہے۔
یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پیغمبرانہ، صوفیانہ اور عرفانی تجربات کا گہرا مطالعہ کرنے والے جوزف کیمپبل نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب A Hero with a Thousand Faces میں یہ واضح کیا تھا کہ انسانی تاریخ میں مذہبی و روحانی “ہیرو” محض ایک فرد نہیں ہوتا، بلکہ ایک نفسیاتی سانچہ ہوتا ہے۔
کیمپبل کے مطابق اس ہیرو کی زندگی میں ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جب وہ سماج کی آنکھ سے دیکھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ سماج کی زبان، سماج کی قدریں، سماج کی وضع کردہ تعریفیں سب اسے ناکافی لگنے لگتی ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے کیمپبل Departure کہتا ہے۔
اس انکار کی وجہ محض بغاوت نہیں ہوتی بلکہ ایک گہری داخلی بے چینی ہوتی ہے۔ یونگ کی زبان میں یہ وہ لمحہ ہے جب collective consciousness ٹوٹتی ہے اور individuation کا سفر شروع ہوتا ہے۔
اس کے بعد Retreat یا Initiation کا مرحلہ آتا ہے۔
ہیرو جنگل کی طرف جاتا ہے، غار کی طرف، بیابان یا تنہائی کی طرف۔ یہ جغرافیہ نہیں، نفسیات ہے۔ یہاں سماج بولنا بند کرتا ہے، اور لاشعور بولنا شروع کرتا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں “سماج کی آنکھ” بند ہوتی ہے اور وہ تیسری آنکھ کھلتی ہے جس کا ذکر صوفیا اور عارف کرتے آئے ہیں۔
پھر ایک دن واقعہ ہوتا ہے۔
یونگ اسے numinous experience کہتا ہے۔ اس تجربے کے بعد شور ختم ہو جاتا ہے۔ الفاظ رک جاتے ہیں جسے رومی اس آواز کو سننا کہتے ہیں جو الفاظ استعمال نہیں کرتی کیونکہ اب ایک نیا آہنگ سنائی دے رہا ہے۔ ایسا آہنگ جو فرد کو بدل بھی دیتا ہے مگر اسے وہیں نہیں روکتا، سماج کی طرف لوٹا دیتا ہے۔
ہیرو واپس آتا ہے۔ لیکن وہ وہی شخص نہیں ہوتا جو گیا تھا۔ اب وہ سماج کو نیا وژن، نئی اخلاقیات، نئے معنی دیتا ہے۔
کیمپبل واضح طور پر کہتا ہے کہ انسانی تاریخ کی تمام اساسی کہانیاں خواہ وہ بدھا کی کہانی ہو یا حضرت عیسیٰ و موسی کی، سب کا یہی سانچہ ہے۔
کیا وجہ ہے کہ انسانی ذہن اُنہی کہانیوں کو قبول کرتا ہے جو اس نفسیاتی پیٹرن پر پوری اترتی ہوں؟
یہ پیٹرن آج بھی زندہ ہے۔ سوچیں Game of Thrones میں بھی تخت اسی کو ملتا ہے جس کی کہانی اس پیٹرن پر زیادہ پوری اترتی ہے۔
اب اس تناظر میں اگر غامدی صاحب غارِ حرا، پہلی وحی، اور اس سے جڑے واقعات کا انکار کرتے ہیں، تو اس کے مضمرات محض تاریخی نہیں رہتے بلکہ تہذیبی اور نفسیاتی ہو جاتے ہیں۔
ایک پہلو یہ ہے کہ غامدی صاحب تصوف کے منکر ہیں اور اسے ایک متوازی دین سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہ بات بعید نہیں کہ وہ پیغمبرِ اسلام کی تاریخ کو بھی ایک ایسے قالب میں ڈھالنا چاہتے ہوں جہاں اسرار، باطنی تجربہ اور ماورائی لمحات کا تذکرہ کم سے کم ہو جائے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ بھلے پیغمبرِ اسلام کو دیگر انبیا کے تسلسل سے الگ کرکے ان کی برتری کا کوئی نیا، زیادہ “عقلی” فلسفہ پیش کرنا چاہتے ہوں مگر یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ انسانی شعور برتری کو دلیل سے نہیں کہانی سے مانتا ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ مذہب سے اسرار ختم کرنا چاہتے ہیں پرویز کی طرح یہ نہیں سمجھتے کہ مذہب محض احکامات سے نہیں mystery سے زندہ رہتا ہے۔
یونگ صاف کہتا ہے کہ جس مذہب میں رمز ختم ہو جائے، وہ نفسیاتی طور پر بے اثر ہو جاتا ہے اور کیمپبل تو یہاں تک کہتا ہے کہ اگر ہیرو سے یہ ازلی پیٹرن چھین لیا جائے تو اس کی برتری، اس کی مرکزیت، اور اس کی کشش باقی نہیں رہتی۔
اب سوال یہ نہیں کہ غامدی صاحب درست ہیں یا غلط۔
اصل سوال یہ ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کو کس انسانی، نفسیاتی اور تہذیبی مقام پر رکھنا چاہتے ہیں؟
ان سوالات پر آپ بھی غور کر سکتے ہیں۔
جمشید اقبال
![]()

