خوشخبری نہیں ہے
تحریر۔۔۔حمیراعلیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ خوشخبری نہیں ہے۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )ہمارے معاشرے میں ایک اچھی روایت ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔لیکن بعض اوقات یہ روایت تکلیف دہ بن جاتی ہے جب ہم دوسروں کے ذاتی معاملات میں ٹانگ اڑانااپنا فرض بلکہ حق سمجھ لیتے ہیں۔اس کی بدترین مثال اس وقت سامنے آتی ہے جب کسی کی شادی ہوتی ہے اور چند دن بعد ہی دوست اور رشتے دار یہ پوچھنے لگتے ہیں کوئی خوشخبری ہے؟ یہ سوال بظاہر تو انتہائی معصومانہ، پیار بھرا دکھتا ہے لیکن اس کے پیچھے چھپی گہری سماجی توقعات اور مسلسل دباؤ کسی بھی نئے کپل کے لیے ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر ایک عذاب بن جاتا ہے جس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں جو اس کٹھن مرحلے سے گزر رہے ہوتے ہیں۔
شادی کے چند ہفتے یا مہینے بعد ہی اس بے جا تجسس اور سوالات کا سلسلہ طعنوں، کنایوں، اور ہمدردی کے لبادے میں لپٹی ہوئی زہر آلود گفتگو میں بدل جاتا ہے۔جو میاں بیوی کے تعلقات کو خراب کرتا ہے۔اس صورتحال کا نشانہ اکثر خواتین بنتی ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں اولاد کی پیدائش یا اس میں تاخیر کا تمام تر ملبہ عورت کے سر ہی ڈال دیا جاتا ہے۔ سسرال کے طعنے، نندوں اور ساس کی معنی خیز نظریں، اور خاندانی محفلوں میں ہونے والی کانا پھوسی عورت کا جینا دوبھر کر دیتی ہیں۔ خواتین کو یہ تک سننا پڑتا ہے کہ شاید اس میں ہی کوئی نقص ہے، پتہ نہیں کس منحوس گھڑی میں یہ گھر آئی تھی۔ یہ دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں کہ اگر یہی حال رہا تو ہمیں بیٹے کی دوسری شادی کرنی پڑے گی کیونکہ ہمیں تو اپنے خاندان کا وارث چاہیے۔ایک عورت جو اپنا گھر بار چھوڑ کر ایک نئے ماحول میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے اسے محبت، تحفظ اور وقت دینے کے بجائے مسلسل ایک ایسی مشین کی طرح دیکھا جاتا ہے جس کا واحد مقصد صرف اولاد پیدا کرنا ہے۔ خاندانی تقریبات میں اسے اچھوت بنا دیا جاتا ہے، حاملہ خواتین کے پاس بیٹھنے سے ٹوکا جاتا ہے، اور طرح طرح کے گھریلو ٹوٹکے، حکیموں کی جڑی بوٹیاں اور نام نہاد عاملوں کے تعویذ دھاگے استعمال کرنے کے مفت مشورے دیےجاتے ہیں۔ یہ سب اس کی عزتِ نفس کو بری طرح مجروح کرتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ اس سماجی دباؤ کا شکار صرف خواتین ہوتی ہیں بلکہ مردوں کو بھی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اگر شادی کے بعد جلد ہی بچہ پیدا نہ ہو تو تو معاشرہ فوراً مرد کی مردانگی پر سوالات اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔ دوستوں کی محفلوں میں جملے کسے جاتے ہیں، چچا، تایا اور دیگر قریبی مرد رشتے دار مشورے دیتے ہیں۔جو مرد کے لیے شدید شرمندگی اور ذہنی تناؤ کا باعث بنتے ہیں ۔ مردانگی کو براہِ راست اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے جوڑ دینا ایک ایسا جاہلانہ اور غیر سائنسی رویہ ہے جو مردوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس سماجی دباؤ اور طعنوں کے خوف سے بہت سے مرد شدید احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔جس کا اثر ان کے جیون ساتھی کے ساتھ تعلقات، ان کی نوکری، کاروبار اور مجموعی صحت پر پڑتا ہے۔ وہ اپنے ہی گھر والوں اور دوستوں سے کترانے لگتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہر ملاقات کا اختتام اسی ایک ناپسندیدہ اور چبھتے ہوئے سوال پر ہوگا۔
ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر عائشہ رحمان اس بارے میں کہتی ہیں:
”ہمارے معاشرے میں دوسروں کی زندگیوں میں دخل اندازی کو ایک تفریح یا اپنا حق سمجھ لیا گیا ہے جو کہ ایک شدید نفسیاتی بیماری ہے۔ جب کسی شادی شدہ جوڑے سے مسلسل خوشخبری کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو ان کے اندر ایک شدید قسم کی پرفارمنس اینگزائٹی کا مرض جنم لیتا ہے۔ خاص طور پر خواتین میں یہ دباؤ شدید ڈپریشن، اینگزائٹی اور بعض اوقات مستقل ذہنی امراض کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ میاں بیوی جو ابتدائی دنوں میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور محبت کا رشتہ مضبوط کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔وہ اس بیرونی دباؤ کی وجہ سے ایک دوسرے سے چڑچڑے ہو جاتے ہیں اور یوں ایک ہنستا کھیلتا گھرانہ جہنم بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی کی نجی زندگی کے بارے میں ایسے سوالات پوچھنا ذہنی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔”
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فیملی بڑھانا دنیا کے ہر جوڑے کا بے حد ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ اس میں کسی تیسرے شخص کی رائے، مشورے یا سوال کی کوئی گنجائش نہیں خواہ وہ دونوں کے والدین ہی۔کیوں نہ ہوں۔
بہت سے جوڑے ایسے ہوتے ہیں جو اپنی فیملی کچھ خاص وجوہات کی بناء پر فورا نہیں بڑھانا چاہتے۔ ان وجوہات میں سب سے بڑی وجہ مالیاتی عدم استحکام ہے۔آج کے دور میں جہاں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے سمجھدار جوڑے پہلے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی ہونے والی اولاد کو ایک بہترین مستقبل، اچھی تعلیم اور معیاری زندگی فراہم کر سکیں۔ اس کے علاوہ بعض اوقات میاں بیوی اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کر رہے ہوتے ہیں، یا اپنے کیریئر کے اس نازک موڑ پر ہوتے ہیں جہاں بچے کی ذمہ داری اٹھانا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ جوڑے شادی کے ابتدائی سالوں میں ایک دوسرے کو ذہنی طور پر سمجھنے، اپنے رشتے کو مضبوط کرنے اور جذباتی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے وقت چاہتے ہیں تاکہ بعد میں بچے کی پرورش ایک پرسکون اور مستحکم ماحول میں ہو سکے۔
یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیےکہ سب کچھ انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ بہت سے جوڑے ایسے ہوتے ہیں جو دل سے اولاد کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن اللہ کی طرف سے ان کے ہاں دیر ہو رہی ہوتی ہے۔ اولاد ایک ایسی نعمت ہے جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مصلحت سے ملتی ہے۔ کسی کے ہاں اولاد کا نہ ہونا یا تاخیر سے ہونا کوئی گناہ یا جرم نہیں ہے بلکہ یہ قدرت کا ایک نظام ہے۔ جب لوگ بے اولاد جوڑوں سے بار بار سوال کرتے ہیں تو وہ دراصل ان کے اس زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہوتے ہیں ۔ وہ جوڑا جو راتوں کو رو رو کر دعائیں مانگ رہا ہوتا ہے اور ہر مہینے امید اور ناامیدی کے ایک تکلیف دہ چکر سے گزرتا ہے۔جب اسے معاشرے کے بے حِس لوگوں کے طعنے اور سوالات جھیلنے پڑتے ہیں، تو ان کی دل آزاری اور مایوسی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔
اس معاملے کی حساسیت کو واضح کرتے ہوئے گائناکالوجسٹ ڈاکٹر سارہ ملک کہتی ہیں:
”اولاد کی پیدائش میں تاخیر کی بے شمار طبی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہو سکتا ہے۔ ہارمونز کا اتار چڑھاؤ، شدید ذہنی دباؤ، طرزِ زندگی اور دیگر کئی میڈیکل مسائل اس کی وجہ بنتے ہیں۔ لیکن جب معاشرہ کسی جوڑے پر مسلسل بچہ پیدا کرنے کا دباؤ ڈالتا ہے، تو اس دباؤ کے نتیجے میں جسم میں ایسے اسٹریس ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو حمل ٹھہرنے کے عمل کو مزید مشکل اور طول دے دیتے ہیں۔ یعنی لوگ جس بچے کی جلدی کے لیے طعنے دے رہے ہوتے ہیں ان کا یہی دباؤ اس عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں یہ کہوں گی کہ کسی بھی کپل کو طبی علاج کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہے ایک پرسکون اور دباؤ سے پاک ماحول ہے۔جو ہمارا معاشرہ انہیں دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔”
ہمیں یہ بات سیکھنے کی ضرورت ہے کہ لوگوں کے نجی معاملات میں گھسنا، کسی کے بیڈ روم کے معاملات میں جھانکنایا ان سے ایسے سوالات پوچھنا محبت نہیں، بلکہ بدتہذیبی ہے۔ کسی کا دل دکھانا اسلام کی رو سے بھی سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ ہمیں دوسروں کی آراء ان کے جذبات اور حدود کا احترام کرنا چاہیے۔ لوگوں کو اپنی مرضی اور سکون کے مطابق جینے دینا اور ان کی زندگی کے فیصلے ان پر اور اللہ کی رضا پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ اگر ہم کسی کے لیے آسانیاں پیدا نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے تلخ سوالات اور طعنوں سے ان کی زندگیوں کو عذاب بنانے سے تو باز رہیں۔
![]()

