Daily Roshni News

میرا نام زینب ہے۔

میرا نام زینب ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آج جب میں اپنے کلینک کی کھڑکی سے باہر بارش کو برستا دیکھتی ہوں، تو میرے دل میں ایک عجیب سی کسک اُٹھتی ہے۔ آج میں ایک جانی مانی سرجن ہوں، میرے نام کے ساتھ ‘ڈاکٹر’ کا لاحقہ جڑا ہے، لوگ مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، میری کلینک کے باہر مریضوں کی لائن لگی ہوتی ہے۔ میرے پاس گاڑی ہے، ایک خوبصورت گھر ہے، اور وہ سب کچھ ہے جس کا ایک انسان خواب دیکھتا ہے۔

لیکن سچ کہوں…؟

ان تمام کامیابیوں، اس تمام دولت اور اس سفید کوٹ کی چمک کے پیچھے ایک ایسا گہرا اندھیرا اور ایک ایسا قرض چھپا ہے، جسے میں اپنی پوری زندگی، اپنی جان دے کر بھی نہیں چکا سکتی۔ آج میرے بھائی، میرے علی بھائی کو اس دنیا سے گئے پورے سات سال ہوچکے ہیں۔ لیکن آج بھی، جب میں ہسپتال کے کوریڈور میں چلتی ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ وہ ابھی کسی کونے سے نکلے گا، اپنے دھول اور گریس سے بھرے ہاتھوں کو اپنے میلے کپڑوں سے صاف کرے گا، اور مسکرا کر کہے گا:

“دیکھا! میری گڑیا آخر ڈاکٹر بن ہی گئی…”

ہم دنیا میں صرف دو ہی تھے۔ ہماری ایک چھوٹی سی دنیا تھی، جس میں ہمارے ماں باپ اور ہم دونوں بہن بھائی تھے۔ میرے والد ایک چھوٹی سی سرکاری نوکری کرتے تھے اور بمشکل گھر کا گزارہ ہوتا تھا۔ لیکن گھر میں محبت کی کوئی کمی نہیں تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے، جب میں آٹھ سال کی تھی، وہ ایک سیاہ رات تھی جس نے میری معصومیت اور میرے بھائی کا لڑکپن ایک ہی جھٹکے میں چھین لیا۔

میرے ماں باپ ایک شادی کی تقریب سے موٹر سائیکل پر واپس آ رہے تھے کہ ایک تیز رفتار ٹرک نے انہیں کچل دیا۔ میں اور علی بھائی گھر میں ان کا انتظار کر رہے تھے۔ رات کے دو بجے، دروازے پر دستک نہیں ہوئی، بلکہ محلے والوں کا ہجوم ہمارے گھر کے صحن میں داخل ہوا۔ میرے ماں باپ کی خون میں لت پت لاشیں چارپائیوں پر رکھی تھیں۔

میں بہت چھوٹی تھی، مجھے موت کا مطلب نہیں پتا تھا۔ میں اپنی ماں کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر کہہ رہی تھی:

“امی اٹھیں نا… مجھے بھوک لگی ہے۔”

علی بھائی کی عمر اس وقت صرف سولہ سال تھی۔ وہ دیوار سے لگ کر خاموشی سے آنسو بہا رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسا خوف اور صدمہ تھا جسے بیان کرنے کے لیے دنیا کی کوئی لغت کافی نہیں ہے۔

اگلے دن جب تدفین ہو گئی، تو ہمارے رشتے داروں کی اصلیت سامنے آنے لگی۔ ہمارے چچا اور ماموں صحن میں بیٹھے فیصلہ کر رہے تھے کہ اب ان دونوں بچوں کا بوجھ کون اٹھائے گا۔

ایک رشتے دار نے کہا:

“لڑکا تو بڑا ہے، کسی ورکشاپ پر لگ جائے گا۔ لڑکی کو یتیم خانے میں داخل کروا دیتے ہیں، ہم اتنی مہنگائی میں اپنے بچے پالیں یا ان کا خرچہ اٹھائیں؟”

میں یہ سن کر ڈر گئی اور بھاگ کر علی بھائی کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ علی بھائی، جو اب تک خاموش تھے، اچانک اٹھے۔ انہوں نے اپنے آنسو صاف کیے، میری انگلی پکڑی اور ان سب کے سامنے کھڑے ہو کر بولے:

“میری بہن کسی یتیم خانے نہیں جائے گی۔ جب تک میرے جسم میں خون کا آخری قطرہ باقی ہے، میری گڑیا میرے پاس رہے گی۔ آپ سب جا سکتے ہیں، ہمیں کسی کے احسان کی ضرورت نہیں ہے۔”

اس دن کے بعد، رشتے داروں نے واقعی ہم سے منہ موڑ لیا۔ اور اسی دن، میرے سولہ سالہ بھائی نے اپنا بستہ، اپنی کتابیں، اور اپنے کرکٹ کے بلے کو ایک پرانے صندوق میں بند کر دیا، اور بازار جا کر کام ڈھونڈنے لگا۔

ہمیں اپنا وہ گھر چھوڑنا پڑا کیونکہ وہ کرائے کا تھا۔ علی بھائی مجھے شہر کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے میں ایک چھوٹے سے کوارٹر میں لے آئے۔ اس کمرے کی چھت ٹین کی تھی، گرمیوں میں بھٹی کی طرح تپتی اور سردیوں میں برف کی طرح ٹھنڈی ہو جاتی۔ بارش ہوتی تو جگہ جگہ سے پانی ٹپکتا۔

علی بھائی نے کپڑے کی ایک فیکٹری میں مزدوری شروع کر دی۔ وہ فیکٹری، جہاں روئی اور کیمیکلز کی دھول سارا دن ہوا میں اڑتی رہتی تھی۔ ان کی ڈیوٹی صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک تھی۔ لیکن صرف اس تنخواہ سے ہمارا کرایہ اور روٹی پوری نہیں ہو سکتی تھی۔ اس لیے شام کو فیکٹری سے نکلنے کے بعد، وہ رات 11 بجے تک ایک پرچون کی دکان پر حساب کتاب اور بوریاں اٹھانے کا کام کرتے۔

وہ عمر جس میں بچے دوستوں کے ساتھ گھومتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں، اس عمر میں علی بھائی کے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے تھے۔ ان کی انگلیاں کٹ پھٹ گئی تھیں۔ لیکن انہوں نے کبھی میرے سامنے اُف تک نہیں کی۔

وہ رات کو 11 بجے تھکے ہارے گھر آتے۔ ان کے کپڑوں سے پسینے، مشین کے تیل اور روئی کی بساند آ رہی ہوتی۔ لیکن وہ دروازہ کھولتے ہی مسکراتے اور کہتے:

“میری شہزادی جاگ رہی ہے؟ دیکھ میں تیرے لیے کیا لایا ہوں!”

کبھی وہ ایک سموسہ لے آتے، کبھی ایک سستی سی ٹافی، اور کبھی کوئی پرانی کتاب جو انہیں کسی کباڑیے سے ملی ہوتی۔ وہ مجھے اپنے ہاتھوں سے نوالے توڑ کر کھلاتے۔

کئی بار رات کو میں دیکھتی کہ وہ اپنا کھانا جان بوجھ کر کم کھاتے اور کہتے، “گڑیا میں نے دکان پر استاد کے ساتھ کھانا کھا لیا تھا، تو پیٹ بھر کر کھا۔”

میں چھوٹی تھی، ان کی باتوں میں آ جاتی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کئی کئی راتیں بھوکے پیٹ پانی پی کر سو جاتے تھے۔

علی بھائی نے مجھے ایک اچھے پرائیویٹ سکول میں داخل کروایا۔ جب سکول کے پرنسپل نے کہا کہ فیس بہت زیادہ ہے، تو علی بھائی نے منتیں کر کے قسطوں میں فیس دینے کی اجازت لی۔

وہ مجھے ہمیشہ ایک ہی بات کہتے تھے:

“زینب… میں نے کتابیں چھوڑ دی ہیں، لیکن تو پڑھے گی۔ تو اتنی بڑی ڈاکٹر بنے گی کہ یہ دنیا تجھے سلام کرے گی۔ جب تو سفید کوٹ پہن کر نکلے گی، تو تیرا یہ بھائی سب سے آگے کھڑا ہو کر تالیاں بجائے گا۔”

ان کا یہ خواب میرے لیے ایک جنون بن گیا۔ میں راتوں کو اس وقت تک جاگ کر پڑھتی جب تک میری آنکھیں دکھنے نہ لگتیں۔ ہمارے کوارٹر میں اکثر بجلی نہیں ہوتی تھی۔ علی بھائی ایک چھوٹی سی موم بتی یا مٹی کے تیل کی لالٹین جلا کر میرے پاس بیٹھ جاتے۔ وہ خود تھکن سے چور ہوتے، ان کی آنکھیں نیند سے بند ہو رہی ہوتیں، لیکن وہ جاگتے رہتے تاکہ مجھے اکیلے ڈر نہ لگے۔

اگر میں کبھی ضد کر بیٹھتی کہ:

“بھائی، آپ اپنے لیے پرانے جوتے کیوں پہنتے ہیں؟ سردیاں آ گئی ہیں، نئے لے لیں نا…”

تو وہ ہمیشہ میرے سر پر ہاتھ پھیر کر ہنستے اور کہتے:

“عری پگلی! جب تو بڑی ڈاکٹر بنے گی نا، تو مجھے بڑی گاڑی میں بٹھا کر لے جانا اور نئے جوتے دلانا۔ ابھی میرے پاس جوتے ہیں، تیری فیس زیادہ ضروری ہے۔”

وہ سالہا سال ایک ہی سویٹر پہنتے رہے۔ عید کے دن بھی وہ اپنے پرانے کپڑوں کو دھو کر استری کر لیتے، لیکن میرے لیے ہمیشہ ایک نیا جوڑا، چوڑیاں اور مہندی لے کر آتے۔ میں جب ان سے پوچھتی کہ آپ کے کپڑے کہاں ہیں، تو وہ کہتے، “مردوں کو نئے کپڑوں کی کیا ضرورت، میری تو عید تجھے خوش دیکھ کر ہو جاتی ہے۔”

وقت گزرتا گیا۔ میں بڑی ہو رہی تھی اور میری پڑھائی کا خرچہ بھی بڑھ رہا تھا۔ میں نے میٹرک میں بورڈ میں پوزیشن لی، اور پھر ایف ایس سی (FSc) پری میڈیکل میں داخلہ لے لیا۔

ان دنوں علی بھائی بہت کمزور ہونے لگے تھے۔ ان کی عمر صرف 26 سال تھی، لیکن وہ 40 سال کے لگنے لگے تھے۔ ان کی کمر جھکنے لگی تھی، چہرے کی ہڈیاں نمایاں ہو گئی تھیں، اور آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے پڑ گئے تھے۔

سب سے پریشان کن بات ان کی کھانسی تھی۔ پہلے یہ معمولی کھانسی تھی، لیکن آہستہ آہستہ یہ بڑھتی گئی۔ رات کے پچھلے پہر، جب سارا محلہ سو رہا ہوتا، ان کے کھانسنے کی آوازیں گونجتیں۔ کئی بار وہ کھانستے کھانستے اپنا منہ تکیے میں چھپا لیتے تاکہ میری نیند خراب نہ ہو۔

ایک دن میں نے ان کے رومال پر خون کے تازے دھبے دیکھے۔ میرا دل رک سا گیا۔ میں نے روتے ہوئے ان سے کہا:

“بھائی، آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ ہم ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جاتے؟ آپ کے منہ سے خون آ رہا ہے!”

انہوں نے جلدی سے رومال چھپایا اور میرے سر پر پیار دے کر مسکراتے ہوئے بولے:

“کچھ نہیں ہے گڑیا۔ وہ فیکٹری میں روئی کا دھواں اور کیمیکلز اڑتے ہیں نا، یہ اسی کی وجہ سے گلا چھل گیا ہے۔ میں نے حکیم سے شربت لیا ہے، ٹھیک ہو جاؤں گا۔ تم اپنی پڑھائی پر دھیان دو، تمہارے فائنل امتحانات آنے والے ہیں۔”

میں ان کی باتوں پر یقین کر لیتی، کیونکہ میرے لیے علی بھائی کی بات پتھر پر لکیر تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کس عذاب سے گزر رہے ہیں اور مجھ سے کیا چھپا رہے ہیں۔

میرے ایف ایس سی (FSc) کے امتحانات ختم ہوئے۔ جب نتیجہ آیا تو میں نے پورے بورڈ میں ٹاپ کیا تھا۔ علی بھائی اس دن خوشی سے پاگل ہو گئے تھے۔ انہوں نے پورے محلے میں مٹھائی بانٹی۔ میں نے انہیں پہلی بار اتنا خوش دیکھا تھا۔

لیکن یہ خوشی عارضی تھی۔ میرے نمبر تو بہت اچھے تھے، اور میرا داخلہ سرکاری میڈیکل کالج میں ہو گیا تھا، لیکن داخلے کی فیس، ہاسٹل کے چارجز، کتابوں اور دیگر اخراجات کا بل بہت لمبا تھا۔ ہمیں پہلی بار میں لگ بھگ تین لاکھ روپے جمع کروانے تھے۔

تین لاکھ روپے… ہمارے لیے یہ رقم کسی پہاڑ سے کم نہیں تھی۔ علی بھائی کی کل ماہانہ آمدنی بارہ ہزار روپے تھی، جس میں سے وہ مشکل سے گھر چلاتے تھے۔

میں نے مایوس ہو کر علی بھائی سے کہا:

“بھائی… ہم اتنے پیسے کہاں سے لائیں گے؟ میں ڈاکٹر نہیں بن سکتی۔ میں بی ایس (BS) کر لیتی ہوں کسی عام کالج سے، یا کوئی نوکری کر لیتی ہوں۔ ہم یہ افورڈ نہیں کر سکتے۔”

اس دن علی بھائی مجھ پر پہلی بار غصہ ہوئے تھے۔ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں:

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ بات کہنے کی؟ تم سمجھتی ہو میں مر گیا ہوں؟ میں تیرا باپ ہوں، تیرا بھائی ہوں! تو صرف ڈاکٹر بنے گی۔ پیسے کہاں سے آئیں گے، یہ میرا مسئلہ ہے، تیرا نہیں۔ تو بس اپنے کالج جانے کی تیاری کر۔”

میں چپ ہو گئی، لیکن رات کو میں روتی رہی۔

اس کے بعد، علی بھائی نے ڈبل شفٹ میں کام شروع کر دیا۔ وہ رات کو گھر بھی نہیں آتے تھے۔ دکان کے بعد وہ سبزی منڈی میں بوریاں اٹھانے کا کام کرنے لگے۔ ان کی کھانسی مزید بگڑ چکی تھی۔ کئی بار وہ چلتے چلتے ہانپنے لگتے۔ میں انہیں دیکھ کر کڑھتی تھی، لیکن وہ مجھے کچھ بولنے نہیں دیتے تھے۔

میرے میڈیکل کالج کے داخلے کی فیس جمع کروانے کی آخری تاریخ سر پر آ گئی تھی۔ صرف دو دن باقی تھے۔ مجھے یقین تھا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں اور میرا داخلہ منسوخ ہو جائے گا۔

رات کے ڈھائی بجے میری آنکھ کھلی۔ میں نے دیکھا کہ علی بھائی مصلے پر سجدے میں گرے ہوئے ہیں۔ ان کی ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔ وہ اللہ سے رو رو کر کچھ مانگ رہے تھے:

“یا اللہ… میری عزت رکھ لے۔ میری بہن کا خواب نہ ٹوٹنے دینا۔ تو چاہے تو میری جان لے لے، لیکن میری بچی کو مایوس نہ کرنا۔ مجھے کوئی رستہ دکھا دے مولا۔”

یہ منظر دیکھ کر میرا دل پھٹ گیا۔ میں واپس بستر پر لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر کے رونے لگی۔

اگلی صبح، جب میں اٹھی تو علی بھائی مسکرا رہے تھے۔ ان کا چہرہ زرد تھا، وہ بہت بیمار لگ رہے تھے، لیکن ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔

انہوں نے میرے ہاتھ میں پیسوں کی ایک موٹی سی گڈی رکھی۔

میں نے حیرت اور ڈر سے پوچھا:

“بھائی… یہ اتنے پیسے کہاں سے آئے؟ آپ نے کوئی غلط کام تو نہیں کیا؟”

انہوں نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور ہنس کر بولے:

“پاگل ہو گئی ہے کیا؟ میں حلال کی کمائی کھلاتا ہوں تجھے۔ میں نے فیکٹری کے مالک سے بات کی تھی۔ انہوں نے میری پچھلی محنت اور ایمانداری دیکھ کر مجھے اگلے تین سال کی تنخواہ ایڈوانس دے دی ہے۔ بس مجھے اب تین سال ڈبل محنت کرنی ہوگی۔ جا، جا کر اپنی فیس جمع کروا۔ تیرا بھائی زندہ ہے ابھی!”

میں خوشی سے اچھل پڑی۔ میں نے انہیں گلے لگا لیا۔ میں نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ کوئی مالک کسی معمولی مزدور کو تین لاکھ روپے ایڈوانس کیوں دے گا؟ میں اپنی خوشی میں اتنی اندھی ہو گئی تھی کہ مجھے ان کی آنکھوں کے پیچھے چھپا ہوا درد اور ان کا پیلا پڑتا ہوا چہرہ نظر ہی نہیں آیا۔

پہلے دن جب میں نے سفید کوٹ اور سٹیتھوسکوپ (Stethoscope) پہنا، تو علی بھائی مجھے خود کالج چھوڑنے آئے۔ کالج کے گیٹ پر کھڑے ہو کر انہوں نے مجھے دیکھا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

انہوں نے روتے ہوئے مسکرا کر کہا:

“آج میرے ماں باپ زندہ ہوتے تو کتنے خوش ہوتے۔ میری ڈاکٹر بہن… جا، اندر جا اور دنیا فتح کر لے۔”

میرا کالج شروع ہوئے ابھی صرف دس دن ہی گزرے تھے۔ میں ہاسٹل میں شفٹ ہو چکی تھی۔

ایک دوپہر، میں اپنی کلاس میں بیٹھی تھی جب مجھے ہسپتال سے ایک کال آئی۔

کال کرنے والے نے کہا: “کیا آپ علی کی بہن بول رہی ہیں؟ وہ فیکٹری میں کام کرتے کرتے بے ہوش ہو کر گر گئے تھے۔ ان کے منہ سے بہت خون نکلا ہے۔ آپ فوراً سول ہسپتال پہنچیں۔”

میرے ہاتھ سے فون گر گیا۔ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ میں پاگلوں کی طرح سڑکوں پر بھاگتی ہوئی ہسپتال پہنچی۔ سفید کوٹ پہنے، روتی، چیختی ہوئی جب میں ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوئی، تو وہاں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔

ایک ڈاکٹر میرے پاس آیا۔

“میرے بھائی کہاں ہیں؟ علی کہاں ہے؟ مجھے ان کے پاس جانا ہے!”

ڈاکٹر نے نظریں جھکا لیں۔

“آئی ایم سوری… ہم انہیں نہیں بچا سکے۔ ان کے پھیپھڑے مکمل طور پر ختم ہو چکے تھے۔ انہیں پھیپھڑوں کا کینسر (Lung Cancer) آخری اسٹیج پر تھا۔ انہیں بہت پہلے ہسپتال میں داخل ہو جانا چاہیے تھا۔ وہ تو اندر سے بالکل کھوکھلے ہو چکے تھے، حیرت ہے کہ وہ اب تک اپنے پیروں پر کھڑے کیسے تھے۔”

یہ الفاظ میرے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح لگے۔

میں نے وارڈ میں جا کر دیکھا۔ اسٹریچر پر سفید چادر اوڑھے ایک وجود پڑا تھا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے چادر ہٹائی۔ وہ میرے علی بھائی تھے۔ ان کا چہرہ پرسکون تھا۔ ان کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جیسے وہ کسی بہت بڑے بوجھ سے آزاد ہو گئے ہوں۔

میں ان کے سینے پر گر کر روئی، چیخی، میں نے انہیں جھنجھوڑا:

“اٹھیں بھائی! آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا۔ آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہیں؟ میں یہ سفید کوٹ پھاڑ دوں گی، مجھے نہیں بننا ڈاکٹر، مجھے میرے بھائی واپس کر دیں!”

لیکن وہ نہیں اٹھے۔ جس شخص نے مجھے کبھی رونے نہیں دیا تھا، آج وہ مجھے بلکتا ہوا چھوڑ کر ہمیشہ کی نیند سو چکا تھا۔

علی بھائی کی تدفین ہو گئی۔ میرے محلے والوں نے چندہ جمع کر کے ان کا کفن دفن کیا۔

میں کئی دن تک ہوش میں نہیں تھی۔ میں اسی خالی کوارٹر میں فرش پر پڑی رہتی۔ مجھے ہر طرف ان کی خوشبو آتی۔ مجھے لگتا وہ ابھی دروازہ کھول کر اندر آئیں گے اور کہیں گے، “میری شہزادی رو کیوں رہی ہے؟”

کچھ دن بعد، مکان مالک کرایہ مانگنے آیا۔ مجھے پیسے ڈھونڈنے کے لیے علی بھائی کی پرانی الماری کھولنی پڑی۔

الماری میں ان کے گنے چنے دو تین جوڑے رکھے تھے۔ اسی الماری کے سب سے نچلے خانے میں کپڑوں کے نیچے چھپا ہوا ایک پرانا سا نیلے رنگ کا پلاسٹک کا فولڈر (File) ملا۔ میں نے اس سے پہلے وہ فولڈر کبھی نہیں دیکھا تھا۔

میں نے کانپتے ہاتھوں سے وہ فائل کھولی… اور اس میں موجود کاغذات دیکھ کر میری سانس رک گئی۔ میرے دل نے دھڑکنا بند کر دیا۔

اس میں ہسپتال کی رپورٹس، ایکسرے، اور ٹیسٹ کے نتائج تھے۔

ان رپورٹس پر چھ ماہ پہلے کی تاریخ درج تھی۔

علی بھائی کو چھ ماہ پہلے ہی معلوم ہو چکا تھا کہ انہیں پھیپھڑوں کا کینسر ہے!

اسی فائل کے اندر ایک کاغذ پر ایک بڑے ڈاکٹر کا نسخہ تھا جس پر لال قلم سے لکھا تھا:

“فوری طور پر کیمو تھراپی (Chemotherapy) اور ادویات شروع کریں۔ اس کے بغیر مریض کا بچنا ناممکن ہے۔ ابتدائی علاج کا خرچہ 3 لاکھ روپے آئے گا۔”

میں نے روتے ہوئے اس کاغذ کو پلٹا… اور اس کے پیچھے جو کچھ لکھا تھا، اس نے میری روح تک کو چھلنی کر دیا۔ میری زندگی کی سب سے بڑی سچائی اس کاغذ کے پچھلے حصے پر علی بھائی کی ٹوٹی پھوٹی لکھائی میں درج تھی۔

انہوں نے پنسل سے ایک حساب کیا ہوا تھا:

کینسر کے علاج کا خرچہ: 3 لاکھ روپے

زینب کی میڈیکل فیس: 3 لاکھ روپے

اور اس حساب کے بالکل نیچے، انہوں نے ایک جملہ لکھا تھا، جس پر ان کے گرے ہوئے آنسوؤں کے نشان اب بھی سوکھے ہوئے موجود تھے:

“اگر میں نے اپنا علاج کروایا، تو میری گڑیا کے ہاتھ میں سٹیتھوسکوپ کیسے آئے گا؟ میری زندگی کے چند سالوں سے زیادہ، میری بہن کا خواب ضروری ہے۔ یا اللہ، میرے پاس صرف ایک ہی چیز بچی ہے جو میں بیچ سکتا ہوں، میری زندگی۔ میری زندگی کے بچے ہوئے دن بھی میری زینب کو لگا دے۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔”

وہ پیسے… وہ تین لاکھ روپے جو انہوں نے مجھے فیس کے لیے دیے تھے… وہ کسی مالکان کا ایڈوانس نہیں تھا! وہ ان کے علاج کے پیسے تھے جو انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے کسی طرح اکٹھے کیے ہوں گے، یا شاید کوئی اپنی زندگی کی آخری جمع پونجی لگائی ہوگی، لیکن جب میری فیس کا وقت آیا، تو انہوں نے اپنی زندگی کا سودا کر لیا۔

انہوں نے کیموتھراپی کروانے کے بجائے، اپنے کینسر کے علاج کے پیسے میری فیس میں دے دیے۔

وہ مجھے ڈاکٹر بنانے کے لیے اندر ہی اندر مر رہے تھے، تڑپ رہے تھے، ان کے پھیپھڑے گل رہے تھے، لیکن انہوں نے میرے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے موت کو گلے لگا لیا۔ اور میں… میں کتنی اندھی تھی، کتنی خود غرض تھی جو اپنے خوابوں کی تکمیل میں اتنی مگن ہو گئی کہ اپنے بھائی کی موت کی آہٹ نہ سن سکی۔

میں اس فائل کو سینے سے لگا کر اتنی زور سے روئی کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ میں نے دیواروں میں سر مارا، میں نے اپنے بال نوچے:

“بھائی آپ نے ایسا کیوں کیا؟! مجھے نہیں بننا تھا ڈاکٹر! مجھے آپ کی ضرورت تھی! میرے لیے آپ کی زندگی سے بڑھ کر کوئی ڈگری نہیں تھی۔ کیوں مار دیا آپ نے خود کو میرے لیے؟ کیوں؟!”

وہ رات میری زندگی کی سب سے بھیانک رات تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میں بھی مر جاؤں گی۔ میرا سانس گھٹ رہا تھا۔

اسی رات، آسمان بھی میرے ساتھ رو رہا تھا۔ باہر شدید طوفان اور بارش تھی۔

میرے گھر کی ٹین کی چھت سے پانی ٹپک رہا تھا، لیکن میرے اندر اس سے زیادہ آنسو بہہ رہے تھے۔ میں کمرے کے فرش پر سردی اور صدمے سے اکڑی ہوئی پڑی تھی۔

اچانک… رات کے تین بجے کے قریب، کمرے میں ایک عجیب سی خنکی پھیل گئی۔

وہ بارش کی ٹھنڈک نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا سکون تھا جو روح تک اتر جاتا ہے۔

مجھے لگا جیسے کسی نے آہٹ کے بغیر کمرے میں قدم رکھا ہو۔ اور پھر… مجھے اپنے الجھے ہوئے بالوں میں کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔

وہی کھردرے، محنت کش ہاتھ۔ وہی گریس اور پسینے کی جانی پہچانی خوشبو جو صرف اور صرف میرے علی بھائی کی تھی۔

میں نے ڈرتے ہوئے، کانپتے ہوئے سر اٹھایا۔

کمرے میں اندھیرا تھا، کوئی مادی وجود نہیں تھا، لیکن ایک سایہ سا محسوس ہو رہا تھا۔ اور پھر، میرے کانوں میں بہت دھیمی، نرم، اور جانی پہچانی آواز آئی:

“میری گڑیا…

تو اس طرح روئے گی تو مجھے زمین کے نیچے بھی سکون نہیں ملے گا…”

میرے رونے کی آواز تھم گئی۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے روتے ہوئے ہوا میں ہاتھ ہلایا، جیسے میں اس سائے کو پکڑنا چاہتی ہوں:

“بھائی… آپ نے مجھے دھوکہ دیا۔ آپ نے مجھے بہت بڑا دھوکہ دیا۔ آپ نے مجھے اکیلا کر دیا۔ میں اس سفید کوٹ کا کیا کروں گی جس پر میرے بھائی کا خون لگا ہے؟ میں کیسے جیووں گی اس جرم کے ساتھ کہ میری فیس نے آپ کی جان لے لی؟”

کمرے میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔

پھر وہ آواز دوبارہ آئی، اس بار اس میں کوئی تکلیف، کوئی کھانسی یا بیماری کا بوجھ نہیں تھا، بلکہ ایک عجیب سا ماورائی سکون تھا:

“زینب… میری زندگی کا مقصد تم تھیں۔

وہ پیسے میرے علاج کے لیے نہیں، تمہاری تقدیر بدلنے کے لیے تھے۔ میں مرا نہیں ہوں میری بہن… جب بھی تم کسی غریب کا علاج مفت کرو گی، جب بھی کوئی بے بس ماں تمہیں درد میں روتے ہوئے دعا دے گی… میں وہیں، اسی دعا میں تمہارے پاس زندہ رہوں گا۔

اس سفید کوٹ کو اپنا بوجھ مت بنانا، یہ میری زندگی کی آخری اور سب سے خوبصورت کمائی ہے۔

ہمت مت ہارنا میری بچی… مجھے تم پر بہت فخر ہے۔ تم نے میرا خواب پورا کر دیا۔ اب دنیا کی باری ہے تمہارے سامنے جھکنے کی۔ خوش رہنا میری شہزادی…”

اس کے بعد، مجھے اپنے ماتھے پر ایک ہلکا سا، ٹھنڈا سا بوسہ محسوس ہوا۔

اور پھر وہ ٹھنڈی ہوا، وہ خوشبو، آہستہ آہستہ کمرے سے باہر نکل گئی۔

میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس رات کے بعد سے آج تک، میں پھر کبھی اس طرح نہیں روئی۔ اس رات علی بھائی نے مجھے ایک نئی زندگی، ایک نیا مقصد دے دیا تھا۔

آج سات سال گزر چکے ہیں۔

میں نے اپنا میڈیکل مکمل کیا، گولڈ میڈل لیا، اور آج میں شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں ایک سینئر ڈاکٹر ہوں۔ شام کو میں اپنا ایک چھوٹا سا کلینک چلاتی ہوں، پسماندہ علاقے میں۔

میری کلینک کے باہر ایک بورڈ لگا ہے جس پر لکھا ہے: “یتیموں اور مستحقین کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔”

میں اپنا دن غریب مریضوں کا علاج کرتے گزارتی ہوں۔ میں کسی ایسے شخص سے فیس نہیں لیتی جس کے کپڑے میلے ہوں، جس کے ہاتھوں میں محنت کے نشان اور چھالے ہوں، یا جس کی آنکھوں میں مجھے بے بسی نظر آئے۔

کیونکہ جب میں کسی مزدور کا ہاتھ پکڑتی ہوں، تو مجھے ان میں اپنا علی بھائی نظر آتا ہے۔ جب کوئی بوڑھی ماں رو کر مجھے دعائیں دیتی ہے، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے علی بھائی میرے پیچھے کھڑے مسکرا رہے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ہمیشہ یہ بحث ہوتی ہے کہ بیٹیاں بوجھ سمجھی جاتی ہیں، اور خواتین پر ظلم ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے، اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن… ہم ان مردوں کو بھول جاتے ہیں جو ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔ لوگ کہتے ہیں مرد روتے نہیں، یا مرد بے حس اور سخت ہوتے ہیں۔

لیکن سچ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے غریب اور محنت کش مرد، اپنے خاندان کے لیے، اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں اور خوابوں کے لیے، روز تھوڑا تھوڑا مرتے ہیں، اور کسی کو خبر تک نہیں ہونے دیتے۔ وہ اپنے آنسو پسینے میں چھپا لیتے ہیں، وہ اپنی بیماریاں اور اپنا درد اپنے سینے میں دفن کر لیتے ہیں، صرف اس لیے تاکہ ان کے گھر والوں کے چہروں پر مسکراہٹ قائم رہے۔ علی بھائی نے بھی یہی کیا تھا۔ انہوں نے ایک مرد ہونے، ایک بھائی ہونے کا ایسا حق ادا کیا جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

آج میرے پاس سب کچھ ہے۔

میرے پاس بہت بڑی گاڑی بھی ہے، بینک بیلنس بھی ہے، اور میں دنیا کے مہنگے ترین جوتے خریدنے کی طاقت بھی رکھتی ہوں۔

لیکن… وہ شخص نہیں ہے…

جسے مجھے اس گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھانا تھا…

جسے مجھے وہ نئے جوتے پہنانے تھے…

اور جسے مجھے فخر سے گلے لگا کر کہنا تھا:

“دیکھیں بھائی… آپ کی رانی ڈاکٹر بن گئی۔”

کچھ محبتیں اور قربانیاں اتنی عظیم ہوتی ہیں کہ وہ موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوتیں، وہ بس دعاؤں اور یادوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ اور علی بھائی آج بھی، میری ہر سانس، میری ہر کامیابی اور میرے ہر مریض کی مسکراہٹ میں زندہ ہیں۔

Loading