**آبِ حیات** (جسے انگریزی میں *Elixir of Life* یا *Water of Life* کہا جاتا ہے) ایک افسانوی اور خیالی پانی یا شربت ہے، جس کے بارے میں پرانی داستانوں اور کہانیوں میں یہ مانا جاتا ہے کہ جو شخص اسے ایک بار پی لے، اسے **ہمیشہ کی زندگی (امرتا)** مل جاتی ہے، وہ کبھی بوڑھا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی بیماری سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
اس تصور کی تاریخ اور حقیقت کو درج ذیل مختلف زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے:
### 1. تاریخی اور مذہبی روایات
دنیا کی مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں آبِ حیات سے ملتے جلتے تصورات موجود ہیں:
* **اسلامی روایات اور داستانیں:** مسلم تاریخ اور قصص الانبیاء کی بعض روایات میں ایک ایسے چشمے کا ذکر ملتا ہے جو اندھیروں (ظلمات) میں چھپا ہوا ہے۔ عام روایتی کہانیوں میں اس چشمے کا تعلق **حضرت خضر علیہ السلام** اور **سکندرِ اعظم** کے واقعے سے جوڑا جاتا ہے، جہاں کہا جاتا ہے کہ حضرت خضرؑ نے وہ پانی پی لیا تھا جس کی وجہ سے وہ قیامت تک کے لیے زندہ ہیں، جبکہ سکندرِ اعظم وہاں تک پہنچنے کے باوجود اسے پینے سے محروم رہا۔ (واضح رہے کہ یہ کہانیاں تاریخی داستانوں کے طور پر زیادہ مشہور ہیں)۔
* **ہندو مت (Amrita):** ہندو ویدک مآخذ میں اسے **”امرت”** کہا گیا ہے۔ ایک مشہور کہانی (سمندری منتھن) کے مطابق دیوتاؤں اور اسوروں (جنوں) نے سمندر کو مٹھا کر امرت حاصل کیا تھا، جسے پی کر دیوتا امر ہو گئے تھے۔
* **یونانی مالا مالا (Ambrosia):** قدیم یونانی کہانیاں بتاتی ہیں کہ اولپمس پہاڑ پر رہنے والے دیوتا ایک خاص مشروب پیتے تھے جسے ‘امبروزیا’ یا ‘نیکٹر’ کہا جاتا تھا، جو انہیں ہمیشہ جوان رکھتا تھا۔
### 2. قدیم کیمیا گری (Alchemy) کا تصور
قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) میں کیمیا گر (Alchemists) رات دن دو چیزوں کی تلاش میں رہتے تھے:
1. **پارس پتھر (Philosopher’s Stone):** ایسا پتھر جو لوہے یا تانبے کو سونا بنا دے۔
2. **آبِ حیات (Elixir of Life):** ایک ایسا مائع یا دوائی جو انسان کو ہمیشہ کے لیے جوان اور زندہ رکھے۔
وہ مختلف دھاتوں (جیسے پارے اور گندھک) کو ملا کر ایسا نسخہ تیار کرنے کی کوشش کرتے تھے، جس کے چکر میں کئی کیمیا گر زہریلے کیمیکلز پی کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
### 3. جدید سائنس کا “آبِ حیات”
آج کے دور میں سائنسدان کسی جادوئی پانی کی تلاش تو نہیں کر رہے، لیکن وہ انسانی عمر کو بڑھانے اور بڑھاپے کو روکنے کے لیے **جینیٹکس (Genetics) اور بائیوٹیکنالوجی** پر کام کر رہے ہیں۔
* خلیات (Cells) کے اندر موجود **ٹیلومیئرز (Telomeres)** اور ڈی این اے میں تبدیلیاں کر کے عمر بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
* سائنس کی زبان میں ایسی ادویات یا ٹیکنالوجی کو جو انسان کو طویل عمر دے، جدید دور کا “آبِ حیات” کہا جا سکتا ہے۔
![]()

