Daily Roshni News

ایک ولی اللہ کی والدہ کی ڈائری،،،قسط نمبر 2: غیب سے بشارت

ایک ولی اللہ کی والدہ کی ڈائری

قسط نمبر 2: غیب سے بشارت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میری دلی خواہش اور دعا کا میرے اور میرے رب کے سوا کسی کو علم نہ تھا۔ شادی کے بعد حالات تلاطم خیز رہے، ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا کہ یہ رشتہ اب ختم ہوا کہ اب ختم… لیکن میں نے توکل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور اللہ کی ذات پر کامل بھروسہ رکھا۔

6 اپریل 2014ء—یہ وہ مبارک اور یادگار دن تھا جب میں روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھی۔ دن کے ساڑھے گیارہ بجے اچانک میرے شوہر گھر آئے۔ آتے ہی بڑے اضطراب اور بے تابی سے کہنے لگے: “ذرا اندر کمرے میں آؤ، ایک بات سنو!”

ان کا یہ انداز میرے لیے بالکل غیر معمولی تھا، کیونکہ وہ عام طور پر مجھ سے گفتگو کے لیے یوں بے چین نہیں ہوا کرتے تھے۔ میں تجسس لیے کمرے میں آئی تو وہ بڑے جوش اور حیرت سے بتانے لگے:

“آج جب میں اپنے ایک دوست کے تعمیراتی پروجیکٹ کی بنیادیں دیکھ کر نکلا اور بائیک سٹارٹ کرنے لگا، تو وہاں ایک پیدل مسافر کھڑا تھا۔ سخت دھوپ کو دیکھ کر مجھے ترس آ گیا، میں نے پوچھا: ‘بھائی! آپ نے کہاں جانا ہے؟ دھوپ تیز ہے، بیٹھ جائیں۔’

مسافر نے جواب دیا: ‘مجھے پیدل ہی علی پور سیداں جانا ہے، لیکن تم مجھے مین روڈ تک، جہاں سے تمہارا راستہ مڑتا ہے، تھوڑا آگے اتار دینا۔'”

میرے شوہر نے بتایا کہ جب مین روڈ پر ان کا راستہ الگ ہونے لگا، تو انہوں نے بائیک روک دی۔ وہ مسافر اترا، شکریہ ادا کیا اور پھر اچانک بولا: “مانگو! کیا مانگتے ہو؟”

میرے شوہر کہنے لگے: “میں نے جواب دیا کہ آج کل اپنے معاشی حالات کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔”

یہ سن کر اس مسافر نے کہا: “چالیس دن کے اندر تمہارا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ تمہارا ایک بھائی تمہارا دشمن ہے، ذرا اپنا خیال رکھا کرو۔”

اس کے بعد اس عجیب مسافر نے زمین سے چٹکی بھر مٹی اٹھائی، میرے شوہر کی ہتھیلی پر رکھی اور کہا: “اسے بند کرو۔” جب مٹی بند کر لی، تو انہوں نے آنکھیں موند کر کچھ پڑھا اور پھر کہا: “مٹھی کھولو۔”

میرے شوہر نے جیسے ہی مٹھی کھولی، ان کے ہوش اڑ گئے۔ مٹی غائب تھی اور وہاں ایک چھوٹا، چمکدار موتی موجود تھا!

وہ پرسرار مسافر مسکرائے اور بولے: “میں سخی سلطان باہو کی نگری سے آیا ہوں۔ اللہ تمہیں ایک صالح بیٹا عطا فرمائے گا۔ اس کا نام ‘——-‘ رکھنا۔ یہ موتی اس بچے کے لیے امانت ہے اور ہماری نشانی ہے۔”

جب میرے شوہر مجھے یہ حیرت انگیز واقعہ سنا رہے تھے، تو شکرانے کے مارے میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ دل جھوم اٹھا کہ یہ دعا تو صرف میرے اور میرے خدا کے درمیان اک راز تھی! اے میرے مالک، تیرا بے حساب شکر کہ تو نے اپنی عاجز بندی کی فریاد سن لی۔

ایک خاموش سچائی

یہاں میں آپ سب معزز قارئین کو ایک بات بتاتی چلوں کہ میرے شوہر پیروں فقیروں، اولیاء کرام اور ان روحانی معاملات کے بالکل قائل نہیں تھے، اور سچ کہوں تو آج بھی نہیں ہیں۔ لیکن میں نے کبھی ان سے اس موضوع پر بحث نہیں کی، بلکہ جب کبھی ایسا کوئی ذکر چھڑے، میں خاموشی اختیار کر لیتی ہوں۔

میں نے جب اپنے شوہر سے اس مسافر کا حلیہ پوچھا تو انہوں نے بتایا:

“عمر 45 سال سے اوپر ہوگی، کھچڑی داڑھی، سر پر سفید و سیاہ بال، اور نحیف سا جسم تھا۔ لیکن ایک عجیب بات یہ تھی کہ ان کے گلے میں گتے کی ایک تختی لٹک رہی تھی، جس پر کچھ خاص الفاظ درج تھے: ‘اس انسان کے گم ہونے کی صورت میں فلاں جگہ پہنچا دیا جائے’۔”

اس واقعے نے میرے اندر ایک عجیب ارتعاش پیدا کر دیا۔ مجھے شدت سے اپنی خامیوں کا احساس ہونے لگا اور دل میں یہ فکر جاگ اٹھی کہ الٰہی! ہمیں اس قابل بنا دے کہ ہم تیری اس عظیم امانت کا حق ادا کر سکیں۔ بے شک غیب سے نویدِ جاں فزا تو سنا دی گئی تھی، لیکن جب تک ظرف اس قابل نہ ہو، امانتیں سپرد نہیں کی جاتیں۔ قدرت کا اصول ہے، ہر کام اپنے مقررہ وقت پر ہی پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے۔

چار سال بعد: دعا کی دوسری قبولیت

سال 2018ء آ چکا تھا… بعض اوقات میرے دل میں شدید خواہش جاگتی کہ کاش! میں ایک نظر اس پاک ہستی کو دیکھ پاتی، جو میرے دل کی پکار سن کر حق باہو کی نگری سے میرے لیے یہ پیغام لائے تھے۔ بے شک وہ پیغام بظاہر میرے شوہر کو دیا گیا، مگر اس کی مخاطب میں تھی۔

پھر ایک دن قدرت نے یہ سبب بھی بنا دیا۔ میں اپنے بھتیجے کے ساتھ بازار گئی ہوئی تھی۔ ایک دکان سے نکل کر جیسے ہی میں گاڑی میں بیٹھنے لگی، میری نظر ایک شخص پر پڑی جو بظاہر فقیر سا لگتا تھا، مگر وہ عام فقیر نہیں تھا۔ چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ اس کے گلے میں بعینہٖ وہی گتے کی تختی لٹک رہی تھی اور وہی مخصوص الفاظ لکھے تھے، جن کا ذکر میرے شوہر نے کیا تھا!

میں نشانی پہچان کر ششدر رہ گئی۔ میں دھڑکتے دل کے ساتھ ان کی طرف بڑھی، عقیدت سے 20 روپے ان کی طرف بڑھائے اور خاموش نظروں سے دیکھتے ہوئے واپس گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی۔ میں اس بازار میں اکثر جاتی رہتی ہوں، لیکن نہ میں نے انہیں اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی اس دن کے بعد آج تک کبھی دیکھا۔

اللہ پاک نے میری وہ دوسری دلی خواہش بھی پوری کر دی تھی اور مجھے اپنے ایک بہت ہی خاص, برگزیدہ اور قیمتی بندے کی زیارت کروا دی تھی، جو نظامِ تکوین سے منسلک ‘رجال الغیب’ میں سے تھے۔

اللہ تعالیٰ کے کام کتنے پراسرار اور خاموشی سے ہوتے ہیں! انسان کی نیت کا خالص ہونا اور اعمال کا مقبول ہونا ہی بارگاہِ الٰہی سے رحمتوں اور دعاؤں کی قبولیت کا سبب بنتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک کا ارشادِ گرامی ہے:

“اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے خاص فرما لیتے ہیں جسے پسند فرما لیں اپنے بندوں میں سے۔”

اس تحریر کا حقیقی مقصد

میرے محترم قارئین! اس بیتے ہوئے واقعے کو آپ کے سامنے شیئر کرنے کا مقصد ہرگز اپنی کسی بڑائی یا فضیلت کو بیان کرنا نہیں ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب کوئی عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، تو میرا رب اسے لازمی شرفِ قبولیت عطا فرماتا ہے۔

اور یہ نورانی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اولیاء اللہ کا اس دنیا میں آنا، اور ان کی روحانی تربیت کے لیے بہترین مرد و عورت کا بطور والدین انتخاب، ہر دور  میں ہوتا رہے گا

Loading