Daily Roshni News

آج – 13؍جون 1941۔۔معروف نعت گو شاعر ”خالدؔ_محمود_نقشبندی صاحب“ کا یومِ ولادت…..

آج – 13؍جون 1941

معروف نعت گو شاعر ”خالدؔ_محمود_نقشبندی صاحب“ کا یومِ ولادت…..

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )خالد_محمود_نقشبندی 13؍جون 1941ء کو پنجاب کے شہر چکوال (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔

ان کی مشہور عام نعتوں میں دن رات مدینے کی دعا مانگ رہے ہیں، کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے، قرآن مجسم تری ہر ایک ادا ہے، چلو دیار نبی کی جانب، آواز کرم دیتا ہی رہا، اور میرا سارا سروسامان مدینے میں رہے شامل ہیں۔

خالد محمود نقشبندی چکوال میں پیدا ہوئے اور گیارہ سال کی عمر میں کراچی تشریف لائے تھے۔ رسمی تعلیم کے بعد فارسی سیکھی۔ نعت خوانی سے سفر کی شروعات کی اور نعت گوئی کے آسمان پر ایسے چمکے کہ ان کی آب و تاب نے ہر آںکھ میں عشق سرکارِ کے جلوے بکھیرے۔

خالدؔ محمود نقشبندی 17؍دسمبر 2018ء بروز پیر کراچی، پاکستان کے علاقے بلاک 18 ایف بی ایریا سمن آباد میں انتقال کرگئے۔

 معروف ترین شاعر خالدؔ محمود نقشبندی کے یومِ ولادت پر منتخب نعتیہ کلام بطور خراجِ عقیدت…..

زباں محو ثناء ہے گنبد خضراء کے سائے میں

مؤدب التجا ہےگنبد خضراء کے سائے میں

ہم اپنا دامن مقصود بھر لائےمرادوں سے

ہمیں سب کچھ ملا ہے گنبد خضراء کےسائے میں

کلام پاک دیتا ہےگواہی اس حقیقت کی

مقدر جاگتا ہے گنبد خضراء کےسائے میں

ملےگا حشر کے دن بھی وہ میزان محبت پر

وہ آنسو جو گرا ہےگنبد خضرا کےسائےمیں

اگر سینے میں ہوتا تو دھڑ کنےکی صدا آتی

یہ دل کھویا ہوا ہےگنبد خضراء کےسائے میں

کبھی خود کو کبھی اُنﷺ کے کرم کو دیکھتا ہوں میں

کہ مجھ سا بے نوا ہےگنبد خضراء کےسائےمیں

سمجھتا ہےخموشی کی زباں اُنﷺ کا کرم خالدؔ

خموشی بھی صدا ہےگنبد خضراء کےسائے میں

➖➖➖➖

یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے

ملتی نہ اگر بھیگ حضورﷺ آپ کے در سے

اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے

بے دام ہی بک جائیں گے دربارِ نبیﷺ میں

اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے

ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا

سرکارﷺ اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے

وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے

بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے

خالدؔ یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ

محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے

================

کوئی سلیقہ ہے آرزو کا، نہ بندگی میری بندگی ہے

یہ سب تمھارا کرم ہے آقاﷺ کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

کسی کا احسان کیوں اٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتائیں

تمہی سےمانگیں گےتم ہی دو گے، تمھارے در سے ہی لو لگی ہے

عمل کی میرےاساس کیا ہے، بجز ندامت کےپاس کیا ہے

رہے سلامت بس اُنﷺ کی نسبت، میرا تو بس آسرا یہی ہے

عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت کہاں تھی یہ پُر خطا کی قسمت

میں اس کرم کےکہاں تھا قابل، حضورﷺ کی بندہ پروری ہے

تجلیوں کےکفیل تم ہو ، مرادِ قلب خلیل تم ہو

خدا کی روشن دلیل تم ہو، یہ سب تمھاری ہی روشنی ہے

بشیر کہیےنذیر کہیے، انھیں سراج منیر کہیے

جو سر بسر ہے کلامِ ربی، وہ میرے آقاﷺ کی زندگی ہے

یہی ہے خالدؔ اساس رحمت یہی ہے خالدؔ بنائے عظمت

نبیﷺ کا عرفان زندگی ہے، نبیﷺ کا عرفان بندگی ہے

    بشکریہ : شمیم ریاض انصاری

Loading