ایک پیاسا لب ِ دریا
ایک پیاسا
لب ِ دریا
یہ دعا کرتا تھا
شہر آباد رہیں
اور
خدا کا گھر بھی
جس کے در سے
غم ِ ہجرت کی
سعادت ہے مِلی
ہم کہ دریائے محبت کے شناور تھے کبھی
اہل ِ دنیا کی نگاہوں میں دِلاور تھے کبھی
جان ِ اطہر تھے کبھی سبط ِ پیمبر تھے کبھی
صاحب ِجود و سخا ، ساقیءکوثر تھے کبھی
ایک مشکیزہء پُر آب کی خواہش تھی فقط
جس کے تاوان میں کاٹے گئے بازو اپنے
پِھر بھی جُھکنے نہ دیا ہم نے یہ لشکر کا عَلم
ایک اِک کرکے یونہی کھائے ہیں سب تیر ِ ستم
دیکھتے دیکھتے
پِھر ہم پہ
زمیں تنگ ہوئی
دشت ِ کربل میں
کچھ اِس طرح
کڑی جنگ ہوئی
داستاں
اہل ِ محبت کی
لہو رنگ ہوئی
غم ِ شبیر میں
تا عمر
نہ سونے والو
جوئے ِ خوں
آنکھوں سے
بہنے دو
اے رونے والو !!
۔۔۔شاہین مفتی۔۔۔۔۔
#history
#fashion
#psychologyfacts
#everyonefollowers
![]()

