مختار ثقفی — حصہ اوّل
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کربلا سے پہلے، کوفہ کی سیاست اور ایک انقلابی شخصیت کی تشکیل۔اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کے گرد صدیوں سے بحث جاری ہے۔ کچھ لوگ انہیں ہیرو سمجھتے ہیں، کچھ انہیں مجرم قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک ان کی شخصیت خیر و شر، اخلاص و سیاست اور حق و مصلحت کے درمیان ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ مختار بن ابی عبید ثقفی بھی انہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔
اگر اسلامی تاریخ کی سب سے متنازع شخصیات کی فہرست بنائی جائے تو مختار ثقفی کا نام یقیناً ابتدائی صفوں میں آئے گا۔ ان کے بارے میں جذباتی فیصلے بہت کیے گئے، لیکن تحقیقی مطالعہ نسبتاً کم ہوا۔ کسی نے انہیں اہل بیت کے انتقام کا علمبردار کہا، کسی نے انہیں جھوٹا مدعی قرار دیا، اور کسی نے انہیں ایک غیر معمولی سیاسی ذہانت رکھنے والا انقلابی قائد قرار دیا۔
مختار ثقفی کو سمجھنے کے لیے صرف ان کی زندگی کا مطالعہ کافی نہیں۔ ان کے پیچھے پورا ایک دور کھڑا ہے۔ وہ دور جس میں خلافتِ راشدہ کا سورج غروب ہو رہا تھا، امت سیاسی تقسیم کا شکار ہو رہی تھی، اور مسلمانوں کے درمیان وہ اختلافات جنم لے رہے تھے جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ مختار کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان کے زمانے کو سمجھنا ہوگا۔
عرب کا سیاسی منظرنامہ
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلافتِ راشدہ کا دور شروع ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ادوار میں اسلامی ریاست حیرت انگیز رفتار سے پھیلی۔ لیکن جوں جوں سلطنت وسیع ہوئی، نئے مسائل پیدا ہونے لگے۔
قبائلی تعصبات جو اسلام نے بڑی حد تک ختم کر دیے تھے، دوبارہ سر اٹھانے لگے۔ مختلف علاقوں کے لوگوں میں سیاسی اثر و رسوخ کی کشمکش شروع ہوئی۔ شام، عراق، حجاز اور مصر کے درمیان طاقت کا توازن ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ یہ صرف ایک خلیفہ کی شہادت نہیں تھی، بلکہ امت کے اندر سیاسی انتشار کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دور اور عراق کی اہمیت
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہیں متعدد داخلی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگِ جمل، جنگِ صفین اور پھر خوارج کا فتنہ ایسے واقعات تھے جنہوں نے پوری اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی دور میں عراق، خصوصاً کوفہ، اسلامی سیاست کا مرکز بن گیا۔ کوفہ ایک منفرد شہر تھا۔ یہ صرف ایک فوجی چھاؤنی نہیں تھا بلکہ مختلف قبائل، مختلف سیاسی نظریات اور مختلف شخصیات کا مرکز بھی تھا۔ یہاں ایسے لوگ بھی تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے شدید محبت کرتے تھے، اور ایسے لوگ بھی موجود تھے جو صرف سیاسی مفاد کے لیے کسی بھی فریق کا ساتھ دے سکتے تھے۔ بعد میں یہی کوفہ مختار ثقفی کی زندگی میں مرکزی کردار ادا کرنے والا تھا۔
قبیلہ ثقیف کا تعارف
مختار کا تعلق قبیلہ ثقیف سے تھا۔ ثقیف عرب کے معروف قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ ان کا مرکز طائف تھا۔ طائف مکہ کے بعد حجاز کے اہم ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ یہ علاقہ زراعت، تجارت اور معاشی استحکام کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا تھا۔ قبیلہ ثقیف اپنی ذہانت، سیاسی فہم اور انتظامی صلاحیتوں کے لیے معروف تھا۔ بعد کے ادوار میں اسی قبیلے سے کئی اہم شخصیات سامنے آئیں۔ مختار ثقفی بھی اسی قبیلے کے فرد تھے، جبکہ بعد میں حجاج بن یوسف بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ اسلامی تاریخ کی دو نہایت طاقتور اور متنازع شخصیات ایک ہی قبیلے سے نکلیں۔
مختار کا نسب
ان کا پورا نام مختار بن ابی عبید بن مسعود بن عمرو بن عمیر ثقفی تھا۔ ان کے والد ابو عبید ثقفی صحابی تھے۔ یہ ایک اہم حقیقت ہے جسے اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مختار کسی عام خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ ان کے والد رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مسلمان تھے اور انہوں نے اسلامی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ابو عبید ثقفی کی شخصیت
مختار کے والد ابو عبید ثقفی بہادر سپہ سالار تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جب مسلمانوں اور ساسانی سلطنت کے درمیان جنگیں جاری تھیں تو ابو عبید کو ایک اہم فوجی مہم کی قیادت سونپی گئی۔ انہوں نے عراق کے محاذ پر غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔ جنگِ جسر میں انہوں نے انتہائی بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس وقت مختار ابھی کم عمر تھے۔ باپ کی شہادت نے ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایک ایسے بچے کی نفسیات پر غور کیجیے جس کا والد جنگ کے میدان میں شہید ہو جائے اور جس کی پرورش بہادری، قیادت اور سیاسی شعور کے ماحول میں ہو۔ بعد کی زندگی میں مختار کی جرات، بلند عزائم اور قیادت کی خواہش کو سمجھنے کے لیے یہ پس منظر بہت اہم ہے۔
مختار کی پیدائش اور ابتدائی زندگی
مختار کی پیدائش ہجرت کے ابتدائی برسوں میں ہوئی۔ مؤرخین کے درمیان سنِ پیدائش کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن عمومی طور پر انہیں پہلی صدی ہجری کی ابتدائی نسل سے شمار کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے ماحول میں پروان چڑھے جہاں اسلامی سلطنت مسلسل وسعت اختیار کر رہی تھی۔ ان کے سامنے صحابۂ کرام کی مثالیں موجود تھیں۔ انہوں نے خلافتِ راشدہ کا زمانہ دیکھا۔ انہوں نے بڑی سیاسی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا۔ یہ تمام عوامل ان کی فکری تشکیل میں شامل ہوئے۔
شخصیت کے ابتدائی خدوخال
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مختار ذہین، حاضر جواب اور بلند حوصلہ انسان تھے۔ وہ صرف جنگجو نہیں تھے بلکہ سیاسی بصیرت بھی رکھتے تھے۔ ان میں قیادت کی خواہش موجود تھی۔ ان کی گفتگو میں اثر تھا۔ وہ لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ بعد میں جب انہوں نے اپنی تحریک شروع کی تو یہی خصوصیات ان کی کامیابی کا ایک بڑا سبب بنیں۔
کوفہ: ایک شہر، کئی چہرے
مختار کی زندگی کو سمجھنے کے لیے کوفہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ کوفہ اسلامی دنیا کا ایک عجیب شہر تھا۔ یہاں عبادت گزار بھی تھے، مجاہد بھی، سیاست دان بھی، قبائلی سردار بھی اور موقع پرست بھی۔ اسی شہر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا۔ اسی شہر نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو تنہا چھوڑ دیا۔ اور یہی شہر بعد میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر بلانے والا بھی بنا۔ کوفہ کے لوگ جذباتی بھی تھے اور سیاسی طور پر غیر مستحکم بھی۔ مختار اسی ماحول میں ابھرے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تعلق
متعدد تاریخی روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختار اور ان کا خاندان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں میں شمار ہوتا تھا۔ کوفہ چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دارالحکومت تھا، اس لیے وہاں اہلِ بیت سے محبت رکھنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مختار بھی اسی فضا میں پروان چڑھے۔ بعد میں ان کی پوری سیاسی تحریک کی بنیاد بھی اہلِ بیت کی حمایت کے نعرے پر قائم ہوئی۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا دور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔ لیکن کوفہ کے حالات بدستور پیچیدہ رہے۔ لوگوں کی وفاداریاں بٹ چکی تھیں۔ قبائلی مفادات سیاست پر غالب آ رہے تھے۔ بالآخر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے امت کے اتحاد کے لیے صلح کا راستہ اختیار کیا۔ یہ واقعہ بھی مختار کی نسل پر گہرا اثر ڈالنے والا تھا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سیاسی طاقت، نظریاتی وابستگی اور زمینی حقائق ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔
بنو امیہ کا عروج
صلحِ حسن کے بعد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت قائم ہوئی۔ شام طاقت کا مرکز بن گیا۔ ادھر عراق میں مختلف گروہ اپنی اپنی سوچ کے مطابق حالات کا تجزیہ کر رہے تھے۔ کچھ لوگ نئے نظام سے مطمئن تھے۔ کچھ خاموش تھے۔ اور کچھ کے دلوں میں اہلِ بیت کے لیے گہری ہمدردی موجود تھی۔ مختار انہی طبقات کے درمیان اپنی سیاسی شناخت بنا رہے تھے۔
یزید کی نامزدگی اور بڑھتا ہوا اضطراب
جب یزید کی ولی عہدی کا مسئلہ سامنے آیا تو امت میں اختلافات پیدا ہوئے۔ بعض جلیل القدر شخصیات نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ مدینہ اور مکہ میں سیاسی بے چینی بڑھنے لگی۔ کوفہ بھی ان حالات سے متاثر ہوا۔ یہ وہ ماحول تھا جس میں بعد کے عظیم واقعات جنم لینے والے تھے۔ ## حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور کوفہ
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد کوفہ کے بہت سے لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھنا شروع کیے۔ ان خطوط میں انہیں عراق آنے کی دعوت دی گئی۔ کوفہ کے لوگوں نے وعدے کیے کہ وہ ان کی حمایت کریں گے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مختار ثقفی کا نام پہلی مرتبہ نمایاں انداز میں سامنے آتا ہے۔
مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی آمد
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا۔ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی آمد نے پورے شہر میں نئی روح پھونک دی۔ لوگ بڑی تعداد میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے۔ مختار بھی ان شخصیات میں شامل تھے جو اس تحریک سے ہمدردی رکھتے تھے۔ کئی روایات کے مطابق مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے ابتدائی ایام میں مختار کے گھر کو بھی اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔ یہ بات مختار کے اہلِ بیت سے تعلق اور ان کی سیاسی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔
عبیداللہ بن زیاد کی آمد
لیکن حالات نے اچانک رخ بدلا۔ یزید نے عبیداللہ بن زیاد کو کوفہ بھیجا۔ اس نے نہایت سخت اقدامات کیے۔ قبائلی سرداروں کو دباؤ میں لیا گیا۔ لوگوں کو دھمکایا گیا۔ سیاسی فضا بدل گئی۔ وہی لوگ جو کل تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی حمایت کے دعوے کر رہے تھے، خاموش ہونا شروع ہو گئے۔
مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تنہائی
کوفہ کی تاریخ کا سب سے المناک منظر شاید یہی تھا۔ ہزاروں بیعت کرنے والے لوگ آہستہ آہستہ غائب ہونے لگے۔ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ تنہا رہ گئے۔ بالآخر انہیں گرفتار کر لیا گیا اور شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ بعد میں مختار کی پوری زندگی کا رخ بدلنے والا ثابت ہوا۔
مختار کہاں تھے؟
یہ سوال بہت اہم ہے۔ جب مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ گرفتار ہوئے اور پھر واقعۂ کربلا پیش آیا تو مختار کہاں تھے؟ تاریخی روایات کے مطابق مختار اس وقت کوفہ میں موجود تھے لیکن عبیداللہ بن زیاد نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ وہ قید میں تھے اور آزادانہ طور پر کوئی عملی اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ بعد میں مختار نے خود بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ اگر وہ آزاد ہوتے تو حالات مختلف ہو سکتے تھے۔ یہ دعویٰ درست تھا یا نہیں، اس پر مؤرخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن اتنا طے ہے کہ واقعۂ کربلا کے وقت مختار میدان میں موجود نہیں تھے۔
کربلا کی خبر اور مختار
جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کی شہادت کی خبر پھیلی تو پورا عالم اسلام غم و صدمے میں ڈوب گیا۔ کوفہ میں بھی شدید ردِ عمل پیدا ہوا۔ بہت سے لوگ پچھتانے لگے۔ بہت سے لوگ خود کو قصوروار سمجھنے لگے۔ مختار بھی انہی افراد میں شامل تھے جنہوں نے اس سانحے کو اپنی زندگی کا فیصلہ کن موڑ بنا لیا۔ بعد میں ان کی پوری تحریک اسی احساس کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ کربلا صرف ایک جنگ نہیں تھی۔
یہ ایک ایسا زخم تھا جس نے مختار کی شخصیت، ان کی سیاست اور ان کی پوری زندگی کو نئی سمت دے دی۔
مختار ثقفی — حصہ دوم
انتقامِ کربلا کی تحریک، کوفہ پر قبضہ اور قاتلانِ حسینؓ کا انجام
پہلے حصے میں ہم نے مختار ثقفی کی ابتدائی زندگی، ان کے خاندانی پس منظر، کوفہ کی سیاسی صورتحال اور واقعۂ کربلا تک کے حالات کا جائزہ لیا۔ ہم نے دیکھا کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کربلا میں شہید کیے گئے تو مختار ثقفی قید میں تھے اور بعد میں انہوں نے یہی دعویٰ کیا کہ اگر وہ آزاد ہوتے تو حالات مختلف ہو سکتے تھے۔
لیکن تاریخ میں انسانوں کی اصل پہچان اکثر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ کسی عظیم سانحے کے بعد ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ کربلا کے بعد مختار کی زندگی کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس نے انہیں تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں ایک قیدی، ایک سیاسی کارکن، ایک قبائلی سردار اور ایک بلند حوصلہ انسان اچانک پورے عراق کی سیاست کا محور بن جاتا ہے۔ لیکن اس داستان کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں کربلا کے بعد کی دنیا کو سمجھنا ہوگا۔
کربلا کے بعد عالمِ اسلام کی کیفیت
سن ۶۱ ہجری میں پیش آنے والا واقعۂ کربلا صرف ایک جنگ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے مسلمانوں کے اجتماعی شعور کو ہلا کر رکھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ کے نواسے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لختِ جگر، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرزند اور جنتی نوجوانوں کے سردار حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت نے امت کے دل پر ایسا زخم لگایا جو صدیوں بعد بھی تازہ محسوس ہوتا ہے۔ مدینہ غم میں ڈوب گیا۔ مکہ میں بے چینی پیدا ہوئی۔ شام میں مختلف قسم کے ردِ عمل سامنے آئے۔ لیکن سب سے زیادہ اضطراب کوفہ میں تھا۔ کیونکہ کوفہ وہ شہر تھا جس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھے تھے۔ کوفہ وہ شہر تھا جس نے مدد کے وعدے کیے تھے۔ اور کوفہ وہی شہر تھا جس کی اکثریت آخری وقت میں خاموش ہو گئی تھی۔ اس لیے کربلا کے بعد سب سے زیادہ شرمندگی بھی کوفہ کے لوگوں کو ہوئی۔
احساسِ جرم کا طوفان
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کربلا کے بعد کوفہ میں بہت سے لوگ شدید احساسِ ندامت میں مبتلا تھے۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ انہوں نے صرف ایک سیاسی غلطی نہیں کی بلکہ رسول اللہ ﷺ کے خاندان کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ یہ احساسِ جرم اتنا شدید تھا کہ بعض لوگ مسلسل روتے رہتے تھے۔ بعض لوگ اپنے آپ کو گناہ گار سمجھتے تھے۔ بعض لوگ سمجھتے تھے کہ جب تک وہ قاتلانِ حسینؓ سے بدلہ نہیں لیتے، ان کی توبہ مکمل نہیں ہوگی۔ اسی ماحول سے ایک نئی تحریک نے جنم لیا۔
تَوّابین تحریک کا آغاز
کربلا کے بعد سب سے پہلے جو منظم ردِ عمل سامنے آیا، وہ تَوّابین کی تحریک تھی۔ “تَوّابین” کا مطلب ہے “توبہ کرنے والے”۔ یہ وہ لوگ تھے جو سمجھتے تھے کہ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہ دے کر بہت بڑا جرم کیا ہے۔ ان کے قائد سلیمان بن صرد خزاعی تھے۔ وہ صحابی رسول ﷺ تھے اور اہلِ بیت سے محبت رکھنے والوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی تحریک کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا۔ ان کا مقصد اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یا تو قاتلانِ حسینؓ سے بدلہ لیا جائے یا پھر اسی راستے میں جان قربان کر دی جائے۔
مختار اور تَوّابین
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر مختار واقعی انتقامِ حسینؓ چاہتے تھے تو وہ تَوّابین میں شامل کیوں نہ ہوئے؟ یہ سوال صدیوں سے زیرِ بحث ہے۔ کچھ مؤرخین کے نزدیک مختار کی سیاسی سوچ تَوّابین سے مختلف تھی۔ تَوّابین جذباتی انداز میں میدان میں اترنا چاہتے تھے۔ مختار کا خیال تھا کہ صرف جذبات کافی نہیں ہوتے۔ جنگ جیتنے کے لیے تنظیم، منصوبہ بندی، مالی وسائل اور سیاسی حکمتِ عملی ضروری ہوتی ہے۔ مختار سمجھتے تھے کہ اگر بغیر تیاری کے میدان میں اتر گئے تو نتیجہ وہی ہوگا جو کربلا میں ہوا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے الگ راستہ اختیار کیا۔
مختار کی رہائی
مختار ابھی تک عبیداللہ بن زیاد کی قید کے اثرات سے نکل رہے تھے۔ بعض روایات کے مطابق ان کے بہنوئی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ذریعے سفارش کی گئی۔ بالآخر مختار کو آزادی ملی۔ رہائی کے بعد انہوں نے فوراً سیاسی حالات کا جائزہ لینا شروع کیا۔ وہ جانتے تھے کہ کوفہ میں اہلِ بیت سے محبت کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان لوگوں کو ایک مؤثر قیادت کی ضرورت ہے۔
مختار کی سیاسی بصیرت
یہاں مختار کی شخصیت کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ صرف ایک جنگجو نہیں تھے۔ وہ ایک غیر معمولی سیاسی ذہن بھی رکھتے تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر اہلِ بیت کے نام پر ایک مضبوط تحریک قائم کر دی جائے تو عراق کی سیاست تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے لوگوں کے جذبات، قبائلی نفسیات اور سیاسی حالات کا گہرا مطالعہ کیا۔ پھر آہستہ آہستہ اپنی تحریک کی بنیاد رکھنی شروع کی۔
محمد بن حنفیہ کا نام
مختار نے اپنی دعوت کا مرکز حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرزند محمد بن حنفیہ کو بنایا۔ محمد بن حنفیہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے نہیں تھے۔ مختار نے اعلان کیا کہ وہ محمد بن حنفیہ کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اہلِ بیت کے حقوق کی بحالی چاہتے ہیں۔ یہ نعرہ انتہائی مؤثر ثابت ہوا۔ لوگوں نے محسوس کیا کہ شاید اب اہلِ بیت کے خون کا بدلہ لیا جا سکے گا۔
مختار کے حامی کون تھے؟
مختار کی تحریک کی کامیابی کا ایک بڑا سبب اس کا وسیع سماجی دائرہ تھا۔ ان کے ساتھ صرف عرب قبائل نہیں تھے۔ بڑی تعداد میں موالی بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ موالی ان غیر عرب مسلمانوں کو کہا جاتا تھا جو اسلام قبول کر چکے تھے لیکن عرب اشرافیہ انہیں مکمل مساوات نہیں دیتی تھی۔ مختار نے انہیں عزت دی۔ انہیں فوج میں اہم مقام دیا۔ انہیں سیاسی عمل کا حصہ بنایا۔ اس وجہ سے ہزاروں موالی مختار کے وفادار بن گئے۔ یہ اس زمانے میں ایک انقلابی قدم تھا۔
کوفہ میں طاقت کا توازن بدلنا
مختار نے جلد بازی نہیں کی۔ انہوں نے مہینوں تک تنظیم سازی کی۔ خفیہ ملاقاتیں ہوئیں۔ قبائلی سرداروں سے رابطے کیے گئے۔ حامیوں کا نیٹ ورک بنایا گیا۔ اور پھر مناسب وقت کا انتظار کیا گیا۔ یہی وہ فرق تھا جو مختار اور تَوّابین کے درمیان نمایاں تھا۔ مختار جذبات سے زیادہ حکمتِ عملی پر یقین رکھتے تھے۔
تَوّابین کی شکست
ادھر تَوّابین نے اپنی تحریک شروع کی۔ انہوں نے شام کی فوجوں کا مقابلہ کیا۔ ان کا جذبہ بے مثال تھا۔ لیکن ان کے پاس وسائل کم تھے۔ نتیجتاً وہ شدید نقصان اٹھا بیٹھے۔ ان کے قائد سلیمان بن صرد خزاعی شہید ہو گئے۔ اس شکست نے اہلِ بیت کے حامیوں کو ایک بار پھر مایوس کر دیا۔ لیکن یہی شکست مختار کے لیے موقع بن گئی۔ اب بہت سے لوگ ان کی طرف متوجہ ہونے لگے۔
مختار کی بغاوت
سن ۶۶ ہجری میں مختار نے کھل کر میدان میں آنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قاتلانِ حسینؓ سے حساب لیا جائے۔ یہ اعلان کوفہ میں آگ کی طرح پھیل گیا۔ ہزاروں لوگ ان کے جھنڈے تلے جمع ہونے لگے۔ مختار نے نہایت مہارت سے اپنے حامیوں کو منظم کیا۔ جلد ہی وہ ایک بڑی طاقت بن گئے۔
کوفہ پر قبضہ
مختار کے حامیوں نے کوفہ میں فیصلہ کن کارروائی کی۔ مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ مختار کے مخالفین مزاحمت کرتے رہے۔ لیکن بالآخر مختار کامیاب ہو گئے۔ کوفہ ان کے کنٹرول میں آ گیا۔ یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی تھی۔ اب وہ صرف ایک کارکن نہیں رہے تھے۔ وہ عراق کے سب سے طاقتور حکمرانوں میں شامل ہو چکے تھے۔
اقتدار کے بعد پہلا اعلان
اقتدار سنبھالتے ہی مختار نے جو سب سے اہم اعلان کیا وہ یہ تھا: قاتلانِ حسینؓ کو تلاش کیا جائے گا۔ انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ اور انہیں ان کے جرائم کی سزا دی جائے گی۔ یہ اعلان سن کر اہلِ بیت کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لیکن قاتلانِ حسینؓ کے دلوں میں خوف اتر گیا۔
شکار شروع ہوتا ہے
اب مختار نے ایک منظم مہم شروع کی۔ کربلا میں شریک افراد کی فہرستیں تیار کی گئیں۔ گواہوں سے معلومات حاصل کی گئیں۔ لوگوں کی شناخت کی گئی۔ اور پھر ایک ایک کر کے کارروائیاں شروع ہوئیں۔ یہ تاریخ کے ان منفرد واقعات میں سے ہے جہاں کئی سال بعد ایک سیاسی تحریک نے ایک مخصوص واقعے کے مجرموں کو تلاش کرکے سزا دینے کی کوشش کی۔
عمر بن سعد کا انجام
عمر بن سعد کربلا کے لشکر کے مرکزی کمانڈروں میں شمار ہوتا تھا۔ مختار کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ خوفزدہ ہو گیا۔ ابتدائی طور پر اس نے خود کو بچانے کی کوشش کی۔ لیکن مختار نے اسے گرفتار کروا لیا۔ بالآخر اسے قتل کر دیا گیا۔ اس کا بیٹا بھی مارا گیا۔ کوفہ میں یہ خبر تیزی سے پھیلی۔ لوگ سمجھ گئے کہ مختار اپنے دعوے میں سنجیدہ ہیں۔
شمر بن ذی الجوشن
شمر وہ شخص تھا جس کا نام کربلا کے سب سے نفرت انگیز کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔ مختار کی فوج نے اس کا تعاقب کیا۔ بالآخر اسے پکڑ لیا گیا۔ مختلف تاریخی روایات میں اس کے انجام کی تفصیلات مختلف ہیں، لیکن مجموعی طور پر مؤرخین متفق ہیں کہ مختار کے دور میں شمر مارا گیا۔ یہ واقعہ مختار کی مقبولیت میں مزید اضافے کا سبب بنا۔
خولی کا انجام
خولی بن یزید بھی ان افراد میں شامل تھا جن پر کربلا میں سنگین کردار ادا کرنے کا الزام تھا۔ مختار کے آدمیوں نے اسے بھی گرفتار کر لیا۔ اسے سزا دی گئی۔ کوفہ میں لوگوں نے اسے انتقامِ کربلا کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا۔
خوف کا ماحول
اب صورت حال یہ تھی کہ کربلا میں شریک افراد مسلسل چھپتے پھر رہے تھے۔ بعض لوگ شہر چھوڑ گئے۔ بعض لوگ مختلف قبائل میں پناہ لینے لگے۔ بعض لوگ اپنی جان بچانے کے لیے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے لگے۔ مختار کی مہم پورے عراق میں موضوعِ گفتگو بن گئی۔
مختار کا عروج
چند ہی سالوں میں مختار ایک غیر معمولی طاقت بن گئے۔ وہ عراق کے وسیع حصے پر اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ ان کی فوج مضبوط تھی۔ ان کے حامی پرجوش تھے۔ اہلِ بیت کے محبت کرنے والوں کی بڑی تعداد انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگی تھی۔ لیکن اسی وقت ان کے خلاف نئے الزامات بھی پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ بعض لوگ انہیں مخلص سمجھتے تھے۔ بعض لوگ انہیں اقتدار کا خواہش مند سیاست دان قرار دیتے تھے۔
اور یہی اختلافات آگے چل کر ان کی زندگی کے آخری مرحلے میں شدید تنازع کی شکل اختیار کرنے والے تھے۔
یہی موضوع ہمارے اگلے اور آخری حصے کا مرکز ہوگا، جہاں ہم مختار ثقفی کے گرد موجود تمام بڑے الزامات، تاریخی تنازعات، ان کی حکومت کا خاتمہ، ان کی موت، اور اہلِ سنت و شیعہ مؤرخین کے نقطۂ نظر کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
مختار ثقفی — حصہ سوم
الزامات، تنازعات، سقوطِ حکومت، موت اور تاریخ کا فیصلہ
پچھلے حصے میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح مختار ثقفی نے کوفہ میں اپنی طاقت قائم کی، اہلِ بیت کے نام پر ایک مضبوط تحریک منظم کی، اور ان افراد کے خلاف کارروائیاں کیں جنہیں واقعۂ کربلا کے مجرموں میں شمار کیا جاتا تھا۔ یہ مختار کی زندگی کا وہ مرحلہ تھا جب ان کی مقبولیت اپنے عروج پر تھی۔ کوفہ کے بہت سے لوگ انہیں ایک نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ اہلِ بیت سے محبت رکھنے والوں کی بڑی تعداد ان کی کامیابی پر خوش تھی۔ موالی ان کے سب سے وفادار حامی بن چکے تھے۔
لیکن تاریخ کا اصول یہ ہے کہ جتنا بڑا عروج ہوتا ہے، اتنے ہی بڑے امتحانات بھی سامنے آتے ہیں۔ مختار کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ جس وقت ان کی طاقت بڑھ رہی تھی، اسی وقت ان کے مخالفین بھی منظم ہو رہے تھے۔ ان پر الزامات لگنے شروع ہوئے۔ ان کی نیت پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔ ان کے عقائد پر اعتراضات کیے جانے لگے۔ اور بالآخر وہ ایک ایسے سیاسی طوفان میں گھر گئے جس نے ان کی حکومت کو ختم کر دیا۔ لیکن آج بھی سب سے بڑا سوال یہی ہے: **مختار ثقفی اصل میں تھے کون؟** کیا وہ اہلِ بیت کے سچے خیرخواہ تھے؟ کیا وہ ایک ذہین سیاست دان تھے؟ کیا وہ اقتدار کے طالب تھے؟ یا پھر یہ تمام عناصر ان کی شخصیت میں کسی نہ کسی درجے میں موجود تھے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں ان کے گرد موجود تنازعات کا جائزہ لینا ہوگا۔
مختار کے خلاف پہلا بڑا اعتراض
مختار کے مخالفین کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ وہ اہلِ بیت کے نام کو سیاسی طاقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ ان کے ناقدین کہتے تھے کہ اگر ان کا مقصد صرف انتقامِ حسینؓ ہوتا تو وہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش نہ کرتے۔ لیکن مختار کے حامی اس اعتراض کا جواب دیتے تھے کہ طاقت کے بغیر قاتلانِ حسینؓ کو سزا دینا ممکن ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق اگر مختار حکومت قائم نہ کرتے تو وہ کبھی بھی ان افراد تک نہیں پہنچ سکتے تھے جو سیاسی اور قبائلی طاقت رکھتے تھے۔ یہ بحث آج بھی مؤرخین کے درمیان جاری ہے۔
محمد بن حنفیہ کے ساتھ تعلق
مختار کی پوری تحریک محمد بن حنفیہ کے نام سے وابستہ تھی۔ یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا محمد بن حنفیہ نے واقعی مختار کو اپنی نمائندگی کا اختیار دیا تھا؟ تاریخی روایات میں اس مسئلے پر اختلاف موجود ہے۔ کچھ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد بن حنفیہ مختار سے مکمل لاتعلقی اختیار نہیں کرتے تھے۔ دوسری طرف ایسی روایات بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مختار کی بعض سرگرمیوں سے مطمئن نہیں تھے۔ اسی اختلاف نے بعد میں مختلف مکاتبِ فکر میں الگ الگ نظریات کو جنم دیا۔
وحی اور فرشتوں سے متعلق الزامات
مختار پر سب سے مشہور اور سب سے سنگین الزام یہی لگایا گیا۔ بعض روایات میں ذکر ملتا ہے کہ مختار نے دعویٰ کیا کہ فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں۔ کچھ روایات میں یہاں تک بیان کیا گیا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ الزامات بعد کے مؤرخین نے بڑی تفصیل سے نقل کیے ہیں۔ لیکن جب ان روایات کی اسنادی تحقیق کی جاتی ہے تو صورت حال کافی پیچیدہ نظر آتی ہے۔
محدثین کی تحقیق
اہلِ سنت کے بڑے محدثین اور مؤرخین نے مختار کے بارے میں مختلف آراء پیش کی ہیں۔ بعض نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعض نے ان پر جھوٹے دعووں کا الزام لگایا۔ لیکن بعض علماء نے یہ بھی کہا کہ ان کے بارے میں نقل ہونے والی تمام روایات یکساں مضبوط نہیں ہیں۔ کئی روایات سیاسی مخالفین کے ذریعے بھی منتقل ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے تحقیق کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
مختار کے دور کا سیاسی پروپیگنڈا
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مختار کے دشمن بہت زیادہ تھے۔ بنو امیہ ان کے مخالف تھے۔ بنو زبیر ان کے مخالف تھے۔ کوفہ کے بہت سے قبائلی سردار ان کے مخالف تھے۔ کربلا میں شریک افراد کے خاندان ان کے مخالف تھے۔ ایسے ماحول میں ان کے خلاف پروپیگنڈا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ اسی لیے ایک محقق کے لیے ضروری ہے کہ ہر روایت کو اس کے سیاسی پس منظر کے ساتھ بھی دیکھے۔
موالی کی حمایت اور عرب اشرافیہ کی ناراضی
مختار کے خلاف نفرت کی ایک بڑی وجہ ان کی سماجی پالیسی بھی تھی۔ انہوں نے موالی کو عزت دی۔ انہیں فوج میں اعلیٰ مقام دیا۔ انہیں عربوں کے برابر سمجھا۔ یہ اقدام اس زمانے کے قبائلی نظام کے لیے ایک دھچکا تھا۔ بعض عرب سردار اس تبدیلی کو قبول نہیں کر سکے۔ چنانچہ ان کی مخالفت صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی بھی تھی۔
مختار کی فوجی طاقت
مختار نے اپنی حکومت کے دوران ایک مضبوط فوج تیار کی۔ ان کے مشہور جرنیلوں میں ابراہیم بن اشتر کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ ابراہیم بن اشتر ایک انتہائی قابل سپہ سالار تھے۔ انہوں نے مختار کی حکومت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
عبیداللہ بن زیاد کا انجام
واقعۂ کربلا کے بعد مسلمانوں کے دلوں میں جس شخص کے خلاف سب سے زیادہ نفرت تھی، ان میں عبیداللہ بن زیاد سرفہرست تھا۔ یہی شخص مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ اسی نے حضرت حسینؓ کے خلاف فوجی کارروائیوں کی نگرانی کی تھی۔ مختار نے ابراہیم بن اشتر کو اس کے خلاف بھیجا۔ دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوا۔ شدید جنگ ہوئی۔ بالآخر عبیداللہ بن زیاد مارا گیا۔ اس کی موت کی خبر پورے عالمِ اسلام میں پھیل گئی۔ اہلِ بیت کے حامیوں نے اسے کربلا کے مجرموں کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
مختار کی مقبولیت کا نقطۂ عروج
اب مختار اپنی زندگی کے سب سے طاقتور مرحلے میں داخل ہو چکے تھے۔ کوفہ ان کے قبضے میں تھا۔ ان کے دشمن خوفزدہ تھے۔ ان کے حامی پرجوش تھے۔ بہت سے لوگ انہیں انتقامِ کربلا کا ہیرو سمجھنے لگے تھے۔ لیکن اسی وقت ایک نیا خطرہ ان کے سامنے کھڑا ہو رہا تھا۔
عبداللہ بن زبیر کا چیلنج
اس دور میں حجاز میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت قائم تھی۔ وہ یزید کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ان کی اپنی سیاسی قوت موجود تھی۔ مختار اور ابن زبیر کے درمیان تعلقات جلد ہی کشیدہ ہو گئے۔ دونوں ایک دوسرے کو اپنے سیاسی منصوبوں کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔
مصعب بن زبیر کی مہم
عبداللہ بن زبیر نے اپنے بھائی مصعب بن زبیر کو عراق بھیجا۔ مصعب نہایت باصلاحیت اور مضبوط ارادے کے حامل شخص تھے۔ انہوں نے عراق میں مختار کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کی۔ بہت سے قبائل جو پہلے ہی مختار سے ناراض تھے، مصعب کے ساتھ مل گئے۔ یوں مختار کے خلاف ایک وسیع اتحاد وجود میں آ گیا۔
مختار کی مشکلات
اب حالات بدلنے لگے۔ کچھ قبائل ان کا ساتھ چھوڑنے لگے۔ بعض سردار مخالفین سے جا ملے۔ سیاسی دباؤ بڑھتا گیا۔ مختار کے پاس اب بھی وفادار ساتھی موجود تھے، لیکن دشمنوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔
کوفہ کا محاصرہ
مصعب بن زبیر کی فوجیں کوفہ تک پہنچ گئیں۔ مختار اور ان کے ساتھیوں نے سخت مزاحمت کی۔ کئی ہفتوں تک لڑائی جاری رہی۔ لیکن حالات مسلسل مختار کے خلاف ہوتے گئے۔ آخرکار وہ اپنے چند ہزار وفادار ساتھیوں کے ساتھ محصور ہو گئے۔
آخری دن
مختار کے سامنے دو راستے تھے۔ یا تو ہتھیار ڈال دیں۔ یا آخری سانس تک لڑیں۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جو جانا چاہتا ہے، جا سکتا ہے۔ لیکن وہ خود میدان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہاں تک کہ ان کے بعض مخالف مؤرخین بھی ان کی اس جرات کا اعتراف کرتے ہیں۔
مختار کی موت
سن ۶۷ ہجری میں مختار ثقفی مارے گئے۔ ان کی عمر تقریباً سڑسٹھ برس کے قریب بتائی جاتی ہے، اگرچہ اس میں اختلاف موجود ہے۔ ان کی موت کے ساتھ ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ ان کے ہزاروں حامی بعد میں قتل کر دیے گئے۔ ان کی تحریک بظاہر ختم ہو گئی۔ لیکن ان کا نام تاریخ سے ختم نہ ہو سکا۔
اہلِ سنت علماء کی آراء
اہلِ سنت کے علماء کے درمیان مختار کے بارے میں مکمل اتفاق موجود نہیں۔ بعض علماء نے ان پر شدید تنقید کی۔ بعض نے انہیں جھوٹے دعووں کا حامل قرار دیا۔ بعض نے انہیں ایک سیاسی شخصیت کے طور پر دیکھا جس میں اچھائیاں اور خامیاں دونوں موجود تھیں۔ امام ذہبی، ابن کثیر اور دیگر مؤرخین نے ان کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے گفتگو کی ہے۔
شیعہ علماء کی آراء
شیعہ مکتبِ فکر میں مختار کی شخصیت کو عمومی طور پر زیادہ مثبت انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے قاتلانِ حسینؓ کے خلاف کارروائی کی۔ بہت سے شیعہ مؤرخین انہیں اہلِ بیت کے انتقام لینے والا شخص قرار دیتے ہیں۔ البتہ شیعہ علماء کے درمیان بھی بعض تفصیلات میں اختلاف موجود ہے۔
مختار کی شخصیت کا نفسیاتی تجزیہ
اگر مختار کی پوری زندگی کو دیکھا جائے تو چند چیزیں واضح نظر آتی ہیں۔ وہ غیر معمولی ذہانت رکھتے تھے۔ وہ بلند عزائم کے مالک تھے۔ وہ بہترین مقرر تھے۔ وہ لوگوں کو منظم کرنا جانتے تھے۔ وہ خطرات مول لینے سے نہیں ڈرتے تھے۔ لیکن ان میں سیاسی قوت حاصل کرنے کی شدید خواہش بھی موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت سادہ نہیں بلکہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔
تاریخ کا محتاط فیصلہ
اگر تمام روایات کو سامنے رکھا جائے تو ایک متوازن نتیجہ یہ معلوم ہوتا ہے: مختار ثقفی کو مکمل فرشتہ بنا دینا درست نہیں۔ انہیں مکمل شیطان بنا دینا بھی درست نہیں۔ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ انہوں نے قاتلانِ حسینؓ کے خلاف عملی اقدامات کیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے گرد مختلف قسم کے الزامات موجود ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے بارے میں موجود ہر روایت یکساں مضبوط نہیں۔ اسی لیے ایک محقق کا کام جذباتی فیصلہ سنانا نہیں بلکہ تمام شواہد کا منصفانہ جائزہ لینا ہے۔
اختتامی کلمات
مختار ثقفی کی زندگی اسلامی تاریخ کے ان ابواب میں سے ہے جہاں سیاست، انتقام، عقیدہ، وفاداری، قبائلی مفادات اور انسانی نفسیات سب ایک دوسرے سے گتھم گتھا نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے زخم کے بعد قیام کیا جو امت کے دل میں آج تک موجود ہے۔ انہوں نے ان لوگوں کا تعاقب کیا جنہیں کربلا کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے حکومت قائم کی۔ انہوں نے جنگیں لڑیں۔ انہوں نے دشمن پیدا کیے۔ انہوں نے حامی پیدا کیے۔ اور پھر وہ خود تاریخ کے سب سے بڑے تنازعات میں سے ایک بن گئے۔ شاید اسی لیے مختار ثقفی کا نام آج بھی صرف ایک شخص کا نام نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ کے ایک نہ ختم ہونے والے سوال کا نام ہے۔ **کیا وہ انتقامِ کربلا کے علمبردار تھے؟** **یا ایک غیر معمولی سیاسی انقلابی؟** تاریخ کا دروازہ آج بھی اس سوال پر مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
![]()

