Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ میں متھے محراب بنانا بھل گیا واں۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

شباب کی باتیں

میں متھے محراب بنانا بھل گیا واں

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ میں متھے محراب بنانا بھل گیا واں۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب)مقطعہ میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات۔  وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے حال ہی میں خودکشی کی کوشش کو قابل تعزیر جرم قرار دینے کے فیصلے پر بعض ماہرین نفسیات نے جن شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اس نے کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ ماہرین نفسیات نے اس فیصلے پر ذہنی اذیت میں مبتلا افراد کو جان بچانے والے طبی علاج سے دور رکھنے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔  درحقیقت یہ ایک انتہائی نازک اور پیچیدہ معاملہ ہے اور اس حوالے سے اگرچہ حتمی رائے کا اظہار انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے تاہم سیانے کہتے ہیں کہ جب آپ گھپ اندھیرے میں کسی تاریک غار میں سفر کر رہے ہوں تو دور بہت دور روشنی کا ایک ہلکا سا احساس آپ کو ضرور ہوتا ہے اور مسلسل سفر سے اندھیرے غار کے اخری سرے تک پہنچتے پہنچتے وہ جو روشنی کا ایک  دھبہ سا ہوتا ہے وہی غار کے دہانے سے روشنی کی جانب مکمل راستہ بناتے ہوئے آپ کو روشن ماحول میں پہنچا دیتا ہے۔ یار طرحدار خالد خواجہ کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں

آپ بھٹکیں گے تو الزام مجھے ہی دیں گے

آپ کو راہ بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر رائے دینے والے اپنے اپنے حوالوں سے استناد کا درجہ رکھتے ہیں یعنی ایک جانب وفاقی شرعی عدالت کے وہ جج صاحبان ہیں جن کی علمیت، خصوصا” شرعی احکامات کے بارے میں معلومات اور فکر کمال درجے کی ہے،  تو دوسری جانب عالمی سطح کے ماہرین نفسیات ہیں جو اپنے شعبے میں باکمال ہیں اور حقیقتا” استاد الاساتذہ کے درجے پر فائز ہیں، اس لیے کہ دونوں نہ صرف دنیا بھر میں نفسیاتی علاج کے حوالے سے لیکچر دینے کے لیے بلائے جاتے ہیں بلکہ نفسیاتی علاج معالجے کے لیے تربیتی ورکشاپس کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور ملک کے اندر ان کے شاگردوں کے شاگرد بھی مختلف ہسپتالوں, کالجوں میں درس و تدریس اور علاج معالجے کے ساتھ وابستہ ہیں۔  ان میں ایک پروفیسر ڈاکٹر افضل جاوید ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے اور پاکستان سائیکاٹرک ریسرچ کونسل کے  چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر افضل جاوید کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ابھی حال ہی میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا جو اپنے شعبے میں ان کی اہمیت کا سرکاری اعتراف ہے، اس موقع پر ہمیں کہنے دیجئے کہ دوسرے ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی، جن کا تعلق پشاور سے ہے،  صوبے کے سب سے بڑے اور قدیم طبی درسگاہ خیبر میڈیکل کالج کے پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور اس وقت ہورائزن کے نام سے ذہنی امراض کی تنظیم کے سربراہ ہیں جبکہ اس ادارے کے زیر اہتمام عبادت ہسپتال میں نہ صرف صوبہ  بھر کے ذہنی مریضوں بلکہ ہمسایہ ملک افغانستان سے بھی جنگ زدہ ماحول سے شدید طور پر متاثرہ ذہنی مریضوں کے مفت علاج معالجے کے لیے ان کی سربراہی میں ایک ٹیم دن رات کوشاں ہے۔ مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کے لیے کسی سرکاری اعزاز کا صوبے کے متعلقہ اداروں کی جانب سے کبھی سوچا ہی نہیں گیا۔ اب بھی اگر ان کا نام صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کے لیے نامزد کیا جائے تو یہ ان کی بے لوث  خدمات کا یقینا اعتراف ہوگا کہ بقول محسن بھوپالی

افسوس کہ سمجھا نہ ہمیں اہل نظر نے

ہم وقت کی زنبیل میں ہیروں کی طرح تھے

اس سے پہلے کہ بات کوئی اور رخ اختیار کر لے اصل مسئلے کی جانب چلتے ہیں اور دونوں ماہرین نفسیات نے وفاقی شرعی عدالت کے محولہ فیصلے پر طبی نکتہء نظر سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے اس کا لب لباب آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔  دونوں ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ذہنی اذیت میں مبتلا افراد کو سزائیں نہیں علاج کی ضرورت ہے کیونکہ خودکشی کی کوشش سے بچ جانے والے افراد کو مجرم قرار دینے سے متاثرہ افراد معاشرتی بدنامی کے خوف سے علاج تک رسائی میں ہچکچائیں گے۔

 پاکستان سائیکاٹرک ریسرچ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر افضل جاوید نے کہا ہے کہ جو افراد خودکشی کے خیالات یا کوشش کے مرحلے سے گزر رہے ہوتے ہیں انہیں فوری نفسیاتی اور طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

 دوسری جانب ہورائزن کے سربراہ ڈاکٹر خالد مفتی نے کہا ہے کہ خود کشی کی کوشش عموما” مجرمانہ ارادے کا نہیں بلکہ شدید یا نفسیاتی اور جذباتی بحران کا اظہار ہوتی ہے, انہوں نے کہا کہ بہت سے افراد شدید ذہنی دباؤ اور جذباتی بحران کے دوران اچانک خودکشی کی کوشش اس وقت کرتے ہیں جب ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسے افراد کو مریض کی بجائے مجرم سمجھنا ان کی ذہنی اذیت میں اضافہ کر سکتا ہے اور انہیں ضروری طبی اور سماجی مدد حاصل کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکشی کو صحت عامہ کا مسئلہ قرار دینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسلام میں خودکشی کی ممانعت سے انکار کیا جا رہا ہے،  بلکہ اسلام انسانی جان کے تحفظ،  رحمت اور ہمدردی پر زور دیتا ہے اس لیے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا افراد کے لیے سزا کے بجائے علاج اور بحالی کا راستہ زیادہ موثر اور اسلامی اقدار سے ہم آہنگ ہے۔ غالبا ساحر لدھیانوی نے کہا تھا

 تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو

 تمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دو

اگرچہ ماہرین نفسیات نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف شریعت اپیلیٹ بینچ سے رجوع کرتے ہوئے محولہ فیصلہ کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی کی ہے کہ خودکشی کی روک تھام کے لیے سزا کے بجائے علاج، بحالی اور سائنسی شواہد پر مبنی حکمت عملی زیادہ موثر ہونے کے ساتھ جان کے تحفظ کے اسلامی مقصد سے بھی ہم آہنگ ہے ۔ تاہم معاملہ چونکہ شریعت اپیلٹ کورٹ میں ہے اور وہاں نہ صرف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو دیکھا جائے گا بلکہ ماہرین نفسیات کی اپیل میں اٹھائے گئے نکات پر بھی غور کیا جائے گا، اس لئے ان سب سے قطع نظر ایک اور اہم بات کی جانب توجہ دلانے کی ضرورت کے تحت ہم یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے خودکشی کے بارے میں آراء تو موجود ہیں مگر اسلامی تعلیمات میں اتنی سختی بھی نہیں یعنی زندگی میں وقتا” فوقتا”  تبدیلی آنے سے پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں اجتہاد کا جو حکم دیا گیا ہے، ما سوائے چند بنیادی عقائد کے، ان میں ضرورت کے تحت تبدیلی کے لیے دینی مذہبی اکابرین، علمائے دین، فقہاء اور مفتیان کرام حالات کے تحت اجتماعی فیصلے سے عوام کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔

 ہمارے ایک  کرم فرما ہیں، ڈاکٹر نور حکیم جیلانی، وہ نہ صرف حافظ قران ہیں، مدرسہ چلاتے ہیں،اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے ایک رسالہ شائع کرتے ہیں بلکہ جدید سائنسی نظریات پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ ان سے ہم نے رہنمائی چاہی تو انہوں نے کہا کہ جب تک وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ سامنے نہ آئے تب تک کوئی حتمی رائے دینا تو ممکن نہیں تا ہم قران میں سورہ نساء کی آیت 29 میں فرمایا گیا ہے (مفہوم.۔۔خودکشی مت کرو اللہ تمہیں معاف فرمائے گا) انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص نفسیاتی طور پر خودکشی کرتا ہے تو اس کے ذہن پر بوجھ ہے اس کا تذکیہء قلب کریں یعنی اس کے ساتھ کونسلنگ کریں۔ علماء کا بھی اس پر اتفاق ہے۔  خودکشی حرام تو ہے مگر اس حوالے سے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ بعض علماء کے نزدیک خودکشی کرنے والوں کا جنازہ پڑھنے پر بھی اختلاف ہے البتہ ذہنی پریشانی میں خودکشی کرنے والوں کا جنازہ پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے،اس لئے اس مسئلے پر ڈاکٹروں کی رائے زیادہ مضبوط ہے۔  وفاقی شرعی عدالت نے کن وجوہات کی بنیاد پر یہ فیصلہ دیا جب تک وہ دلائل سامنے نہ آئیں کوئی حتمی رائے دینا ممکن نہیں ہے۔

مخمل دے مصلے اتے سجدے نئیں کیتے

سڑکاں تے مزدوری کردیاں رل گیا واں

تو ہتھاں دے چھالے گن کے بخش دیویں

 میں متھے محراب بنانا بھل گیا واں

Loading