جبلِ ثور کی عظمت
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)جبلِ ثور مکہ مکرمہ کے جنوب میں تقریباً چار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک بلند اور سخت چٹانی پہاڑ ہے۔ یہ پہاڑ حجاز کے خشک اور پتھریلے جغرافیے کا حصہ ہے۔ اس کے اردگرد وادیاں، ناہموار زمینیں اور سنگریزوں سے بھرے راستے موجود تھے۔ عرب کے بیشتر پہاڑوں کی طرح اس کی چوٹی بھی کھردری اور دشوار گزار تھی۔ گرمیوں میں سورج کی تپش اس کے پتھروں کو دہکا دیتی اور رات کے وقت صحرا کی ٹھنڈی ہوائیں ان چٹانوں کے درمیان سرگوشیاں کرتی محسوس ہوتیں۔
ساتویں صدی عیسوی کا عرب ایک منفرد دنیا تھا۔ شمال میں شام کی منڈیاں تھیں، جنوب میں یمن کے خوشحال تجارتی مراکز، مشرق میں فارس کی عظیم سلطنت اور مغرب میں بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے۔ انہی بین الاقوامی تجارتی راستوں کے درمیان مکہ ایک اہم تجارتی مرکز بن چکا تھا۔ قریش کے قافلے گرمیوں میں شام اور سردیوں میں یمن کا سفر کرتے تھے۔ شہر کی معاشی حیثیت مضبوط تھی، مگر روحانی اعتبار سے وہ بت پرستی، قبائلی تعصبات اور سماجی ناانصافیوں میں جکڑا ہوا تھا۔
اسی ماحول میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو نبوت عطا فرمائی۔ جب آپ ﷺ نے توحید، عدل، رحم اور انسانیت کا پیغام پیش کیا تو قریش کے سرداروں کو اپنی سیاسی اور معاشی طاقت خطرے میں محسوس ہونے لگی۔ چنانچہ مخالفت کا آغاز ہوا، جو وقت گزرنے کے ساتھ شدید دشمنی میں تبدیل ہو گیا۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ کسی کو تپتی ریت پر لٹایا گیا، کسی کو قید کیا گیا، کسی کو بھوکا پیاسا رکھا گیا اور کسی کو شہید کر دیا گیا۔
سالہا سال کی مخالفت کے بعد جب مدینہ منورہ کے باشندے اسلام قبول کر چکے اور وہاں ایک محفوظ مرکز قائم ہو گیا تو مسلمانوں نے آہستہ آہستہ ہجرت شروع کر دی۔ قریش کو اندازہ ہو گیا کہ اگر محمد ﷺ بھی مدینہ پہنچ گئے تو اسلام ایک منظم قوت بن جائے گا۔ چنانچہ دارالندوہ میں قریش کے بڑے سردار جمع ہوئے۔ اس مجلس میں ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور دیگر قبائلی رہنما شریک تھے۔ طویل مشاورت کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ مختلف قبائل کے نوجوان ایک ساتھ حملہ کر کے نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کو شہید کر دیں تاکہ بنو ہاشم کسی ایک قبیلے سے انتقام نہ لے سکیں۔
یہ ایک انتہائی نازک لمحہ تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی تدبیر تمام انسانی تدبیروں سے بلند تھی۔ جب قریش اپنے منصوبے پر عمل کے لیے تیار ہو رہے تھے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ہجرت کا حکم عطا فرما دیا۔
وہ رات تاریخ کی عظیم ترین راتوں میں سے ایک تھی۔ مکہ کی گلیاں خاموش تھیں، مگر فضا میں خطرے کی ایک انجانی کیفیت محسوس ہو رہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر سے نکلے جبکہ قاتل دروازے کے باہر گھات لگائے بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کی نگاہوں پر پردہ ڈال دیا۔ آپ ﷺ اپنے وفادار ساتھی حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھر پہنچے اور وہاں سے سفر کا آغاز ہوا۔
مدینہ شمال کی جانب واقع تھا، لیکن دشمنوں کو دھوکہ دینے کے لیے آپ ﷺ نے شمال کے بجائے جنوب کا رخ کیا۔ یہی وہ حکمت عملی تھی جس نے قریش کو حیران کر دیا۔ مکہ سے جنوب کی سمت بڑھتے ہوئے دونوں عظیم ہستیاں جبلِ ثور کی طرف روانہ ہوئیں۔ رات کی تاریکی میں پتھریلے راستے، اونچی نیچی زمینیں اور دشوار گزار چڑھائیاں ان کے سامنے تھیں۔
تصور کیجیے کہ آپ بھی اس قافلے کے ساتھ ہیں۔ آسمان ستاروں سے بھرا ہوا ہے، صحرا کی ٹھنڈی ہوا چہرے سے ٹکرا رہی ہے، دور کہیں کسی جانور کی آواز سنائی دیتی ہے، اور دو مسافر خاموشی کے ساتھ ایک عظیم مشن کی تکمیل کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہر قدم کے ساتھ خطرہ قریب محسوس ہوتا ہے، مگر ایمان کی روشنی خوف کے اندھیروں کو شکست دے رہی ہے۔
جبلِ ثور کی چڑھائی آسان نہ تھی۔ اس کے راستے کھردرے اور پتھریلے تھے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اپنے محبوب نبی ﷺ کی حفاظت کے لیے کبھی آگے چلتے، کبھی پیچھے، کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب۔ جب رسول اللہ ﷺ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے عرض کیا کہ کبھی دشمن کے سامنے سے حملے کا خیال آتا ہے تو آگے چلنے لگتا ہوں، کبھی پیچھے سے خطرے کا اندیشہ ہوتا ہے تو پیچھے آ جاتا ہوں۔
بالآخر وہ غارِ ثور تک پہنچ گئے۔ یہ غار پہاڑ کی بلندی پر واقع ایک نسبتاً تنگ غار تھا۔ یہاں تین دن قیام کیا گیا۔ انہی تین دنوں میں جبلِ ثور تاریخِ اسلام کا ایک مقدس باب بن گیا۔
قریش کو جب معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں تو پورا مکہ ہل کر رہ گیا۔ ہر طرف تلاش شروع ہو گئی۔ ماہر سراغ رساں بلائے گئے۔ انعامات کا اعلان ہوا۔ گھڑ سوار دستے وادیوں، پہاڑوں اور صحراؤں میں پھیل گئے۔ مکہ کے گرد ہر راستے پر نگرانی بڑھا دی گئی۔
سراغ رساں قدموں کے نشانات کا تعاقب کرتے کرتے جبلِ ثور تک پہنچ گئے۔ صورتحال انتہائی حساس ہو چکی تھی۔ دشمن غار کے دہانے تک آ پہنچے تھے۔ اگر وہ صرف چند قدم اور آگے بڑھ جاتے تو غار کے اندر موجود دونوں ہستیوں کو دیکھ سکتے تھے۔
اس لمحے حضرت ابوبکرؓ کے دل میں اپنے لیے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سلامتی کے لیے فکر پیدا ہوئی۔ انہوں نے عرض کیا: “اگر ان میں سے کوئی شخص اپنے قدموں کی طرف دیکھ لے تو ہمیں دیکھ لے گا۔”
تب رسول اللہ ﷺ نے وہ تاریخی جملہ فرمایا جو قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں کو قوت بخشتا رہے گا:
“لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا”
“غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔”
یہ صرف تسلی کا جملہ نہیں تھا بلکہ ایمان کی معراج تھی۔ غار کے باہر دشمنوں کا ہجوم تھا اور اندر یقین کی ایک ایسی دنیا آباد تھی جسے کوئی خوف متزلزل نہیں کر سکتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص نصرت کا مظاہرہ فرمایا۔ روایات میں مذکور ہے کہ غار کے دہانے پر مکڑی نے جالا بن دیا اور کبوتروں نے گھونسلا بنا لیا۔ جب تعاقب کرنے والوں نے یہ منظر دیکھا تو ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر کوئی شخص حال ہی میں اس غار میں داخل ہوا ہوتا تو جالا اور گھونسلا موجود نہ ہوتے۔ چنانچہ وہ واپس لوٹ گئے۔
یہ منظر محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ توکل، یقین اور نصرتِ الٰہی کا عظیم استعارہ ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں اپنے تحفظ کے لیے لشکر تیار کرتی ہیں، قلعے تعمیر کرتی ہیں اور اسلحہ جمع کرتی ہیں، مگر یہاں کائنات کے رب نے اپنے محبوب ﷺ کی حفاظت کے لیے ایک مکڑی کے نازک جالے اور چند پرندوں کے گھونسلے کو ذریعہ بنا دیا۔
ان تین دنوں کے دوران حضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ خبریں پہنچاتے رہے، حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ کھانا لاتی رہیں، اور حضرت عامر بن فہیرہؓ بکریاں چرا کر قدموں کے نشانات مٹا دیتے رہے۔ یہ تمام کردار ہجرت کے اس عظیم باب کے خاموش ہیرو تھے۔
جب تلاش کی شدت کم ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ غارِ ثور سے روانہ ہوئے۔ اب ان کا رخ مدینہ منورہ کی طرف تھا۔ ایک نیا سفر شروع ہونے والا تھا، ایسا سفر جو صرف دو افراد کی نقل مکانی نہیں بلکہ تاریخ کے ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔
جبلِ ثور اپنی جگہ خاموش کھڑا رہا، مگر اس کی خاموش چٹانوں نے وہ منظر دیکھا جسے دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اس پہاڑ نے خوف کو یقین میں بدلتے دیکھا، اس نے تعاقب کو حفاظت میں بدلتے دیکھا، اس نے دشمنی کو شکست کھاتے اور ایمان کو سربلند ہوتے دیکھا۔
آج بھی جب زائرین مکہ مکرمہ کے جنوب میں واقع اس پہاڑ کو دیکھتے ہیں تو انہیں صرف پتھروں کا ایک ڈھیر نظر نہیں آتا۔ انہیں وہ مقام دکھائی دیتا ہے جہاں زمین اور آسمان کے درمیان تعلق کی ایک عظیم داستان رقم ہوئی تھی۔ انہیں وہ غار یاد آتا ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کی تیاری ہوئی۔ انہیں وہ لمحہ یاد آتا ہے جب پوری دنیا کی طاقت ایک طرف تھی اور ایک غار میں بیٹھے دو افراد دوسری طرف، مگر کامیابی انہی دو افراد کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی۔
جبلِ ثور کی عظمت اس کی بلندی میں نہیں، اس کی چٹانوں میں نہیں، اس کے جغرافیے میں نہیں؛ بلکہ اس نسبت میں ہے جو اسے رسول اللہ ﷺ کی ہجرت اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کے ساتھ حاصل ہوئی۔ یہ پہاڑ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان اللہ پر کامل بھروسہ کر لے تو ناممکن راستے بھی کھل جاتے ہیں، دشمنوں کے محاصرے بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور تاریک راتیں بھی روشن صبحوں میں بدل جاتی ہیں۔
صدیاں گزر چکی ہیں۔ سلطنتیں مٹ گئیں، قبیلے بکھر گئے، تجارتی قافلے تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئے، مگر جبلِ ثور آج بھی مکہ کے افق پر اسی شان سے کھڑا ہے۔ اس کی خاموش چٹانیں ہر آنے والے سے جیسے یہ کہتی ہیں کہ ایمان کی طاقت کسی لشکر کی محتاج نہیں ہوتی، اور جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے دنیا کی کوئی قوت شکست نہیں دے سکتی۔
![]()

