Daily Roshni News

مغل سلطنت کا محکمہ آبدار۔۔۔۔ ✍️

مغل سلطنت کا محکمہ آبدار۔۔۔۔ ✍️

 ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)دو ڈھائی سو سال قبل جب نہ فریج نہ ہی بجلی تو اس وقت جہانگیر، شاہجہان اور اورنگزیب جیسے مغل بادشاہ گرمیوں میں قلفی اور ٹھنڈے مشروبات پیتے تھے اور  مشہور مغل بادشاہ جہانگیر نے اپنی کتاب تزکِ جہانگیری میں برف کے استعمال اور اس کی اہمیت کا ذکر بھی کیا ہے۔ مغل بادشاہ اپنے وقت کے نہایت ذہین اور شوقین حکمران تھے۔ ان کی حکومت کے دوران نہ صرف شاندار عمارتیں بنیں بلکہ لذیذ مغلائی کھانے اور منفرد طور طریقے بھی عام ہوئے۔مغلوں کا یہ نظام محض عیش و عشرت کا مظہر نہیں تھا، بلکہ یہ ان کی بے مثال انتظامی صلاحیت، لاجسٹکس کی مہارت اور سائنسی فہم کا منہ بولتا ثبوت تھا۔شہنشاہ ہمایوں، جلال الدین اکبر اور شاہ جہاں کے ادوار میں گرمیوں کے آغاز سے قبل ہی ایک وسیع مہم شروع کر دی جاتی تھی۔ شاہی دور میں قدرتی برف کی فراہمی کے لیے کشمیر، ہماچل پردیش اور گڑھوال کے برف پوش علاقوں کا انتخاب کیا جاتا تھا. سردیوں کے موسم میں ہزاروں مزدور پہاڑوں پر جا کر برف کے دیو قامت تودے کاٹتے تھے۔ اصل چیلنج ان تودوں کو پگھلائے بغیر سیکڑوں میل دور دہلی، آگرہ اور لاہور جیسے دارالحکومتوں تک پہنچانا تھا۔ اس مقصد کے لیے مغلوں نے ایک تیز رفتار ”پاسبانِ نقل و حمل“ قائم کر رکھا تھا، جس میں گھوڑوں اور کشتیوں کے ذریعے برف کی کھیپ راتوں رات منزلِ مقصود تک پہنچائی جاتی تھی۔جب یہ برف شاہی شہروں میں پہنچتی، تو اسے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ برف خانوں یا آئس ہاوسز کہی جانے والی خصوصی عمارتوں میں منتقل کر کے محفوظ کردیا جاتا تھا۔یہ برف خانے زمین کے اندر کئی فٹ گہرائی میں بنائے جاتے تھے۔ ان کی دیواریں اس قدر موٹی ہوتی تھیں کہ باہر کی تپش اور حرارت کو اندر داخل نہیں ہونے دیتی تھیں۔ یہاں برف کو بھوسہ، کپڑا اور راکھ کی تہوں میں لپیٹ کر محفوظ کیا جاتا تھا۔یہ سادہ مگر انتہائی مؤثر طریقہ کار برف کو کئی ماہ تک محفوظ رکھتا تھا. جس کے باعث مئی اور جون کی جھلسا دینے والی گرمی میں بھی برف پگھلنے سے محفوظ رہتی تھی۔مغل دربار میں برف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ ایک محکمہ قائم تھا۔ اس محکمے کے سربراہ اور اہلکاروں کو ”آبدار“ کہا جاتا تھا۔آبداروں کا کام صرف برف کو سنبھالنا نہیں تھا، بلکہ شہنشاہ کے پینے کے پانی کو چوبیس گھنٹے ٹھنڈا رکھنا، شاہی باورچی خانے کو ضرورت کے مطابق برف فراہم کرنا اور بڑی شاہی دعوتوں میں یخ بستہ پکوانوں کا انتظام کرنا انہی کی نگرانی میں ہوتا تھا۔ تاکہ شاہی خاندان کو گرمی کے موسم میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مغل انتظامیہ میں آبدار کا عہدہ انتہائی معتبر اور قابلِ اعتماد سمجھا جاتا تھا، کیونکہ شاہی خاندان کے لیے ٹھنڈے مشروبات اور دیگر آسائشوں اور سہولیات کی فراہمی براہِ راست ان کی کارکردگی سے جڑی تھی ۔

قدیم ہندوستان میں برف بنانے کا ایک اور مقامی طریقہ یہ تھا کہ سردیوں کی راتوں میں پانی کو پتلے برتنوں میں رکھ کر کھلے آسمان کے نیچے چھوڑ دیا جاتا، جہاں شدید ٹھنڈ کی وجہ سے وہ جم جاتا۔

مغل بادشاہوں کی یہ دلچسپ ایجاد اور انتظام آج بھی ہمیں حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی جدید ٹیکنالوجی کے بھی کس طرح اپنی زندگی کو آسائشوں کا انتظام کر رکھا تھا۔۔۔ ✍️

Loading