شباب کی باتیں
* مرے لئے کوئی نیلم مکان رکھ دینا*
تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ مرے لئے کوئی نیلم مکان رکھ دینا۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)خبر کی سرخی ہے کہ پشاور بارش۔ شہر پانی اور تاریکی میں ڈوب گیا۔ 148 فیڈر ٹرپ۔ ذیلی سرخی ہے کہ 71 ملی میٹر بارش کے بعد سڑکیں اور گلیاں زیرآب آگئیں، نکاسئ آب کے نالے بھی ابل پڑے۔ بجلی گیس اور انٹرنیٹ سروس کا بحران پیدا ہو گیا۔
متواتر کئی گھنٹے بجلی غائب رہنے سے نظام زندگی مفلوج۔
ایک اور خبر کے مطابق شدید بارش کی وجہ سے پشاور کے تاجروں کو ایک دن میں ایک ارب کا نقصان جبکہ ایک اور سنگل کالمی خبر اس صورتحال پر سونے پر سہاگہ والی کیفیت کی حامل ہے جس کے مطابق پشاور بارش۔ انڈر پاسز میں پانی جمع ہونے سے بی آر ٹی سروس معطل ہو گئی ہے۔
ادھر سوشل میڈیا پر منچلے مختلف علاقوں میں ابھرنے والی سیلابی صورتحال کی ویڈیوز بنا بنا کر شیئر کر رہے ہیں جن میں یونیورسٹی روڈ، صدر اور شہر کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی سی کیفیت اور ان میں گاڑیوں کے ڈوبنے جیسے مسائل سے نبردآزما عوام کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
فارسی زبان میں کہتے ہیں کہ ایں ہمہ آوردہء تست، یعنی یہ سب کچھ تمہاری کارستانی ہے۔ معاف کیجیے گا اس حوالے سے ہم کسی شخص پر کوئی الزام تراشی نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم تو ساون کا رونا رو رہے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں پشاور (بشمول خیبر پختون خواہ کے بیشتر علاقوں کے) عوام لفظ ساون کا ذکر تو سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں مگر اس سے وابستہ جو “لطف” اٹک کے اس پار سے لے کر آگے بارڈر کراس کرنے کے بعد بھارت کے بھی اندر تک کے علاقوں کے مکین اٹھاتے ہیں اور جس کی وجہ سے شاعری کی نئی روایات نے جنم لیا، اور اگر اس ساری شاعری کو یکجا کیا جائے تو اچھی خاصی کئی ضخیم کتابیں وجود میں آسکتی ہیں، مگر “مشتے نمونہ از خروارے” کے مصداق ایک بھارتی فلم کے گانے کے چار مصرعے ملاحظہ فرمائیں کہ
آؤ گے جب تم ساجنا
انگنا پھول کھلیں گے
برسے گا ساون جھوم جھوم کے
دو دل ایسے ملیں گے
برہا کی ماری ہوئی سہاگنوں کے دلوں کی اس کیفیت کا اندازہ ان کے اپنے ساجن کے انتظار سے لگایا جا سکتا ہے جو اپنے گھروں سے دور محنت مزدوری کرنے کے لیے عارضی جدائی کا کشٹ اٹھاتے ہیں، ساون کا انتظار کرتے ہیں تاکہ انہیں چھٹی ملے اور وہ اپنے گھروں کو سدھار سکیں۔ جبکہ اس کے برعکس ہمارے ہاں اس روایتی ساون کا تصور صرف معلومات کی حد تک ہی ہے۔ کیونکہ اسی ساون کے مہینے میں پشاور میں بارشوں کا کوئی تصور نہ ہونے کی وجہ سے اسے “پشکال” کا نام دیا جاتا ہے اور اٹک کے دوسری جانب پنجاب اور آگے ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں جلد تھل کا سماں ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں یہ جل تھل یوں ہوتی ہے کہ انسان اپنے ہی پسینے میں شرابور ہوتا ہے، گویا آسمان سے برسنے والی بوندوں کی جگہ جسم سے خارج ہونے والے “عرق” کی بوندیں انہیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ کہیں خدا نخواستہ یہ ان کے “گناہوں کی سزا” کے طور پر “عرق انفعال” تو نہیں؟ اس لیے پشاور کی اس خشک سالی کی صورتحال کو ہم نے ایک شعر میں یوں باندھا ہے کہ
برہن اپنے ساجن کو کیسے بلوائے دیس؟
اب کے برس تو ساون کے چھاگل بھی خالی خالی!!
تاہم اب کے برس تو واقعی ساون نے بھی اہل پشاور کے ساتھ “سین پاٹ” کرتے ہوئے گزشتہ چار پانچ روز سے انہیں ایک نئی کیفیت سے آشنا کر دیا ہے۔ اگرچہ محکمہ موسمیات والوں نے بھی بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے یہ ضرور کہا تھا کہ بارش کا گھوڑا “دلکی چال” چلے گا، یعنی سرپٹ نہیں بھاگے گا اور بقول شیخ رشید ہلکی ہلکی ڈھولکی بجائے گا، مگر یہاں تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نہ صرف بارش کا گھوڑا تیز تو کیا برق رفتاری سے دوڑے گا اور ہلکی ہلکی ڈھولکی بجنے کی نسبت کوئی ڈرمر تیز بیٹ کے ساتھ بلند آہنگ لے میں ڈھول بجا کر سب کچھ تلپٹ کر دے گا۔ آگے ذمہ دار حلقوں کی جانب سے کوئی مناسب تیاری یعنی نکاسئ آب کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں اور شاہراہیں، چھوٹے چھوٹے دریاؤں کی صورت اختیار کرنا شروع کر دیں گی اور پھر وہی ہوا جس کے خدشات ہمارے مقدر میں لکھے ہونے کی وجہ سے ہمیشہ جنم لیتے ہیں، یعنی بجلی کا سارا نظام دھڑام سے گر جاتا ہے، بجلی گئی تو ایسے گئی، جیسے گدھے کے سر سے سینگ، یعنی کبھی تھی ہی نہیں، بقول فیض احمد فیض
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
ساری رات صرف دو بار بجلی نے اپنی چھب دکھلائی مگر صرف ایک ایک سیکنڈ کے لیے، مستزاد یہ کہ اللہ میاں نے اہل پشاور کے “کرتوتوں” پر سرزنش کے لیے پروں والی چیونٹیوں کی بھی برسات کر دی۔ بارش کی وجہ سے وہ جو موسم میں تھوڑی سی خنکی اور خوشگواریت کا احساس پیدا ہو چلا تھا اور ایک گونا سکون محسوس ہو رہا تھا، یعنی بغیر پنکھے کے بھی گزارا ہو رہا تھا، ان اڑنے والی چیونٹیوں نے اسے بھی تاراج کر دیا تھا، اس لیے جسم پر رینگنے والی ان چیونٹیوں نے ہر شخص کو بدن کو کھجلانے کی مشقت پر لگا کر نیند کو ان سے کوسوں دور کر دیا تھا اور بہ مشکل صبح کے آثار ہویدا ہونے کے ساتھ، فلم آن کا یہ مشہور ڈائیلاگ ادا کیے بغیر کہ “چیونٹی کی جب موت آتی ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں” ان چیونٹیوں سے جان چھوٹی۔ مگر بارش کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے اب بھی جاری ہے اور کئی علاقوں میں اگرچہ برقی رو بحال ضرور ہوئی ہے تا ہم کچھ علاقوں میں تادم تحریر پشتو کے ایک محاورے کے مطابق “قبلے تہ شین دے” یعنی صورتحال جوں کی تو ہے، تو کہیں کہیں کم وولٹیج نے مسائل کھڑے کیے ہیں اور اکثر ایسی صورتحال میں مبینہ طور پر لوگوں کے الیکٹریکل اپلائنسز یعنی ریفریجیریٹر ، فریزر وغیرہ جل کر ناکارہ ہو جاتے ہیں اور وہ جو گزشتہ یعنی پیر کے روز شدید بارش نے خصوصا یونیورسٹی روڈ کو سمندر بنا کر رکھ دیا تھا، تو اگلے روز یعنی منگل کے دن حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے بھی ہم اسی خوف میں مبتلا تھے کہ کہیں ہماری گاڑی سیلابی صورتحال میں پھنس نہ جائے۔ تاہم شکر ہے کہ واپسی تک بارش کے باوجود خیریت رہی اور ہم دوست مکرم ڈاکٹر خادم ابراہیم کی معیت میں ان کی گاڑی میں بخیر و خوبی، اجلاس میں شرکت کے بعد واپس بھی بخیریت اپنے گھر پہنچ گئے۔ اجلاس کی روداد تو حلقہ ارباب ذوق کے آفیشل پیج پر شاید ان سطور کے شائع ہونے تک سامنے آجائے البتہ اجلاس میں ہم نے وہیں بیٹھے بیٹھے جو دو تازہ شعر موزوں کئےاور وہاں سنائے بھی تو وہ آپ کی نظر بھی کر دیتے ہیں
ہوا کے دوش پہ اپنا بیان رکھ دینا
پھر اس کے بعد جو چاہو گمان رکھ دینا
تم اپنی جھیل سی آنکھوں کی نیلگوں رت میں
مرے لیے کوئی نیلم مکان رکھ دینا
![]()

