Daily Roshni News

کیا اگلے دس سال میں دنیا مکمل بدل جائے گی؟

کیا اگلے دس سال میں دنیا مکمل بدل جائے گی؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) مستقبل خاموشی سے ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے

ذرا تصور کیجیے… صبح آپ کی آنکھ کھلتی ہے۔ آپ موبائل اٹھاتے ہیں، مگر اس میں صرف پیغامات نہیں، بلکہ ایک مصنوعی ذہانت (AI) آپ کے پورے دن کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ وہ آپ کو بتاتی ہے کہ آج کون سی میٹنگ ضروری ہے، کس مریض کی رپورٹ میں خطرہ ہے، کس سڑک پر ٹریفک زیادہ ہے، اور کون سا راستہ بہتر رہے گا۔ آپ گھر سے نکلتے ہیں۔ گاڑی کا دروازہ خود بخود کھل جاتا ہے۔ آپ ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں بیٹھتے… کیونکہ گاڑی خود چلتی ہے۔ آپ راستے میں سفر نہیں کرتے… بلکہ اپنا دفتر ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اسی دوران… آپ کے گھر کی چھت پر لگے سولر پینل سورج کی روشنی سے بجلی بنا رہے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ بجلی قومی گرڈ کو فروخت ہو رہی ہے۔ اور شام کو جب آپ واپس آتے ہیں… تو آپ کا گھر صرف رہائش گاہ نہیں… بلکہ ایک چھوٹا سا “توانائی پیدا کرنے والا مرکز” بن چکا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے… *کیا یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر ہے؟* یا… *ہم واقعی اس دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں؟*

مستقبل اچانک نہیں آتا

زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا ایک ہی رات میں بدل جاتی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تبدیلی خاموشی سے آتی ہے۔ پہلے وہ چند لوگوں کو نظر آتی ہے۔ پھر چند کمپنیوں کو۔ پھر چند ممالک کو۔ اور جب پوری دنیا کو احساس ہوتا ہے… تب تک تبدیلی ایک حقیقت بن چکی ہوتی ہے۔ سوچیے… صرف تیس سال پہلے… اگر کوئی کہتا کہ ایک دن لوگ جیب میں ایسا آلہ رکھیں گے جس میں کیمرہ، ٹی وی، ریڈیو، نقشہ، کتاب، بینک، بازار، اخبار، دفتر اور پوری دنیا سمٹ آئے گی… تو شاید لوگ ہنس دیتے۔ آج ہم اسے *اسمارٹ فون* کہتے ہیں۔

کوڈاک کی کہانی… جو ہر صنعت کو سمجھنی چاہیے

ایک زمانہ تھا… جب تصویر کھنچوانا ایک خاص موقع سمجھا جاتا تھا۔ فلم رول خریدی جاتی۔ تصاویر بنوائی جاتیں۔ پھر کئی دن انتظار کیا جاتا۔ اس دور کی سب سے بڑی کمپنی تھی *کوڈاک*۔ اس کے تقریباً *ایک لاکھ ستر ہزار ملازمین* تھے اور دنیا کے فوٹو فلم کے بڑے حصے پر اس کا قبضہ تھا۔ پھر ایک نئی ٹیکنالوجی آئی… *ڈیجیٹل کیمرہ۔* دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی ڈیجیٹل کیمرہ خود کوڈاک کے ایک انجینئر نے بنایا تھا۔ مگر کمپنی نے سوچا… “یہ کبھی فلم کی جگہ نہیں لے سکتا۔” چند ہی برسوں میں… لوگوں نے فلم خریدنا چھوڑ دی۔ پھر موبائل فون میں کیمرہ آ گیا۔ اور وہ کمپنی… جسے لگتا تھا کہ وہ ہمیشہ دنیا پر حکومت کرے گی… تاریخ کا ایک باب بن گئی۔ یہ کہانی صرف کوڈاک کی نہیں۔ یہ ہر اس ادارے کی کہانی ہے… جو آنے والی تبدیلی کو دیکھنے سے انکار کر دیتا ہے۔

کیا یہی کچھ گاڑیوں کے ساتھ بھی ہوگا؟

آج دنیا میں کروڑوں گاڑیاں پٹرول اور ڈیزل سے چلتی ہیں۔ ان کے انجن ہزاروں پرزوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں وقتاً فوقتاً آئل بدلوانا پڑتا ہے۔ فلٹر تبدیل ہوتے ہیں۔ ریڈی ایٹر، سائلنسر، کلچ، گیئر باکس… لمبی فہرست ہے۔ لیکن… الیکٹرک گاڑیوں نے اس سوچ کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان میں حرکت کرنے والے پرزے بہت کم ہوتے ہیں۔ دیکھ بھال نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ اور کئی ممالک نے آئندہ برسوں میں نئی پٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کی فروخت محدود یا بند کرنے کے اہداف بھی مقرر کیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کل صبح تمام پٹرول پمپ بند ہو جائیں گے۔ ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن… جس طرح گھوڑا گاڑی آہستہ آہستہ تاریخ کا حصہ بنی… ویسے ہی روایتی گاڑیاں بھی آنے والی دہائیوں میں کم ہوتی جا سکتی ہیں۔

اصل انقلاب گاڑی نہیں…

“سافٹ ویئر” ہے ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ انقلاب نئی مشینیں لاتی ہیں۔ حقیقت میں… انقلاب اکثر *سافٹ ویئر* لاتا ہے۔ اوبر نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسی سروس قائم کی… مگر اس کے پاس اپنی ٹیکسیوں کا روایتی بیڑا نہیں۔ ایئربی این بی لاکھوں مسافروں کو رہائش فراہم کرتی ہے… مگر اس کے پاس روایتی معنوں میں اپنے ہوٹل نہیں۔ آن لائن مارکیٹ پلیسز نے ہزاروں دکانوں کے کاروباری طریقے بدل دیے۔ بینکنگ، تعلیم،  خریداری، علاج… سب کچھ سافٹ ویئر کے ذریعے تبدیل ہو رہا ہے۔ اور اب… اسی میدان میں ایک نئی طاقت داخل ہو چکی ہے۔ *مصنوعی ذہانت۔*

مصنوعی ذہانت… صرف ایک چیٹ بوٹ نہیں

جب لوگ AI کا نام سنتے ہیں… تو اکثر ان کے ذہن میں صرف سوالوں کے جواب دینے والا پروگرام آتا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں آگے جا چکی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت… طبی تصاویر کا تجزیہ کر رہی ہے۔ کارخانوں میں معیار جانچ رہی ہے۔ فصلوں کی بیماریوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔ زبانوں کا ترجمہ کر رہی ہے۔ ادویات کی تحقیق میں مدد دے رہی ہے۔ اور ایسے کام انجام دے رہی ہے… جن کے لیے پہلے گھنٹوں یا دنوں کی محنت درکار ہوتی تھی۔ سوال یہ نہیں کہ AI آئے گی یا نہیں… وہ آ چکی ہے۔ اصل سوال یہ ہے… *ہم اس کے ساتھ خود کو کیسے ہم آہنگ کریں گے؟*

لیکن ایک سوال باقی ہے…

اگر مشینیں زیادہ ذہین ہوتی جا رہی ہیں… اگر گاڑیاں خود چلنے لگیں… اگر روبوٹ کام کرنے لگیں… اگر مصنوعی ذہانت فیصلوں میں مدد دینے لگے… تو پھر… *انسان کیا کرے گا؟* کون سی نوکریاں محفوظ رہیں گی؟ کن شعبوں میں انقلاب آئے گا؟ اور سب سے بڑھ کر… ایک مسلمان کو اس بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی جگہ کیسے بنانی چاہیے؟ یہی سوال ہمیں اس سلسلے کے دوسرے حصے کی طرف لے جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں کون سی نوکریاں محفوظ رہیں گی؟

حصہ دوم: انقلاب صرف مشینوں کا نہیں… انسان کی سوچ کا بھی ہے

ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچئے… فرض کریں آج سے دس سال بعد آپ اپنے شہر کی ایک مصروف سڑک پر کھڑے ہیں۔ چاروں طرف گاڑیاں چل رہی ہیں… لیکن ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی نہیں بیٹھا۔ دکانوں میں کیشیئر نہیں۔ بینک میں لمبی قطاریں نہیں۔ ہسپتال میں مریض کی ابتدائی رپورٹ چند سیکنڈ میں تیار ہو رہی ہے۔ عدالت میں وکیل کے ساتھ ایک ذہین کمپیوٹر بھی قانون کی ہزاروں کتابوں سے دلائل نکال کر پیش کر رہا ہے۔ اور دفتر میں… دس افراد کا کام اب صرف دو لوگ کر رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ سب ہوگا یا نہیں۔ سوال یہ ہے… *اس دنیا میں انسان کی اصل قیمت کیا ہوگی؟*

ہر انقلاب کچھ لیتا ہے… اور بہت کچھ دیتا بھی ہے

جب بجلی ایجاد ہوئی… تو چراغ بنانے والوں کو نقصان ہوا۔ جب ٹریکٹر آیا… تو ہزاروں مزدوروں کا کام بدل گیا۔ جب کمپیوٹر آیا… تو ٹائپ رائٹر بنانے والی صنعت تقریباً ختم ہو گئی۔ جب انٹرنیٹ آیا… تو اخبارات، خطوط، ویڈیو کیسٹس، سی ڈیز اور کئی روایتی  کاروبار بدل گئے۔ لیکن… کیا دنیا میں کام ختم ہو گیا؟ نہیں۔ کام ختم نہیں ہوا… *کام کی نوعیت بدل گئی۔*

مصنوعی ذہانت کن کاموں کو سب سے پہلے بدلے گی؟

ایک اصول ہمیشہ یاد رکھئے۔ *جس کام میں بار بار ایک ہی عمل دہرایا جاتا ہے، وہ سب سے پہلے خودکار (Automation) ہوتا ہے۔* مثلاً: ایک کیشیئر ہر روز ایک جیسے مراحل سے گزرتا ہے۔ ایک ڈیٹا انٹری آپریٹر بار بار ایک ہی معلومات درج کرتا ہے۔ ایک کال سینٹر کا ملازم روزانہ ملتے جلتے سوالوں کے جواب دیتا ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام پہلے سے داخل ہو چکے ہیں۔ اسی طرح… حساب کتاب، ابتدائی قانونی دستاویزات، طبی رپورٹس کا ابتدائی تجزیہ، ترجمے، شیڈولنگ، اور دفتری انتظام کے بہت سے کام تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بےکار ہو جائے گا۔ بلکہ… اس کا مطلب یہ ہے کہ *انسان کو اپنی صلاحیت کا اگلا درجہ حاصل کرنا ہوگا۔*

وہ صلاحیت جو مشین آسانی سے نہیں سیکھ سکتی

ایک سوال… اگر ایک کمپیوٹر ہزار کتابیں چند سیکنڈ میں پڑھ سکتا ہے… تو پھر انسان کی اہمیت کیا رہ جائے گی؟ جواب حیران کن ہے۔ *انسان کی اصل طاقت معلومات نہیں… حکمت ہے۔* مشین معلومات جمع کرتی ہے۔ انسان ان معلومات کا صحیح استعمال سیکھتا ہے۔ مشین جواب دیتی ہے۔ انسان صحیح سوال پوچھتا ہے۔ مشین حساب لگا سکتی ہے۔ انسان انصاف کر سکتا ہے۔ مشین تصویر بنا سکتی ہے۔ انسان مقصد تخلیق کرتا ہے۔

آنے والے دور کے کامیاب لوگ کون ہوں گے؟

وہ نہیں… جو صرف ایک ہنر جانتے ہوں۔ بلکہ وہ… جو ہر چند سال بعد خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا سیکھ جائیں۔ آج ایک نوجوان اگر صرف یہ سوچے کہ: “میں نے ڈگری لے لی، اب پوری زندگی یہی کافی ہے۔” تو شاید وہ آنے والے دور کو سمجھ نہیں رہا۔ تعلیم اب ایک مرحلہ نہیں رہی۔ تعلیم اب *زندگی بھر جاری رہنے والا سفر* بن چکی ہے۔ جو سیکھنا چھوڑ دے گا… وہ پیچھے رہ جائے گا۔

ایک خطرناک غلط فہمی

آج بعض لوگ کہتے ہیں: “مصنوعی ذہانت سب کچھ کر لے گی، اب انسان کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔” یہ بات مبالغہ آمیز ہے۔ آج بھی بہترین ڈاکٹر کی جگہ صرف کمپیوٹر نہیں لے سکتا۔ بہترین استاد صرف معلومات دینے والا نہیں ہوتا، بلکہ کردار بھی بناتا ہے۔ ایک مخلص رہنما صرف اعداد و شمار نہیں دیکھتا، انسانوں کو بھی سمجھتا ہے۔ ایک ماں کی محبت… ایک باپ کی نصیحت… ایک دوست کی ہمدردی… ایک عالم کی بصیرت… ایک قاضی کا انصاف… یہ سب ایسی چیزیں ہیں جنہیں محض الگورتھم میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

اصل مقابلہ انسان اور AI کے درمیان نہیں

لوگ سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں مقابلہ ہوگا: *انسان بمقابلہ AI* حقیقت شاید کچھ اور ہو۔ اصل مقابلہ ہوگا: *وہ انسان جو AI کو استعمال کرنا جانتا ہے…* اور *وہ انسان جو نئی دنیا کو سمجھنے سے انکار کر دیتا ہے۔* جس طرح کمپیوٹر استعمال کرنے والے نے ٹائپ رائٹر استعمال کرنے والے پر برتری حاصل کی… ویسے ہی AI کو سمجھنے والا شخص بہت سے شعبوں میں دوسروں سے آگے نکل سکتا ہے۔

ایک مسلمان کیا کرے؟

یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا مسلمان کو ٹیکنالوجی سے ڈرنا چاہیے؟ ہرگز نہیں۔ اسلام نے کبھی علم سے فرار کا درس نہیں دیا۔ قرآن کی پہلی وحی ہی *”پڑھو”* سے شروع ہوتی ہے۔ مسلمانوں نے ایک دور میں فلکیات، ریاضی، طب، انجینئرنگ، کیمیا اور جغرافیہ میں دنیا کی رہنمائی کی۔ لہٰذا… اگر نئی ٹیکنالوجی انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال ہو… تو ایک مسلمان کو اس میں آگے ہونا چاہیے، پیچھے نہیں۔ لیکن… ایک شرط کے ساتھ۔ علم… اخلاق کے بغیر خطرناک ہو جاتا ہے۔ طاقت… اگر ذمہ داری کے بغیر ہو… تو تباہی بن جاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت… اگر انصاف، دیانت اور اللہ کے خوف سے خالی ہو… تو فائدے کے ساتھ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ اسی لیے… آنے والے دور میں صرف ذہین لوگ کافی نہیں ہوں گے۔ *دیانت دار ذہین لوگ* درکار ہوں گے۔

لیکن سب سے بڑا سوال ابھی باقی ہے…

اگر دنیا واقعی اتنی تیزی سے بدلنے والی ہے… اگر گاڑیاں بدل جائیں گی… نوکریاں بدل جائیں گی… شہر بدل جائیں گے… توانائی کے ذرائع بدل جائیں گے… تو پھر… *کون سی چیز ہے جو کبھی نہیں بدلے گی؟* کون سی دولت ہے… جسے کوئی مصنوعی ذہانت پرانی نہیں کر سکتی؟ کون سا اصول ہے… جو ہر صنعتی انقلاب سے بڑا ہے؟ اور… ایک مسلمان مستقبل سے خوفزدہ ہونے کے بجائے… اس کا استقبال کیسے کرے؟ یہی ہمارے اس سلسلے کے آخری اور سب سے اہم حصے کا موضوع ہوگا۔

دنیا بدل جائے گی… مگر ایک چیز کبھی نہیں بدلے گی

حصہ سوم: مصنوعی ذہانت کے دور میں انسان کی اصل طاقت کیا ہوگی؟

اگر آپ نے اس مضمون کے پہلے دو حصے پڑھے ہیں… تو اب تک شاید آپ کے ذہن میں ایک سوال ضرور پیدا ہو چکا ہوگا۔ اگر واقعی… مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کر رہی ہے… خودکار گاڑیاں عام ہو جائیں گی… روایتی صنعتیں بدل جائیں گی… اور آنے والے برسوں میں لاکھوں نوکریوں کی نوعیت تبدیل ہو جائے گی… تو پھر… *انسان کی اصل حیثیت کیا رہ جائے گی؟* کیا مشینیں ہم سے بہتر ہو جائیں گی؟ کیا روبوٹ ہمارا مستقبل لکھیں گے؟ یا… ان سب تبدیلیوں کے باوجود ایک ایسی چیز ہے… جسے کوئی مشین کبھی نہیں چھین سکتی؟

دنیا بدلتی رہی ہے…

اور بدلتی رہے گی ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیے۔ ایک وقت تھا… جب گھوڑا ہی طاقت کی علامت تھا۔ پھر بھاپ کا انجن آیا۔ لوگوں نے کہا… “یہ تو ناممکن ہے۔” پھر بجلی آئی۔ لوگ حیران رہ گئے۔ پھر ہوائی جہاز آیا۔ پھر کمپیوٹر۔ پھر انٹرنیٹ۔ پھر اسمارٹ فون۔ اور اب… مصنوعی ذہانت۔ ہر نسل نے یہی سمجھا… کہ اب اس سے بڑی تبدیلی ممکن نہیں۔ لیکن ہر چند سال بعد… دنیا ایک نیا موڑ لے لیتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس دنیا کی سنت ہے۔ تبدیلی… رکنے کے لیے نہیں آتی۔ آگے بڑھنے کے لیے آتی ہے۔

لیکن کچھ چیزیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں

آج بھی… اگر کوئی شخص جھوٹ بولے… تو جھوٹ، جھوٹ ہی رہے گا۔ اگر کوئی امانت میں خیانت کرے… تو وہ خیانت ہی کہلائے گی۔ اگر کوئی ظلم کرے… تو مصنوعی ذہانت اسے انصاف نہیں بنا سکتی۔ اگر کوئی سچ بولے… تو سچ کی قیمت آج بھی وہی ہے جو ہزار سال پہلے تھی۔ ذرا غور کیجیے۔ پچھلے ایک ہزار سال میں… کتنی سلطنتیں آئیں اور چلی گئیں۔ کتنی زبانیں بدل گئیں۔ کتنے سکے تبدیل ہوئے۔ کتنی ایجادات ہوئیں۔ لیکن… قرآن آج بھی وہی ہے۔ نماز آج بھی وہی ہے۔ سچائی آج بھی وہی ہے۔ عدل آج بھی وہی ہے۔ رحم آج بھی وہی ہے۔ انسانی کردار کی بنیادیں نہیں بدلیں۔ اور نہ کبھی بدلیں گی۔

مستقبل کا کامیاب انسان کون ہوگا؟

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں… کہ مستقبل صرف انجینئرز کا ہوگا۔ یا صرف پروگرامرز کا۔ یا صرف مصنوعی ذہانت کے ماہرین کا۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ مستقبل اس شخص کا ہوگا… جو تین صفات اپنے اندر پیدا کرے۔

پہلی صفت

*سیکھنے کی صلاحیت* جو شخص یہ سوچ لے… “اب میں سب کچھ سیکھ چکا ہوں۔” وہیں سے اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ دنیا بدل رہی ہے۔ لہٰذا… سیکھتے رہنا ہی زندہ رہنے کی علامت ہے۔

دوسری صفت

*تبدیلی کو قبول کرنے کا حوصلہ* کچھ لوگ ہر نئی چیز سے ڈرتے ہیں۔ ہر ایجاد کو دشمن سمجھتے ہیں۔ ہر تبدیلی کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے… جو قومیں تبدیلی کو سمجھتی ہیں… وہی اس کی قیادت کرتی ہیں۔ اور جو آنکھیں بند کر لیتی ہیں… وہ دوسروں کی محتاج بن جاتی ہیں۔

تیسری صفت

*اخلاق* یہ وہ چیز ہے… جسے آج بھی کوئی مصنوعی ذہانت پیدا نہیں کر سکتی۔ ایک روبوٹ حساب لگا سکتا ہے۔ لیکن انصاف نہیں کر سکتا۔ وہ جواب دے سکتا ہے۔ لیکن نیت نہیں رکھتا۔ وہ لکھ سکتا ہے۔ لیکن اخلاص نہیں رکھتا۔ وہ تصویر بنا سکتا ہے۔ لیکن دعا نہیں کر سکتا۔ وہ آواز نکال سکتا ہے۔ لیکن محبت محسوس نہیں کر سکتا۔ یہ وہ سرمایہ ہے… جو صرف انسان کے پاس ہے۔

ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑا سبق

مجھے لگتا ہے… اس پورے مضمون کا سب سے اہم حصہ یہی ہے۔ ہمیں مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اس کے غلام بھی نہیں بننا چاہیے۔ بلکہ… ہمیں اس کے **حکیمانہ استعمال** کا طریقہ سیکھنا چاہیے۔ اگر AI علم حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے… استعمال کیجیے۔ اگر تحقیق آسان کرتی ہے… استعمال کیجیے۔ اگر علاج بہتر بناتی ہے… استعمال کیجیے۔ اگر وقت بچاتی ہے… استعمال کیجیے۔ لیکن… اپنے فیصلے… اپنا ضمیر… اپنی عبادت… اپنا کردار… کبھی کسی مشین کے حوالے نہ کیجیے۔ کیونکہ… انسان کی اصل شناخت اس کی عقل نہیں… اس کا *ضمیر* ہے۔

ایک خاموش خطرہ

آنے والے برسوں میں شاید سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری نہ ہو۔ بلکہ… *بے مقصدی* ہو۔ جب مشینیں زیادہ کام کرنے لگیں گی… تو بہت سے لوگ پوچھیں گے: “اب ہم کیا کریں؟” یہیں اسلام انسان کو ایک منفرد جواب دیتا ہے۔ اسلام کہتا ہے… تمہارا مقصد صرف روزگار کمانا نہیں۔ تمہارا مقصد… اپنے رب کی بندگی ہے۔ کام… عبادت کا ذریعہ ہے۔ زندگی کا مقصد نہیں۔ اگر انسان مقصد بھول جائے… تو دنیا کی ساری ترقی بھی اس کے دل کا خلا نہیں بھر سکتی۔

شاید…

ایک دن ایسا آئے… جب گاڑیاں خود چلیں۔ گھر خود بجلی بنائیں۔ روبوٹ کھانا پکائیں۔ اور مصنوعی ذہانت بہت سے فیصلوں میں انسان کی مدد کرے۔ لیکن… اس دن بھی… فجر کی اذان ویسی ہی ہوگی۔ قرآن کی آیات ویسی ہی ہوں گی۔ ماں کی دعا ویسی ہی ہوگی۔ سجدے کی لذت ویسی ہی ہوگی۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا… آج کی طرح اُس دن بھی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

آخر میں…

دنیا بدل رہی ہے… اور ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔ لیکن… اپنے اصول نہیں۔ اپنی بنیاد نہیں۔ اپنا قبلہ نہیں۔ اپنی نماز نہیں۔ اپنا کردار نہیں۔ ٹیکنالوجی ایک *اوزار* ہے۔ اسے اپنا *مقصد* نہ بنائیے۔ مصنوعی ذہانت ایک *نعمت* بھی بن سکتی ہے… اور آزمائش بھی۔ یہ فیصلہ مشین نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ انسان کرے گا۔ اور یہی انسان کی سب سے بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ *شاید مستقبل کی سب سے بڑی جنگ مشینوں اور انسانوں کے درمیان نہیں ہوگی…* *بلکہ اُن انسانوں کے درمیان ہوگی جو ٹیکنالوجی کو اپنے رب کی رضا کے لیے استعمال کریں گے… اور اُن کے درمیان جو ٹیکنالوجی کو اپنا رب بنا لیں گے۔*

اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے، صحیح فیصلوں کی توفیق دے، اور آنے والے ہر دور میں دین، کردار اور بصیرت کے ساتھ جینے کی توفیق عطا فرمائے۔ *آمین یا رب العالمین۔*

Loading