Daily Roshni News

ایک نئی حیرت  ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

۔۔  ایک نئی حیرت  ۔۔۔۔

انتخاب ۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ایک نئی حیرت  ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی)وہ لمحہ جو پوری کائنات کو ایک سیکنڈ میں مٹا سکتا ہے — اور سائنسدان کہتے ہیں یہ کبھی بھی ہو سکتا ہے

تصور کریں: آپ چائے پی رہے ہیں، موبائل دیکھ رہے ہیں، بالکل عام سی شام ہے۔ اور اچانک، کائنات کے کسی گمنام کونے میں، حقیقت کا ایک ننھا سا بلبلہ پھٹتا ہے۔ روشنی کی رفتار سے تیز پھیلتا ہوا۔ اسے آتا دیکھنے کا موقع بھی نہیں ملے گا — کیونکہ جب تک آپ کو خبر ہو، آپ اور آپ کے ایٹم اپنی موجودہ شکل میں موجود ہی نہیں رہیں گے۔

اس کا نام ہے “ویکیوم ڈیکے” — یعنی خلا کا ٹوٹنا۔

سمجھنے کے لیے ذرا پیچھے چلتے ہیں۔ فزکس کہتی ہے کہ ہماری کائنات ایک خاص توانائی کی حالت میں “settled” ہے، جیسے ایک گیند پہاڑ کی ڈھلوان پر ایک چھوٹے سے گڑھے میں ٹکی ہو۔ مستحکم لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ سب سے نچلا مقام نہیں۔ تھوڑا سا دھکا لگے تو گیند لڑھک کر اصل، گہری کھائی میں جا گرے گی۔

سائنسدان اسے “false vacuum” کہتے ہیں — جھوٹا خلا۔ ہمارا پورا وجود، ستارے، سیارے، آپ اور میں — سب اسی نازک توازن پر کھڑے ہیں۔ اور اگر کہیں، کسی بھی جگہ، یہ توازن بگڑ جائے — تو ایک نیا “true vacuum” کا بلبلہ جنم لیتا ہے۔

یہ بلبلہ روشنی کی رفتار سے پھیلتا ہے۔ اس کا مطلب ہے، اگر یہ کائنات کے کسی دور دراز کونے میں بھی شروع ہو، تو ہمیں کبھی خبردار ہونے کا وقت نہیں ملے گا۔ کوئی وارننگ نہیں، کوئی روشنی نہیں جو پہلے پہنچے۔ بلبلہ خود ہی سب سے تیز چیز ہو گی۔ جہاں سے یہ گزرے گا، وہاں فزکس کے قوانین بدل جائیں گے۔ وہ قوتیں جو ایٹموں کو جوڑے رکھتی ہیں، وہ الگ ہو جائیں گی۔ مادہ اپنی موجودہ شکل میں رہ ہی نہیں سکے گا۔

اور سب سے عجیب بات؟ یہ محض سائنس فکشن نہیں۔ 2012 میں، جب سائنسدانوں نے Higgs Boson دریافت کیا اور اس کی کمیت (mass) ناپی، تو حساب کچھ ایسا نکلا جس نے فزکس کی دنیا کو ہلا دیا۔ Higgs Boson کی یہ مخصوص کمیت اشارہ دیتی ہے کہ ہماری کائنات واقعی اس غیر مستحکم “جھوٹے خلا” میں ہو سکتی ہے۔ یہ کوئی یقینی پیشگوئی نہیں — مگر ممکنہ حالت ضرور ہے۔

اب یہاں فرق کرنا ضروری ہے: یہ ثابت شدہ حقیقت نہیں کہ ایسا کل ہو جائے گا۔ اگر یہ کائنات کی طبعی حالت کے مطابق درست بھی ہو، تو حساب بتاتا ہے کہ اوسطاً اس میں کھربوں سال لگ سکتے ہیں — شاید کائنات کی موجودہ عمر سے کہیں زیادہ۔ لیکن “کوانٹم ٹنلنگ” کی دنیا میں، ناممکن بھی کبھی کبھار ممکن ہو جاتا ہے۔ کسی بھی لمحے، کسی بھی مقام پر۔ کوئی گھڑی نہیں بتا سکتی کب۔

عجیب بات یہ ہے کہ اگر یہ بلبلہ ابھی، اسی وقت، کائنات میں کہیں شروع ہو چکا ہو، اور ہماری طرف آ رہا ہو — تو ہمیں کبھی پتا ہی نہیں چلے گا۔ نہ خوف کا وقت، نہ الوداع کا۔ بس ایک لمحہ، اور سب کچھ بدل جائے گا۔ اتنی خاموشی سے کہ کائنات کو بھی احساس نہیں ہو گا کہ کچھ ہوا۔

شاید یہی سب سے عجیب بات ہے۔ ہم روز مرہ کی زندگی میں محسوس کرتے ہیں کہ زمین ٹھوس ہے، حقیقت مستحکم ہے۔ مگر فزکس ہمیں بتاتی ہے کہ شاید ہم ایک ایسے نظام میں جی رہے ہیں جو کسی بھی لمحے، کسی انجانے کونے سے، ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔ کیا استحکام واقعی استحکام ہے، یا بس ایک عارضی خاموشی؟

اگر آپ کو خلاء کی ایسی کہانیاں پسند ہیں جو کہیں اور نہیں ملتیں — تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔

ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ 🌌

Loading