بغداد کا شاہی محل، خاموش موت اور بے کفن خاقان (شوال 485 ہجری / اکتوبر 1092 عیسوی)
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)485 ہجری کی ایک سرد اور تاریک رات۔ بغداد کے شاہی محل کے اندرونی دالان میں موت کی سی خاموشی طاری تھی۔ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور سلطنت کے خاقان، سلطان ملک شاہ سلجوقی کا لاشہ بستر پر سرد ہو چکا تھا۔ سرکاری طور پر سلطان شکار کے دوران بخار کا شکار ہوا تھا، لیکن محل کی راہداریوں میں زہر دیے جانے کی سرگوشیاں گونج رہی تھیں۔
ایسے موقع پر، جب روایتی طور پر سلطنت میں کہرام مچ جانا چاہیے تھا، محل کے دروازے اندر سے مقفل کر دیے گئے۔ کوئی ماتم ہوا نہ کسی کو رونے کی اجازت دی گئی۔ سلطان کی بیوہ نے اپنے معتمد غلاموں کو ایک ہولناک اور تاریخ کا سب سے غیر معمولی حکم دیا: “سلطان کی موت کی خبر باہر نہ نکلے۔ لاش کو فوراً ایک پرانے قالین میں لپیٹو اور رات کے اندھیرے میں کسی شاہی اعزاز، جنازے یا پہرے کے بغیر، خچروں پر لاد کر اصفہان روانہ کر دو!”
وہ جانتی تھی کہ اگر اس رات خاقانِ اعظم کی موت کا اعلان ہو گیا، تو اصفہان سے لے کر خراسان تک فوج کے جرنیل اور مرحوم وزیر نظام الملک کے حامی اس کے سوتیلے بیٹے (برکیاروق) کو تخت پر بٹھا دیں گے۔ اسے شاہی خزانے پر قبضہ کرنے، فوج کے سالاروں کو خریدنے، اور بغداد کے خلیفہ سے اپنے 4 سالہ شیر خوار بیٹے کی تاج پوشی کا فرمان حاصل کرنے کے لیے چند دن درکار تھے۔
یہ کوئی عام بیوہ نہیں تھی؛ یہ قراخانی سلطنت کی شہزادی اور سلجوقی تاریخ کی سب سے طاقتور، شاطر اور خطرناک سیاسی بساط بچھانے والی خاتون، ‘ترکن خاتون’ (Terken Khatun) تھی—جس نے اپنی سیاسی ضد اور عسکری عزائم کے لیے سلجوقی سلطنت کے سب سے بڑے وزیر کو راستے سے ہٹوایا، اپنے شوہر کی لاش کو بے کفن اور گمنام رکھا، اور ڈیڑھ سو سالہ سلجوقی سلطنت کو ایک ایسی خونی خانہ جنگی میں جھونک دیا جس سے وہ دوبارہ کبھی نہ سنبھل سکی۔
قراخانی خون، شاہی غرور اور سلجوقی دربار میں آمد (460 ہجری / 1068 عیسوی)
ترکن خاتون کا تعلق ماوراء النہر (مرکزی ایشیا) کے حکمران خاندان ‘قراخانی سلطنت’ سے تھا؛ وہ قراخانی خاقان طمغاج خان ابراہیم کی بیٹی تھی۔ قراخانی ترک خود کو نسل کے اعتبار سے سلجوقیوں سے برتر سمجھتے تھے کیونکہ سلجوقی بنیادی طور پر خانہ بدوش قبائلی سردار تھے جبکہ قراخانی صدیوں سے متمدن شہروں (سمرقند اور بخارا) کے حاکم تھے۔
460 ہجری (1068 عیسوی) میں، مشرقی سرحدوں پر امن قائم کرنے کے لیے 18 سالہ سلجوقی سلطان ملک شاہ اول کا نکاح قراخانی شہزادی ترکن خاتون سے کر دیا گیا۔ ترکن خاتون جسمانی طور پر دراز قد، مضبوط قد و قامت اور سرخ و سفید رنگت کی مالک تھی، لیکن اس کا اصل ہتھیار اس کا سیاسی اور عسکری ذہن تھا۔ وہ روایتی سلجوقی خواتین کی طرح حرم تک محدود رہنے پر تیار نہیں تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ اس کے جسم میں دو عظیم ترک سلطنتوں (سلجوقی اور قراخانی) کا شاہی خون دوڑ رہا ہے، اس لیے سلطنت کے سیاہ و سفید کا فیصلہ کرنے کا حق بھی اسی کو ہے۔
اصفہان کے شاہی محل میں قدم رکھتے ہی اس کا ٹکراؤ سلطنت کے سب سے طاقتور شخص، وزیر اعظم نظام الملک طوسی سے ہو گیا، جو ایک سخت گیر فارسی بیوروکریٹ تھا اور سلطنت کو مکمل طور پر اپنے انتظامی کنٹرول میں رکھنا چاہتا تھا۔
دو متوازی حکومتیں اور ولی عہدی کی جنگ (470 تا 485 ہجری)
سلطان ملک شاہ کے دورِ عروج میں، سلجوقی دربار عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا:
نظام الملک کا دربار: جو فارسی کاتبوں، روایتی سلجوقی امراء اور نظامیہ مدارس پر مشتمل تھا۔
ترکن خاتون کا دربار: ترکن خاتون نے اصفہان میں اپنی ایک الگ متوازی حکومت (Parallel Government) قائم کر لی تھی۔ اس نے اپنا ایک نجی خزانہ، اپنے ذاتی مملوک (غلام) سپاہیوں کا 10,000 پر مشتمل عسکری دستہ، اور اپنا ایک الگ وزیر اعظم، تاج الملک ابو الغنائم، مقرر کر رکھا تھا، جو نظام الملک کا کٹر سیاسی حریف تھا۔
اس سیاسی کشمکش کا اصل محور ولی عہدی تھا۔ نظام الملک طوسی چاہتا تھا کہ ملک شاہ کا بڑا بیٹا، برکیاروق (جس کی عمر اس وقت 12 سال تھی اور جس کی والدہ زبیدہ خاتون سلجوقی النسل تھی)، جانشین بنے۔ اس کے برعکس، ترکن خاتون کا عزم تھا کہ سلطنت کا تاج اس کے اپنے بیٹے محمود کو ملے، جو اس وقت محض 4 سال کا شیر خوار بچہ تھا۔
ترکن خاتون نے بغداد میں عباسی خلافت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی بیٹی (ماہِ ملک خاتون) کا نکاح خلیفہ المقتدی باللہ سے کروا دیا، تاکہ بوقتِ ضرورت خلیفہ کو اپنے بیٹے محمود کی خلافت و تاج پوشی کی سند جاری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
485 ہجری: خونِ وزیر اور خاقان کی مشکوک موت
485 ہجری (1092 عیسوی) میں ترکن خاتون اور اس کے وزیر تاج الملک نے نظام الملک کے خلاف فیصلہ کن سیاسی وار کیا۔ انہوں نے ملک شاہ کو مسلسل یہ باور کرایا کہ نظام الملک سلطنت پر قابض ہو چکا ہے اور اس کے بیٹے عملاً خود مختار حاکم بن چکے ہیں۔ ملک شاہ نے نظام الملک کو معزول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اسی سال رمضان المبارک میں، جب شاہی قافلہ اصفہان سے بغداد جا رہا تھا، تو نہایت کے مقام پر ایک نزاری اسماعیلی (حشاشین) نے صوفی کے بھیس میں آ کر نظام الملک طوسی کو خنجر مار کر قتل کر دیا۔ اگرچہ یہ حملہ اسماعیلیوں نے کیا تھا، لیکن ابن الاثیر، بنداری اور عماد الدین اصفہانی جیسے مستند مؤرخین کے مطابق، اس قتل کے پیچھے ترکن خاتون اور اس کے وزیر تاج الملک کی خفیہ سرپرستی اور لاجسٹک سہولت کاری موجود تھی۔
نظام الملک کے قتل کے محض ایک ماہ بعد (شوال 485 ہجری میں)، جب شاہی قافلہ بغداد پہنچا، تو 38 سالہ قوی الجثہ سلطان ملک شاہ اچانک بیمار ہوا اور چند روز میں دم توڑ گیا۔ معاصر تاریخ میں یہ بات شدت سے نوٹ کی گئی کہ سلطان کی موت ترکن خاتون کے معتمد خادموں کی طرف سے دیے گئے زہر (Poisoned meat/wine) کا نتیجہ تھی، کیونکہ سلطان نے مرنے سے چند روز قبل ترکن خاتون کے بیٹے کو ولی عہد بنانے سے لیت و لعل کرنا شروع کر دیا تھا۔
بغداد کا بغاوت نما شب خون اور 20,000 درہم کی رشوت
ملک شاہ کی موت کے فوراً بعد ترکن خاتون نے اپنے اعصاب پر مکمل کنٹرول رکھا۔ اس نے سلطان کی لاش کو خفیہ طور پر قالین میں لپیٹ کر اصفہان روانہ کیا (جہاں اسے ہفتوں بعد بغیر کسی شاہی جنازے کے دفن کیا گیا)، اور خود بغداد میں شاہی خزانے کے دروازے کھول دیے۔
ترکن خاتون نے سلجوقی فوج کے بڑے ترکمان امراء اور سالاروں کو جمع کیا اور ہر سالار اور سپاہی کو 20,000 طلائی دینار نقد رشوت دی تاکہ وہ اس کے 4 سالہ بیٹے محمود کی وفاداری کا حلف اٹھائیں۔
اس کے فوراً بعد، اس نے اپنے مسلح مملوک دستوں کے ساتھ عباسی خلیفہ المقتدی باللہ کے محل کا گھیراؤ کر لیا۔ خلیفہ ایک 4 سالہ بچے کو سلطان ماننے پر تیار نہیں تھا، لیکن ترکن خاتون کی عسکری دھمکی اور بھاری مالی نذرانے کے آگے خلیفہ کو جھکنا پڑا۔ جمعہ کے دن بغداد کی مساجد میں 4 سالہ محمود بن ملک شاہ کے نام کا خطبہ پڑھا گیا، اور ترکن خاتون کو باضابطہ طور پر سلطنت کی ‘اتابک’ (نائب السلطنت / Regent) تسلیم کر لیا گیا۔
اصفہان پر یلغار اور معرکہِ بروجرد (485 تا 486 ہجری)
بغداد کو کنٹرول کرنے کے بعد، ترکن خاتون کا اگلا ہدف اصفہان میں موجود 12 سالہ برکیاروق کا خاتمہ تھا۔ اس نے اصفہان کے شحنہ (فوجی گورنر) کو خفیہ خط بھیجا کہ برکیاروق کو فوراً گرفتار کر کے اندھا کر دیا جائے یا قتل کر دیا جائے۔
لیکن مرحوم نظام الملک کے وفادار غلاموں اور جرنیلوں (جنہیں ‘نظامِیہ’ کہا جاتا تھا) کو اس سازش کی بھنک پڑ گئی تھی۔ وہ برکیاروق کو رات کے اندھیرے میں اصفہان سے نکال کر ری (Rayy) لے گئے، جہاں انہوں نے برکیاروق کو سلطان ڈکلیئر کر کے اپنی فوج جمع کرنا شروع کر دی۔
ترکن خاتون اپنی بغدادی فوج اور 4 سالہ سلطان محمود کو لے کر اصفہان پہنچی، شہر پر قبضہ کیا، اور برکیاروق کا کچلنے کے لیے اپنے وزیر تاج الملک اور کشمِش نامی ترک سالار کی قیادت میں ایک بھاری لشکر روانہ کیا۔
486 ہجری (1093 عیسوی) میں ہمدان کے نزدیک ‘معرکہِ بروجرد’ (Battle of Borujerd) بپا ہوا۔ میدانِ جنگ میں ترکن خاتون کی فوج کو اس وقت ہولناک عسکری دھچکا لگا جب اس کے کئی سرکردہ ترکمان امراء نے ایک عورت اور 4 سالہ بچے کی غلامی کرنے پر برکیاروق کے نوجوان خون کو ترجیح دی اور عین جنگ کے دوران وفاداریاں بدل لیں۔ ترکن خاتون کی فوج کو عبرتناک شکست ہوئی؛ اس کا وفادار وزیر تاج الملک گرفتار ہوا اور نظام الملک کے انتقام کی آگ میں جلنے والے غلاموں نے اسے خنجروں سے کاٹ کر اس کے ٹکڑے کر دیے۔
اصفہان کا محاصرہ اور شام کے حاکم تتش سے خطرناک سودا
بروجرد کی شکست کے بعد، برکیاروق کی فوج نے اصفہان کا محاصرہ کر لیا۔ ترکن خاتون اپنے شیر خوار بیٹے کے ساتھ اصفہان کی مضبوط فصيلوں کے پیچھے محصور ہو گئی، لیکن اس کے حوصلے اور سیاسی بساط میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ اس نے اصفہان کے خزانوں کا رخ عوام اور فوج کی طرف موڑ دیا اور شہر کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔
جب اسے احساس ہوا کہ محض اصفہان کی فوج برکیاروق کو شکست نہیں دے سکتی، تو اس نے تاریخ کا اپنا سب سے متنازع اور خطرناک سفارتی داؤ کھیلا۔ اس نے ملک شاہ کے سگے بھائی اور شام (حلب و دمشق) کے خود مختار حاکم، تاج الدولہ تتش، کو خفیہ قاصد بھیجا۔
ترکن خاتون کا پیغام واضح تھا: “اگر تم شام سے اپنی عسکری طاقت لے کر اصفہان پہنچو اور برکیاروق کو ختم کر دو، تو میں تم سے نکاح کر لوں گی، تمہیں سلجوقی سلطنت کا خاقانِ اعظم بنا دوں گی، اور میرا بیٹا محمود تمہارا ولی عہد ہو گا۔”
تاج الدولہ تتش، جو خود سلطنت کے تخت کا بھوکا تھا، اس پیشکش پر فوراً تیار ہو گیا اور اس نے شام سے ایک دیوہیکل لشکرِ جرار لے کر ایران کی طرف مارچ شروع کر دیا۔ برکیاروق کی سلطنت دو طرفہ حملے کے خطرے سے کانپ اٹھی۔
آخری ایام، پراسرار بخار اور تاریخ کا نچوڑ (شوال 487 ہجری / اکتوبر 1094 عیسوی)
تاج الدولہ تتش کی شامی فوج اصفہان کی طرف تیزی سے بڑھ رہی تھی، اور برکیاروق کا محاصرہ کمزور پڑ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ترکن خاتون کی شاطرانہ حکمتِ عملی جیت جائے گی اور وہ دوبارہ سلجوقی سلطنت کی مطلق العنان ملکہ بن جائے گی۔
لیکن شوال 487 ہجری (اکتوبر 1094 عیسوی) میں، اصفہان کے محصور قلعے کے اندر، 40 سالہ ترکن خاتون اچانک ایک شدید اور پراسرار بخار (یا وبا) میں مبتلا ہو گئی۔ بعض فارسی روایات کے مطابق، اصفہان کے اندرونی فوجی کماندار محاصرے کی طوالت اور ایک عورت کی ضد سے تنگ آ چکے تھے، اور انہوں نے اس کے کھانے میں آہستہ اثر کرنے والا زہر ملا دیا تھا۔
چند روز کی شدید جسمانی اذیت کے بعد، سلجوقی تاریخ کی سب سے بااثر اور مغرور خاتون اصفہان کے محل میں دم توڑ گئی۔ اس کی موت کے محض ایک مہینے بعد، اس کا 6 سالہ بیٹا، سلطان محمود، بھی چیچک (Smallpox) کے بخار کا شکار ہو کر مر گیا، اور تاج الدولہ تتش کو راستے سے ہی واپس لوٹنا پڑا۔
ترکن خاتون محض ایک شاہی بیوہ یا سازشی کردار نہیں تھی؛ وہ سلجوقی تاریخ کی وہ پہلی ترک خاتون تھی جس نے حرم کی دیواروں کو توڑ کر عملاً سلطنتِ عظمیٰ کی کمان اپنے ہاتھ میں لی۔ اس کے اندر ایک ماہر عسکری منصوبہ ساز اور شاطر سیاستدان کا دماغ تھا جو خلیفہ، وزراء اور جرنیلوں کو اپنی انگلیوں پر نچانا جانتی تھی۔
تاہم، اس کی اندھی خاندانی ضد اور اپنے شیر خوار بیٹے کو تخت پر بٹھانے کے عزم کا خمیازہ پوری امت کو بھگتنا پڑا۔ اس نے ملک شاہ اور نظام الملک جیسے ستونوں کے گرتے ہی جس خونی خانہ جنگی کی بنیاد رکھی، اس نے سلجوقی سلطنت کی عسکری قوت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا—اور یہی وہ تاریخی انتشار اور کمزوری تھی جس کا فائدہ اٹھا کر محض تین سال بعد (1097 عیسوی میں)، پہلی صلیبی جنگ (First Crusade) کے عیسائی لشکر شام اور فلسطین پر بلا روک ٹوک حملہ آور ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
تاریخی حوالہ جات:
الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (Al-Kamil fi al-Tarikh — Ibn al-Athir)
زبدة النصرة ونخبة العصرة — عماد الدین الکاتب الاصفہانی (Zubdat al-Nusra wa-Nukhbat al-Usra — Imad al-Din al-Isfahani)
راحة الصدور وآية السرور — محمد بن علی الرّاوندی (Rahat al-Sudur wa-Ayat al-Surur — Muhammad ibn Ali al-Rawandi)
سلجوق نامہ — ظہیر الدین نیشاپوری (Seljuknama — Zahir al-Din Nishapuri)
تاریخِ ابنِ خلدون (Tarikh Ibn Khaldun)
البداية والنهاية — حافظ ابن کثیر (Al-Bidaya wa’l-Nihaya — Ibn Kathir)
دی گریٹ سلجوق ایمپائر — اے سی ایس پیکاک (The Great Seljuk Empire — A. C. S. Peacock).
اگر آپ سلطنت عثمانیہ کی خطرناک ملکہ کوسم سلطان کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇
Kösem Sultan Animated Documentary:
https://www.facebook.com/reel/4399311623678904
![]()

