Daily Roshni News

اللہ کو پہچانو

اللہ کو پہچانو

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قرآن کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ

حصہ اول: اللہ کو پہچانو

کبھی آپ نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے…

اگر قرآن مجید ہمارے سامنے ایک زندہ استاد کی طرح بیٹھ جائے، اور ہم اس سے صرف ایک سوال پوچھیں:

“اے قرآن! تمہارا سب سے پہلا پیغام کیا ہے؟”

تو کیا وہ فوراً نماز کا ذکر کرے گا؟

کیا وہ روزے کا حکم دے گا؟

کیا وہ زکوٰۃ، حج یا دیگر احکام سے گفتگو شروع کرے گا؟

یا پھر… وہ ہمیں کسی اور طرف لے جائے گا؟

ذرا غور کیجیے…

قرآن کا آغاز ہی کس سے ہوتا ہے؟

“سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔”

یہ محض الفاظ نہیں… یہ تعارف ہے۔

یہ قرآن کا پہلا دروازہ ہے۔

قرآن انسان کو سب سے پہلے کسی حکم کے سامنے نہیں کھڑا کرتا…

بلکہ اپنے رب کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔

قرآن صرف معلومات نہیں دیتا، تعارف کراتا ہے

جب ہم کسی نئی جگہ جاتے ہیں، تو سب سے پہلے وہاں کے مالک سے تعارف کرایا جاتا ہے۔

پھر ہمیں اصول بتائے جاتے ہیں۔

قرآن بھی یہی کرتا ہے۔

وہ پہلے ہمیں اس ذات سے ملواتا ہے:

– جس نے ہمیں پیدا کیا

– جو ہمیں رزق دیتا ہے

– جو ہمارے دلوں کے راز جانتا ہے

– جو ہمیں معاف کرنے والا ہے

– اور جس کے پاس ایک دن ہمیں لوٹ کر جانا ہے

اسی لیے قرآن میں سب سے زیادہ ذکر اللہ تعالیٰ کا ہے۔

ہر سورت، ہر رکوع، ہر صفحہ… کسی نہ کسی انداز میں انسان کو اپنے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

کبھی رحمت کے ذریعے…

کبھی قدرت کے ذریعے…

کبھی نعمتوں کے ذریعے…

کبھی عدل کے ذریعے…

گویا قرآن کا ہر راستہ ایک ہی منزل کی طرف جاتا ہے:

اللہ کی معرفت۔

انسان کی سب سے بڑی ضرورت کیا ہے؟

اگر یہی سوال دنیا والوں سے پوچھا جائے، تو مختلف جواب ملیں گے:

کوئی کہے گا مال…

کوئی کہے گا صحت…

کوئی کہے گا سکون…

لیکن قرآن ایک مختلف جواب دیتا ہے:

انسان کی سب سے بڑی ضرورت اپنے رب کو پہچاننا ہے۔

کیوں؟

کیونکہ جب انسان اپنے رب کو بھول جاتا ہے…

تو وہ خود کو بھی بھول جاتا ہے۔

وہ اپنی حقیقت بھول جاتا ہے…

اپنی منزل بھول جاتا ہے…

اپنے مقصدِ زندگی کو بھول جاتا ہے۔

اسی لیے قرآن بار بار سوال کرتا ہے:

– تمہیں کس نے پیدا کیا؟

– تمہیں کون رزق دیتا ہے؟

– تمہاری دعا کون سنتا ہے؟

یہ سوال معلومات کے لیے نہیں…

دل کو جگانے کے لیے ہیں۔

قرآن ہمیں کائنات میں کیا دکھاتا ہے؟

آپ نے غور کیا ہوگا کہ قرآن بار بار ہمیں کائنات کی طرف دیکھنے کو کہتا ہے:

آسمان… زمین… سورج… چاند… بارش… پہاڑ…

کیوں؟

کیا قرآن سائنس کی کتاب ہے؟

نہیں۔

قرآن کا مقصد یہ ہے کہ:

کائنات کو دیکھ کر خالق تک پہنچا جائے۔

جب بارش برستی ہے…

تو قرآن صرف پانی نہیں دکھاتا…

بلکہ اس کے پیچھے رب کی رحمت دکھاتا ہے۔

جب سورج نکلتا ہے…

تو قرآن صرف روشنی نہیں دکھاتا…

بلکہ اس کے پیچھے قدرت دکھاتا ہے۔

دنیا کائنات کو ایک واقعہ سمجھتی ہے…

قرآن اسے ایک نشانی بناتا ہے۔

ایمان کی جڑ کہاں ہے؟

فرض کیجیے ایک درخت ہے۔

اگر اس کی جڑ مضبوط ہو، تو آندھیاں بھی اسے نہیں گرا سکتیں۔

ایمان بھی ایسا ہی ہے۔

اس کی جڑ ہے:

اللہ کی معرفت

جتنا انسان اپنے رب کو پہچانتا جائے گا:

– اس کا توکل مضبوط ہوگا

– اس کا صبر بڑھے گا

– اس کی دعا میں یقین آئے گا

– اس کی عبادت میں لذت پیدا ہوگی

کیونکہ محبت ہمیشہ پہچان کے بعد پیدا ہوتی ہے۔

اور سچی بندگی بھی اسی دل میں آتی ہے… جو اپنے رب کو جان لے۔

جاننا اور پہچاننا ایک جیسا نہیں

یہاں ایک نہایت اہم فرق ہے۔

تقریباً ہر مسلمان جانتا ہے:

– اللہ ایک ہے

– اللہ نے ہمیں پیدا کیا

– اللہ رزق دیتا ہے

لیکن کیا یہی کافی ہے؟

نہیں۔

قرآن چاہتا ہے کہ یہ علم…

دل کی کیفیت بن جائے۔

اگر واقعی یقین ہو کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے…

تو کیا ہم تنہائی میں بھی وہی گناہ کریں گے؟

اگر یقین ہو کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے…

تو کیا ہم حرام کے پیچھے بھاگیں گے؟

یہی وہ مقام ہے جہاں

جاننا ختم ہوتا ہے… اور پہچاننا شروع ہوتا ہے۔

اللہ کی معرفت کہاں ملتی ہے؟

یہ ایک غلط فہمی ہے کہ اللہ کو صرف مسجد میں پہچانا جا سکتا ہے۔

قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ:

اللہ کی نشانیاں پوری زندگی میں بکھری ہوئی ہیں۔

– ماں کی محبت میں

– بارش کی بوندوں میں

– شفا کے لمحوں میں

– رزق کے دروازوں میں

ہر جگہ… اللہ اپنی پہچان کرا رہا ہے۔

عبادت کی اصل روح کیا ہے؟

نماز، روزہ، دعا… یہ سب عبادات ہیں۔

لیکن ان کی روح کیا ہے؟

اللہ کی معرفت

نماز میں خشوع کہاں سے آتا ہے؟

اللہ کی پہچان سے

دعا میں آنسو کہاں سے آتے ہیں؟

اللہ کی پہچان سے

توکل، صبر، یقین… سب کی جڑ ایک ہی ہے:

اپنے رب کو پہچان لینا

اگر انسان اللہ کو پہچان لے…

اگر انسان واقعی اپنے رب کو پہچان لے…

تو اس کی زندگی بدلنے لگتی ہے۔

– وہ لوگوں کی تعریف کا محتاج نہیں رہتا

– وہ مشکلات میں نہیں ٹوٹتا

– وہ نعمت پر غرور نہیں کرتا

– وہ گناہ کے بعد مایوس نہیں ہوتا

کیونکہ وہ اپنے رب کو جان چکا ہوتا ہے۔

یہی پہلا دروازہ ہے

اگر کوئی پوچھے کہ قرآن پڑھنے سے پہلے کیا سیکھنا چاہیے؟

تو جواب یہی ہوگا:

اپنے رب کو پہچاننے کی نیت سے قرآن کھولو

پھر آپ دیکھیں گے…

ہر آیت آپ کو اسی منزل کی طرف لے جا رہی ہے۔

اگر اس پورے پیغام کو ایک جملے میں بیان کیا جائے، تو وہ یہ ہے:

“قرآن سب سے پہلے انسان کو اس کے رب سے ملواتا ہے، کیونکہ جب انسان اپنے رب کو پہچان لیتا ہے، تو وہ خود کو، اپنی زندگی کو اور اپنی منزل کو بھی پہچان لیتا ہے۔”

تدبر کا سوال

آج جب آپ قرآن کھولیں…

تو خود سے یہ سوال کیجیے:

“آج اللہ اس آیت کے ذریعے مجھے اپنے بارے میں کیا بتانا چاہتے ہیں؟”

اب ایک نیا سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

اگر انسان اپنے رب کو پہچان لے…

تو پھر اگلا قدم کیا ہے؟

کیا صرف ایمان کافی ہے؟

یا اسے یہ بھی جاننا ہوگا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟

ان شاء اللہ، اگلے حصے “حق کو پہچانو” میں ہم اسی سوال کا جواب تلاش کریں گے۔

Loading