شباب کی باتیں
*مگر سیلاب خطرے کے نشان تک آ گیا ہے*
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ مگر سیلاب خطرے کے نشان تک آ گیا ہے۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)ایک زمانہ تھا کہ اخبارات کے اندر مراسلات کے کالم کے اوپر ایک فٹ نوٹ لکھا ہوتا، جس کے الفاظ کچھ یوں ہوتے تھے کہ، “مراسلہ نگار کی رائے سے ایڈیٹر کا متفق ہونا ضروری نہیں” یہ سلسلہ غالبا انگریز دور میں اس وقت سے چلا ہوگا جب معمولی معمولی لغزشوں یا سہو پر نہ صرف اخبارات کو جرمانہ کیا جاتا تھا، ایڈیٹروں کو پابند سلاسل کر دیا جاتا تھا اور بعض اوقات انگریزوں کے طبعء نازک پر گراں گزرنے والی خبروں کی وجہ سے اخبارات کے ڈیکلریشن تک منسوخ کیے جاتے تھے اور باقاعدہ ضمانت دینے کے لیے بھاری رقوم مقرر کر دی جاتی تھیں، جو پیشگی وصول کرنے کے بعد ہی کسی اخبار کو دوبارہ اشاعت کی اجازت دے دی جاتی تھی۔ ایسا اکثر لاہور سے شائع ہونے والے مشہور اخبار زمیندار کے ساتھ ہوا کرتا تھا جو مولانا ظفر علی خان نکالا کرتے تھے، یا پھر مولانا برادران یعنی مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کے اخبار ہمدرد اردو (دہلی سے نکالا جاتا تھا، اور کامریڈ انگریزی( کلکتہ سے جاری ہوا تھا) ان دونوں اخبارات پر بھی بندشوں کی کہانیاں موجود ہیں. بہرحال بعد میں اس نوع کی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایڈیٹر کے نام مراسلات کے کالم پر محولہ بالا فٹ نوٹ لکھ کر ایڈیٹر اس قسم کے حالات میں کم از کم اپنی کھال محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس سلسلے میں انقلابی قدم گجراتی زبان کے ایک دبنگ صحافی فخر ماتری مرحوم نے اس وقت اٹھایا جب انہوں نے اپنے گجراتی اخبار کے ساتھ ساتھ کراچی سے ایک بہت ہی خوبصورت اخبار *حریت* جو اب شائد بند ہو چکا ہے، نکالا اور ایڈیٹوریل پیج کو نئی جہتوں سے آشنا کیا۔ عوامی مراسلات کو انہوں نے دو کالموں میں بانٹا اور عام مراسلات کے لیے “دیوان عام” جبکہ اہم مسائل پر مبنی مراسلات کو “دیوان خاص” کی سرخی کے تحت شائع کرنا شروع کیا اور ان پر وہ روایتی (جملہ ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں) لکھنے کا تکلف بھی نہیں کیا۔ گویا انہوں نے رفیق رضا کے بقول سرکاری محکموں اور اخباری قارئین دونوں کو یہ سبق سکھانے کی کوشش کی ک
*سچ بتاتا ہوں تو تلوار سے سر جاتا ہے
جھوٹ کہتا ہوں تو اندر کوئی مر جاتا ہے
میرے سہمے ہوئے لوگوں کو بتایا جاۓ
چیخ اٹھنے سے بھی ماحول کا ڈر جاتا ہے*
اب ذرا تازہ حالات پر نگاہ ڈالتے ہیں اور میں *بحرانستان* کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں جہاں جب بھی کوئی بحرانی کیفیت جنم لیتی ہے تو مزید بحران سر اٹھانے لگتے ہیں، پھر برساتی مینڈکوں کی طرح کئی جماعتین باہر نکل کر مینڈکوں کی زبان بولنا شروع کر دیتی ہیں، یعنی محاورے کی زبان میں ٹرانا اپنا وتیرہ بنا لیتی ہیں، جیسے کہ ان دنوں “جماعت ہنگامی” پٹرول کے معاملے پر ٹرا رہی ہے۔ یہاں تک کہ گزشتہ چار دنوں سے ایک اہم عمارت کی بغلی دیوار کے ساتھ، دھرنے کی صورت، سر ٹکرا رہی ہے اور اس کے رہنما نے گزشتہ روز “لیاہور’ میں خطاب کرتے ہوئے، بحرانستان کی حکومت کو تڑی لگائی ہے کہ اگر پٹرول کی قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی تو پورے ملک میں ہڑتال کر دیں گے۔ اب اس پر ماسوائے اس کے اور کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
جب ہم بحرانستان کے سیاسی زعما کے کردار پر نظر ڈالتے ہیں تو بظاہر تو یہ ایک دوسرے سے الجھے ہوئے، یعنی سیاسی طور پر دست و گریبان نظر آتے ہیں، اور جلسوں،جلوسوں ریلیوں, پریس کانفرنسوں وغیرہ وغیرہ میں ایک دوسرے کی وہ خبر لیتے ہیں کہ الحفیظ و الاماں۔ بحرانستان کے پارلیمنٹ کے مختلف ایوانوں میں ایک دوسرے کو بے لباس کرنے کے لیے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جن سے بحرانستان کے عوام، جو ان کے حامی اور حواری ہوتے ہیں کھل کھل اٹھتے ہیں اور عمومی سیاسی زندگی میں ایک دوسرے کے خلاف زبان درازی کی نئی نئی روایتیں قائم کر کے بعض اوقات مغلظات کی بھی نئی نئی قسمیں ایجاد کر کے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کرتے رہتے ہیں۔ اور عین ان اوقات میں جب ان لوگوں کے حامی سوشل میڈیا پر “زباندانی” کے مظاہرے کر رہے ہوتے ہیں جبکہ ان لوگوں کے یہ رہنما کسی نہ کسی معاملے پر درون خانہ باہم مشاورت، گفتگو، مذاکرات کے ڈول ڈالتے ہوئے ان محافل میں جس طرح ایک دوسرے کے گلے لگ کر اور شیروشکر ہو کر قہقہوں کا تبادلہ کرتے ہیں، ان کی تصاویر اور ویڈیوز کو بعض “شرپسند” وی لاگرز، صحافی اور ٹک ٹاکرز، سوشل میڈیا پر وائرل کر کر کے ان کے اصل چہروں سے نقاب کھینچ کر ساری حقیقت سامنے لے آتے ہیں، تب پتہ چلتا ہے کہ
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا
ادھر ایک اور خبر کے مطابق صوبہ ناپرسان میں ایل پی جی کا بحران خطرے کے نشان تک پہنچ گیا ہے یعنی بقول دوست عزیز ڈاکٹر نذیر تبسم مرحوم
کہاں کا سلسلہ تھا اور کہاں تک آگیا ہے
مگر سیلاب خطرے کے نشاں تک آگیا ہے
صوبہ ناپرسان کے علاقوں ضلع (لوکاٹ) ضلع (ڈکی برکت) اور دیگر ملحقہ علاقوں میں ایک عرصے سے نکلنے والی قدرتی گیس پر جب “عزت مآب” صوبے نے قبضہ جما کر اس گیس کی تقسیم کا سارا کنٹرول اپنے قبضے میں لے کر، صوبہ ناپرسان کے آئینی حقوق کو غصب کر رکھا ہے اور آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے، گیس کے مالک صوبے کو خود اپنی ہی گیس سے محروم رکھا ہوا ہے، تو ایل پی جی کی کیا حیثیت؟ وہ تو ویسے بھی خلیجی ممالک سے درآمد کی جاتی ہے اور اس کی تقسیم کے علاوہ قیمت مقرر کرنے کا اختیار تو ملک بحرانستان کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ وہ جس کو چاہیں سلنڈروں کا ٹھیکہ دے دیں، جس کو چاہیں نرخوں کے تعین کا اختیار سونپ دیں۔ اوپر سے مقامی سطح پر سلنڈروں میں گیس کے نرخوں پر تاجر اور دکاندار اپنی پسند عوام پر تھوپیں اور مرکزی کی سطح پر بحرانستان کے متعلقہ اداروں کے مقرر کردہ نرخوں کو لات مارتے ہوئے غیر قانونی طور پر زیادہ قیمت وصول کرنا اپنا شعار بنائیں، جبکہ مقامی انتظامیہ ان ناجائز منافق خوروں سے کوئی تعرض بھی نہ رکھیں، تو پٹرول اور گیس کی مہنگائی پر اگر “جماعت ہنگامی” شور مچاتی بھی رہے تو اس سے کیا فرق پڑے گا کہ ایک ضرب المثل کے مطابق اکیلا چنا کیا بھاڑ جھونکے گا۔
میں ہوں پتلی کاٹھ کی ڈور پیا کے ہاتھ
ناچت ہوں میں پریم سے جیسو پیا نچات
*
*
![]()

