پاکیزگی سے معمور
خصوصی کلام ۔۔۔۔۔
فرشتے شور کے عادی نہیں ہوتے۔
وہ خاموشی میں اترتے ہیں،
اُن جگہوں پر
جہاں لفظ احترام سے پڑھے جائیں
اور نیت نمائش سے خالی ہو۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا
کہ جو لوگ اللہ کے گھروں میں جمع ہو کر
قرآن پڑھتے اور سمجھتے ہیں
ان پر سکینت نازل ہوتی ہے،
رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے،
فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں
اور اللہ ان کا ذکر
اپنے پاس والوں میں کرتا ہے۔
یہ صرف فضیلت نہیں،
یہ ایک منظر ہے
جو ہمیں دکھائی نہیں دیتا
مگر وقوع پذیر ہوتا ہے۔
قرآن کی محفل میں
فرشتے سامع بن کر نہیں آتے،
وہ گواہ بن کر آتے ہیں۔
وہ دیکھتے ہیں
کہ کون لفظ پڑھ رہا ہے
اور کون دل سے سن رہا ہے۔
کبھی کوئی شخص
قرآن صحیح نہیں پڑھ پاتا،
آواز رُک جاتی ہے،
لفظ اٹک جاتے ہیں—
فرشتے وہاں سے نہیں جاتے۔
وہ جانتے ہیں
کہ یہ کوشش ہے،
اور کوشش کے لمحے
اللہ کو محبوب ہوتے ہیں۔
*یہی تو قرآن کی محفل کا حسن ہے*
*کہ یہاں کامل ہونا شرط نہیں،*
*حاضر ہونا کافی ہے۔*
فرشتے اُن آنکھوں کو بھی دیکھتے ہیں
جو آیت پر بھر آتی ہیں،
اُن دلوں کو بھی🫀
جو کسی لفظ پر ٹھہر جاتے ہیں،
اور اُن خاموشیوں کو بھی
جو تفسیر سے زیادہ گہری ہوتی ہیں۔
![]()

