قلندر بابا اولیاء ؒ کا طرز تفہیم
تحریر۔۔۔شیخ فقیر محمد عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ قلندر بابا اولیاء ؒ کا طرز تفہیم ۔۔۔ تحریر۔۔۔شیخ فقیر محمد عظیمی) کمخواب کا قیمتی لباس از راہ عقیدت پیش کیا۔
با با صاحبؒ فرماتے ہیں کہ نانا تاج الدین نے سیٹھ کے سامنے اس لباس کو پہن لیا اور کچھ دیر تک اس کی دلجمعی کے لیے کٹیا میں شملتے رہے۔ سیٹھ کے جانے کے بعد آپ نے اس کٹیا کی سیچی زمین کی گیلی مٹی کو جو کیچڑ بن گئی تھی، ہاتھ میں لے کر اس قیمتی لباس پر جگہ جگہ ملنا شروع کر دیا۔ اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے کہ کیا میں اس کپڑے کی خاطر اپنی زندگی خرچ ( ضائع) کردوں۔ قلندر بابا فرماتے ہیں کہ اسی دن سے میری نظر میں قیمتی اشیاء کی حیثیت ختم ہو گئی۔ یہ حضرت بابا قلندر کے بچپن کا واقعہ ہے۔ آپ نے ہی حضرت نانا کے طرز عمل پر اعتراض کیا تھا۔
ای نشست میں حضور قلندر بابا اولیا نے نانا کے جلال کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے پر اسرار کلمات کو یوں بیان کیا۔ کیا ہم نے جیلیں یوں ہی بنائی ہیں۔ (یعنی ان میں لوگ تو آئیں گے )۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان لمحات میں ماضی، حال اور مستقبل کا کون سا بیزار کن منظر پیش نظر تھا جس نے اس خوفناک و عید کی صورت میں بابا تاج الدین کے پاک و شفاف ذہن کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ حضرت قلندر بابا اولیانا نے یہ نہیں بیان کیا۔ اور نہ کسی کو اس مجلس میں یہ سوال کرنے کی جرات ہوئی کہ حضرت نانا تاج الدین نے ایسے جلالی کلمات کس واقعاتی پس منظر میں کہے تھے۔ اس دو طرفہ خاموشی سے افہام و تفہیم کا یہ پہلو نکلتا ہے کہ اگر اس کی توضیح کی واقعی ضرورت ہوتی تو حضرت قلندر بابا اولیاۂ استفسار کا انتظار کیے بغیر خود ہی جلا دیتے۔ دوسرا پہلو یہ سامنے آتا ہے اور یہی زیادہ قرین قیاس ہے کہ بیان کرتے وقت حضرت قلندر بابا اولیال نے خود اپنے ذہن میں اس واقعہ کی تمثیل کو باطن میں بالا الترام دیکھا اور ان پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو بچپن میں واقع ہوئی تھی۔ ایک نشست میں سود کے متعلق ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا۔ دنیا کی ساری برائی سود کی وجہ سے ہے۔ اگر سود کا خاتمہ نہ ہو اتو د نیا خراب و ختم ہو جائے گی۔ آپ نے مزید فرمایا کہ میرے نزدیک بہترین عمل سود سے اجتناب ہے۔ حضور ﷺ کی شان والا کا ذکر ان الفاظ میں کیا کہ آپ ﷺ نے دنیا میں سب سے پہلے سود کی حرمت (حرام قرار دینے) کا
اعلان کیا۔
توبہ” کے متعلق استفسار پر چند بیش بہا باتیں فرمائیں: انسان فطر نا یعنی اپنی پیدائش ہی سے کچھ اچھے کچھ برے اعمال کا تصور لے کر آتا ہے۔ اچھے عمل پر کار بند رہنے سے اس کے دل کو اطمینان رہتا ہے اور اپنے عقیدے کے تحت برے عمل سے بچتا رہتا ہے۔ اگر کوئی کام سہو ا سر زد ہو جائے تو دل میں کتک محسوس کرتا ہے، پچھتاتا ہے اور اس سے توبہ کرتا ہے کہ یہ نادانستہ غلطی ہو گئی۔ اور تو بہ مقبول ہو جاتی ہے تو بہ اللہ کو پسند ہے مگر جب کسی گناہ کو قصد کیا جائے تو جب تک اس گناہ یا برے کام سے بچنے کا حتمی اقرار نہ کیا جائے اور اس پر سختی سے عمل بھی نہ کیا جائے تو یہ تو بہ قبول نہیں ہوتی۔
قلندر بابا کے مزاج میں شگفتگی اور بزلہ بھٹی کی کمی نہ تھی۔ بعض مرتبہ ایسے اشعار بھی بے تکلف سنا جاتے تھے کہ حاضرین محفل حد ادب و احترام میں رہتے ہوئے ان کی داد بھی دیتے تھے اور جو ابا حضورصرف زیراب مسکراتے تھے۔ آپ بھی اس ضمن میں پیش کیے گئے (ذاتی کلام سے ہٹ کر چند شگفتہ و شتہ اشعار سے لطف اندوز ہوں۔
جام سے توبہ شکن تو بہ مری جام شکن
سامنے ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے (ریاض خیر آبادی)
اس نے دیوانہ سمجھ کر نہ کیا مجھ سے حجاب
چاک ہو کر تو بڑے کام گریباں آیا
یہ کالی کالی ہوتیں ہیں جو شراب کی
راتیں انہی میں بند ہیں عہد شباب کی (ریاض خیر آبادی)
فصل گل آئی یا اجل آئی کیوں در زنداں کھلتا ہے
کیا کوئی وحشی اور آیا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا (فانی بدایونی)
گوہربان (کلکتہ کی مشہور خوش ذوق اور خوش ادا مغنیہ) کے متعلق اکبر الہ آبادی کا اتنا ہی فی البدیہہ اور شگفتہ شعر
خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا ہماری روز مرہ زندگی میں دو امور بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ یعنی خواہش یا ارادہ کی تکمیل اور نامساعد حالات میں صبر و استقلال کا فقدان۔ ۔ ہم بسا اوقات ذکر و شمار سے کام لے کر تسبیح کے دانوں کی طرح اپنے ارادہ، اپنی خواہش یا اپنی دعا کو دہراتے رہتے ہیں مگر نتیجہ عموما صفر ہی رہتا ہے ارادہ کی تکمیل کے سلسلہ میں حضور قلندر بابا اولیاءؒفرماتے ہیں۔
ارادہ کی تکرار (بار بار دہرانا) ارادہ کی قوت ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ارادہ سوالاکھ بار ہی دہرایا جائے۔ لیکن ارادہ میں اتنی قوت ہونی چاہیے، جو سوا لاکھ بار دہرانے سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ قوت موجود ہے تو ایک حرکت کافی ہے۔
جس مطلب کا ارادہ ہو، وہ مطلب اپنی پوری شکل و صورت کے ساتھ ارادہ میں مرکوز ہونا ضروری ہے بغیر شکل و صورت کے کسی ارادہ کو ارادہ نہیں کہہ سکتے….
2 کم ہمتی پیش آنے والی پابندیوں سے فرار ڈھونڈنا ہے۔ کم ہمتی دہرے نقصان کا سبب بنتی ہے۔ یعنی ناکامی بھی ہوتی ہے اور نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔
قلندر بابا اولیائی فرماتے ہیں: اگر کوئی پابندی اس نے ( جو حالات کا شکار ہے) رضا کارانہ برداشت کرتا کہ تو اس کا فائدہ واس کو ملتا ہے اور وہ فائدہ اس کا انعام ہے۔ لیکن اگر کوئی مجبوراً پابندی برداشت کرتا ہے (کیونکہ اس سے مفر نہیں) تو اس کے لیے وہی پابندی سزا ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 20
![]()

