Daily Roshni News

جہالت کے اندھیروں سے ہدایت کے نور کا سفر ۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔  محمد شعیب عمر

جہالت کے اندھیروں سے

ہدایت کے نور کا سفر ۔۔۔۔

تحریر ۔۔۔  محمد شعیب عمر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ جہالت کے اندھیروں سے ہدایت کے نور کا سفر ۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔  محمد شعیب عمر)انسانی فکر کی بیداری اکثر ایک سوال سے شروع ہوتی ہے۔ سوال محض کسی بات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ انسان اپنے علم کی حدود کو محسوس کر رہا ہے۔ جہاں ’’مجھے معلوم نہیں‘‘ کا شعوری احساس پیدا ہوتا ہے، وہیں ’’میں جاننا چاہتا ہوں‘‘ کی خواہش جنم لیتی ہے، اور یہی خواہش سوال کی بنیاد بنتی ہے۔

سوال کبھی جہالت سے پیدا ہوتا ہے، کیونکہ انسان کسی نامعلوم حقیقت کو جاننا چاہتا ہے؛ کبھی حیرت سے، جب وہ کسی ایسی حقیقت کا مشاہدہ کرتا ہے جو اس کے معمول کے فہم سے بڑی ہوتی ہے؛ کبھی ضرورت سے، جب کسی عملی مسئلے کا حل درکار ہوتا ہے؛ کبھی درد سے، جب زندگی کے کسی حادثے سے معنی اور مقصد کے سوالات پیدا ہوتے ہیں؛ اور کبھی شک سے، جب کوئی رائج تصور اطمینان بخش معلوم نہیں ہوتا۔

لیکن سوال کی سب سے بلند صورت وہ ہے جو انسان کو محض معلومات سے آگے لے جا کر حقیقت اور معنی کی تلاش میں داخل کردے۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ علمی سوال ہے، مگر ’’یہ کیوں ہے؟‘‘ اس سے گہرا سوال ہے، اور ’’اس سب کا مقصد کیا ہے؟‘‘ انسان کو وجود، اخلاق اور آخرت کے بڑے سوالات تک پہنچا دیتا ہے۔

قرآن مجید انسان کو اسی بیدار فکر کی دعوت دیتا ہے۔ وہ بار بار غور، تدبر اور تعقل کی طرف متوجہ کرتا ہے:

﴿أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾

’’کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘

اور:

﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾

’’کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟‘‘

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اندھی قبولیت کے بجائے شعوری فہم چاہتا ہے۔ تاہم ہر سوال درست نہیں ہوتا۔ بعض سوال حقیقت کی تلاش کے لیے ہوتے ہیں اور بعض محض اعتراض، ضد یا خواہش کی توجیہ کے لیے۔ اس لیے سوال کی قدر صرف اس کے الفاظ سے نہیں بلکہ اس کی نیت، بنیاد اور مقصد سے متعین ہوتی ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سوال اور شک ایک چیز نہیں۔ شک سوال کو جنم دے سکتا ہے، لیکن سوال کا مقصد شک میں ٹھہرے رہنا نہیں بلکہ تحقیق کے ذریعے حقیقت تک پہنچنا ہے۔ اگر سوال انسان کو دلیل، علم اور تحقیق کی طرف لے جائے تو وہ بیداری کا وسیلہ بن جاتا ہے؛ اور اگر سوال محض انکار کی عادت بن جائے تو وہ خود ایک فکری رکاوٹ بن سکتا ہے۔

انسان کے بڑے سوال عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب وہ اپنے وجود کو محض روزمرہ ضرورتوں سے بلند ہو کر دیکھتا ہے: میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ کیوں پیدا کیا گیا ہوں؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ حق کیا ہے؟ مجھے کیسے جینا چاہیے؟ یہی سوال انسان کو اپنے نفس، کائنات اور خالق کے بارے میں غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اس لیے سوال کو علم کی انتہا نہیں بلکہ علم کی ابتدا سمجھنا چاہیے۔ صحیح سوال ذہن کو کھولتا ہے، تحقیق کو متحرک کرتا ہے، غلط تصورات کو چیلنج کرتا ہے اور انسان کو جواب کی تلاش میں آگے بڑھاتا ہے۔ لیکن سوال کو ہدایت تک پہنچانے کے لیے عقل کے ساتھ وحی، تحقیق کے ساتھ دیانت اور جستجو کے ساتھ اخلاص ضروری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جہالت سے ہدایت تک کا سفر اکثر کسی بڑے جواب سے نہیں بلکہ ایک سچے سوال سے شروع ہوتا ہے۔ جب انسان پہلی بار سنجیدگی سے پوچھتا ہے کہ ’’حقیقت کیا ہے اور مجھے اسے کیسے جاننا ہے؟‘‘ تو اس کے اندر بیداری کا چراغ روشن ہوجاتا ہے۔

سوال وہ دروازہ ہے جہاں شعور جہالت سے نکل کر معرفت کی طرف قدم رکھتا ہے۔

انسانی فکر کی بیداری اکثر ایک سوال سے شروع ہوتی ہے۔ سوال محض کسی بات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ انسان اپنے علم کی حدود کو محسوس کر رہا ہے۔ جہاں ’’مجھے معلوم نہیں‘‘ کا شعوری احساس پیدا ہوتا ہے، وہیں ’’میں جاننا چاہتا ہوں‘‘ کی خواہش جنم لیتی ہے، اور یہی خواہش سوال کی بنیاد بنتی ہے۔

جہالت کے اندھیروں سے ہدایت کے نور کا سفر

Loading