Daily Roshni News

ٹیلی پیتھی

ٹیلی پیتھی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ٹیلی پیتھی ایک علم ہے اور یہ تب آتا ہے جب انسان کو یکسوئی حاصل ہو

کیونکہ ٹیلی پیتھی ایک ذہنی صلاحیت ہے اور ارتکاز توجہ کی تمام مشقیں اور مراقبے اس صلاحیت کو بیدار کرتے ہے

ٹیلی پیتھی ایک ایسا علم ہے جس سے بغیر کسی مادی وسیلے کے کسی دوسرے انسان تک اپنے خیالات بھیجے جاتے ہے یہ ٹیلی پیتھی کی پہلی منزل ہے جہاں ایک انسان کسی دوسرے انسان کو صرف اپنے خیالات بھیج کر اسے اپنا ہم خیال بنا سکتا ہے مثال کے طور پر آپ چاہتے ہے کہ کوئی انسان فلاں دن آپکو ملنے آئے تو آپ اس انسان کو یہ خیال بھیجتے ہے کہ وہ آپ کو اس دن ملنے آئے گا

اور جب یہی خیال اس دوسرے انسان کی طرف جاتا ہے تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ یہ اس کا اپنا خیال ہے اور وہ یہی سوچتا ہے کہ اسکا دل کر رہا ہے کہ فلاں دن اس سے ملنے جاؤ اور وہ ملنے چلا آتا ہے یہ ہے ٹیلی پیتھی کی پہلی منزل اور آج تک ٹیلی پیتھی پر جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہے ان میں صرف یہی تک بتایا گیا ہے اور وہ اسی کو ٹیلی پیتھی مانتے ہے ٹیلی پیتھی کی اس پہلی منزل تک پہنچنے کے لیے آپکو ایک سال تک ارتکاز توجہ کی مشقیں اور مراقبے کرنے پڑتے ہے

ٹیلی پیتھی کی دوسری منزل مائنڈ ریڈنگ ہے جس میں انسان کسی دوسرے انسان کے خیالات جاننا شروع کر دیتا ہے اسے یہ علم ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ فلاں بندہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے پہلے پہل یہ چیز غیر اختیاری ہوتی ہے مطلب وہ پہلے پہل اپنی مرضی سے کسی دوسرے کے خیالات نہیں پڑھ سکتا اس کے ساتھ قدرتی ایسا ہوتا رہتا ہے کہ اسے دوسرے کے خیالات پتہ چلنا شروع ہو جاتے ہے مگر رفتہ رفتہ یہ چیز اسکے اختیار میں آ جاتی ہے اور وہ اپنی مرضی سے جب چاہے کسی کے خیالات جان سکتا ہے اس میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ جب آپ کو ایک سال سے زیادہ عرصہ مشقیں اور مراقبے کرتے ہو جاتا ہے تب آپکو ایسے مشاہدات شروع ہو جاتے ہے کہ آپ پر بے اختیار ساتھ بیٹھے شخص کے خیالات معلوم ہونا شروع ہو جاتے ہے یعنی خودبخود آپکے ذہن میں وہ خیال آنے لگتا ہے جو پاس بیٹھا دوسرا انسان سوچ رہا ہوتا ہے اور آپ اچانک وہ بات بول دیتے ہو پتہ آپکو بھی نہیں چلتا کہ یہ خیال اسکا تھا آپ اسے اپنا خیال ہی سمجھتے ہے یعنی آپ کسی کے پاس بیٹھے اور آپکو اس کے ذہن میں چلنے والے خیالات بھی آپکو ذہن میں آ جاتے ہے لیکن آپ کو تب پتہ نہیں ہوتا یہ میرا خیال ہے یا اسکا پھر رفتہ رفتہ اپکو اس بات میں فرق پتہ چلنا شروع ہو جاتا ہے کہ یہ خیال جو میرے ذہن میں آ رہا یہ کس کا خیال ہے کدھر سے آ رہا پھر آپ رفتہ رفتہ یہ پہچاننا شروع کر دیتے ہو کہ یہ خیال میرا ہے اور یہ خیال اسکے ذہن کا ہے جو وہ سوچ رہا پھر مسلسل پریکٹس سے آپکو اس بات پر مہارت ہو جاتی ہے کہ آپ پاس بیٹھے شخص کے خیال جان سکے جس کو مائنڈ ریڈنگ کہتے ہے اور اس سٹیج تک پہنچنے کے لیے آپکو دو  سال کا عرصہ لگ جاتا ہے اس میں پھر انسان اس قابل ہو جاتا کہ سامنے والے انسان کے خیالات کافی حد تک جاننے لگتا ہے

ٹیلی پیتھی کی تیسری اور آخری منزل مائنڈ کنٹرول ہے جس میں تین سال کا عرصہ لگتا ہے اس میں انسان کسی دوسرے انسان کا دماغ مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں کر لیتا ہے اور وہ جیسا چاہتا ہے اگلا بندہ ویسا ہی کرتا ہے پھر ایسا ہوتا ہے کہ جسم تو اس بندے کا ہوتا ہے مگر دماغ وہاں ٹیلی پیتھی والے کا کام کر رہا ہوتا ہے وہ چاہے تو اسے  سردیوں کی رات دو بجے اٹھا کر ٹھنڈے پانی سے نہانا شروع کر دے  اور جس کا مائنڈ کنٹرول کیا جا رہا ہے اسے یہ سمجھ نہیں آئے گی کہ وہ کیوں بیوقوفوں کی طرح اتنی ٹھنڈی اور آدھی رات کو اٹھ کر کیوں ٹھنڈے پانی سے نہا رہا ہے کیونکہ اس وقت اس کے اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس وقت ختم ہو جاتی ہے  اور انسان تو وہی کرتا ہے جو اسکا دماغ کہے جو اسے خیالات آئے ہر انسان اپنے دماغ کے کنٹرول میں ہوتا ہے وہ وہی کرتا ہے جو اسکا دماغ کہے اور اگر دماغ ہی اسکا کوئی اور کنٹرول کر لے تو وہ بھی کنٹرول میں آ جاتا ہے اور دماغ کیا ہے خیالات کا ایک گھر

وہ چاہے تو کسی انسان کا دماغ کنٹرول کر۔کے کسی کا قتل کروادے اس سے اور وہ ویسا ہی کرے گا اس کو آنکھوں والا ہیپناٹزم بھی کہتے ہے جس میں انسان سامنے والے کی آنکھوں میں دیکھ اس کے دماغ پر وقتی طور قبضہ کر لیتا ہے لیکن اس میں جو چیز میرے مشاہدہ میں آئی کہ صرف پاس بیٹھے بندے کا دماغ کنٹرول کرنا ممکن ہے دور بیٹھے انسان کا دماغ ایسے کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے  کہ وہ اپنے ہوش میں ہی نہ رہے  دور بیٹھے انسان تک ہم صرف اپنے خیالات بھیج سکتے ہے اور اپنے خیالات سے اس کا ذہن تبدیل کر سکتے ہے ہمیں اس طرح کے بہت سارے واقعات ملتے ہے جس میں کسی کو ہیپناٹائز کر کے اس سے لاکھوں روپے چوری کیے گئے کراچی کا ہی ایک مشہور واقعہ ہے جس میں ایک انسان کی لاٹری نکلتی چھتیس لاکھ کی اور وہاں دوسرا انسان اسکا دماغ کنٹرول کر کے اس سے چھتیں لاکھ لے کر فرار ہو جاتا ہے اور وہ انسان گم سم کھڑا رہتا ہے چند منٹ بعد جب اسے ہوش آتی تو اسے پتہ چلتا کوئی اسکے پیسے لے گیا لیکن کون لے گیا کوئی معلوم نہیں اسے لگتا جیسے وہ کچھ لمحے کہی کھو گیا تھا اس واقعہ کی خبر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر بھی موجود ہے اس طرح کے بہت سارے واقعات ہوئے ہے کہ راہ چلتے کوئی شخص ملا اس کو دیکھنے کے بعد آپ خود اپنی مرضی سے جو جو آپکے پاس ہوتا آپ اسے نکال کے دے دیتے اور لوگوں نے لاکھوں روپے تک خود دیے اس طرح اس وقت انکو کوئی پتہ نہیں ہوتا وہ کیوں لاکھوں دے رہے ایک اجنبی شخص کو لیکن بعد میں اس شخص کے جانے کے بعد جب انکا دماغ آزاد ہوتا تب انہیں ہوش آتا لیکن اس وقت تک سب لٹ چکا ہوتا

کیونکہ ٹیلی پیتھی والے انسان کا ذہن عام انسان کی نسبت طاقتور ہوتا ہے جب کہ عام انسانوں کے دماغ اسکے مقابلہ میں کمزور

اور ایک طاقتور دوسرے کمزور کو اسانی سے کنٹرول کر۔لیتا ہے

اور باقی اگر ٹیلی پیتھی کے علم کی بات کی جائے تو میری داستان سے پہلے اس علم کو بہت ہی کم لوگ جانتے تھے اور اس پر کتابیں بھی نہ ملتی تھی

مگر میری داستاں کے بعد ٹیلی پیتھی کا علم لوگوں کو ہونا شروع ہوا اور لوگوں میں اس علم کو سیکھنے میں دلچسپی پیدا ہونا شروع ہوئی اور جب میری داستان کی بہت زیادہ مقبولیت ہوئی اور عوام ٹیلی ہیتھی کی طرف راغب ہونا شروع ہوئے تو مصنفین نے لوگوں کے اس شوق کو دیکھتے ہوئے کتابیں لکھنا شروع کی اس علم پر

حالانکہ جنہوں نے کتابیں لکھی انہیں خود ٹیلی پیتھی نہیں آتی تھی بس انہوں نے اپنی مقبولیت کی خاطر بہت جھوٹ کتابوں میں لکھا اور عموما ٹیلی پیتھی کا علم عام لوگوں میں میرے حوالے سے پہچانا جانے لگا خصوصا برصغیر پاک و ہند میں جہاں ٹیلی پیتھی کا نام آئے اور فرہاد علی تیمور کا نام نہ آئے ایسا نا ممکن ہو گیا

اگر ایسا کہا جائے کہ عام لوگوں میں ٹیلی پیتھی کا شوق مجھے پڑھ کر ہوا تو ایسا کہنا بالکل ٹھیک ہوگا

اور عموما یہ بات بھی درست ہے کہ ٹیلی پیتھی کی جس گہرائی تک میں پہنچا بہت ہی کم لوگ اس جگہ پہنچے

میں دن میں تین تین گھنٹے مشقیں کرتا اور ایسا لگاتار تین سال تک کیا اتنی محنت کے بعد کہیں جا کر۔مجھے یہ علم حاصل ہوا

یہ علم بہت زیادہ محنت اور صبر مانگتا ہے

اور عموما جن لوگوں سے اتنی محنت نہیں ہوتی وہ پھر یہ کہتے ہے کہ ٹیلی پیتھی کا کوئی وجود نہیں یہ صرف قصے کہانیوں کی باتیں ہے تو دوستوں علم تو حقیقت میں بھی موجود ہے مگر جتنی محنت یہ علم مانگتا ہے وہ آپ سے اگر نہ ہو سکے تو کسی علم کو جھوٹا نہیں کہنا چاہیے

اور یہ علم اتنا مشکل ہے کہ سیکھنے والوں کو یہ علم خواب و خیال لگنے لگتا ہے

اور اس پیج میں بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ یہ علم نہ تو دنوں سے آتا ہے نہ ہفتوں سے اور نہ مہینوں سے بلکہ یہ علم سالوں سے آتا ہے یہاں سال لگتے ہے

دنوں اور ہفتوں میں یہ علم صرف یوٹیوب اور کتابوں کی دنیا میں ملے گا

اور یہ علم اتنا مشکل ہے کہ سیکھنے والوں کو یہ علم خواب و خیال لگنے لگتا ہے

اگر یہ علم اتنی اسانی سے آ جاتا تو آپکو جگہ جگہ ٹیلی پیتھی والے ملتے اور اللہ نے اس علم کو مشکل اسی لیے رکھا ہے کہ کہیں غلط انسان کے ہاتھ نہ لگ جائے کیونکہ یہ اتنا مشکل ہے کہ غلط بندہ اس علم تک پہنچتے پہنچتے تھک کر چھوڑ دیتا ہے

کیونکہ اگر یہ علم کسی بیوقوف یا   غلط انسان کے ہاتھ لگ جائے تو وہ تو بستیوں کی بستیاں اجاڑ دے

Written by Farhad Ali Taimoor

Loading