حجاز کا سفر تھا ۔ جہاز میںں میرے ساتھ مبشر کی بڑی بہن ساتھ بیٹھی تھیں۔ کہنے لگیں ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی فاحشہ عورت نے ساتھ کھانا کھانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ سرکار نے حامی بھر لی ۔ اس عورت نے کہا اپنے منہ سے کھایا ہوا لقمہ مجھے کھانے کو دیں سرکار نے منہ سے نکال کے لقمہ اس کو دیا اس کے دل کی دنیا ہی بدل گئی معرفت کے دریچے کھل گئے قلب نور و نور ہو گیا۔ وہ سنا رہی تھی میری ہچکی بندھ گئی ۔ دل میں سوچا مالک ہم کتنے ہی مقدر والے بن جائیں یہ مقدر کہاں سے لائیں کہ آپ صلعم کا لعاب دہن نصیب ہو۔ یا خدایا ، اس فاحشہ کا بھی کیا مقدر تھا اور کریمی تو گناہگاروں کے لئے ہی ہوتی ہے۔
مدینہ پاک پہنچے، دل و نظر سے سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گنبد کے سامنے سر جھکا کے درود و سلام پڑھا۔ عصر کا وقت تھا اس بارمسجد نبوی میں بہت رش تھا جس خاتون سے پوچھو اعتکاف پر بیٹھی تھی۔ مجھے بالآخر پاکستانی عورتوں کے ایک گروہ کے پاس جگہہ مل گئی۔ عموماً میں پاکستانیوں کے پاس بیٹھنے سے اجتناب کرتی ہوں ۔ کوشش ہوتی ہے ان کے ساتھ بیٹھوں جن کی زبان سمجھ نہیں آتی تا کہ صرف بوقت ضرورت ہی بات کی جائے۔
مغرب کا وقت قریب آیا تو ایک خاتون نے کہا آپ دعا کریں۔ میں حیران پریشان ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ عرض کی آپ لوگ اعتکاف پے بیٹھے ہیں میں تو چلی جاؤں گی آپ میں سے ہی کوئی دعا کر لے ۔ وہ بضد رہیں تو مجھے لگا یہ حکم بھی کہیں اور سے ہی آتا ہے میرا ایسا مقدر کہ مسجد نبوی میں دعا کرواؤں ، دعا کیا ہوئی کہ آنسو بس سے باہر ہو گئے ، سرکار کی محبت اور توجہ کا خیال آتا تو کیفیت اور شدت اختیار کر جاتی۔ آنسو ؤں اور بے ربط لفظوں کے شد مد میبں دعا مکمل ہوئی تو ایک خاتون نے سکوت توڑا “ آپ نے بہت اچھی دعا کی میں آپ کو ایک تحفہ دینا چاہتی ہوں” ۔ میں نے بوجھل دل سے ان کو دیکھا سوچا یہ تحفہ کیا کم تھا کہ سرکار کے پہلو میں دعا کا موقع مل گیا بیسیوں عورتوں نے محبت سے درود تاج سنا ، دل کی بے ترتیب مناجاتوں پر کتنی ہی محبت سے سرکار کے در پر آمین کی آوازیں سنائی دیں۔
وہ کہنے لگیں میں آپ کو نبی پاک کا جھوٹا پانی دوں گی۔ ایک غزوہ میں پڑاؤ کے دوران کنوویں کا پانی کھارہ تھا سرکار نے اپنا لعاب دہن اس پانی میں ڈالا تو یہ میٹھا ہو گیا اس کو آب شفا کہتے ہیں۔ وہ بولے جا رہی تھی میں مبہوت اس کو دیکھے جا رہی تھی۔ فاحشہ والا واقعہ میرے دل کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کے گونج رہا تھا ، سوچا مالک اتنی کریمی، جہاز سے یہاں تک بس یہی سوچا تھا ، تمنا سے دل عاری تھا کہ زمانہ موجود اور غائب میں کوئی رو فرق ہوتا ہی ہے اللہ اکبر،
عرصے سے حجاز کا سفر کر رہے ہیں نہ کبھی سنا نہ ایسا اتفاق ہوا۔ میں دل کی ہلچل کو سنبھالنے لگی وہ کہنے لگیں آپ عشا کے بعد اسی جگہہ آ جائیں میں آپ کو آب شفا دے دوں گی جو بھی ہمارا افطار لائے گا اس سے پانی منگوا لوں گی۔ میرے دل کی کیفیت بھی سرکار جانتے ہیں التفات ہو تو بے حساب ہی ہوتا ہے وہ خاتون گویا ہوئیں آپ کے بھی بڑے مقدر ہیں آج ہمارا کزن آب شفا کی بوتل ساتھ لایا ہے ۔ اس خاتون نے دس لیٹر پانی کی بوتل میرے حوالے کی ارد گرد کی عورتوں کو معلوم ہوا تو سب ہی پانی مانگنے میرے پیچھے پڑ گئیں ۔ میں نے خاتون کو کہا آپ پہلے سب کو پانی دے دیں جو بچ جائے وہ میں رکھ لوں گی ان کا جواب بھی کیا ہی کرم فرمائی کی معراج تھا کہنے لگیں یہ پانی آپ کے لئے ہے آپ اپنے ہاتھوں سے ہدیہ کریں اللہ اکبر! میں تو اللہ کے کرم سے پہلے ہی لدی پھندے تھی نبی کی نوازشوں نے دل ہی موہ لیا ۔
سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت بڑھنے لگی۔ افطار ہوا تو اسی پانی سے افطار کیا فاحشہ کا واقعہ میرے سامنے تھا مجھے لگا میرے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ کچھ بھی کھانے کا دل نہیں چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لعاب دہن کے ذائقے کو ہی محسوس کرتی رہوں۔ یہ ذائقے تو زندگیوں پر نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ میں نے مغرب کی نماز پڑھی ۔ نماز پڑھتے ہوئے بھی کیفیت عجیب غریب ہو رہی تھی۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ مبشر کے پاس پہنچوں اور اس کو کرم کا ایک اور واقعہ سناؤں اور اس کو بھی آب شفا پلاؤں۔ وہ خاتون مجھے روکتی رہی مگر میرے تو پاؤں زمین پے نہ ٹکتے تھے۔ مبشر کو سارا واقعہ سنایا ان کو آب شفا پلایا۔
ہوٹل آتے ہوئے ایک عزیز ساتھ تھے انہوں نے پانی کی بوتل پکڑ لی ازراہ مذاق کہنے لگے آپی آپ کو تو اور پانی مل جائے گا یہ پانی تو میرا ہوا۔ اللہ کا کرنا وہ خاتون مجھے ہر روز پانی کی بوتل دیتی رہی میں تقسیم بھی کرتی رہی کچھ پانی ساتھ بھی لے آئی۔ ان کا نمبر میں نے لے لیا تھا کہنے لگیں کبھی بھی پانی چاہئے ہو تو میرے شوہر کا نمبر پاس رکھ لیں وہ جمعہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مں پڑھتے ہیں ینبوع کے قریب کام کرتے ہین سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے پانی کی بوتلیں بھر بھر لاتے ہین اور سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غلاموں میں تقسیم کرتے ہین ۔ ہم مہربانیوں اور کرم کے بوجھ تلے لدے پاکستان پہنچ گئے
کا فی عرصے بعد انہی خاتون کا مجھے فون آیا کہنے لگیں پاکستان روانگی کے وقت سارا پانی ہم سے ائر پورٹ پر لے لیا۔ آپ کے نام سے ایک بوتل بیگ میں رکھی تھی بس وہی ساتھ آئی۔ حرم کا معاملہ ہے وعدہ خلافی نہیں کر سکتی آپ اپنا پتہ بتائیں آپ کو أب شفا بھجوانا ہے۔ بس یہ جملے آپ کی زندگی کا سامان بنتے ہین ، مقدر آپ کے قدموں میں آ بیٹھتا ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کریمی ساری زندگی کے لئے آپ کو اپنا غلام بنا لیتی ہے
الھم صل علی محمد و آل محمد 💕💕💕💕
![]()

