میری دھڑکن سن لو
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاسر احمد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ میری دھڑکن سن لو ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاسر احمد)میں الفاظ سے تھک گیا ہوں. ہر طرف شور ہے،باتیں ہیں،دلیلیں ہیں. مگر میری روح کو سکون نہیں ملتا، کیونکہ وہ اس جگہ سے آئی ہے جہاں الفاظ تھے ہی نہیں. وہاں نہ زبان تھی،نہ لفظ، بس تو تھا اور تیرا عہد تھا.
یا اللہ، مجھے واپس لے جا. جہاں تجھے کہنا نہ پڑے “میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں” بس ہوا کا ایک جھونکا دل کو بتا دے کہ تو یاد کر رہا ہے. جہاں تجھے کہنا نہ پڑے “میں نے معاف کیا” بس سجدے کے بعد نکلنے والے آنسو ہی معافی بن جاہیں.
وہ جگہ مسجد کی دیواروں میں نہیں، کتابوں میں نہیں. وہ ہر اس لمحے میں ہے جہاں میں ختم ہوتا ہوں اور تو شروع ہوتا ہے. دنیا کہتی ہے تجھ سے مانگنے کے لئے الفاظ سیکھو. مگر تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے. وہاں تک الفاظ نہیں، صرف دھڑکن پہنچتی ہے.
تو میری دھڑکن سن لے. میری وہ دعاہیں جو میں مانگنا بھول گیا، وہ درد جن کا میرے پاس کوئی لفظ نہیں.
مجھے ایسی جگہ لے جا جہاں سوال جواب نہ ہو، بس ملاقات ہو. جہاں خاموشی ہی گفتگو ہو، اور ٹوٹا ہوا دل سب سے فصیح زبان ہو.
@ یاسر احمد ✍️
![]()

