Daily Roshni News

عورت پیر اور گدی نشین

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )معروف امریکی خاتون محقق Kelly Pembertonنے سن 2006 میں رسالہ Women Mystics and Sufi Shrines in India لکھا اور اس رسالے میں انہوں نے انڈیا ہی نہیں پاکستان اور بنگلہ دیش میں صوفی مزارات پر عورتوں کے گدی نشین ہونے اور پیری مریدی کے طریقے کو بیان کیا ہے انڈیا میں گجرات بہار پاکستان میں پنجاب سندھ اور صوبہ سرحد (کے پی کے ) میں اور بنگلہ دیش میں سلہٹ میں رائج نظام پر انہوں نے بات کی ہے

اپنے رسالے میں عورت کی گدی نشینی اور پیری مریدی کے نظام پر جواز کے لیے انہوں نے کچھ دلیلیں صوفیا کے اقوال اور طریقوں سے دی ہیں عمومی طور پر ایک معروف دلیل حضرت رابعہ بصری کی دی جاتی ہے میں ان دلائل کے صحیح یا غلط ہونے پر بات نہیں کرنا چاہتا جو کچھ رائج ہے وہ ہی قلم بند کررہا ہوں محققہ نے 2006تک کہاں کہاں یہ نظام رائج ہے اس کو بیان کیا ہے انہوں نے کہا کہ ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ جس طرح عورتوں میں معلمہ ہوتی ہیں جو عورتوں کو اسلامی تعلیمات کی طرف رہنمائی کرتی ہیں اسی طرح گدی نشین اور پیرنی شیخہ روحانی علوم تصوف کی تعلیم دیتی ہیں لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ یہ تعلیم عورتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ محققہ کے مطابق یہ سلسلہ بیعت مردوں تک بھی رہتا ہے ، عورت کی خلافت و اجازت کی ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ حضرت خواجہ غریب نواز نے اپنی صاحبزادی حافظہ جمال بی بی کو خلافت عطا کی تھی افغانستان میں اٹھارہویں صدی میں خواجہ صفی اللہ نقشبندی مجددی کی خلیفہ بی بی کلاں صاحبہ جن کا نام امتہ المعصومہ ہے کا ذکر بھی ملتا ہے ایک اور محقق ڈاکٹر ولید زیاد کے حوالے سے بھی بی بی کلاں کاذکر ان کے ہاں ملتا ہے ان خواتین کے علاوہ موزمبیق میں بی بی خدیجہ جمال جن کو مشہور صوفی سید باحسن نے خلافت دی اور بی بی شفا یوسفو کو بھی سید باحسن کی قادری سلسلے میں خلافت کا ذکر ملتا ہے

پیمبرٹین نے شمالی ہندوستان میں  دو بڑی صوفی روایات پر ریسرچ کرتے ہوئے گدڑی شاہ چشتی کے حوالے سے بہار اور منیر (Maner) میں فردوسی سلسلہ جو چشتیہ کی شاخ ہے اس میں عورت خلفا پر تفصیل سے بات کی ہے ، ڈاکٹر ولید زیاد کی کتاب Hidden Caliphate Sufi Saints Beyond Oxus and Indusمیں افغانستان پاکستان انڈیا بنگلہ دیش کی ان صوفی خواتین کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے سلسلہ طریقت کو جاری رکھا  خاص طور پر بی بی کلاں کے روحانی تصرفات اور ان کی خلافت کو بیان کیا ہے

Liaazat jk Bonte

ایک افریقی  خاتون ریسرچر نے

موزمبیق میں قادری سلسلے کے بزرگ حضرت سید عبدالرحمن المعروف سید باحسن کے خلفا میں خلیفہ خترہ خدیجہ جمال اور  شفا یوسفو کا ذکر کیا ہے جنہوں نے قادری سلسلے کے لئے افریقہ میں بہت جدوجہد کی خاتون محقق Kelly Pemberton نے عرب اور ہندوپاک میں سہروردی بزرگوں کے مزارات  پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سہروردی بزرگوں کے اس خطے میں مزارات بہت ذیادہ ہیں  حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی اور حضرت بہاؤالدین ذکریا سہروردی  نے اس سلسلے کا بہت کام کیا لیکن کسی بھی سہروردی بزرگ کی کسی خاتون خلیفہ کا ذکر کہیں نہیں ملتا پیمبرٹن کا کہنا ہے کہ برصغیر میں  مزارات کے معاشرتی رجحان کی وجہ سے خواتین گدی نشینوں کا ذکر موجود ہے اور ان کے حلقہ ارادت کو بھی بیان کیا جاتا ہے، تاریخ صوفیا میں تاجی سلسلہ جو چشتی سلسلے کی شاخ ہے اس میں خاتون خلفا کا ذکر ملتا ہے اور انہوں نے کسی نہ کسی شکل میں تاجی سلسلہ کو جاری رکھا تاجی سلسلہ حضرت بابا تاج الدین ناگپوری سے شروع ہوا

کیا خواتین مزارات کی سجادہ نشین یا گدی نشین ہوسکتی ہیں یا نہیں اور کیا خواتین خلفا سلسلے کو حلقہ ارادت سے جار ی و ساری رکھ سکتی ہیں یا نہیں یہ سوال صدیوں سے تشنہ طلب ہے

سید فصیح الدین سھروردی

11ستمبر 2026 نیو جرسی

Loading