پئے نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نارَسائی کا۔۔۔بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نارَسائی کا بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اس شعر کو کھولنے سے پہلے اسے سمجھنا نہیں، چھونا ہے۔ اس کے دو لفظوں کو الگ کر لیں تو شعر مر جاتا ہے۔ پہلا لفظ ہے نذر غالب تحفہ، ہدیہ، پیشکش نہیں کہتا۔ نذر […]
![]()
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نارَسائی کا۔۔۔بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا Read More »









