Daily Roshni News

اولیاء اللہ سے فیض حاصل کرنا

اولیاء اللہ سے فیض حاصل کرنا

پچھلی تحریر میں مختصراً فیض کے حوالے سے بتایا تھا. یہاں روحانی اعلیٰ ہستیوں کے فیض کے حولے سے مختصراً بات ہوگی، ان شاءاللہ

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جتنے اولیاء کامیلین گزر چکے ہیں، وہ طریقت کی راہ پر چلنے والوں کی مدد فرماتے ہیں. ان کی رہنمائی کرتے ہیں اور ان کو حق تعالی کے قرب میں آگے بڑھنے میں مدد فرماتے ہیں. جو بھی طالبِ حق ہے وہ ان کے فیض سے مستفید ہو سکتا ہے.

اس فیض کا طالب ہونا، اس فیض کو وصول کرنا، اس کو سمجھنا، اس فیض کو بڑھانا اور اس سے فائدہ اٹھانا یہ بھی ایک سفر کے اندر سفر ہے.

اس فیض کی ابتداء محبت سے ہوتی ہے. کسی بھی ولی اللہ سے ایسی محبت ہونا جو کسی دوسرے ولی سے نہ ہو، ایک منفرد سا تعلق ہونا، ایک نرالا سا انداز ہونا، ایک اپنائیت کا احساس اور دل کی رغبت ان کی طرف ہونا…. یہ سب نشانیاں ہیں کہ ان کا فیض ہے، یا پھر آسانی سے حاصل ہو سکتا ہے. تو پہلا مقام ان سے محبت کا ہونا ہے.

پھر اس کے بعد بندہ ان سے فیض کا طالب ہوتا ہے. حاضری دیتا ہے، مانگتا ہے. ان کے خیال کو ان کی یاد کو اپناتا ہے. ان کو تصور میں رکھتا ہے. ہمیشہ خود کو ان کے حضور پیش کرتا ہے. دل سے محبت کا تعلق بنانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے اندر جو محبت موجود ہے اس محبت کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے. ان کی پیروی اختیار کرتا ہے.
تو جتنا پیروی کو اختیار کرے گا اتنا وہ ان کی نظر میں آتا جائے گا، اتنا وہ قریب ہوتا جائے گا. اتنا ہی وہ نوازا جاتا ہے. اتنا ہی اس پہ کرم ہوتا جائے گا.

آپ کی محبت و شوق کا بڑھ جانا، نیک اعمال کرنے میں آسانی پیدا ہونا، نفسانی خواہشات سے نکل جانا یا ان کو چھوڑنا آسان ہو جانا، اس راہ پہ استقامت کا عطا ہونا، اور مستقل مزاجی سے اپنے سفر پہ گامزن ہونا یہ سب فیض کی نشانیاں ہیں.

تو فیض فقط فیض کے لیے نہیں ہوتا. فیض منزل نہیں ہوتا. فیض آپ کے سفر کے لیے ہوتا ہے. فیض کی مثال شمع کی طرح ہے جو آپ کو راستے میں روشنی دیتی ہے جس سے آپ اپنی منزل کی طرف تیزی سے چلتے ہیں.

تو جتنا فیض کو وصول کر کے عمل میں لاتا جائے گا، اتنا ہی فیض بڑھتا جائے گا اسی قدر فیض والی ہستی سے رابطہ بڑھتا جائے گا. یہ رابطہ احساس و خیال کی صورت سے شروع ہوتا ہے اور پھر اشارات اور کامل رہنمائی کی طرف جاتا ہے.

اس سارے معاملات کے دوران طالبِ حق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے استاد و رہنما کے مضبوطی سے جڑا رہے، اور اپنے احوال بتا کر اس پہ رہنمائی لیتا رہے. کیونکہ یہاں پہ شیطان کا حملہ کرنا آسان ہوتا ہے. اس لیے الجھنے سے بچنے کے لیے رہنما کے ساتھ منسلک رہے تاکہ بغیر کسی مشکل کے اپنا سفر جاری رکھ سکے.

اللہ ہم سب کو اولیاء کاملین کے فیض کو سمجھنے کی اور اس کو بہترین طریقے سے عمل میں لانے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.

طالبِ دعا: سید عاصم حسین شاہ گردیزی ہجویری

Loading