ایسا پہلی بار ہوا ہے

ایسا پہلی بار ہوا ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )خان صاحب کے ایک عاشقِ صادق نے تاریخ پر احسان کرتے ہوئے انکشاف فرمایا:

"پی ٹی آئی کے ساتھ جو ہوا ہے آج تک کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک مقبول لیڈر کو جیل میں ڈالا گیا،  ایسا پہلی بار ہؤا ہے کہ نشان بلا چھین لیا گیا، اور پہلی بار ہؤا کہ یونیورسٹی بنانے کے جرم میں چودہ سال سزا سنا دی گئی۔”

———-

 میں نے جواباً عرض کیا،:

حضور والا! آپ کی یادداشت کا یہ تازہ پن قابلِ رشک ہے۔ کیونکہ اس ملک میں تو "ایسا پہلی بار” روزِ اول سے ہی ہو رہا ہے، آپ شاید اس وقت تاریخ کی کتاب کے بجائے ورلڈ کپ 92 کی ہائی لائٹس دیکھ رہے تھے۔ایسا پہلی بار ہرگز نہیں ہؤا ۔ اس سے بدتر سلوک اور جمہوریت پر شب خون مارنے کی ان گنت مثالیں ہماری تاریخ میں پہلے سے موجود ہیں۔

تو لیجئے، پیشِ خدمت ہے "ایسا پہلی بار ہوا” کی اصل تاریخ:

ایسا پہلی بار ہؤا کہ جنرل ایوب خان نے صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کو بذریعہ دھاندلی ہرا دیا ۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ جنرل ضیاء الحق نے 1985میں تمام سیاسی جماعتوں کو گھر بٹھا کر غیر جماعتی الیکشن کا سرکس سجایا اور پورے سیاسی عمل کو لپیٹ کر صندوق میں بند کر دیا۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ پیپلز پارٹی سے اس کا تلوار کا نشان چھین کر تیر تھما دیا گیا، جیسے بچے سے کھلونا چھین کر لالی پاپ دے دیا جائے۔ پیپلز پارٹی پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی گئیں ۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک منتخب، مقبول وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ سیاسی کارکنوں کو شاہی قلعہ جیسے عقوبت خانوں میں ڈالا گیا اور سرِ عام کوڑے مارے گئے تاکہ باقیوں کو جمہوریت کا بخار نہ چڑھے۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ بینظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو انہیں حکم دیا گیا کہ  اہم وزارتیں، صدر کا عہدہ اور چیئرمین سینٹ، سب اسٹیبلشمنٹ کی پسند سے لیں گی، اور جنرل ضیاء الحق اور انکی فیملی کے خلاف منہ بند رکھیں گی۔ آپ صرف وزیراعظم ہاؤس کی سجاوٹ دیکھیں۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ بینظیر، نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کی منتخب حکومتیں بار بار ایک صدارتی حکم نامے پر ایسے برطرف کی گئیں جیسے کوئی سکول کا ہیڈ ماسٹر کلاس سے نکال دے۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ جنرل مشرف نے مسلم لیگ ن سے سائیکل کا نشان چھینا تو انہیں شیر کا نشان لینا پڑا، اور قیادت کو دس سال کے لئے سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ آصف زرداری کو بغیر جرم ثابت کئے گیارہ سال جیل میں رکھا گیا، کیونکہ ہمارے ہاں ثبوت بعد میں آتے ہیں، سزا پہلے آ جاتی ہے۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ مشرف نے ججوں کو گھروں میں قید کیا اور وکلا کو سڑکوں پر گھسیٹا۔

اور اب آتے ہیں "نیا پاکستان” والے پہلی بار پر:

ایسا پہلی بار ہوا کہ وزیراعظم بن کر عمران خان نے ساری اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا، صحافیوں کو چینلز سے نکلوایا، اغوا کروایا اور حملے کروائے اور پھر آزادیِ صحافت پر لیکچرز بھی دئیے۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ "سویلین بالادستی” کے سب سے بڑے داعی خان  صاحب نے سنگین غداری میں سزا یافتہ آمر پرویز مشرف کا دفاع کیا اور سزا سنانے والے جج جسٹس وقار سیٹھ کو سرِ عام "پاگل” کہہ دیا۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ عمران خان نے "ہائیبرڈ حکومت” کا فخریہ ماڈل متعارف کروایا، یعنی حکومت ہماری، کنٹرول کسی اور کا۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ نواز شریف کی سزا یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ  کی طرف سے ماتحت  عدالتوں کے اوپرایک "مانیٹرنگ جج” تعینات کیا گیا، جیسے امتحان میں نگران کھڑا کیا جاتا ہے۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ فارن فنڈنگ کا حساب دینے کے بجائے خان صاحب عدالت سے سٹے آرڈر لے آئے، اور توشہ خانہ کے تحائف کا حساب دینے کے بجائے بھی سٹے آرڈر۔ کرپشن کے خلاف جہاد کا نعرہ، اور اپنا حساب آتے ہی عدالت سے چھٹی کی درخواست۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ جسے پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا، اسی کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب بنا دیا۔ ملک ریاض جسے مافیا ڈان کہا، اس کے لیے بنی گالہ کے دروازے کھول دیے۔  شیخ رشید جسے چپڑاسی کہا، اسے وزارتِ داخلہ دے دی۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک وزیراعظم نے کریشن  میں لت پت اپنی  سالی  آدھی گھر والی فرح گوگی کے دفاع میں باقاعدہ پریس کانفرنس کر ڈالی۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ جھوٹوں کے آئی جی اور مسلسل یوٹرن لینے والے کو جسٹس ثاقب نثار کی عدالت نے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دے دیا – وہ سرٹیفکیٹ جو آج تک کسی اور صادق کو نصیب نہ ہوا۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ خان صاحب نے کشمیر کا سودا ہونے پر اسے ایک اور ورلڈ کپ جیتنے سے تشبیہہ دے دی گئی۔

اور ایسا پہلی بار ہوا کہ عمران خان کے دور حکومت میں ایک حاضر سروس کرنل لیاقت پارلیمنٹ لاجز میں بیٹھ کر سینٹ اور قومی اسمبلی کو کنٹرول کرتا اور ووٹ گنا کرتا تھا، اور ہم سمجھتے رہے کہ جمہوریت چل رہی ہے۔

ایسا پہلی بار ہؤا کہ تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کی بجائے ، ارکان اسمبلی کی اکثریت کو غدار ڈیکلیئر کیا گیا اور بعد میں غیر آئینی طریقے سے قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔

خلاصہ یہ کہ حضور، آپ کے ساتھ جو ہوا وہ پہلی بار ہرگز نہیں ہوا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے والوں نے سہہ لیا، آپ چیخ رہے ہیں۔

شمشیر احمد گوندل