بسم اللہ الرحمن الرحیم میں حرفِ باء کے بعد لفظ ’’اسم‘‘ کا الف کیوں حذف ہے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )الف، الفا، لامحدودیت، ذاتِ مطلق اور مفسرین و صوفیاء کے تفسیری اشارات کا جامع مطالعہ۔قرآنی، لغوی، سامی لسانی اور صوفیانہ روایت کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ

تمہید: بسم اللہ کے ایک حذف شدہ حرف کا سوال

قرآنِ حکیم کی عظیم عبارت ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

سورۃ الفاتحہ، آیت 1

ہماری سابقہ تحقیق میں دو سوالات زیرِ بحث آئے تھے: بسم اللہ سے پہلے وہ فعل کیوں مقدر سمجھا جاتا ہے جو عبارت میں ظاہر نہیں، اور اس فعل کے ساتھ حرفِ باء کیوں استعمال ہوا؟ اب اسی سلسلے کا تیسرا سوال ہمارے سامنے ہے: باء کے بعد لفظ ’’اسم‘‘ آیا ہے، لیکن اس کے شروع میں الف کیوں لکھا نہیں گیا؟

اگر لفظ کو الگ لکھا جائے تو اس کی صورت اسم ہے، جس میں الف، سین اور میم نظر آتے ہیں۔ لیکن بسم اللہ میں یہی لفظ بسم لکھا جاتا ہے۔ یہاں الف کی تحریری صورت حذف ہے۔

اس سوال کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں کئی علمی روایتوں سے مدد لینی ہوگی۔ عربی لغت ہمیں لفظ اسم کی ساخت سمجھاتی ہے؛ عبرانی، آرامی اور سریانی زبانیں الف کے تاریخی پس منظر سے متعارف کراتی ہیں؛ قرآنی مفسرین اس حذف کی مختلف توجیہات بیان کرتے ہیں؛ اور صوفیاء حروف کی صورت، انفرادیت، اتصال اور عدمِ اتصال میں باطنی معانی تلاش کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ایک اہم علامتی پہلو بھی زیرِ مطالعہ آئے گا: الفا Alpha کو لامحدودیت اور ایسی حقیقت کی علامت سمجھنا جو انسانی وہم، گمان اور حواس کی حدود سے ماورا ہو۔ یہ زاویہ حرف کے علامتی مطالعے سے تعلق رکھتا ہے اور اسے صوفیانہ تعبیرات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے گا۔

مقصد یہ ہے کہ مختلف آرا، ان کے پس منظر اور ان کے باہمی تعلق کو سامنے لایا جائے، تاکہ قاری خود اس فکری سفر کا جائزہ لے سکے۔

حصہ اول: الف کیا ہے؟ اس کی لغوی اور تاریخی شناخت

1۔ عربی الف اور اس کی بنیادی حیثیت

عربی میں الف ا حروفِ تہجی کا پہلا حرف ہے۔ یہ حرف صوتی اور املائی دونوں نظاموں میں مختلف کردار ادا کرتا ہے۔ بعض مقامات پر یہ طویل مصوتی آواز کی نمائندگی کرتا ہے، بعض صورتوں میں ہمزہ کے ساتھ آتا ہے، اور بعض الفاظ میں اس کا تعلق تاریخی یا صرفی ساخت سے ہوتا ہے۔

لفظ الف کے مطالعے میں ایک فرق ملحوظ رہنا چاہیے: حرف کی موجودہ عربی حیثیت ایک موضوع ہے، اس کے نام کی تاریخی اصل دوسرا موضوع، اور اس سے اخذ کیے جانے والے روحانی یا علامتی مفاہیم تیسرا موضوع۔

یہی تین سطحیں ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دیں گی۔

2۔ الف اور یونانی Alpha:  لامحدودیت کی علامت

یونانی زبان میں حرفِ اول کو Alpha Α α  کہا جاتا ہے۔ حرفِ اول ہونے کی حیثیت سے الفا ابتدا، اولیت اور ترتیب کے آغاز کی علامت بن سکتا ہے۔ بعض فلسفیانہ، باطنی اور علامتی مطالعوں میں حرفِ اول کو ایسی اصل یا بنیادی حقیقت کے استعارے کے طور پر بھی پڑھا جاتا ہے جس سے دوسرے مراتب کا تصور وابستہ ہو۔

آپ کے زیرِ مطالعہ زاویے میں الفا سے مراد ایک ایسی حقیقت ہے جسے انسانی حواس پوری طرح محیط نہیں ہو سکتے، اور جس کی وسعت انسانی وہم و گمان سے ماورا ہے۔ اس تناظر میں لامحدودیت سے مراد محض بہت زیادہ مقدار نہیں، بلکہ ایسی وسعت ہے جسے کسی محدود پیمانے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔

اس تصور کو ذاتِ مطلق، ماورائے ادراک حقیقت اور انسانی تصور کی محدودیت کے موضوعات کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے۔

یہاں یونانی حرف Alpha اور سامی حرف Aleph کے ناموں اور تاریخی تعلق کو ایک ہی چیز قرار دینے کے بجائے، ان کے درمیان تاریخی رشتے اور علامتی استعمال کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ دونوں کے ناموں میں تاریخی تعلق پایا جاتا ہے، مگر مختلف فکری روایتوں میں ان کے علامتی مفاہیم اپنے اپنے سیاق میں سامنے آتے ہیں۔

3۔ عبرانی Aleph:  قدیم سامی حرف

عبرانی زبان میں الف کے ہم اصل حرف کو Aleph א لکھا جاتا ہے۔ یہ قدیم سامی حرفی روایت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے نام کی تاریخی اصل کو عموماً مغربی سامی لفظ سے منسلک کیا جاتا ہے جس کے معنی بیل یا بیل نما مویشی کے ہیں۔ قدیم تصویری رسم الخط میں اس حرف کی ابتدائی صورت کو بیل کے سر سے مشابہ سمجھنے کا نظریہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔

عبرانی Aleph کا مطالعہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الف کی موجودہ شکل سے پہلے اس کی ایک تاریخی لسانی روایت موجود تھی۔ حرف کا نام، اس کی قدیم تصویری صورت، اس کی آواز اور اس کے بعد کے علامتی مفاہیم مختلف تاریخی مراحل سے تعلق رکھتے ہیں۔

عبرانی میں Aleph کی صوتی حیثیت بھی قابلِ توجہ ہے۔ جدید عبرانی میں یہ حرف اکثر مکمل مصوتی آواز کے بجائے صوتیاتی طور پر ایک مخصوص تاریخی کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے اسے عربی کے ہر الف کے ساتھ صوتی طور پر یکساں نہیں سمجھا جا سکتا۔

4۔ آرامی اور سریانی زبانوں میں الف

آرامی اور سریانی زبانیں بھی قدیم سامی لسانی روایت کا حصہ ہیں۔ سریانی میں الف کے ہم اصل حرف کی شکل ܐ اور اس کا نام Alaph ہے۔ عبرانی Aleph، سریانی Alaph اور عربی Alif کے درمیان تاریخی رشتہ سامی زبانوں کے مشترک حرفی ورثے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ان زبانوں کا مطالعہ الف کی شناخت کو ایک وسیع تاریخی تناظر میں رکھتا ہے۔ یہاں حرف کی صوتی، تحریری اور علامتی حیثیتیں الگ الگ موضوعات ہیں۔ کسی قدیم حرف کا تاریخی نام ایک معنی رکھ سکتا ہے، جبکہ بعد کی مذہبی یا صوفیانہ روایت اسی حرف کو ایک مختلف علامتی مفہوم دے سکتی ہے۔

5۔ الف کی تین جہتیں

اب تک کی گفتگو کو تین بنیادی جہتوں میں سمجھا جا سکتا ہے:

جہت بنیادی سوال مطالعے کا میدان

لغوی و تاریخی الف کا نام اور اصل کیا ہے؟ عربی، عبرانی، آرامی اور سریانی زبانیں

صوتی و املائی الف کب لکھا جاتا ہے اور کب حذف ہوتا ہے؟ عربی صوتیات، صرف اور رسم الخط

علامتی و صوفیانہ الف کو ذاتِ مطلق، انفرادیت یا لامحدودیت کی علامت کیوں سمجھا جاتا ہے؟ تصوف، حروف کے اشارات اور فلسفیانہ تعبیرات

یہی فرق ہمارے اصل سوال کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے: الف کے تاریخی نام کا مطالعہ ایک بات ہے، جبکہ اس کے حذف سے کوئی صوفیانہ اشارہ اخذ کرنا دوسری بات ہے۔

حصہ دوم: صوفیانہ روایت میں الف، انفرادیت اور ذاتِ مطلق

6۔ الف کی سیدھی، منفرد اور غیر متصل صورت

صوفیانہ ادب میں حروف کو صرف آوازوں یا تحریری علامات کے طور پر نہیں دیکھا گیا، بلکہ ان کی صورتوں سے بھی اشارات اخذ کیے گئے ہیں۔ ان میں الف کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس کی شکل سیدھی ہے اور یہ عام عربی حروف کی طرح اپنے بعد آنے والے حرف سے تحریری طور پر نہیں جڑتا۔

اس خصوصیت کو بعض صوفیاء نے انفرادیت، استغنا اور یکتائی کے استعارے کے طور پر بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک الف کی صورت انسان کو ایسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے جو کسی دوسری چیز کی محتاج نہیں، جبکہ مخلوقات اپنی بقا اور وجود میں اس کی محتاج ہیں۔

یہاں الف کا سیدھا ہونا صرف ہندساتی یا خطاطی کی خصوصیت نہیں رہتا، بلکہ ایک علامتی منظر بن جاتا ہے: ایک ایسی صورت جو اپنی انفرادیت برقرار رکھتی ہے اور دوسروں کے ساتھ اتصال کی محتاج نہیں۔

7۔ امام قشیریؒ کی لطائف الاشارات میں الف کا اشارہ

امام عبدالکریم بن ہوازن القشیریؒ متوفی 465ھ کی تفسیر لطائف الاشارات صوفیانہ تفسیری روایت کی اہم کتاب ہے۔ اس میں حروف کی صورت اور ان کے روحانی مفاہیم سے متعلق متعدد اشارات ملتے ہیں۔

سورۃ البقرہ کے آغاز میں حروفِ مقطعات الم کی تفسیر کے ضمن میں امام قشیری الف کے متعلق لکھتے ہیں:

الألف من بين سائر الحروف انفردت عن أشكالها بأنها لا تتصل بحرف في الخط

مفہوم: تمام حروف میں الف اس اعتبار سے منفرد ہے کہ کتابت میں وہ کسی حرف کے ساتھ متصل نہیں ہوتا، جبکہ دوسرے حروف میں اتصال کی صورت پائی جاتی ہے۔

امام قشیری اس تحریری خصوصیت سے یہ اشارہ اخذ کرتے ہیں کہ تمام مخلوقات اللہ کی محتاج ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ سب سے بے نیاز ہے۔

یہاں الف کی انفرادیت کو محض رسم الخط کی خصوصیت نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے خالق اور مخلوق کے تعلق کی طرف متوجہ کرنے والے اشارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

8۔ الف اور ذاتِ مطلق کا تصور

صوفیانہ اصطلاحات میں ذاتِ مطلق سے مراد ذاتِ الٰہی کو ان محدود تصورات، نسبتوں اور تعینات سے ماورا سمجھنا ہے جن کے ذریعے انسان عام اشیا کو پہچانتا ہے۔ اس موضوع پر صوفیاء نے مختلف اصطلاحات استعمال کی ہیں، مثلاً احدیت، غیب، استغنا اور اطلاق۔

لطائف الاشارات میں الف کے انفراد کو اللہ تعالیٰ کے غنا اور مخلوقات کے احتیاج کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اسی روایت میں الف کو کسی مخصوص مکانی مقام سے وابستہ نہ کرنے کا اشارہ بھی ملتا ہے۔

اس تناظر میں الف کی علامت ایک ایسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے جسے کسی محدود مقام، شکل یا مادی پیمانے میں محصور نہیں کیا جا سکتا۔

آپ کے بیان کردہ تصورِ لامحدودیت کے ساتھ اس بحث کا فکری تعلق یہی ہے: الف کی انفرادیت اور استغنا کو ایسی حقیقت کی علامت کے طور پر پڑھنا جو مخلوقات کی طرح کسی دوسرے سہارے کی محتاج نہیں۔

یہاں لامحدودیت سے مراد خدا تعالیٰ کے لیے کسی عددی وسعت کا تصور نہیں، بلکہ انسانی ادراک کی محدودیت کے مقابلے میں ذاتِ الٰہی کی بے نیازی اور ماورائیت کا تصور ہے۔

9۔ رفیق العجم کی موسوعۃ مصطلحات التصوف الاسلامی میں الف

ڈاکٹر رفیق العجم کی موسوعۃ مصطلحات التصوف الاسلامی میں صوفیانہ اصطلاحات کے تحت الف کے علامتی مفہوم سے متعلق یہ عبارت نقل کی گئی ہے:

الألف: إشارة يشار به إلى الذات الأحدية

مفہوم: الف کے ذریعے ذاتِ احدیت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

اس عبارت میں الف کو ذاتِ احدیت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کا موضوع محض حرف کی لغوی تعریف نہیں، بلکہ وہ صوفیانہ اصطلاحی نظام ہے جس میں حروف کو روحانی معانی کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ حوالہ ہماری تحقیق کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں الف اور ذاتِ احدیت کے درمیان تعلق صوفیانہ اصطلاح کے طور پر واضح طور پر درج ہے۔

حصہ سوم: لفظ ’’اسم‘‘ کی لغوی اصل اور اس میں الف کی حیثیت

10۔ اسم کے معنی اور اس کا اشتقاق

عربی زبان میں اسم اس لفظ کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی شخص، چیز، مقام یا مفہوم کی شناخت ہوتی ہے۔ لیکن لفظ اسم کی اشتقاقی اصل کے بارے میں قدیم لغویین نے مختلف آرا پیش کی ہیں۔

ایک معروف رائے کے مطابق اسم کا تعلق مادّہ س م و سے ہے، جس کے معنی بلندی اور رفعت کے ہیں۔ اس رائے کے مطابق اسم کی اصل ایسی صرفی صورت سے متعلق ہے جس میں واو کا تعلق لفظ کی بنیادی ساخت سے تھا۔

دوسری رائے اسے مادّہ و س م سے متعلق سمجھتی ہے، جس سے وسْم اور سِمَة جیسے الفاظ بنتے ہیں۔ اس مادّے میں نشان، علامت اور شناخت کے مفاہیم پائے جاتے ہیں۔ اس زاویے سے اسم وہ لفظ ہے جو کسی چیز کی شناخت کا نشان بنتا ہے۔

یہ دونوں آرا عربی لغت اور صرف کی تاریخ میں معروف ہیں۔ امام رازیؒ نے بھی لفظ اسم کے اشتقاق پر گفتگو کی ہے، جبکہ قدیم لغوی روایت میں سمو اور وسم سے متعلق توضیحات ملتی ہیں۔

11۔ اسم کا الف اور اس کی صرفی حیثیت

لفظ اسم کی موجودہ صورت میں الف لکھا جاتا ہے، لیکن سمو سے اشتقاق کے نظریے میں اسے لفظ کے بنیادی مادّے کا اصل حرف نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے برعکس، رسم الخط میں الف ایک نمایاں تحریری کردار ادا کرتا ہے۔

یہاں ایک دلچسپ تقابل سامنے آتا ہے:

  • اسم الگ لکھا جائے تو الف اس کی تحریری صورت کا حصہ ہے۔

  • بسم اللہ میں یہی الف حذف ہے۔

  • صوفیانہ مطالعے میں الف اپنی الگ صورت اور علامتی حیثیت رکھتا ہے۔

  • ذاتِ احدیت کے حوالے سے الف کے انفرادی اور غیر متصل ہونے پر اشارات ملتے ہیں۔

یہ چاروں باتیں ایک ہی نوعیت کی نہیں، لیکن جب انہیں ایک ساتھ پڑھا جائے تو لفظ، حرف اور علامت کے باہمی تعلق پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔

12۔ کیا اسم اور مسمّٰی ایک ہی ہیں؟

صوفیانہ اور کلامی مباحث میں اسم اور مسمّٰی کے تعلق پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ اسم وہ لفظ یا نام ہے جس کے ذریعے کسی ہستی کی شناخت ہوتی ہے، جبکہ مسمّٰی وہ ذات یا حقیقت ہے جس کی طرف یہ نام دلالت کرتا ہے۔

امام قشیریؒ نے بسم اللہ کی تفسیر میں اس بحث کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بعض اہلِ علم کے نزدیک اسم اور مسمّٰی کے تعلق کو ایک خاص انداز سے سمجھا جاتا ہے، جبکہ اہلِ عرفان کے ہاں بسم اللہ کا ایک مقصد دل کو غیر متعلق وابستگیوں سے صاف کرنا بھی ہے، تاکہ لفظ اللہ کا ورود قلب پر ہو۔

اس بحث میں اسم کو محض آواز یا تحریری علامت کے بجائے معرفت اور توجہ کے وسیلے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اسی وجہ سے صوفیانہ روایت میں اسم، مسمّٰی اور ذات کے تعلق پر خاص توجہ ملتی ہے۔

حصہ چہارم: بسم اللہ میں الف کے حذف کی تفسیری آرا

13۔ اصل تقابل: اسم، بسم اور باسم ربک

قرآنِ حکیم میں دو مقامات ہمارے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں:

سورۃ الفاتحہ، آیت 1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

لفظ اسم کا الف تحریر میں حذف ہے۔

سورۃ العلق، آیت 1

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ

یہاں لفظ اسم کا الف تحریر میں موجود ہے۔

ان دونوں مقامات کے تقابل سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ بسم اللہ میں الف کیوں حذف ہوا، جبکہ باسم ربک میں اسے برقرار رکھا گیا ہے۔

مفسرین نے اس فرق کی وضاحت مختلف انداز سے کی ہے۔ بعض نے کثرتِ استعمال اور تخفیف کو بنیادی وجہ قرار دیا، جبکہ بعض نے حرفِ باء اور الفِ وصل کی صوتی و نحوی حیثیت پر گفتگو کی۔

14۔ امام قرطبیؒ کی رائے: کثرتِ استعمال اور تخفیف

امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبیؒ متوفی 671ھ نے الجامع لأحكام القرآن میں بسم اللہ کی کتابت کے متعلق لکھا ہے:

بسم الله، تكتب بغير ألف استغناء عنها بباء الإلصاق في اللفظ والخط لكثرة الاستعمال

مفہوم: بسم اللہ کو الف کے بغیر لکھا جاتا ہے، کیونکہ کثرتِ استعمال کی وجہ سے لفظ اور خط میں حرفِ باء کے ساتھ اس کی مخصوص صورت اختیار کر لی گئی ہے۔

امام قرطبیؒ اس کے بعد اقرَأ باسم ربک کا تقابل کرتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ وہاں الف حذف نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ ترکیب بسم اللہ کی طرح کثرت سے استعمال نہیں ہوتی۔

یہ رائے رسم الخط اور عربی املا کے تعلق سے متعلق ہے۔ اس میں الف کے حذف کو ایک مخصوص ترکیب کی کتابت اور اس کے کثرت سے رائج ہونے کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔

15۔ امام رازیؒ کی رائے: دو توجیہات

امام فخر الدین رازیؒ متوفی 606ھ نے مفاتیح الغیب میں اس مسئلے پر الگ بحث کی ہے۔ ان کے ہاں دو توجیہات ملتی ہیں۔

پہلی توجیہ: کثرتِ استعمال

بسم اللہ اکثر اعمال، تحریروں اور مختلف کاموں کے آغاز میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کثرت کی وجہ سے لفظ کی تحریری صورت میں تخفیف ہوئی اور الف حذف ہوگیا۔

دوسری توجیہ: الفِ وصل اور حرفِ باء کا تعلق

امام رازیؒ حضرت خلیل بن احمد الفراہیدیؒ کی طرف ایک توضیح منسوب کرتے ہیں۔ اس کے مطابق الفِ وصل کی ضرورت لفظ کے آغاز میں سکونِ سین سے متعلق ہے۔ جب حرفِ باء لفظ اسم سے پہلے آتا ہے تو بسم اللہ کی مخصوص ترکیب میں الف کے حذف کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ باسم ربک میں یہی صورت اختیار نہیں کی گئی۔

اس طرح امام رازیؒ کے ہاں ایک طرف عام لسانی سبب یعنی کثرتِ استعمال کا ذکر ہے، اور دوسری طرف حروف کی ساخت اور ترکیب سے متعلق توضیح۔

16۔ کیا مفسرین نے الف کے حذف کی صرف ایک ہی وجہ بیان کی ہے؟

نہیں۔ مذکورہ تفسیری مباحث میں مختلف توجیہات سامنے آتی ہیں۔ امام قرطبیؒ کی گفتگو میں کثرتِ استعمال اور باء کے ساتھ مخصوص کتابت کا ذکر نمایاں ہے، جبکہ امام رازیؒ ان کے ساتھ حضرت خلیل بن احمد سے منقول لسانی توضیح بھی پیش کرتے ہیں۔

یہاں ہمارا مقصد ان آرا میں سے کسی ایک کو منتخب کرکے باقی کو رد کرنا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ مفسرین نے مسئلے کو کن مختلف زاویوں سے سمجھا۔

حصہ پنجم: صوفیانہ تفسیر میں بسم اللہ کے حروف

17۔ امام قشیریؒ: باء، سین اور میم کے اشارات

امام قشیریؒ کی لطائف الاشارات میں بسم اللہ کی تفسیر محض لغوی وضاحت تک محدود نہیں رہتی۔ وہ حرفِ باء کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مخلوقات کا ظہور اور وجود اللہ کے ساتھ وابستہ ہے، اور ہر چیز کا آغاز و انجام اسی کی طرف ہے۔

اسی بحث میں وہ مختلف اہلِ معرفت کے اشارات بھی نقل کرتے ہیں۔ ان میں باء کو اللہ کی اپنے اولیاء پر برکت و احسان، سین کو اس کے خاص بندوں کے لیے سرّ، اور میم کو اہلِ ولایت پر اس کی نعمتوں سے متعلق سمجھا گیا ہے۔ دوسرے اشارات میں باء، سین اور میم کو اللہ کی پاکیزگی، سلامتی، بزرگی اور ملکیت سے مربوط کیا گیا ہے۔

یہاں اہم بات یہ ہے کہ امام قشیریؒ ایک ہی عبارت کے تحت مختلف صوفیانہ تعبیرات نقل کرتے ہیں۔ اس طرح بسم اللہ کے حروف ایک ایسے مطالعے کا موضوع بنتے ہیں جس میں ظاہری لفظ کے ساتھ باطنی توجہ اور معرفت کے مفاہیم بھی وابستہ ہوتے ہیں۔

18۔ امام رازیؒ کے ہاں اہلِ اشارت کی رائے

امام رازیؒ نے بسم اللہ کے رسم الخط کی بحث میں ایک صوفیانہ اشارہ بھی نقل کیا ہے:

والباء حرف منخفض في الصورة فلما اتصل بكتبة لفظ الله ارتفعت واستعلت

مفہوم: حرفِ باء صورت میں نیچے کی طرف ہوتا ہے، لیکن جب لفظ اللہ کے ساتھ متصل ہوتا ہے تو اس کے اتصال کو بلندی اور رفعت کے اشارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس کے بعد اہلِ اشارت کی طرف سے یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ جس طرح باء کا اللہ کے اسم کے ساتھ اتصال ایک بلند تر معنی پیدا کرتا ہے، اسی طرح انسان کا اللہ کی خدمت سے تعلق اس کے مرتبے کی بلندی کا وسیلہ بنتا ہے۔

یہ مثال واضح کرتی ہے کہ صوفیانہ مطالعے میں حروف کی شکل اور ان کے اتصال سے روحانی معانی اخذ کیے جاتے ہیں۔ باء کی ظاہری صورت اور اللہ کے اسم کے ساتھ اس کا تعلق یہاں باطنی تربیت کے استعارے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

19۔ الف اور باء کے اتصال کا سوال

اب ہمارے بنیادی موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ بسم اللہ میں الف کی تحریری صورت موجود نہیں، اور باء براہِ راست سین سے متصل دکھائی دیتا ہے۔

اس تحریری صورت کو سامنے رکھ کر کئی سطحوں پر غور کیا جا سکتا ہے:

  • عام عربی املا میں اسم کا الف موجود ہوتا ہے۔

  • بسم اللہ کی معروف صورت میں الف حذف ہے۔

  • الف کی الگ صورت صوفیانہ روایت میں انفرادیت اور استغنا کا اشارہ بن سکتی ہے۔

  • باء کے اللہ کے اسم کے ساتھ اتصال کو بعض اہلِ اشارت نے روحانی بلندی کی علامت کے طور پر بیان کیا ہے۔

ان نکات کو ایک ساتھ پڑھنے سے حرف، لفظ اور اتصال کی صورت کے درمیان ایک فکری تعلق سامنے آتا ہے۔ البتہ ان تمام نکات کی تفصیلی صوفیانہ تعبیر مختلف مصنفین اور روایات میں الگ الگ تلاش کرنا ہوگی، کیونکہ ہر مفسر نے الف کے حذف کے بارے میں یکساں بات نہیں کی۔

حصہ ششم: الف کے حذف کو لامحدودیت اور ذاتِ مطلق کے تناظر میں دیکھنا

20۔ الف کی موجودگی اور عدمِ موجودگی: ایک علامتی مطالعہ

اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں جو اس مضمون کا خاص مرکز ہے: اگر الف کو ایک ایسی حقیقت کی علامت سمجھا جائے جو انسانی وہم و گمان اور حواس کی حدود سے ماورا ہے، تو بسم اللہ میں اس الف کی عدمِ موجودگی کو کس طرح دیکھا جا سکتا ہے؟

یہاں الف کی دو صورتیں سامنے آتی ہیں:

الف کی ظاہر صورت: الف اپنی مستقل، سیدھی اور غیر متصل شکل میں نظر آتا ہے۔ صوفیانہ تعبیر میں اس انفرادیت کو ذاتِ احدیت، استغنا اور ایسی حقیقت کی علامت کے طور پر پڑھا گیا ہے جو مخلوقات کی طرح کسی دوسرے کی محتاج نہیں۔

الف کی حذف شدہ صورت: بسم اللہ میں لفظ اسم کا الف تحریر میں موجود نہیں۔ یہ صورت ایک ایسے فکری سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر الف ذاتِ احدیت یا لامحدود حقیقت کا علامتی حوالہ ہے، تو اس کا لفظی صورت میں ظاہر نہ ہونا کس طرح سمجھا جائے؟

اس سوال کے کئی ممکنہ علامتی مطالعے ہو سکتے ہیں۔ ایک مطالعے میں الف کی عدمِ موجودگی کو اس بات کے استعارے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ حقیقتِ مطلق کو کسی ظاہری علامت میں پوری طرح محصور نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے مطالعے میں حذف کو ظاہری صورت اور باطنی حقیقت کے فرق کی طرف توجہ دلانے والا اشارہ سمجھا جا سکتا ہے۔

یہاں ایک بات خاص طور پر اہم ہے: یہ دونوں امکانات اس مضمون کے فکری و علامتی مطالعے کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔ امام قشیریؒ یا امام رازیؒ کی طرف ان میں سے کسی مخصوص تعبیر کی نسبت اسی وقت کی جا سکتی ہے جب ان کی کتاب میں اس مفہوم کی صریح عبارت ملے۔

21۔ الف کی علامت اور انسانی ادراک کی محدودیت

الف کو لامحدودیت کی علامت کے طور پر پڑھنے سے ایک اور سوال سامنے آتا ہے: کیا انسانی ذہن کسی لامحدود حقیقت کو مکمل طور پر اپنے تصور میں سمو سکتا ہے؟

اس سوال کا تعلق فلسفے، علم الکلام اور صوفیانہ معرفت کے ان مباحث سے ہے جن میں ذاتِ الٰہی کی معرفت، انسانی ادراک کی حدود اور صفاتِ الٰہی پر گفتگو ہوتی ہے۔

صوفیانہ اصطلاحات میں ذاتِ احدیت اور استغنا کے تصورات اسی فکری پس منظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ رفیق العجم کی موسوعۃ مصطلحات التصوف الاسلامی میں الف کو ذاتِ احدیت کی طرف اشارہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ امام قشیریؒ الف کے عدمِ اتصال سے مخلوقات کے احتیاج اور اللہ تعالیٰ کے غنا کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

اس تناظر میں الف کا مطالعہ محض حرف کی شکل کا مطالعہ نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک ایسے سوال سے جڑ جاتا ہے جس میں انسان اپنی معرفت کی حدود اور ذاتِ مطلق کی بے نیازی پر غور کرتا ہے۔

22۔ کیا حذف شدہ الف کی عدمِ موجودگی خود ایک اشارہ بن سکتی ہے؟

بسم اللہ میں الف کی عدمِ موجودگی کو علامتی سطح پر پڑھنے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی حقیقت کا تحریر میں ظاہر نہ ہونا اس کے مفہوم کے غائب ہونے کے برابر ہے؟

اس سوال کے جواب میں دو سطحیں سامنے آتی ہیں۔

پہلی سطح پر لفظ اسم کا مفہوم برقرار ہے، خواہ بسم اللہ میں اس کا الف تحریر میں موجود نہ ہو۔ مفسرین نے اس حذف کو عربی کتابت، کثرتِ استعمال اور لفظ کی مخصوص ساخت سے متعلق بیان کیا ہے۔

دوسری سطح پر ہم اس تحریری صورت کو ایک علامتی سوال کے طور پر دیکھ سکتے ہیں: کیا کوئی حقیقت اپنی مکمل ظاہری صورت کے بغیر بھی معنی میں موجود رہ سکتی ہے؟ کیا کسی چیز کی علامت اور اس کی حقیقت میں فرق ہو سکتا ہے؟ اور کیا ظاہری عدمِ موجودگی کبھی قاری کو باطنی معنی کی طرف متوجہ کر سکتی ہے؟

یہ سوالات اسم، مسمّٰی، ذات اور علامت کے تعلق پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان کی صوفیانہ تعبیر کے لیے حروف کے اشارات، ذاتِ احدیت اور معرفتِ الٰہی سے متعلق متون کا مطالعہ اہم ہوگا۔

حصہ ہفتم: مختلف مفسرین اور صوفیاء کی آرا کا تقابلی جائزہ

23۔ ایک نظر میں مختلف آرا

عالم یا ماخذ زیرِ بحث موضوع بیان کردہ رائے یا اشارہ

امام قرطبیؒ، الجامع لأحكام القرآن بسم اللہ میں الف کا حذف کثرتِ استعمال اور مخصوص املائی صورت

امام فخر الدین رازیؒ، مفاتیح الغیب الف کے حذف کی وجہ کثرتِ استعمال اور الفِ وصل و باء سے متعلق لسانی توضیح

امام قشیریؒ، لطائف الاشارات الف کی انفرادیت عدمِ اتصال سے ذاتِ احدیت کے غنا اور مخلوقات کے احتیاج کا اشارہ

امام قشیریؒ، لطائف الاشارات بسم اللہ کے حروف باء، سین اور میم سے متعلق مختلف صوفیانہ اشارات

رفیق العجم، موسوعۃ مصطلحات التصوف الاسلامی حرف الف الف کو ذاتِ احدیت کی طرف اشارہ قرار دینے والی صوفیانہ اصطلاح

الفا اور الف کا علامتی تقابل ابتدا، انفرادیت اور لامحدودیت حرفِ اول کو ایک بنیادی یا ماورائے ادراک حقیقت کے استعارے کے طور پر پڑھنے کا امکان

اس جدول سے معلوم ہوتا ہے کہ بسم اللہ کے الف کا مسئلہ صرف ایک زاویے سے نہیں دیکھا گیا۔ اس میں رسم الخط، عربی زبان، حروف کی ساخت اور صوفیانہ علامتوں کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ ہر ماخذ کا اپنا موضوع اور اپنا طریقۂ بیان ہے۔

حصہ ہشتم: عبرانی، آرامی اور سریانی پس منظر کا اس بحث سے تعلق

24۔ مشترک سامی حرفی روایت

عبرانی Aleph، سریانی Alaph اور عربی Alif کے درمیان تاریخی تعلق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ الف کی موجودہ شناخت ایک وسیع سامی لسانی روایت کا حصہ ہے۔

اس تاریخی رشتے کو سامنے رکھنے سے حرف کے ارتقا، اس کی شکل اور اس کی صوتی حیثیت پر تحقیق کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح یونانی Alpha کے ساتھ اس کے تاریخی تعلق اور مختلف فکری روایتوں میں اس کے علامتی استعمال کا مطالعہ بھی الگ موضوع ہے۔

تاہم ان زبانوں کی لغات میں کسی حرف کے نام یا اس سے مشابہ لفظ کے معنی کو بسم اللہ کی تفسیر سے براہِ راست جوڑنے کے لیے مزید مخصوص شواہد درکار ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں عبرانی، آرامی اور سریانی کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ وہ الف کی تاریخی شناخت کو وسیع لسانی تناظر میں رکھتے ہیں۔

25۔ لغوی معنی اور صوفیانہ معنی کا باہمی مطالعہ

اس تحقیق کے دوران دو طرح کے سوالات سامنے آتے ہیں:

  • الف کی تاریخی اصل، صوتی حیثیت اور املائی کردار کیا ہے؟

  • الف کو ذاتِ احدیت، استغنا یا لامحدودیت کی علامت کے طور پر کس طرح پڑھا گیا ہے؟

پہلا سوال لغت اور لسانیات سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ دوسرا صوفیانہ اور علامتی تعبیر سے۔ دونوں کو ساتھ پڑھنے سے حرف کے مختلف پہلو سامنے آ سکتے ہیں۔

اسی طرح لفظ اسم کی اشتقاقی اصل اور بسم اللہ میں اس کے الف کا حذف دو الگ مسائل ہیں۔ اسم کی لغوی اصل جان لینے سے حذف کی تمام تفسیری آرا خودبخود واضح نہیں ہوتیں، اور حذف کی املائی وجہ جان لینے سے الف کے تمام صوفیانہ مفاہیم بھی ختم نہیں ہوتے۔

اختتامیہ: الف، اسم اور بسم اللہ کا فکری مطالعہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم میں لفظ اسم کا الف حذف ہے۔ اس مختصر تحریری فرق نے عربی زبان، قرآنی رسم الخط، لفظ اسم کی اشتقاقی اصل اور صوفیانہ حروفی تعبیرات کے کئی پہلو ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں۔

امام قرطبیؒ نے اس حذف کو کثرتِ استعمال اور مخصوص املائی صورت سے متعلق بیان کیا۔ امام رازیؒ نے اس کے ساتھ الفِ وصل اور حرفِ باء کے تعلق سے متعلق ایک لسانی توضیح بھی نقل کی۔ امام قشیریؒ نے دوسری جگہ الف کی انفرادیت اور عدمِ اتصال کو ذاتِ احدیت کے غنا اور مخلوقات کے احتیاج کی طرف اشارہ قرار دیا۔ رفیق العجم کی صوفیانہ اصطلاحات کی موسوعہ میں بھی الف کو ذاتِ احدیت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اس طرح ہمارے سامنے دو نمایاں زاویے آتے ہیں۔ ایک زاویہ الف کے حذف کی لسانی اور املائی توجیہات کا ہے، اور دوسرا الف کی صورت، انفرادیت اور ذاتِ احدیت کے ساتھ اس کے علامتی تعلق کا۔

الفا، لامحدودیت اور انسانی ادراک سے ماورا حقیقت کے حوالے سے آپ کا پیش کردہ زاویہ اسی دوسرے مطالعے کے ساتھ مربوط ہے۔ اس تناظر میں الف کی ظاہر صورت اور بسم اللہ میں اس کی عدمِ موجودگی، دونوں پر الگ الگ غور کیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف الف کی انفرادیت ذاتِ احدیت اور استغنا کی علامت بن سکتی ہے، اور دوسری طرف اس کی عدمِ موجودگی ظاہری صورت، باطنی معنی اور انسانی ادراک کی حدود پر سوال اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اس تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ بسم اللہ میں الف کے حذف کا مطالعہ صرف ایک املائی سوال تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے ساتھ لفظ اسم کی لغوی اصل، حروف کی تاریخی روایت، ذاتِ احدیت کے صوفیانہ اشارات اور لامحدودیت کے علامتی تصور پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ مختلف مفسرین اور صوفیاء کے اقوال کو ان کے اپنے سیاق میں جمع کرنا اس مطالعے کو وسعت دیتا ہے اور قاری کو مختلف فکری زاویوں سے واقف کراتا ہے۔

حوالہ جات

  1. القرطبی، محمد بن احمد۔ الجامع لأحكام القرآن، سورۃ الفاتحہ، آیت 1، بسم اللہ کی کتابت سے متعلق بحث۔ متن ملاحظہ کریں

  2. الرازی، فخر الدین۔ مفاتیح الغیب التفسیر الکبیر، مباحثِ بسم اللہ، باب: ما يتعلق بهذه الكلمة من القراءة والكتابة۔ متن ملاحظہ کریں

  3. القشیری، عبدالکریم بن ہوازن۔ لطائف الاشارات، سورۃ البقرہ، آیت 1، حروفِ مقطعات اور الف کے اشارات۔

+1

  1. القشیری، عبدالکریم بن ہوازن۔ لطائف الاشارات، سورۃ الفاتحہ، آیت 1، بسم اللہ اور حروف کے صوفیانہ اشارات۔ متن ملاحظہ کریں

  2. العجم، رفیق۔ موسوعۃ مصطلحات التصوف الاسلامی، حرف الف، الف اور ذاتِ احدیت سے متعلق اصطلاحی توضیح۔

alshrefalm7sy.ahlamontada.com

+1