بنگلہ دیشی جوڑا۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم

بنگلہ دیشی جوڑا

تحریر۔۔۔حمیراعلیم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بنگلہ دیشی جوڑا۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )ہم پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بنا تحقیق کے ہربات پھیلا دیتے ہیں نہ اس کے نتائج کے بارے میں سوچتے ہیں نہ ہی اثرات کے۔یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں انتشار بڑھتا جا رہا ہے۔اسی روایت کو بےقرار رکھتے ہوئے ہم نے بنگلہ دیشی جوڑے کے قتل کی سزا والی پوسٹ بھی دل بھر کے شیئر کی اور سعودی عدالتی نظام کے بخیے ادھیڑے ساتھ میں سعودی حکمرانوں کے حرم، ان کی عیاشیوں اور حرام کاموں پر بھی خوب تنقید کی۔ یاد رکھیے اسلام کسی ایک خطے یو قوم تک محدود نہیں نہ ہی صرف عربوں کا فرض ہے کہ وہ اس پر پوری طرح عمل پیرا ہوں۔یہ ایک آفاقی مذہب ہے ہر انسان کے لیے ہے اور اس پر عمل بھی ہر مسلمان پر یکساں فرض ہے۔عربوں کی ذاتی زندگی جیسی بھی ہو بحثییت حکمران وہ انصاف پسند ہیں اور ان کا عدالتی نظام دنیا کے چند بہترین نظاموں  میں سے ایک ہے۔جہاں شاہ سے لے کر عام شہری تک قانون کا پابند ہے اور مجرم کو سزا اس کی سماجی حیثیت کے مطابق نہیں بلکہ شرع کے مطابق دی جاتی ہے۔ ستر کی دہائی میں شہزادی مشاعل اور ان کے دوست خالد محلل ہوں ،قاتل شہزادہ ترکی بن سعود اور مقتول ان کا  دوست عادل حمید ہوں، یا 2019 میں 37 سعودی شہری، 2022 میں 81

شہری جرائم کے ثابت ہونے پر سب کو قتل کیا گیا۔سوچیے کیا پاکستان میں ایسا انصاف ممکن تھا ، کیا پاکستانی ایلیٹ کلاس یا حکمرانوں کے بچوں کو زنا، قتل پر پھانسی دی جاتی؟

         یہ پاکستان نہیں جہاں ہر دوسری مسجد اور مدرسے میں بچوں کے ساتھ بدحالی ہوتی ہے مگر مجرم سزا نہیں پاتے۔یہ سعودیہ ہے اور مسجد بھی کوئی عام مسجد نہیں اسلام کی مقدس ترین مسجد حرم پاک ہے۔جہاں ایک غیر شادی شدہ جوڑا، ذہن میں رکھیے کہ جوڑا لکھا گیا ہے شادی شدہ جوڑا نہیں، زنا کا مرتکب ہوتا ہے۔اور زنا بھی کوئی اچانک فعل نہیں پوری پلاننگ کے ساتھ ایک دوست کو نگرانی پر کھڑا کر کے زنا کیا گیا۔جس نے ویڈیو بنائی اور جب لڑکی سے اپنی خواہش پوری کرنی چاہی تو اس کے انکار پر انتقاما پولیس کو ویڈیو دکھائی۔جس کے نتیجے میں بنگلہ دیشی جوڑا گرفتار ہوا مقدمہ چلا، ثبوتوں گواہیوں کے ساتھ سوا تین سال قید میں رہنے کے بعد قتل کیا گیا۔

      جن لوگوں کو یہ تکلیف ہے کہ ان مجرموں کے ساتھ نا انصافی ہوئی، ان کے ملک خاندانوں کو بنا بتائے یہ سزا دی گئی۔وہ ان رپورٹس کو ضرور دیکھیں جن میں ان کے والدین بتا رہے ہیں کہ ان کی اپنے بچوں کے ساتھ ہر ہفتے فون کال پر بات ہوتی تھی۔فرض کیجئے والدین اور ان کے ملک کو سعودی حکومت نے مطلع نہیں کیا تھا مگر ان مجرموں نے اپنے والدین کو بتا دیا تھا۔کیا بنگلہ دیشی حکومت یا ان کے والدین سے کبیرہ گناہ کی سزا سے انہیں بچا سکتے تھے؟ کیا کسی مسلمان کی یہ جرآت ہے کہ وہ ایسے مجرموں کو چھڑوانے کے لیے ان کا کیس لڑے؟کیا کوئی مسلم حکمران یا جج،  اگر وہ واقعی مسلمان ہے نہ کہ ہماری طرح نام نہاد، اللہ رسول۔کی حدود توڑ کر انہیں معاف کر سکتا ہے؟

        سعودی عدالتیں پاکستانی عدالتیں نہیں ہیں جہاں غریب کے لیے قانون مختلف ہے اور امیر کے لیے مختلف۔جہاں بنا ثبوت کے غریب کو سزا دے دی جاتی ہے اور امیر ثبوتوں کے باوجود باعزت بری ہو جاتا ہے۔وہاں انصاف کے تقاضوں کا پورا کر کے سزائیں دی جاتی ہیں۔اس لیے ایسے معاشرے پر تنقید سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکیے جہاں اللہ کی حدود اس لیے قائم کی جاتی ہیں تاکہ امن و امان قائم رہے۔