تباہی مردہ دلی میں ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تباہی مردہ دلی میں ہے:❣️ مالک بن دینار کہتے ہیں کہ جب میں نے آپ سے پوچھا: لوگوں کی تباہی کسی چیز میں پوشیدہ ہے؟ فرمایا: مردہ دلی میں میں نے پوچھا کہ مردہ دلی کا کیا مفہوم ہے؟ فرمایا: دنیا کی جانب راغب ہو جانا۔

جنات کو تبلیغ:❣️

 ایک مرتبہ حضرت عبداللہ نماز فجر کے لیے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ علیہ کی مسجد میں تشریف لے گئے تو اندر سے دروازہ بند تھا اور آپ مشغول دعا تھے اور کچھ لوگوں کے آمین کہنے کی صدائیں آرہی تھیں، چنانچہ میں یہ خیال کر کے شاید آپ کے ارادت مند ہوں گے باہر ہی ٹھہر گیا اور جب صبح کو دروازہ کھلا اور میں نے اندر جا کر دیکھا تو آپ تنہا تھے چنانچہ فراغت نماز کے بعد جب صورتحال دریافت کی تو فرمایا: پہلے تو کسی سے نہ بتانے کا وعدہ کرو پھر فرمایا: یہاں جنات وغیرہ آتے ہیں اور میں ان کے سامنے وعظ کہہ کر دعا مانگتا ہوں، جس پر وہ سب آمین آمین کہتے رہتے ہیں ۔

 کرامت: ❣️

کچھ بزرگ آپ کے ہمراہ بفرض حج روانہ ہوئے اور ان میں سے بعض لوگوں کو شدت سے پیاس لگی، چنانچہ راستہ میں ایک کنواں پر نظر پڑی، لیکن اس پر رسی اور ڈول کچھ نہ تھا اور جب نہ حضرت حسن سے صورتحال بیان کی گئی تو فرمایا: جب میں نماز میں مشغول ہو جاؤں تو تم پانی پی لینا چنانچہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو اچانک کنوئیں میں سے پانی خود بخود ابل پڑا اور سب لوگوں نے اچھی طرح پیاس بجھائی، لیکن ایک شخص نے احتیاطاً کچھ پانی ایک کوزے میں رکھ لیا۔ اس حرکت سے کنوئیں کا جوش ایک دم ختم ہو گیا اور آپ نے فرمایا: تم نے خدا پر اعتماد نہیں کیا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے؟ پھر آگے روانہ ہوئے تو راستہ میں سے کچھ کھجور میں اٹھا کر اپنے لوگوں کو دیں جن کی گٹھلیاں سونے کی تھیں اور جن کو فروخت کر کے لوگوں نے سامان خوردو نوش خریدا اور صدقہ بھی کیا۔

نیت کا اثر :❣️

 مشہور ہے کہ ابو عمر و قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے کہ ایک نو عمر حسین لڑکا تعلیم کے لیے پہنچا اور آپ نے اس کو بری نیت سے دیکھا جس کے نتیجہ میں اسی وقت پورا قرآن بھول گئے اور گھبرائے ہوئے حضرت حسن بصری کی خدمت میں حاضر ہو کر پورا واقعہ من و عن بیان کر دیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ایام حج قریب ہیں، پہلے حج ادا کرو اور حج ادا کر کے مسجد خیف میں پہنچ جاؤ وہاں تمہیں ا اب مسجد میں ایک صاحب مصروف عبادت ملیں گے جب وہ عبادت سے فراغت پالیں تو ان سے دعا کی درخواست کرنا ۔ ابو عمرو کہتے ہیں کہ جب میں مسجد میں پہنچا تو وہاں ایک کثیر مجمع تھا اور کچھ دیر کے بعد ایک بزرگ تشریف لائے اور سب تعظیماً کھڑے ہوئے اور جب سب لوگوں کے جانے کے بعد وہ بزرگ تنہا رہ گئے تو میں نے اپنا پورا واقعہ بیان کیا، چنانچہ ان بزرگ کے تصرف سے مجھ کو دوبارہ قرآن یاد ہو گیا اور جب فرط مسرت سے میں قدم بوس ہوا تو انہوں نے فرمایا:

حسن بصری نے مجھ کو رسوا کر دیا۔ میں بھی ان کا راز فاش کر کے رہوں گا فرمایا کہ جو صاحب ظہر کی نماز کے وقت یہاں تھے وہ حسن بصری ہی تھے جو اسی طرح روزانہ یہاں آتے ہیں اور ہم سے باتیں کر کے عصر کے وقت تک بصرہ پہنچ جاتے ہیں اور حسن بصری جس کے رہنما ہوں اس کو کسی غیر کی حاجت نہیں ۔ منقول ہے کہ کسی شخص کے گھوڑے میں کچھ نقص ہو گیا اور اس نے جب حسن سے کیفیت بیان کی تو آپ نے چار سو درہم میں اس سے گھوڑا خرید لیا، لیکن اسی شب گھوڑے کے مالک نے خواب میں دیکھا کہ جنت میں ایک گھوڑا چار سو مشکی گھوڑوں کے ہمراہ چرتا پھر رہا ہے اس نے سوال کیا کہ یہ گھوڑے کس کے ہیں؟ تو ملائکہ نے بتایا کہ پہلے تو یہ سب تمہارے تھے لیکن اب حسن بصری کی ملکیت ہیں۔ وہ شخص بیدار ہو کر حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا کہ آپ اپنی رقم لے کر میرا گھوڑا واپس فرمادیں ۔ آپ نے فرمایا: جو خواب رات تو نے دیکھا ہے وہ میں پہلے ہی دیکھ چکا ہوں ۔ یہ سن کر وہ مایوس واپس ہو گیا، پھر دوسری شب حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں عالی شان محلات دیکھ کر دریافت کیا کہ یہ کس کے ہیں؟ جواب ملا کہ جو بھی بیچ کو توڑ دے چنانچہ آپ نے صبح کو گھوڑے کے مالک کو بلا کر بیچ کو تو ڑ دیا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

باب سوم

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے حالات و مناقب

قسط نمبر 5

تذکرۃ الاولیاء

حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ ❣️