ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔ جب کلام خون بن جائے: انسان سے نور تک کا سفر۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم )رسولِ اکرم ﷺنے تین مرتبہ فرمایا: ’’میں پڑھنا نہیں جانتا۔‘‘
یہ انکار نہیں تھا، یہ اعلان تھا کہ کلامِ الٰہی کا دروازہ لفظوں سے نہیں، قلب سے کھلتا ہے۔
جو کچھ اُن کے قلبِ اطہر پر اتارا گیا، وہ کتاب سے پہلے خون میں لکھا گیا تھا۔
قلب پر نازل ہونے والا کلام خون میں گھل جاتا ہے، اور پھر خون نور میں بدل جاتا ہے
اسی لیے قرآن نور ہے، اور جس کے نسب میں یہ نور شامل ہو وہ دلیلِ قرآن بن جاتا ہے۔
اب نہ کوئی نبی آئے گا، نہ کوئی رسول، نہ کوئی کتاب۔
اب صرف وہ خون باقی ہے جس میں قرآن اترا تھا
وہ خون جو آلِ محمد کا ہے۔
قرآن میں ہر شے کا نقش، ہر لمحے کا کوڈ، ہر تقدیر کا نقشہ محفوظ ہے۔
یہ عام حروف نہیں
یہ الف لام میم ہیں؛ تین نہیں، نو حروف۔
یہ درد نہیں، یہ نظمِ نور کا رمز ہے۔
کربلا میں بہنے والا خون خون نہ تھا
وہ نور کا بہاؤ تھا،
اور نور کے چشمے قیامت تک بند نہیں ہوتے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دو دو ماہ جن گھروں میں چولہا نہ جلا،
زمین کی بادشاہی انہی ہاتھوں میں رکھی گئی۔
حشر تک جو قرآن کی اصل روشنی بیان کرے گا
اُسے جادوگر، سحرزدہ اور دیوانہ کہا جائے گا
یہ بھی قرآن کی پیشگوئی ہے۔
خون کا آخری حرف “ن” ہے
اور عربی میں “لَہُ” کا مطلب ہے “اُسی کا ہے”۔
لہٰذا یہ لہُو اُسی کا ہے۔
یہ خون بھی اُسی کا ہے۔
نماز میں آلِ محمد پر درود کے بغیر کوئی سجدہ مکمل نہیں ہوتا۔