جنت میں داخلہ — سلامتی، پاکیزگی اور ہمیشہ کی زندگی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دنیا کی خوشیوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی اندیشہ لگا رہتا ہے۔ صحت ہے تو بیماری کا خوف، جوانی ہے تو بڑھاپے کا انتظار اور عزیزوں کا ساتھ ہے تو جدائی کا خدشہ۔ قرآن اور صحیح احادیث جنت کی ایسی زندگی کا وعدہ کرتے ہیں جہاں یہ محرومیاں باقی نہیں رہیں گی۔ وہاں کی نعمتیں عارضی نہیں ہوں گی اور اہلِ جنت کو انہیں کھو دینے کا خوف نہیں ہوگا۔
نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ اہلِ جنت کے لیے اعلان ہوگا کہ وہ ہمیشہ صحت مند رہیں گے، کبھی بیمار نہیں ہوں گے۔ ہمیشہ زندہ رہیں گے، موت نہیں آئے گی۔ جوان رہیں گے، بڑھاپا نہیں آئے گا اور نعمتوں میں رہیں گے، بدحالی نہیں ہوگی۔ یہ محض طویل عمر کی بشارت نہیں بلکہ ایسی زندگی کا وعدہ ہے جس میں زوال نہیں ہوگا۔
اہلِ جنت کی جسمانی کیفیت بھی دنیا جیسی نہیں ہوگی۔ صحیح حدیث میں ان کے حسن و نورانیت، حضرت آدم علیہ السلام جیسے قد، پیشاب، پاخانے، تھوک اور ناک کی رطوبت سے پاک ہونے اور پسینے کے مشک جیسا ہونے کا ذکر ہے۔ ان خبروں کی وضاحت کے لیے ہمیں اپنی طرف سے کوئی سائنسی طریقۂ کار گھڑنے کی ضرورت نہیں۔ جس رب نے ہمیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، وہ آخرت میں ہمیں وہ کیفیت عطا کرنے پر بھی قادر ہے جس کی خبر اس کے رسول ﷺ نے دی ہے۔
جنت کی پاکیزگی صرف جسم تک محدود نہیں ہوگی۔ دنیا میں حسد، رنجش اور کدورت بھی انسان کا سکون چھین لیتے ہیں۔ سورۃ الحجر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مفہوم: ہم ان کے دلوں میں موجود کدورت دور کر دیں گے۔ وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے تختوں پر ہوں گے۔
صحیح حدیث میں جنت میں داخلے سے پہلے اہلِ ایمان کے باہمی مظالم کا حساب ہونے کا ذکر بھی ہے۔ انہیں جہنم اور جنت کے درمیان ایک مقام پر روکا جائے گا، جہاں دنیا میں ایک دوسرے پر کیے گئے ظلم کے معاملات طے ہوں گے۔ جب وہ پاک صاف ہو جائیں گے تو جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔ یہ بات ہمیں اپنے معاملات پر غور کی دعوت دیتی ہے۔ کسی کا حق مارنا یا کسی پر ظلم کرنا معمولی معاملہ نہیں۔
پھر قرآن جنت میں داخلے کا منظر دکھاتا ہے۔ اپنے رب سے ڈرنے والے لوگ گروہوں کی صورت میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔ سورۃ الزمر میں ارشاد ہوتا ہے:
مفہوم: جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے انہیں گروہوں کی صورت میں جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوں گے تو اس کے نگہبان کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، تم پاکیزہ ہو، اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہو جاؤ۔
اس نعمت پر اہلِ جنت اپنے رب کا شکر ادا کریں گے۔ اسی سورہ میں ان کے الفاظ بیان ہوئے ہیں:
مفہوم: وہ کہیں گے کہ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہمیں اس سرزمین کا وارث بنایا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ پس عمل کرنے والوں کا اجر کیا ہی اچھا ہے۔
دنیا میں جس وعدے پر ایمان رکھا تھا، اب وہ ان کے سامنے حقیقت بن چکا ہوگا۔ فرشتے بھی ان کا استقبال کریں گے۔ سورۃ الرعد میں فرمایا گیا ہے:
مفہوم: وہ ہمیشہ رہنے والے باغوں میں داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد، ازواج اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی۔ فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تمہارے صبر کے بدلے تم پر سلامتی ہو۔ کیا ہی اچھا ہے آخرت کا یہ گھر۔
یہ استقبال اس زندگی کے بعد ہوگا جس میں ایمان پر قائم رہنے، نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کے لیے صبر درکار تھا۔ سورۃ الفرقان میں ارشاد ہوتا ہے:
مفہوم: ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے بلند مقام عطا ہوگا اور وہاں تحیت اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا۔ وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ کیا ہی اچھا ٹھکانہ اور مقام ہے۔
سورۃ الزخرف میں ایمان لانے اور فرمانبردار رہنے والوں کو خوف اور غم سے محفوظ ہونے کی خوش خبری دی گئی ہے:
مفہوم: اے میرے بندو، آج تمہیں کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمگین ہوگے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور فرمانبردار رہے۔ تم اور تمہارے ازواج جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہیں خوش کیا جائے گا۔
انسان دنیا میں بھی ہریالی، بہتے پانی، اچھی رہائش، صحت اور محبت بھری رفاقت چاہتا ہے۔ لیکن یہاں ہر نعمت محدود ہے۔ جنت کی بشارت ایک ایسی زندگی کی امید دیتی ہے جو دنیا کی ان محرومیوں سے پاک ہوگی۔ اس کی مکمل کیفیت ہمارے موجودہ تجربے میں نہیں آسکتی۔
جس نے زندگی عطا کی، اس کے لیے اسے ہمیشہ قائم رکھنا ناممکن نہیں۔ تاہم جنت کی تفصیلات محض اس بنیاد پر طے نہیں کی جاسکتیں کہ ہمیں کوئی بات ممکن یا خوش گوار محسوس ہوتی ہے۔ امورِ غیب میں ہماری رہنمائی قرآن اور معتبر حدیث کی خبر ہے۔ ہم وہی بیان کریں گے جو ان سے ثابت ہے اور جہاں تفصیل نہیں دی گئی وہاں اپنی طرف سے اضافہ نہیں کریں گے۔
جنت کی یہ بشارت ہمیں اللہ کی رحمت سے امید رکھنے کے ساتھ اپنی زندگی درست کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ ایمان، نیک عمل، صبر، توبہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی اسی دنیا میں ہمارے سامنے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کا استقبال سلامتی کے ساتھ ہوگا اور جنہیں ہمیشہ کی پاکیزہ زندگی عطا کی جائے گی۔ آمین۔
حوالہ جات
سورۃ الحجر 15:47۔
سورۃ الزمر 39:73–74۔
سورۃ الرعد 13:23–24۔
سورۃ الفرقان 25:75–76۔
سورۃ الزخرف 43:68–70۔
صحیح بخاری 3327: اہلِ جنت کی جسمانی صفات۔
صحیح بخاری 6535: داخلے سے پہلے باہمی مظالم کا حساب اور تطہیر۔
صحیح مسلم 2837: دائمی زندگی، صحت، جوانی اور نعمتوں کی بشارت۔