جھڑکی نہ دو۔۔۔ واصف علی واصف

جھڑکی نہ دو

واصف علی واصف

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ جھڑکی نہ دو۔۔۔ واصف علی واصف) خاک ہو جائے وہ مرتبہ جو دوسروں کے لیے مفید نہ ہو …. افسوس ہے اس علم پر جو دوسروں کے کام نہ آئے اور پناہ مانگو اس علم سے جو اپنے بھی کام نہ آئے۔جھڑکیاں دینے والا ،رعب جمانے والا ،دھمکیاں دینے والا ،بھول چکا ہوتا ہے کہ وہ بھی انسان ہے۔ انسان کو انسانوں پر رعب جمانے اور انہیں جھڑکی دینے کا کوئی حق نہیں۔ یہ نقلی استحقاق صرف غرور نفس کا دھوکا ہے اور غرور کسی انسان میں اس وقت تک نہیں آ سکتا ،جب تک وہ بدقسمت نہ ہو۔ نصیب والے ،قسمت والے ہمیشہ عاجز و مسکین بن کے رہے۔

وہ کسی مرتبے پر فائز ہوئے ،تب بھی انکسار سے کام لیتے رہے۔ مغرور بادشاہ فرعون کی عاقبت کے وارث ہوتے ہیں۔ مسکین سرفراز رہتا ہے۔ وہ سدا بہار ہے۔ وہ دولت اور حکومت کو امانت سمجھتا ہے ،مالک کی عطا کردہ عنایت… وہ مالک جو اعلان فرماتا ہے کہ وہ اصل مالک ہے ،ملک کا مالک… جسے چاہے ملک عطا کرتا ہے اور جسے چاہے معزول فرماتا ہے۔

ہم سمجھتے یں کہ بیلٹ بکس ہمارے لئے قوت نافذہ ہے اس لئے ہم بیلٹ بکسوں کے ساتھ کھیل کرتے رہتے ہیں اور پھر… قدرت ہمارے ساتھ کھیل کرتی ہے اور جب ہم معزول ہو جاتے ہیں تو ہم اپنی آتش نوائیوں اور شعلہ بیانیوں کو اپنے لئے مرتبہ ساز مان لیتے ہیں اور اس طرح ہم بھول جاتے ہیں کہ اصل طاقت کیا ہے اور اس کا اصل سرچشمہ کیا ہے؟بہرحال بات جھڑکی سے شروع ہوئی تھی۔

یہ مالک کا حکم ہے کہ سائل کو جھڑکی نہ دو اب سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ مالک غریب کے ساتھ ہے۔ سائل کے ساتھ ہے۔ ضرورتمند کے ساتھ ہے۔ ہر وہ انسان جو ضرورتمند ہے اور ضرورت پوری کرنے کیلئے آپ کے تعاون کیلئے سوال کرتا ہے ،سائل ہے۔ سائل کی ضرورت پوری کرو یا نہ کرو ،اسے جھڑکی نہ دو۔ یہ حکم ایک بڑا راز ہے۔

کہتے ہیں اور کہنے والے چشم دید گواہ ہیں کہ ایک دفعہ ایک بہت عظیم انسان ،بہت پاکیزگی میں رہنے والا درویش اپنے معتقدین کے ساتھ نماز فجر ادا کرکے مسجد سے باہر آ رہا تھا۔آپ نے ایک خاکروب کو دیکھا جو کوڑا وغیرہ اپنے ٹوکرے میں ڈال کر اسے اٹھا کر اپنے سر پر رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وزن زیادہ تھا۔ بزرگ نے آگے بڑھ کر اپنے ہاتھوں سے ٹوکرے کو پکڑ کر اس کی مدد کی… مریدو نے تو بہت ہی شرمندگی و ندامت کا اظہار کیا اور خاکروب کو کوسنے لگے۔ کہتے تھے ”پیر صاحب! آپ ہمیں حکم فرما دیتے۔ آپ نے خود کیوں زحمت فرمائی…“بزرگ بولے ”بے قوفو… بات سمجھے نہیں ہو… یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس کو اس حال میں رکھنے والے نے ہمیں اس حال میں رکھا ہوا ہے۔

وہ ضرورتمند تھا ہم نے ضرورت پوری کی۔ اللہ کا شکر ہے اور تم لوگ ضرورت بھی پوری نہیں کرتے اور جھڑکی بھی دیتے ہو۔ توبہ کرو اور بے نیاز اللہ سے ڈرتے رہو… ہماری پیریاں اور فقیریاں بے کار ہیں اگر محروم اور محتاج کے کام نہ آئیں…“

بات یہ کھلی کہ ہم لوگ اسی سائل کو جھڑکی دیتے ہیں جسے ہم کچھ نہیں دیتے۔ ایک تو اس کی مدد نہیں کرتے ،دوسرے اس کی تذلیل کرتے ہیں اور تیسرے اس غرور کا اظہار کرتے ہیں جو ہمیں اپنے مرتبے پر ہے۔

خاک ہو جائے وہ مرتبہ جو دوسروں کیلئے مفید نہ ہو… افسوس ہے اس علم پر جو دوسروں کے کام نہ آئے اور پناہ مانگو اس علم سے جو اپنے بھی کام نہ آئے… وہ دولت جو غریب کو جھڑکی دینے کا ذریعہ بنتی ہے ،ایک عذاب ہے… لعنت ہے وہ طاقت جو کمزور کی حفاظت نہیں کرتی بلکہ اسے ڈراتی ہے۔ جہنم کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔

سائل بڑے راز کی بات ہے… وہ بظاہر کچھ مانگنے کیلئے آتا ہے لیکن دراصل وہ کچھ دینے کیلئے آتا ہے… ہم پہچان نہیں سکتے۔

ہم غافل ہوتے ہیں… مغرور ہوتے ہیں… اس لئے اس پیغام سے محروم رہتے ہیں جو صرف سائل کے ذریعہ ہم تک پہنچتا ہے۔

ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک سائل ہمیں ملا… یہ ان دنوں کی بات ہے جب ڈیپریشن سے ہماری نئی نئی آشنائی ہو رہی تھی… ہم ایک شام ،ایک اداس شام ،ایک باغ میں تنہا غور کر رہے تھے… سورج ڈوب چکا تھا اور ڈوبنے والا اپنے بعد فضا میں ایک گہری سرخی چھوڑ چکا تھا… اتنے میں ایک سائل میری طرف آتا ہوا دکھائی دیا… میں اسے دیکھے بغیر ہی اسے ناپسند کرنے لگا… وہ اس بات سے بے نیاز کہ میں اس کی طرف متوجہ نہ تھا۔

بولا ”سائل کی طرف ،آنے والے کی طرف توجہ تو کرنی چاہئے…“میں نے اس کی طرف دیکھا اور کچھ سمجھے بغیر پوچھا… ”آپ کیا چاہتے ہو…“وہ بولا ”ہمارا تو وہی سوال ہے پرانا… کچھ مدد کرو۔“میں اس کی شخصیت اور اس کے انداز گفتگو کے اثر میں آتا چلا گیا… میں نے اس کی مقناطیسی شخصیت کے رعب میں آکر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور بڑی احتیاط سے ایک پانچ روپے کا نوٹ نکالا اور اس سے کہا ”بابا جی قبول فرماؤ…؟“بابا مسکرایا اور بولا ”بیٹا! اسے تو میں قبول کرتا ہوں لیکن میری بات غور سے سنو… میں بھیجا گیا ہوں تمہیں یہ بتانے کیلئے کہ تم جس کو پریشانی سمجھ رہے ہو ،یہ تو ایک اچھے دور کا آغاز ہے… جب یوسف علیہ السلام کنویں میں گرائے گئے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ نئے سفر کا آغاز ہے… پیغمبری کا سفر ،بادشاہت کا سفر… جہاں ایک دور ختم ہوتا ہے وہیں سے دوسرے دور کا آغاز ہوتا ہے۔

کبھی مایوس نہ ہونا… اور سائل کو کبھی جھڑکی نہ دینا۔ سائل محسن بھی ہوتا ہے ،معلم بھی…“

بابا بولتا جا رہا تھا اور لفظوں کے چراغ من میں اجالا پیدا کر رہے تھے… میرے بارے میں کچھ باتیں ایسی فرما رہے تھے جو صرف میں ہی جانتا تھا… میں چاہتا تھا کہ وہ یونہی بولتے چلے جائیں۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈاءجسٹ اپریل 2026