حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا ایک گنہگار شخص، جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آ گئی! 🥹🤲
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک ایسا شخص تھا جو بہت گناہ گار سمجھا جاتا تھا۔ اس کے گناہوں سے تنگ آ کر لوگوں نے اسے اپنے شہر سے نکال دیا۔ وہ بے یار و مددگار ایک ویرانے میں زندگی گزارنے لگا، جہاں اس کا کوئی اپنا نہ تھا۔
پھر ایک دن اس کی زندگی کی آخری گھڑی آ پہنچی اور اس نے اسی ویرانے میں دم توڑ دیا۔
روایت کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی:
’’اے موسیٰ! فلاں مقام پر ہمارے ایک ولی کا انتقال ہو گیا ہے۔ تم وہاں جاؤ، اسے غسل و کفن دو، اس کی نمازِ جنازہ پڑھو اور بنی اسرائیل میں اعلان کر دو کہ جو لوگ اس کے جنازے میں شریک ہوں گے، میں ان کی مغفرت فرما دوں گا۔‘‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل میں اعلان کر دیا۔ یہ اعلان سنتے ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی۔
جب لوگ اس شخص کی میت کے قریب پہنچے تو اسے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ وہ حیران ہو کر کہنے لگے:
’’اے موسیٰ علیہ السلام! یہ تو وہی شخص ہے جسے ہم نے اس کے گناہوں کی وجہ سے اپنے شہر سے نکال دیا تھا۔ یہ بھلا اللہ کا ولی کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اس معاملے پر متعجب ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:
’’اے میرے پروردگار! اس معاملے کی حقیقت کیا ہے؟‘‘
اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی:
’’اے موسیٰ! یہ بات درست ہے کہ وہ گناہ گار تھا، لیکن جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے دائیں بائیں دیکھا۔ وہاں نہ کوئی دوست تھا، نہ کوئی رشتہ دار اور نہ ہی کوئی اس کا پرسانِ حال تھا۔ وہ خود کو اس دنیا میں بالکل تنہا محسوس کرنے لگا۔
پھر اس نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور انتہائی عاجزی کے ساتھ اپنے رب کو پکارا:
’’اے میرے رب! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مجھے عذاب دینے سے تیری بادشاہت میں اضافہ ہوتا ہے اور مجھے معاف کر دینے سے تیری بادشاہت میں کوئی کمی آتی ہے، تو میں تجھ سے مغفرت کی درخواست نہ کرتا۔‘‘
’’اے میرے پروردگار! میں نے تیرے نازل کردہ کلام میں سنا ہے کہ تو غفور و رحیم ہے، پس میری امید کو ناکام نہ کرنا۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اے موسیٰ! کیا یہ میرے شایانِ شان تھا کہ میں اپنے اس بے سہارا بندے کو اپنی رحمت سے محروم کر دیتا، جبکہ وہ مجھ ہی سے امید لگائے بیٹھا تھا اور میرے سامنے گڑگڑا کر معافی مانگ رہا تھا؟‘‘
📖 (التوابین: 82 — منسوب روایت)
🌹 حاصلِ کلام
اس واقعے میں ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے: انسان چاہے کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو جائے، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
دنیا کے لوگ کسی انسان کو اس کے ماضی کی وجہ سے دھتکار سکتے ہیں، اس سے نفرت کر سکتے ہیں اور اسے تنہا چھوڑ سکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ سچی توبہ کرنے والوں کے لیے کھلا ہے۔
یاد رکھیے! گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
بس شرط یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں پر نادم ہو، سچے دل سے توبہ کرے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رحمت سے امید نہ توڑے۔
کبھی کسی گناہ گار کو حقیر نہ سمجھیں، کیونکہ ہمیں کسی کے دل کی کیفیت اور اس کے رب کے ساتھ تعلق کا پورا علم نہیں ہوتا۔ ممکن ہے جسے دنیا گناہ گار سمجھ کر ٹھکرا دے، وہ سچی توبہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بن جائے۔
اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہماری توبہ قبول فرما اور ہمیں اپنی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے دے۔ آمین یا رب العالمین! 🤲❤️