داستان طارق بن زیاد اور فتح اندلس

داستان طارق بن زیاد اور فتح اندلس قسط 2

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)سمندر کا پراسرار سفر، خواب میں رسول اللہ کی زیارت اور کشتیاں جلانے کا تاریخ ساز فیصلہ

🚢 بحر اوقیانوس کی لہریں اور سات ہزار سرفروشوں کا سفر

سبتہ کے عیسائی گورنر کاؤنٹ جولین نے اپنے انتقام کی آگ کو بجھانے کے لیے مسلمانوں کو بحری جہاز اور کشتیاں فراہم کر دی تھیں۔ طارق بن زیاد نے اپنے ساتھ سات ہزار ایسے جانثاروں کا انتخاب کیا جن میں زیادہ تر ان کے اپنے قبیلے کے مقامی بربر جنگجو شامل تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ان کے سینوں میں اسلام کی محبت اور شہادت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ رات کے اندھیرے میں یہ سات ہزار کا مختصر سا لشکر ان کشتیوں میں سوار ہوا اور بحر اوقیانوس کی بپھری ہوئی لہروں کو چیرتا ہوا اندلس کے ساحلوں کی طرف روانہ ہو گیا۔

سمندر کا یہ سفر انتہائی خوفناک اور پراسرار تھا۔ لہریں کشتیوں سے ٹکرا رہی تھیں اور گھپ اندھیرے میں منزل کا کوئی نشان نظر نہیں آ رہا تھا۔ مجاہدین ساری رات اللہ کا ذکر کرتے رہے اور قرآن کی تلاوت سے سمندر کی خاموشی کو توڑتے رہے۔ یہ ایک ایسا سفر تھا جس میں واپسی کی کوئی امید نہیں تھی، کیونکہ اس پار موت اور تلواریں ان کا انتظار کر رہی تھیں۔

🌙 سمندر کے بیچوں بیچ ایک عجیب خواب اور فتح کی بشارت

اس طویل اور تھکا دینے والے سفر کے دوران، جب سمندر کی لہروں نے کشتیوں کو جھولا جھلایا، تو طارق بن زیاد کی آنکھ لگ گئی۔ اور اسی نیند میں قدرت نے انہیں ایک ایسا حیرت انگیز اور ایمان افروز خواب دکھایا جس نے ان کے دل سے ہر قسم کا خوف نکال دیا۔

تاریخ کی مستند کتابیں بتاتی ہیں کہ طارق بن زیاد نے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے ہیں، اور ان کے ہمراہ مہاجرین اور انصار صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت ہے جنہوں نے اپنی تلواریں نکالی ہوئی ہیں اور کمانوں پر تیر چڑھائے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے طارق بن زیاد کی طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا، اے طارق، اپنے اس سفر کو جاری رکھ اور اپنی منزل کی طرف آگے بڑھ۔ اس کے بعد طارق نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے صحابہ طارق سے پہلے ہی آگے بڑھ کر اندلس کی سرزمین میں داخل ہو گئے ہیں۔

جب طارق بن زیاد کی آنکھ کھلی تو ان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ انہیں مکمل یقین ہو گیا تھا کہ اب دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خود انہیں فتح کی بشارت دے دی ہے۔ انہوں نے یہ خواب اپنے ساتھیوں کو سنایا تو سات ہزار مجاہدین کے لشکر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ان کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے۔

🦅 جبل طارق پر قدم اور روڈرک کے خیموں میں کھلبلی

کئی دن کے کٹھن سفر کے بعد آخر کار مجاہدین کی کشتیاں اندلس کے ساحل پر ایک بہت بڑے اور اونچے پہاڑ کے قریب جا لگیں۔ طارق بن زیاد نے سب سے پہلے اس پہاڑ پر قدم رکھا۔ یہ پہاڑ تاریخ میں اتنا مشہور ہوا کہ آج تک اسے جبل طارق یعنی جبرالٹر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ساحل پر موجود روڈرک کے پہرے داروں نے جب ان بپھرے ہوئے عربوں اور بربروں کو سمندر سے نکلتے دیکھا تو وہ خوف سے کانپ اٹھے۔ وہ فورا گھوڑے دوڑاتے ہوئے دارالحکومت طلیطلہ پہنچے اور اپنے ظالم بادشاہ روڈرک کو خبر دی کہ جنوب کی طرف سے ایک ایسی عجیب و غریب قوم سمندر پار کر کے آ گئی ہے جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ آسمان سے اترے ہیں یا زمین سے نکلے ہیں۔

روڈرک اس وقت شمالی اندلس میں ایک چھوٹی سی بغاوت کچلنے میں مصروف تھا۔ جب اس نے یہ خبر سنی تو اس کا غرور جاگ اٹھا۔ اس نے گرج کر کہا کہ ان مٹھی بھر بھوکوں اور بدوؤں کی یہ جرات کہ وہ میری سلطنت میں گھس آئیں۔ اس نے فورا اپنے جرنیلوں کو حکم دیا کہ اندلس کے کونے کونے سے فوج اکٹھی کی جائے اور ایک لاکھ کا ایسا دیو ہیکل لشکر تیار کیا جائے جو ان عربوں کو کاٹ کر سمندر میں پھینک دے۔

🔥 کشتیاں جلانے کا فیصلہ اور موت کے منہ میں چھلانگ

ادھر جبل طارق کے ساحل پر ایک انتہائی نازک صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ طارق بن زیاد کے جاسوسوں نے خبر دی کہ روڈرک ایک لاکھ کا خوفناک لشکر لے کر ان کی طرف آ رہا ہے جس میں زرہ بکتر میں سجے ہوئے گھڑ سوار اور ہاتھیوں جیسے ڈیل ڈول والے جنگجو شامل ہیں۔ سات ہزار مجاہدین کے سامنے ایک لاکھ کا لشکر ایک ایسا تصور تھا جس نے کچھ مجاہدین کے دلوں میں گھبراہٹ پیدا کر دی۔ بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر ہم ہارنے لگے تو ان کشتیوں میں بیٹھ کر واپس افریقہ بھاگ جائیں گے کیونکہ مقابلہ بہت غیر مساوی ہے۔

طارق بن زیاد جو ایک انتہائی زیرک اور نفسیات کے ماہر سالار تھے، انہوں نے اپنے فوجیوں کی آنکھوں میں یہ پسپائی کا خیال پڑھ لیا۔ انہوں نے فورا ایک ایسا لرزہ خیز اور تاریخ ساز فیصلہ کیا جس پر آج بھی دنیا کے بڑے بڑے ملٹری کمانڈرز حیران ہیں۔ انہوں نے چند ساتھیوں کو بلایا اور حکم دیا کہ جاؤ اور ساحل پر کھڑی ہماری تمام کشتیوں کو آگ لگا دو۔

حکم کی تعمیل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تمام کشتیاں جن پر سوار ہو کر یہ مجاہدین آئے تھے، شعلوں کی لپیٹ میں آ گئیں۔ آگ کے ان بھڑکتے ہوئے شعلوں اور دھوئیں کو دیکھ کر مجاہدین حیرت اور صدمے سے طارق بن زیاد کی طرف بھاگے اور پوچھا کہ اے سالار یہ آپ نے کیا کر دیا؟ اب اگر ہمیں واپس جانا پڑا تو ہم کیا کریں گے؟ ہمارے پاس تو فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا۔

🗣️ طارق کا وہ لافانی خطبہ جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا

اس وقت طارق بن زیاد ایک اونچی چٹان پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے مجاہدین کے سامنے وہ لافانی اور سنسنی خیز خطبہ دیا جس کے الفاظ آج بھی اندلس کی ہواؤں میں گونجتے ہیں۔ انہوں نے اپنی میان سے تلوار نکالی اور انتہائی گرجدار آواز میں فرمایا

اے لوگو، اب بھاگنے کا راستہ کہاں ہے؟ تمہارے پیچھے سمندر کی بپھری ہوئی لہریں ہیں اور تمہارے سامنے دشمن کا سمندر ہے۔ خدا کی قسم اب تمہارے پاس سچائی، صبر اور اپنی تلواروں کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ یاد رکھو، تم اس ملک میں ان یتیموں سے بھی زیادہ بے آسرا ہو جو کسی کنجوس کے دسترخوان پر بیٹھے ہوں۔ دشمن اپنے جدید ہتھیاروں اور لاکھوں کے لشکر کے ساتھ تمہاری طرف بڑھ رہا ہے، اور تمہارے پاس صرف وہی ہتھیار ہیں جو تمہارے ہاتھوں میں ہیں، اور تمہاری خوراک صرف وہ ہے جو تم دشمن سے چھینو گے۔

اے مجاہدین، میں نے تمہیں کسی ایسے خطرے میں نہیں ڈالا جس میں میں خود شامل نہ ہوں۔ جب دونوں لشکر ٹکرائیں گے تو میں سب سے آگے ہوں گا اور میری تلوار سب سے پہلے روڈرک کے گلے تک پہنچے گی۔ اگر میں مارا جاؤں تو ہمت مت ہارنا، میرا مقصد پورا کر کے اس ظالم بادشاہ کو جہنم واصل کرنا۔

اس ایک خطبے نے مجاہدین کے دلوں میں لگی ہوئی خوف کی راکھ کو اڑا دیا اور وہاں شہادت کا وہ شعلہ بھڑکا دیا جس کی حرارت سے روڈرک کے محلات پگھلنے والے تھے۔ مجاہدین نے اپنی تلواریں فضا میں بلند کیں اور موت سے لڑنے کی قسم کھا لی۔

💡 اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے

پہلا سبق واپسی کے راستے ختم کرنا

کشتیوں کو جلانا ہمیں یہ عظیم سبق دیتا ہے کہ جب انسان کوئی بڑا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے پیچھے ہٹنے کے تمام راستے ختم کرنے پڑتے ہیں۔ جب انسان کو یقین ہو جائے کہ اب صرف آگے بڑھنا ہی زندگی ہے اور پیچھے مڑنے میں موت ہے، تو اس کے اندر وہ طاقت پیدا ہوتی ہے جو دنیا کی ہر رکاوٹ کو توڑ دیتی ہے۔

دوسرا سبق لیڈر کی فرنٹ لائن پر موجودگی

طارق بن زیاد نے یہ نہیں کہا کہ تم جا کر لڑو، بلکہ فرمایا کہ میری تلوار سب سے پہلے اٹھے گی اور میں روڈرک کو خود ماروں گا۔ ایک سچا لیڈر خطروں میں اپنی قوم کو آگے نہیں کرتا بلکہ خود سینہ تان کر سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے۔

تیسرا سبق سچے خوابوں پر یقین اور توکل

خواب میں رسول اللہ کی زیارت نے طارق کے توکل کو چٹان بنا دیا۔ جب انسان سچے دل سے اللہ کے راستے پر نکلتا ہے، تو اللہ تعالی غیب سے اس کی مدد کرتا ہے اور اس کے دل کو سکون عطا فرماتا ہے۔

📌 اگلی قسط میں پڑھیے

وادی لکہ کا وہ ہولناک میدان جہاں سات ہزار مجاہدین اور ایک لاکھ کے رومی لشکر کا ٹکراؤ ہوا۔ روڈرک کا اپنے سونے اور ہاتھی دانت سے بنے ہوئے رتھ پر سوار ہو کر میدان میں آنا۔ جنگ کے دوران روڈرک کی فوج میں پڑنے والی وہ پھوٹ اور وہ سنسنی خیز لمحہ جب طارق بن زیاد نے موت کے گھیرے کو توڑتے ہوئے سیدھا روڈرک کے رتھ پر چھلانگ لگا دی۔ اندلس کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا تاریخ کا سب سے بڑا معرکہ اگلی قسط میں۔

مستند مراجع

تاریخ ابن خلدون

نفح الطیب من غصن الاندلس الرطیب