Daily Roshni News

دل میں سجی کتاب۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔  سید اسلم شاہ

دل میں سجی کتاب

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔  سید اسلم شاہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ دل میں سجی کتاب۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔  سید اسلم شاہ)ہر انسان میں ایک کتاب موجود ہے۔ ہر انسان نے اپنی کتاب خود کھولنی ہوتی ہے۔ بند حالت میں یہ صرف کتاب ہے اور کھلتے ہی یہی کتاب مبین کہلاتی ہے۔ مبین کا مطلب ہی ”واضح، ظاہر اور کھولنا” ہے۔

کتاب کا لغوی مروجہ مطلب ”جس میں لکھا جائے، صحیفہ، خط، فرض، حکم، اندازہ” ہے۔ ہر وہ چیز کتاب ہے جس میں لکھا جائے، وہ پتھر کا ٹکڑا بھی ہو سکتا ہے، درخت کا پتہ بھی ہو سکتا ہے، جانور کی کھال بھی ہو سکتی ہے، انسان کا دل بھی ہو سکتا ہے، اس کا ڈی این اے بھی ہو سکتا ہے۔ اس لفظ کے اڑوس پڑوس میں تانک جھانک کرنے سے مطلب مزید واضح ہو سکتا ہے۔

کَتٌَ کا مطلب ”چُپکے چُپکے کہنا، آہستہ آہستہ چلنا، اونٹ کا آہستہ آہستہ بڑ بڑانا، ہانڈی کا جوش مارنا، ابلنا ہے۔

کَتیٌَت ”ہانڈی ابلنے کی آواز، جوش شراب کی آواز، جوان اونٹ کی آواز۔

کَتَبَ ”لکھنا، واجب کرنا، فرض کرنا”۔

کتٌبَ، اکتٌبہ ”لکھنا، سکھانا”۔

اَکتتٌبَ ”لکھنا، املا کرنا، لکھوانا، لکھنے کو کہنا”۔

الکِتبۃ کا مطلب”کتاب کی نقل، حالت، حصہ ہے۔

کتاب کا سادہ ترین مطلب، لکھنا لکھانا، پڑھنا پڑھانا اور سکھانا” ہے۔

یک اور قدم آگے بڑھتے ہوئے اس کا ایک لفظی ترجمہ ”جاننا” بھی ہو سکتا ہے۔ فائل کھولنا کتاب پڑھنا ہے، کتاب پڑھنا ہے، کتاب پڑھنا جاننا ہے۔ جاننا ہی کتاب پڑھنا ہے، کتاب پڑھنا فائل کھولنا ہے۔

اسی لیے تو منٌور ہوتے ہی، نبوت ملتے ہی محمد المصطفٰے نے پہلا لفظ اقراء کہا۔ اقراء کا مروجہ مطلب ہی ”پڑھنا، پڑھانا” ہے۔

”جو کتاب میں سے آپ پر وحی کیا گیا ہے اسے پڑھئے۔ (العنکبوت:45)

محمد المصطفٰے نے اپنی فائل کھولی، اپنی کتاب پڑھی۔

یہ آیات کتاب حکیم کی ہیں۔ (یونس:01 – لقمٰن:02)

ہر نبی نے اپنی کتاب کھولی، کھلتے ہی وہ کتاب سے کتاب مبین بن گئی۔ انبیاء نے اپنی اپنی کتاب کا جتنا حصہ پڑھ کر سنایا وہی گیتا، تورات، انجیل اور قرآن کہلایا۔

کرشنا کے دل میں جو ہے وہ کتاب مبین ہے، کرشنا کی زبان پر جو ہے وہ گیتا ہے۔ موسٰی کے دل میں جو ہے وہ کتاب مبین ہے، موسٰی کی زبان پر جو ہے وہ تورات ہے۔ عیسٰی کے دل میں جو ہے وہ کتاب مبین ہے، عیسٰی کی زبان پر جو ہے وہ انجیل ہے۔ محمد المصطفٰے کے دل میں کتاب مبین ہے اور زبان پہ قرآن ہے۔

”بیشک یہ قرآن بڑی عزت والا ہے، جو ”کتاب” میں درج ہے، جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔” (واقعہ:77-79)

ہر نبی نے اپنے اپنے دور کی ضرورت اور اس کے سامعین کی وقت سماعت و برداشت کے مطابق اپنی اپنی کتاب سے پڑھ کر سنایا۔ مسلمانوں کے نزدیک قرآن سے مراد الحمد سے لیکر والناس تک پر مشتمل کاغز سے بنی اور گتٌے سے بندھی کتاب ہے۔ قرآن میں جب لفظ قرآن آتا ہے تو اس سے مراد یہ کاغز گتٌے والی کتاب نہیں کیونکہ محمد المصطفے جب لفظ قرآن کہہ رہے تھے اس وقت ہمارے حساب سے قرآن ابھی تک مکمل نہیں ہوا تھا۔ تو پھر قرآن میں آنے والا لفظ قرآن کتابی شکل والا قرآن کیسے ہو سکتا ہے؟ مسلمانوں کیلئے تو الحمد سے الناس تک کے تمام الفاظ کا مجموعہ قرآن ہے جبکہ محمد المصطفے کیلیے انکی زبان سے ادا ہونے والا ہر لفظ قرآن ہے۔

Loading