سوال:-اللہ تعالی کو منظور تھا تو اس کی خود کشی کامیاب ہوئی ورنہ کوشش ناکام ہو سکتی تھی۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جواب:-یہ بات تو اس طرح ہے کہ شیطان نے بغاوت کی، اللہ کو منظور تھا تو بغاوت ہوئی ہے  – فرض کریں منظور تھا، تو پھر اس کی سزا بھی منظور ہے  –  آپ نے اب خیر و شر کو نکال دیا اور صرف منشائے الہی کر دیا اور یہ کہا کہ اللہ کی منشاء ہے، اللہ کی مرضی ہے کہ اس نے جان لے لی  – اس بارے میں ایک چھوٹی سی کہانی سن لیں

کہانی یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے باغ میں گیا اور اس کا پھل کھانے لگ گیا  – مالک آیا اور پوچھا کہ کیا کر رہے ہو  –  کہتا ہے کہ اللہ کا بندہ  ،  اللہ کی زمین میں  ،  اللہ کے باغ سے  ،  اللہ کی مرضی سے آم کھا رہا ہے  –  مالک نے کہا اللہ کا دوسرا بندہ  ،  اللہ کی مرضی سے لاٹھی چلانے کا حق رکھتا ہے  – پھر اس کو مارا ________ بات اتنی سی ہے  – اللہ کی یہی بات تو آپ کو سمجھ نہیں آتی کہ جہاں اس نے حدود لگا دی ہیں ” تلک حدود اللہ فلا تقربوھا ” یہ اللہ کی حدود ہیں ان کے قریب مت جاوء  –  تو آپ میں ان حدود کے قریب جانے کا جذبہ پیدا ہو گیا  –  اگر آپ ان کے قریب جانے کے اہل نہ ہوتے تو پھر عذاب ثواب نہ ہوتا  – عذاب کس بات کا اگر وہ نااہل ہے  – کیا کبھی معصوم بچوں کے بھی گناہ ہوتے ہیں؟ ریٹائرڈ ہوں یا Superannuation میں ہوں ، مرنے کے قریب ہوں تو ان کے کیا گناہ ہوں گے  – گناہ تو عمر کا نام ہے اور اسی پہ اس نے حدود اللہ لگائیں "تلک حدود اللہ” تو یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں  – خبر دار ان کے قریب نہ جانا ” فلا تقربوھا ” مگر ساتھ ہی ان کے قریب جانے کی طاقت دے دی  – کھیل یہی ہے  –  معافی تو ہو جائے گی مگر رونق یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی حدود کے اندر رہ کر اپنی زندگی میں خوش خوش موجود رہو  –  اگر بے باک ہو جاوء گے تو اس کو کیا فرق پڑے گا  –  اللہ کو گناہ ثواب کا کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ تمہیں فرق پڑے گا یعنی جس ذات کو تم نے مانا ہے اس کی بات کو نہیں مانا  ، اب اس حوالے سے Confidence پیدا ہونا تھا وہ نہیں ہو گا  –  تو اس پر اعتماد ختم ہو جائے گا اور آپ اپنے اندر چور محسوس کرو گے کہ میں اسلام کا چور ہوں  – جو بے باک ہو کے مان گیا اور غلطی کی معافی مانگ لی تو اسے معافی مل جائے گی  –  تو اس غلطی سے آپ اپنے دین سے پیدا ہونے والے اعتماد کو کھو بیٹھیں گے  –  تو گناہ کا یہ اثر ہے _________

گفتگو 21________صفحہ نمبر 40___41___42

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ