صدائے جرس۔۔۔ تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمیؒ

صدائے جرس

تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمیؒ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ صدائے جرس۔۔۔ تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمیؒ)انسان کا کردار اس کی طرز فکر سے تعمیر ہوتا ہے۔

طرز فکر میں بچی ہے تو کر دار بھی دیجیے بن جاتا ہے۔ طرز فکر سادہ ہے تو بندے کی زندگی میں سادگی داخل ہو جاتی ہے۔ طرز فکر اگر سطحی ہے تو بندہ سطحی طریقہ پر سوچتا ہے۔ طرز فکر اگر گہری ہے تو بندہ ہر چیز کے اندر گہرائی تلاش کرنے کے لئے تفکر کرتا ہے۔ اللہ کریم نے حضرت ابراہیم کے واقعہ میں اسی طرز فکر کی نشاندہی کی ہے۔ ہزاروں لاکھوں افراد کی موجودگی میں ایک فرد واحد کی سوچ الگ ہے اور اس سوچ میں حقیقت پسندی اور گہرائی ہے۔ حضرت ابراہیم کے واقعہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک خاص طرز فکر کی اکثریت کے درمیان رہتے ہوئے بھی کسی بندے کی طرز فکر الگ ہو سکتی ہے۔

یہ حقیقت پسندانہ طرز فکر کہاں سے منتقل ہوئی۔ جو پورے ماحول میں کہیں نظر نہیں آتی….؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حقیقت پسندانہ طرز فکر انسان کے اندر موجود ہے لیکن ہر آدمی اسے استعمال نہیں کرتا۔ حضرت ابراہیمؑ سے ان بت پرستوں نے سوال کیا کہ ان خداؤں کو کس نے توڑا ….؟ حضرت ابراہیم نے جواب دیا اپنے خداؤں سے پوچھ لو۔ لوگوں کے سامنے یہ بات واضح تھی کہ بت اپنی مرضی اور منشاء استعمال نہیں کر سکتے اور انہیں توڑا جاسکتا ہے لیکن ان کے اندر پھر بھی حقیقت پسندی نے حرکت نہیں کی۔ روحانی راستے کے مسافر کی طرز فکر میں تبدیلی اس طرح واقع ہوتی ہے کہ روحانی استاد یا پیر ومر شد بتدریج اپنے شاگرد سے اس قسم کی باتیں کرتا ہے جو اس کے ماحول میں موجود نہیں ہو تیں یا ماحول میں رہنے والے لوگ اس طرف توجہ نہیں دیتے۔ شیخ طریقت مرید کے اندر اس بات کو راسخ کر دیتا ہے کہ جو چیز مفروضہ ہے اس کو حقیقت نہیں کہا جاسکتا۔ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ باوجود اس کے کہ آدمی خود کو باختیار سمجھتا ہے زندگی کے شب وروز میں اس کو کہیں بھی اختیار نہیں ہے۔ پیدا اپنے اختیار سے نہیں ہوتا، پیدائش کے بعد بالکل غیر اختیاری طور پر بڑھتا ہے۔ جوانی کے بعد نہ چاہنے کے باوجود بوڑھا ہو جاتا ہے۔ دنیا کا ایک فرد واحد بھی یہ نہیں چاہتا کہ وہ مر جائے لیکن جب وہ پیدا ہوتا ہے تو مر ناضرور ہے۔ آدمی کو اس بات پر تو اختیار نہیں ہے کہ وہ ساری زندگی کھانا نہ کھائے یا ساری زندگی پانی نہ پئے یا ہفتوں مہینوں بیدار ر ہے۔

یہ تمام باتیں ایسی ہیں جو ہر لمحے آدمی کے ساتھ چپکی رہتی ہیں۔ لمحات، گھنٹے ، دن، مہینے اور سال یہ تغیر ایک ایسا تغیر ہے جسے کوئی باہوش آدمی انکار نہیں کر سکتا۔ ان تمام تغیرات کی نشاندہی کر کے شیخ بتاتا ہے کہ اس تغیر کے پیچھے یہ حقیقت چھپی ہوئی ہے کہ کوئی ذات ایسی ہے جس کے ہاتھ میں اس تغیر و تبدل کی ڈوریاں ہیں اور وہ ہاتھ ان ڈوریوں کو جس طرح حرکت دیتا ہے زندگی میں تغیر واقع ہوتا ہے۔ سالک جب دن رات ایسے مشاہدات سے گزرتا ہے جن کے اوپر معاشرے نے یا غیر روحانی آدمیوں نے پردہ ڈالا ہوا ہے تو اس کا ذہن خود بخود اس مطلق ہستی کی طرف رجوع ہو جاتا ہے جس ہستی نے تغیر و تبدل کی ڈوریاں سنبھالی ہوئی ہیں۔ طرز فکر کے اس پیج کو پروان چڑھانے کیلئے شیخ مزید کوشش اور جد وجہد کرتا ہے وہ ایسے برگزیدہ بندوں کو سامنے لاتا ہے جن کی طرز فکر میں حقیقت پسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مسلسل اور متواتر مشاہدے کے بعد طرزِ فکر تبدیل ہو جانے والے بندے یا مرید کا رخ اولیاء اللہ اور پیغمبروں کی طرف مڑ جاتا ہے، اس کی طرز فکر پر ایسار نگ چڑھنے لگتا ہے جو رنگ اولیاء اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ رنگ دراصل طرز فکر ہیں عینک کے اندر جس قسم کی طرز فکر کا گلاس فٹ کر دیا جاتا ہے وہی طرز فکر کام کرتی ہے۔ عینک کے اندر شیشہ اتنا صاف شفاف ہوتا ہے کہ آدمی میلوں دور کی چیزیں دیکھ سکتا اس کے بر عکس عینک میں لگا ہوا گلاس اتنا اندھا بھی ہوتا ہے کہ عینک لگانے کے بعد آدمی کو اتنا بھی نظر نہیں آتا جتنا کہ عینک لگائے بغیر نظر آتا ہے۔ دیکھنا، چیزوں کی ماہیت معلوم کرنا، تفکر کرنا ہر آدمی کے اندر موجود ہے بات صرف اتنی ہے کہ ہمیں ان صلاحیتوں کا استعمال نہیں آتا۔ مرشد چونکہ تفکر کی صلاحیتوں کے استعمال کو جانتا ہے اور اس کی زندگی تفکر سے تعمیر ہوئی ہے اس لئے مرید کے اندر جب مرشد کی صلاحیت منتقل ہوتی ہے تو تفکر کا بویا ہوا بیچ آہستہ آہستہ تناور درخت بن جاتا ہے اس پیج کو تناور درخت بننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ آدمی کا اپنا ذاتی ارادہ اور عقل ہے۔ کوئی بندہ جب اپنی ذات کو سامنے لے آتا ہے اور عقل کو وہ سب کچھ سمجھ لیتا ہے تو اسے کامیابی نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اس کے اندر جو شعور کام کرتا ہے اس کا تعلق اس طرز فکر سے ہے جس طرز فکر میں گہرائی اور حقیقت پسندی نہیں ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر 2026 ء