ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آج ہم ان شاءاللہ ہم بات کریں گے "ظہورِ امام مہدی رضی اللہ عنہ کی”۔یہ بارہواں حصہ ہے ۔پچھلے حصے میں ہم نے "حضرت امامِ مہدی کا تعارف”بیان کیا تھا۔
حضرت امامِ مہدی کا ظہور اس وقت ہوگا جب مسلم اُمہ شدید ترین مسائل میں گھری ہوگی جسے آج کا دور کہا جاسکتا ہے کیونکہ آج مسلم اُمہ ہر جانب شدید ترین مسائل اور افراتفری کا شکار ہے دُنیا بھر میں ہونے والی جنگیں اور قتل عام میں تقریباً مسلمانوں کا ہی لہو بہہ رہا ہے۔
مسلم اُمہ تتر بتر ہوچکی ہے اور اس وقت یوں لگ رہا ہےکہ مسلم اُمہ بالکل لاوارث ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں جو مسلم اُمہ کو ایک بار پھر سے جوڑ کر متحد کردے۔ پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ عربوں میں اختلاف پیدا ہوجائیں گے اور قبیلوں میں بٹ جائیں گے، آج بھی کچھ حالات ایسے ہی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آرہے لیکن عرب کے مقتدر حلقوں میں اقتدار کی جنگ جاری ہے.
جس سال امام مہدی کا ظہور ہونا ہو گا، اس سال حج امیر کے بغیر ہو گا، منی میں کسی بات پر لوگوں کے درمیان جھگڑا ہو جائے گا اور بات اس قدر بڑھ جائے گی اس کا انجام قتل و غارت گری پر ہو گا، بے دریغ خون بہایا جائے گا، حجاج کرام کو لوٹا جائے گا اور جمرۂ عقبہ کے پاس خوب خونریزی ہو گی حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے اور کوئی شخص ایسا نظر نہیں آرہا ہوگا کہ اس سب کو روکے. مسلم امہ شدید تشویش میں مبتلاء ہوجائے گی۔
اسی دوران پوری دنیا کے مسلم ممالک میں سے اپنے وقت کے سات بڑے بڑے علماء بغیر کسی سابقہ تیاری کے ہنگامی طور پر مکہ مکرمہ آ پہنچیں گے ان علماء کے ہاتھوں پر بھی لوگوں نے بیعت کر رکھی ہوگی اوریہ حضرت امامِ مہدی سے اچھی طرح واقف ہونگے. جب یہ حالاتِ دیکھیں گے تو انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ یہ حالات امام مہدی کے ظہور کے ہیں اور اسی امید پر وہ امام مہدی کو تلاش کریں گے تاکہ ان کے ہاتھ پر بیعت کریں اور فتنوں کا خاتمہ کرکے اسلام کو تقویت بخشی جائے، ظلم کی چکی میں پستے مسلمانوں کو راحت ملے اور ایک اسلامی حکومت قائم کی جائے.
جب یہ علماء کرام اکھٹے ہو کر امام مہدی کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور علامات و اوصاف سے یہ کچھ زیادہ مشکل نہ ہو گا کیونکہ اللہ پاک انہیں عام لوگوں کے سامنے ظاہر ہونے سے پہلے وہ تمام اوصاف و صلاحیتیں عطا کردیں گے جو انہیں ایک ممتاز مقام عطاء کریں گی اور وہ مسلم امُہ کو اپنی قیادت کرشرف بخشیں گے۔
خیر جب علماءِ کرام انکی صفات سے انکو تلاش کرلیں گے تو انکے پاس مکہ شریف پہنچیں گےاور ان سے تصدیق کریں گےکہ ” فلاں ابنِ فلاں ابنِ فلاں” ہیں تو حضرت امامِ مہدی فرمائیں گے کہ میں تو ایک انصاری شخص ہوں۔
(اب آگے بڑھنے سے پہلے یہاں ایک اہم بات واضح کردوں کہ ایسے کئی اللہ کی لعنت کے مستحق کذاب اور فریبی لوگ جو خود کو مہدی رضی اللہ عنہ ظاہر کریں یا کریں گے تو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ امام مہدی خود کبھی قیادت کے لیے پیش نہیں ہونگے، نہ ہی لوگوں میں اپنا چرچا کریں گے کہ میں حضرت امام مہدی ہوں بلکہ لوگوں کی جانب سے خود حضرت امامِ مہدی کو تلاش کیا جائے گا.)
امام مہدی وہاں سے چلے جائیں گےاور مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ پہنچیں گے. جب علماء کرام مدینہ پاک میں جا کر ان سے ملیں گے تو آپ تررد فرماتے ہوئے اور قیادت سے بچنے کی غرض سے واپس چھپ کر مکہ آجائیں گے اور علماء کرام آپکے پیچھے پھر مکہ مکرمہ لوٹ آئیں گے۔
جب یہ علماء تو ان سے اپنی بیعت کی درخواست کریں گے، امام مہدی پہلے تو تردد کا اظہار کریں گے اور اس ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کریں گے لیکن علماء کرام انتہائی بے چینی کی کیفیت میں بدستور امامِ مہدی کے تعاقب میں رہیں گے۔ بالاخر علماء کرام امام مہدی کو حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان پائیں گے تو آپ اپنا چہرہ مبارک کعبتہ اللہ کی دیوار مبارک سے رگڑ کر روتے ہوئے امتِ مسلمہ کی حالتِ زار پر رو رو کر اللہ پاک سے دُعا کررہے ہونگے۔
علماء کرام ایک بار پھر آپکو سے قیادت کی گزارش کریں گے اور اللہ کا واسطہ دیکر امتِ مسلمہ کے حالات اور مصائب سے آگاہ کریں گے۔ اسی دن عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد بیعت ہوگی اور حضرت امامِ مہدی خطبہ ارشاد فرمائیں گے اور مسلم اُمہ کو ایک عظیم قیادت نصیب ہوگی۔ آپ کی آمد کے بعد خوشحالی خوشی کا دور ہوگا، زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔ آسمان اپنی ساری رحمتیں اور بارش برسا دے گا، زمین اپنے خزانوں اور ہریالی کا منہ کھول دے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ جب آپ کی بیعت کی شہرت ہوگی تو مدینہ منورہ کی فوجیں مکہ معظمہ مکرمہ میں جمع ہوجائیں گی، شام، عراق اور یمن کے اہل اللہ اور اَبدال سب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور بیعت کریں گے۔ ایک فوج حضرت امام مہدی سے لڑنے کے لئے آئے گی، جب وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جنگل میں پہنچے گی اور ایک پہاڑ کے نیچے ٹھہرے گی تو سوائے دو آدمیوں کے سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے.
امام مہدی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہٴ مبارک کی زیارت کریں گے، پھر شام روانہ ہوں گے، دمشق پہنچ کر عیسائیوں سے ایک خونریز جنگ ہوگی جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوجائیں گے، بالآخر مسلمانوں کو فتح ہوگی، امام مہدی ملک کا انتظام سنبھال کر قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے سفر کریں گے.
حوالہ جات : (المستدرک للحاکم، ج۴، ص۵۵۸)
(مسلم شریف حدیث نمبر ٧٢٤٠ تا ٧٢٤٤ ، ابن ماجہ) بخاری شریف ٣٤٤٩