ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )عین حالت طواف میں ایک حاجت مند نے اپنی حاجت امام صاحبؓ کے سامنے پیش کردی۔ایک لمحے کا تامل تو ضرور ہوا کہ اس کی حاجت پوری کروں یا پہلے طواف مکمل کروں۔مگر امامؓ کو فیصلہ کرنے میں دیر نہ ہوئی۔حاجت مند سے کہ میرے ساتھ چلو اور طواف چھوڑ دیا۔طواف میں سات چکر لگائے جاتے ہیں۔ابھی تو چار ہی چکر ہوئے تھے۔اس کا خیال نہ فرمایا اور چلے گئے۔ اس لیے کہ انھیں اس بات کا پتہ تھا کہ کسی حاجت مند کی حاجت روائی اور دردمند کی ہمدردی افضل ترین عبادت ہے۔ان کی شخصیت معمولی شخصیت تو نہ تھی۔انسان تو ا نسان مکہ کے سنگریزے بھی ان کے قدموں کی آہٹ کو پہچانتے تھے۔ان کی تربیت رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوش محبت میں ہوئی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں جوانان جنت کےسردار وں میں شمار فرمایا تھا۔اس لیے ان سے بڑھ کر کون عبادت کے حقیقی مفہوم سے آگاہ ہو سکتا تھا۔
سیدنا حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نےطواف چھوڑ دیا اور قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔حاجت مند کی حاجت پوری کی اور واپس آکر طواف کے چھوٹے ہوئے چکروں کو پورا کیا۔ ایک شخص نے سوال کر دیا:
”حضرت! آپؓ نے طواف چھوڑ دیا اور اس آدمی کے ساتھ چلے گئے۔کیا اتنی مقدس عبادت کو چھوڑکر کسی کی حاجت روائی کے لیےچلے جانا درست ہے؟“
امام حسن المجتبیٰ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ علم و بردباری سے نوازا تھا۔نہ آپؓ کی تیوری پر بل آئےنہ آپؓ نےکسی قسم کی ناراضی کا اظہار فرمایا۔فرمایا:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کے لیے جائے اور اس کی حاجت پوری ہو جائے تو جانے والے کو ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر نہیں پوری ہوتی تو بھی ایک عمرے کا ثواب ملتا ہے۔تم ہی بتاؤ کہ میں بھلا کیوں نہ جاتا۔اس صورت میں تو میں نے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب حاصل کیا اور پھر واپس آکر اپنا طواف بھی پورا کر لیا۔“
اب سائل کی سمجھ میں آ گیا کہ اسلام میں عبادت کا صحیح مفہوم کیا ہے۔