ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )عقلِ انسانی کی اصل قوت محض معلومات جمع کرنے، پیچیدہ مسائل حل کرنے یا دوسروں کو اپنی ذہانت سے مرعوب کرنے میں نہیں، بلکہ حق و باطل میں امتیاز کرنے، دلیل کو سمجھنے، نتائج کا درست اندازہ لگانے، خواہشات کو قابو میں رکھنے اور حق واضح ہو جانے کے بعد اسے قبول کرنے میں ہے۔ انسان بہت کچھ جان سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ اپنے علم کو درست طور پر استعمال بھی کر سکے۔ علم معلومات فراہم کرتا ہے، جبکہ عقل ان معلومات کے درمیان تعلق قائم کرکے انسان کو درست فہم اور متوازن فیصلے تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔
عقل کی ایک بڑی قوت یہ ہے کہ وہ ظاہر سے آگے بڑھ کر حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ کسی بات کو محض اس لیے قبول نہیں کرتی کہ اسے اکثریت مانتی ہے، کوئی بااثر شخص کہتا ہے، یا وہ انسان کی خواہشات کے موافق ہے؛ بلکہ اس کے دلائل، شواہد، سیاق و سباق اور نتائج کا جائزہ لیتی ہے۔ یہی قوت انسان کو تقلیدِ بے بصیرت، تعصب، افواہ اور جذباتی فیصلوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
قرآنِ مجید انسان کو بار بار غوروفکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
’’کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘
یہ قرآنی سوال محض ذہانت کی تعریف نہیں، بلکہ عقل کو استعمال کرنے کی دعوت ہے۔ عقل کا وجود ایک نعمت ہے، لیکن اس نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانا ایک ذمہ داری ہے۔ اگر انسان کے پاس حق کو پہچاننے کے ذرائع موجود ہوں، مگر وہ تعصب، تکبر یا خواہش کی وجہ سے ان سے منہ موڑ لے، تو مسئلہ عقل کی کمی سے بڑھ کر عقل کے درست استعمال سے محرومی کا بن جاتا ہے۔
عقل کی قوت کا ایک اہم مظہر اپنی غلطی تسلیم کرنا ہے۔ کمزور ذہن اپنی رائے کو اپنی عزت سمجھ کر اس کا دفاع کرتا رہتا ہے، خواہ دلائل اس کے خلاف ہو جائیں؛ لیکن پختہ عقل رائے اور حقیقت میں فرق کرتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اپنی رائے بدل لینا ہمیشہ شکست نہیں ہوتا؛ کبھی یہی تبدیلی شعور کی ترقی اور حق کی طرف پیش قدمی ہوتی ہے۔
اسی طرح عقل کی قوت صرف دوسروں کے دلائل کا تجزیہ کرنے میں نہیں، اپنے نفس کا محاسبہ کرنے میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ دوسروں کی غلطیاں دیکھ لینا آسان ہے، لیکن اپنے تعصبات، مفادات اور خواہشات کو پہچاننا زیادہ مشکل ہے۔ جو عقل اپنے حامل ہی کو سوال کے دائرے میں نہیں لاتی، وہ دوسروں پر تنقید کرنے میں تو تیز ہو سکتی ہے، مگر خود احتسابی میں کمزور رہتی ہے۔
اسلامی تصور میں عقل نہ تو وحی کی حریف ہے اور نہ انسانی خواہشات کی غلام۔ عقل صحیح طور پر استعمال ہو تو انسان کو حق سمجھنے، دلائل پر غور کرنے اور وحی کی ہدایت سے فائدہ اٹھانے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم عقل کی اپنی حدود بھی ہیں؛ وہ ہر غیبی حقیقت کو مستقل طور پر دریافت نہیں کر سکتی، اس لیے جہاں اللہ تعالیٰ کی صحیح اور ثابت شدہ وحی رہنمائی فراہم کرتی ہے، وہاں انسانی قیاس اور محدود تجربے کو وحی پر حاکم نہیں بنایا جا سکتا۔
حقیقی عقل مند وہ نہیں جو ہر بحث جیت لے، بلکہ وہ ہے جو حق کو پہچان سکے؛ جو ہر سوال کا جواب دینے کے بجائے اپنی لاعلمی کو بھی پہچانے؛ جو جذبات کی شدت میں انصاف نہ کھوئے؛ جو اختلاف میں دلیل کا دامن نہ چھوڑے؛ اور جو اپنی ذہانت کو دوسروں کی تحقیر کے بجائے حقیقت کی تلاش اور خیر کے حصول میں استعمال کرے۔
یاد رکھیے! عقل کی سب سے بڑی قوت یہ نہیں کہ انسان ہر بات کا جواب دے سکے، بلکہ یہ ہے کہ وہ صحیح سوال اٹھائے، معتبر دلیل پہچانے، اپنی غلطی تسلیم کرے اور حق سامنے آنے پر اس کے سامنے جھک جائے۔
یہی عقل کی قوت ہے: معلومات سے فہم تک، فہم سے بصیرت تک، اور بصیرت سے درست عمل تک کا سفر۔