علم اور اخلاق

علم اور اخلاق

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )علم انسان کی فکری صلاحیت کو وسعت دیتا ہے، جبکہ اخلاق اس صلاحیت کے استعمال کو انسانی وقار اور ذمہ داری کے تابع رکھتے ہیں۔ علم بتاتا ہے کہ انسان کیا جانتا ہے؛ اخلاق ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے علم کے ساتھ دوسروں کے حقوق، عزت اور احساسات کا معاملہ کیسے کرتا ہے۔

قرآن مجید علم اور اخلاقی ذمہ داری کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾ (البقرۃ: 83) — لوگوں سے اچھی بات کہو۔ یہ ہدایت صرف عام گفتگو تک محدود نہیں؛ علمی اختلاف، تنقید، تعلیم اور دعوت میں بھی اس کا تقاضا ہے کہ حق بیان کرتے ہوئے زبان کو تہذیب اور رویے کو انصاف کا پابند رکھا جائے۔

علم کے بغیر اخلاق بعض اوقات درست اصولوں کو پہچاننے میں کمزور رہ سکتا ہے، اور اخلاق کے بغیر علم اپنی قوت کو غلط سمت میں استعمال کر سکتا ہے۔ ایک شخص دلیل جانتا ہو مگر گفتگو میں تحقیر کرے، قانون سمجھتا ہو مگر دوسروں کے حقوق پامال کرے، یا دین کا علم رکھتا ہو مگر اختلاف میں انصاف چھوڑ دے تو اس کی علمی قابلیت اس کے اخلاقی رویے کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ» — میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔ (الأدب المفرد، امام بخاری؛ مسند أحمد، روایت کے الفاظ اور طرق میں فرق ہے۔)

اخلاق کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اختلاف سے گریز کرے یا غلط بات پر خاموش رہے۔ وہ دلیل کے ساتھ تنقید کر سکتا ہے، ظلم کی نشاندہی کر سکتا ہے اور غلط نظریے کی تردید بھی کر سکتا ہے؛ مگر اسے سچائی کے ساتھ عدل، اختلاف کے ساتھ احترام اور اصلاح کے ساتھ خیر خواہی کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ حق بات کہنا علمی ذمہ داری ہے، اور اسے انصاف کے ساتھ کہنا اخلاقی ذمہ داری۔

علم جب اخلاق سے جڑتا ہے تو قابلیت خدمت بن جاتی ہے، اختلاف مکالمہ بن جاتا ہے اور تنقید اصلاح کا راستہ کھولتی ہے۔ لیکن جب اخلاق سے تعلق کمزور پڑ جائے تو یہی علم تحقیر، فریب اور غلبے کا ہتھیار بھی بن سکتا ہے۔

لہٰذا علم کی کامیابی صرف ذہن کی وسعت میں نہیں، کردار کی بہتری میں بھی دیکھی جانی چاہیے۔ حقیقی صاحبِ علم وہ نہیں جو صرف دوسروں کی غلطیاں پہچان لے، بلکہ وہ بھی ہے جو اپنے علم کی روشنی میں اپنے رویے کا محاسبہ کرے۔

علم ذہن کو روشن کرتا ہے، اخلاق اس روشنی کو انسانوں کے لیے رحمت بناتا ہے۔ اور جب اخلاق علم کی عملی صورت بننے لگے تو اگلا سوال پیدا ہوتا ہے: علم اور کردار میں کیا تعلق ہے، اور انسان کی شخصیت میں علم کی صداقت کیسے ظاہر ہوتی ہے؟