علم اور بصیرت
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )علم انسان کو حقائق سے آگاہ کرتا ہے، لیکن بصیرت اسے ان حقائق کو گہرائی، سیاق اور انجام کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ علم میں جاننا بنیادی ہے، جبکہ بصیرت میں جاننے کے ساتھ صحیح پہچان اور درست تشخیص شامل ہوتی ہے۔
ایک شخص جانتا ہے کہ کسی انسان نے غلطی کی ہے؛ یہ علم ہے۔ لیکن وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ غلطی کیوں ہوئی، اس کے پیچھے کون سے حالات تھے، اس کا اصل مسئلہ کیا ہے اور اصلاح کا مؤثر راستہ کون سا ہو سکتا ہے—یہ بصیرت ہے۔
قرآن مجید دعوتِ حق کو بصیرت کے ساتھ وابستہ کرتا ہے:
﴿قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي﴾
“کہہ دیجیے: یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بصیرت کے ساتھ دعوت دیتا ہوں، میں بھی اور میرے پیروکار بھی۔”
(یوسف: ۱۰۸)
بصیرت کا مطلب غیب جاننا نہیں، بلکہ موجود حقائق کو سطحی تاثر کے بجائے گہری نظر سے سمجھنا ہے۔ اسی لیے بصیرت رکھنے والا شخص ہر چمکتی چیز کو قیمتی، ہر مقبول بات کو درست اور ہر ظاہری کامیابی کو حقیقی کامیابی نہیں سمجھتا۔
مثلاً شہرت بظاہر کامیابی معلوم ہو سکتی ہے، لیکن بصیرت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اس شہرت کے پیچھے کیا قیمت ادا کی گئی، اس کا انسان کے کردار پر کیا اثر پڑا اور اس کا انجام کیا ہوگا۔
اسی طرح ایک ہی واقعہ دو انسان دیکھ سکتے ہیں؛ ایک صرف واقعہ دیکھتا ہے، دوسرا اس میں سبب، سبق اور آئندہ کا امکان بھی تلاش کرتا ہے۔ فرق معلومات کا نہیں، نگاہ کی گہرائی کا ہے۔
اس لیے علم کی کثرت ہمیشہ بصیرت کی ضمانت نہیں۔ بصیرت کے لیے علم کے ساتھ غور، تجربہ، دیانتِ فکر، وحی کی رہنمائی اور خواہشات سے نسبتاً آزاد نظر بھی ضروری ہے۔
مختصر طور پر:
علم بتاتا ہے کہ کیا ہے؛
فہم اس کا مطلب سمجھتا ہے؛
حکمت اس کے مطابق عمل کا درست طریقہ دکھاتی ہے؛
اور بصیرت حقیقت کو اس کے باطن، سیاق اور انجام کے ساتھ دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔
علم انسان کی معلومات بڑھاتا ہے، جبکہ بصیرت اس کی نگاہ بدل دیتی ہے۔ اور جب نگاہ بدل جائے تو وہی دنیا، وہی واقعات اور وہی حالات ایک نئے معنی کے ساتھ دکھائی دینے لگتے ہیں۔
![]()