ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ جب مسائل بات چیت سے حل ہوسکتے ہیں تو پھر جنگ کیوں کریں، فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔
فاکس نیوز کو انٹرویو میں ر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہم نے جنگ کا انتخاب نہیں کیا۔ جنگ ہم پر مسلط کی گئی۔۔ کسی قانونی جواز یا ضابطے کے بغیر ہم پر حملہ کیا گیا۔۔ اسرائیل کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اسلام آباد مفاہمی یادداشت کے تحت آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں۔ معاہدہ انتخابات سے پہلے ہو یا بعد میں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جب مسائل بات چیت سے حل ہوسکتے ہیں تو پھر جنگ کیوں کریں۔ امریکا کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ہمیں معاشی مسائل ضرور درپیش ہیں لیکن اپنی بقا کیلے مقابلہ کریں گے۔ ہم اپنا پیسہ اپنی مرضی کے مطابق لے نہیں سکتے۔ نہ خرچ کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں۔ وہ ہم سے ہدایات نہیں لیتے۔۔ ہم اپنے یورینیم کے ذخیرے کی افزودگی کی سطح کم کرنےکیلئے تیار ہیں۔
![]()
