ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کبھی کبھی نیکی یہ نہیں ہوتی کہ ہم کسی کو اپنی ضرورت میں سے کچھ دے دیں، بلکہ نیکی کی ایک بلند صورت یہ بھی ہے کہ ہم خود محتاج ہوں اور پھر بھی دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح دے دیں۔
قرآن اس کیفیت کے لیے ایک نہایت خوبصورت لفظ استعمال کرتا ہے:
الْإِيثَارُ
یعنی اپنی ذات پر دوسرے کو ترجیح دینا۔
اللہ تعالیٰ انصارِ مدینہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے:
“اور وہ اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ خود انہیں سخت ضرورت ہی کیوں نہ ہو۔”
(الحشر: 9)
یہاں بات صرف سخاوت کی نہیں۔
اگر میرے پاس بہت کچھ ہے اور میں اس میں سے کچھ کسی کو دے دیتا ہوں، تو یہ سخاوت ہے۔
لیکن اگر میرے پاس خود بھی کم ہو، ضرورت موجود ہو، پھر بھی میں دوسرے کی ضرورت کو اپنے آرام پر ترجیح دے دوں، تو یہ ایثار ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے اندر کا “میں” کم ہونے لگتا ہے۔
آج ہماری زندگی میں مقابلہ بہت بڑھ گیا ہے۔
دوسرے کے پاس کیا ہے؟
اسے مجھ سے زیادہ کیوں ملا؟
اسے موقع کیوں ملا؟
اس کی تعریف کیوں ہوئی؟
میرا حصہ کہاں ہے؟
ایثار اس سوچ کا رخ بدل دیتا ہے۔
وہ پوچھتا ہے:
“مجھے کیا ملا؟” سے پہلے
“میں کسی کے لیے کیا بن سکتا ہوں؟”
کسی کی کامیابی دیکھ کر دل سے خوش ہونا بھی ایثار کی ایک روح رکھتا ہے۔
کسی کو آگے بڑھنے کا موقع دینا، حالانکہ ہم خود بھی آگے آ سکتے تھے۔
کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، حالانکہ ہمارے اپنے اخراجات بھی موجود ہوں۔
کسی کے لیے راستہ چھوڑ دینا، کسی کی عزت بچا لینا، کسی کی خوشی کے لیے اپنی خواہش مؤخر کر دینا۔
یہ سب ہمیں اس سوال کے سامنے کھڑا کرتے ہیں:
کیا میری نیکی صرف وہاں تک ہے جہاں میری اپنی خواہش محفوظ رہے؟
لیکن ایک بات سمجھنا ضروری ہے۔
ایثار کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے جائز حقوق ضائع کرتا رہے یا اپنے زیرِ کفالت لوگوں کی ضروریات چھوڑ دے۔
اسلام خود کو تباہ کرنے کا نام نہیں۔
ایثار وہاں خوبصورت ہے جہاں انسان اللہ کی رضا کے لیے اپنی جائز خواہش پر دوسرے کی جائز ضرورت کو ترجیح دیتا ہے۔
شاید اسی لیے ایثار انسان کے دل کو بدلتا ہے۔
کیونکہ جب انسان بار بار دوسروں کے لیے جگہ بناتا ہے تو اس کے دل میں خود پسندی کی جگہ کم ہونے لگتی ہے۔
اور پھر نیکی صرف ہاتھ سے نہیں ہوتی…
دل بھی دوسروں کے لیے کشادہ ہو جاتا ہے۔
آج اپنے آپ سے صرف ایک سوال پوچھیں:
کیا میں کسی کی بھلائی اس وقت بھی چاہ سکتا ہوں جب اس بھلائی میں میرا کوئی فائدہ نہ ہو؟
اگر جواب ہاں ہے، تو شاید آپ کے اندر ایثار کی ایک خوبصورت شمع روشن ہو رہی ہے۔
یا اللہ! ہمارے دلوں سے خود غرضی کم فرما، ہمیں دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بنا، اور ہمیں ایسا دل عطا فرما جو اپنی خواہش سے بڑھ کر تیری رضا کو ترجیح دے۔ آمین۔
اگلی قسط
جب انسان کسی کی غلطی پر بدلہ لینے کے بجائے اسے معاف کر دے، تو قرآن اس کیفیت کو کس لفظ سے بیان کرتا ہے؟
اگر یہ تحریر دل کو چھو گئی ہو تو پیج کو فالو کریں، پوسٹ کو لائک کریں، ضرور شیئر کریں اور کمنٹ میں بتائیں: آپ کے نزدیک ایثار کی سب سے خوبصورت مثال کیا ہے؟