میٹافزکس، سائنس اور قرآن: کیا؟ کیوں؟ کیسے؟ کہاں تک؟ (قسط 4: حقیقت کیا ہے؟ کلاسیکی فزکس سے کوانٹم فزکس تک کا سفر) – بلال شوکت آزاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد )جب ہم نے پچھلی قسط کے اختتام پر مادہ پرستی کے فکری زوال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر مادہ اپنی بنیادی تہہ میں ٹھوس نہیں ہے تو پھر جسے ہم ’’حقیقت‘‘ کہتے ہیں وہ آخر کیا ہے، تو دراصل ہم نے انسانی علم کے سب سے قدیم، سب سے پیچیدہ اور سب سے زیادہ بے چین کر دینے والے زخم کو چھیڑ دیا تھا۔
ذرا ایک لمحے کے لیے اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔
آپ کے ہاتھوں میں موجود یہ تحریر، جس میز پر آپ کہنیاں ٹکائے بیٹھے ہیں اس کی لکڑی کا سخت اور کھردرا پن، کھڑکی سے آتی ہوئی سورج کی سنہری دھوپ، ہوا میں تیرتی ہوئی چائے کی خوشبو، اور گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ آگے بڑھتا ہوا وقت، ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہمیں ہر لمحے یہ یقین دلاتا ہے کہ یہ سب کچھ بالکل ویسا ہی ہے جیسا ہمیں نظر آ رہا ہے اور محسوس ہو رہا ہے۔
فلسفے کی اصطلاح میں انسان کے اس فطری اور روزمرہ کے بھروسے کو ’’سادہ لوح حقیقت پسندی‘‘ (Naive Realism) کہا جاتا ہے۔
ایک عام انسان اپنی پوری زندگی اسی مفروضے پر گزار دیتا ہے کہ اس کی آنکھیں کائنات کی سچی تصویر کھینچتی ہیں، اس کے کان کائنات کی اصل آوازیں سنتے ہیں، اور اس کے ہاتھ جس چیز کو چھوتے ہیں وہ فی الواقع ایک ٹھوس، مستقل اور خود مختار وجود رکھتی ہے۔
لیکن تاریخ کا وہ لمحہ جب انسان نے پہلی بار پانی کے شفاف پیالے میں پڑی ہوئی سیدھی لکڑی کو ٹیڑھا دیکھا، اور جب اس نے پانی سے باہر نکال کر اسے ٹٹولا تو وہ سیدھی نکلی، یا جب تپتے ہوئے صحرا میں پیاس سے نڈھال مسافر نے دور چمکتے ہوئے سراب کو پانی کا دریا سمجھا اور قریب پہنچنے پر اس کے ہاتھ ریت کے سوا کچھ نہ آیا، تو انسانی شعور میں پہلی بار یہ ہولناک دراڑ پڑی کہ ’’جو دکھائی دیتا ہے‘‘ (Appearance) اور ’’جو حقیقت میں ہے‘‘ (Reality)، ان دونوں کے درمیان ایک گہری خلیج حائل ہو سکتی ہے۔
اگر ہماری آنکھ ایک پیالے کے پانی اور صحرا کی دھوپ میں دھوکہ کھا سکتی ہے، تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ پوری کائنات کا یہ عظیم الشان منظر نامہ بھی ہمارے حواس کی محدودیت کا تراشا ہوا ایک وسیع تر التباس نہ ہو؟
حقیقت کی ماہیت یعنی وجودیات (Ontology) کا یہ سوال آج کی جدید تجربہ گاہوں میں اچانک پیدا نہیں ہوا، بلکہ اس کی جڑیں انسانی فکر کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ میں پیوست ہیں۔
قبل از سقراط یونانی فلسفے میں جب انسان نے اساطیری کہانیوں سے نکل کر کائنات کو عقل کے ترازو میں تولنا شروع کیا، تو اسے سب سے پہلے تغیر اور ثبات کے تضاد کا سامنا کرنا پڑا۔
ایفسس کے فلسفی ہرقلیطس (Heraclitus، تقریباً 535 تا 475 قبل مسیح) نے دنیا کو دیکھا تو پکار اٹھا کہ یہاں کسی شے کو ثبات نہیں، ہر چیز مسلسل بہہ رہی ہے اور بدل رہی ہے (Panta Rhei)؛ تم ایک ہی دریا میں دو بار قدم نہیں رکھ سکتے کیونکہ جب تم دوسری بار قدم رکھتے ہو تو نہ وہ پانی پہلے جیسا رہتا ہے اور نہ تم خود پہلے جیسے رہتے ہو۔
لیکن عین اسی دور میں ایلیا کے فلسفی پارمینائڈز (Parmenides) نے اپنی منظوم فلسفیانہ تحریر ’’آن نیچر‘‘ (On Nature) میں اس کے بالکل برعکس ایک خالص عقلی استدلال پیش کیا۔
پارمینائڈز کا کہنا تھا کہ ہمارے حواس ہمیں دھوکہ دیتے ہیں؛ حقیقت (Being) ایک ہے، ازلی ہے، غیر متغیر ہے اور ناقابلِ تقسیم ہے، جبکہ حرکت، تبدیلی اور کثرت محض ہمارے حواس کا فریب ہیں۔
ان دو انتہاؤں کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لیے لیوسیپس (Leucippus) اور دیموقریطس (Democritus، تقریباً 460 تا 370 قبل مسیح) نے قدیم ایٹمزم (Atomism) کا نظریہ پیش کیا۔
دیموقریطس کا ایک تاریخی جملہ، جو بعد کے فلسفی سیکسٹس ایمپریکس (Sextus Empiricus) کی کتاب ’’ایگینسٹ دی میتھمیٹیشنز‘‘ (Against the Mathematicians، کتاب ہفتم، پیراگراف 135) میں محفوظ رہا ہے، آج کی جدید نیورو سائنس اور کوانٹم فزکس کی بحثوں سے حیرت انگیز مماثلت رکھتا ہے۔
دیموقریطس نے لکھا تھا کہ رواج اور عادت کے طور پر میٹھا ہے، رواج کے طور پر کڑوا ہے، رواج کے طور پر گرم اور ٹھنڈا ہے، اور رواج کے طور پر رنگ ہے؛ لیکن حقیقت میں صرف ایٹم اور خلا (Atoms and the Void) ہیں۔
تاہم، قدیم دنیا میں ظاہری منظر اور اصل حقیقت کے درمیان فرق کو جس شخص نے سب سے طاقتور ادبی اور فلسفیانہ استعارے میں ڈھالا، وہ افلاطون (Plato) تھا۔
افلاطون نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’جمہوریہ‘‘ (The Republic، کتاب ہفتم، 514a تا 520a) میں ’’غار کی تمثیل‘‘ (Allegory of the Cave) پیش کی۔
افلاطون نے تصور دلایا کہ کچھ قیدی بچپن سے ایک تاریک غار میں اس طرح زنجیروں سے جکڑے ہوئے ہیں کہ ان کی گردنیں اور ٹانگیں ہل نہیں سکتیں اور وہ صرف اپنے سامنے کی دیوار کو دیکھ سکتے ہیں۔
ان کی پشت کے پیچھے بلندی پر آگ جل رہی ہے، اور آگ اور قیدیوں کے درمیان ایک راستہ ہے جہاں سے کچھ لوگ مختلف اشیاء اور پتلے اٹھا کر گزرتے ہیں۔ آگ کی روشنی کی وجہ سے ان اشیاء کے سائے قیدیوں کے سامنے والی دیوار پر پڑتے ہیں، اور غار کی گونج کی وجہ سے آوازیں بھی انہیں اسی دیوار سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
افلاطون سوال اٹھاتا ہے کہ وہ قیدی، جنہوں نے زندگی بھر ان سایوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا، کیا ان سایوں ہی کو حتمی اور واحد حقیقت نہیں سمجھیں گے؟
اور اگر ان میں سے کسی ایک قیدی کی زنجیریں کھول کر اسے زبردستی غار سے باہر سورج کی اصل روشنی میں لایا جائے، تو پہلے تو تیز روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیا جائیں گی، لیکن جب اس کی بصارت سنبھلے گی تو اسے معلوم ہوگا کہ جسے وہ اور اس کے ساتھی زندگی بھر ’’حقیقت‘‘ سمجھتے رہے، وہ تو اصل اشیاء کے محض دھندلے اور بے جان سائے تھے۔
افلاطون کے نزدیک یہ مادی اور حسی دنیا غار کی دیوار پر ناچتے ہوئے سایوں کی مانند ہے، جبکہ اصل اور غیر متبدل حقیقت ’’عالمِ امثال‘‘ (World of Forms) میں ہے جس تک رسائی حواس سے نہیں بلکہ خالص عقل اور فلسفیانہ بصیرت سے ممکن ہے۔
گو کہ افلاطون کے شاگرد ارسطو نے اپنے استاد کی اس انتہائی مثالیت پسندی سے اختلاف کیا اور اپنی کتاب ’’میٹافزکس‘‘ (Metaphysics، کتاب ہفتم Zeta) میں مادے (Hyle) اور صورت (Morphe) کے ملاپ سے بننے والے ٹھوس جواہر (Substances) کو حقیقی قرار دے کر فلسفے کے قدم دوبارہ زمین پر جمائے، لیکن افلاطون کی غار کا وہ سوال صدیوں تک انسانی ذہن کا پیچھا کرتا رہا۔
جب یہ فلسفیانہ میراث اسلامی تہذیب کے سنہری دور میں داخل ہوئی، تو مسلمان متکلمین، فلاسفہ، صوفیا اور سائنس دانوں نے حقیقت کے اس معمے کو تین بالکل مختلف مگر گہرے زاویوں سے پرکھا۔
پہلا زاویہ تجرباتی سائنس اور بصریات کا تھا، جس کے امام الحسن ابن الہیثم (965ء تا 1040ء) تھے۔
ابن الہیثم سے پہلے یونانی فلاسفہ (مثلاً اقلیدس اور بطلیموس) میں یہ نظریہ عام تھا کہ ہماری آنکھوں سے روشنی کی غیر مرئی شعاعیں نکل کر اشیاء پر پڑتی ہیں اور یوں ہم انہیں دیکھتے ہیں (Extramission Theory)۔
ابن الہیثم نے اپنی سات جلدوں پر مشتمل عظیم الشان کتاب ’’کتاب المناظر‘‘ (جس کا مستند علمی ترجمہ اے آئی صبرہ نے 1989ء میں ’’دی آپٹکس آف ابن الہیثم‘‘ کے نام سے شائع کیا) میں تجربات، ریاضی اور تشریح الاعضاء (Anatomy) کی مدد سے اس قدیم مفروضے کو ہمیشہ کے لیے باطل کر دیا۔
انہوں نے ثابت کیا کہ آنکھ کوئی روشنی خارج نہیں کرتی، بلکہ باہر موجود اشیاء سے منعکس ہونے والی روشنی کی شعاعیں آنکھ کے اندر داخل ہوتی ہیں (Intromission Theory)۔
لیکن ابن الہیثم کا سب سے بڑا فلسفیانہ اور سائنسی کارنامہ ’’کتاب المناظر‘‘ کی دوسری اور تیسری جلد میں بیان کردہ ادراک کا نظریہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ محض آنکھ کے پردے پر روشنی کا پڑنا ’’دیکھنا‘‘ نہیں ہے؛ اصل بصارت دماغ کے اندر موجود ’’قوتِ ممیزہ‘‘ (Faculty of Judgment and Inference) کے ذریعے مکمل ہوتی ہے، جو آنے والے بصری اشاروں کا سابقہ یادداشت، فاصلے، زاویے اور قیاس کی مدد سے تجزیہ کر کے ذہن میں شے کی تصویر بناتی ہے۔
اسی بنیاد پر ابن الہیثم نے پوری تیسری جلد ’’اغلاط البصر‘‘ (بصارت کے مغالطے اور دھوکے) کے لیے وقف کی اور تجرباتی طور پر دکھایا کہ کس طرح انسانی ذہن روشنی، فاصلے یا حرکت کی مخصوص شرائط میں ایسی چیزیں دیکھتا ہے جو باہر اس شکل میں موجود نہیں ہوتیں۔
یہ تاریخِ سائنس میں پہلی بار اس حقیقت کا تجرباتی ثبوت تھا کہ ہم دنیا کو براہِ راست نہیں دیکھتے، بلکہ اپنے دماغ کی تشریح کے ذریعے دیکھتے ہیں۔
دوسرا زاویہ اسلامی علم الکلام، بالخصوص اشعری مکتبِ فکر (جیسے قاضی ابوبکر باقلانی، امام الحرمین جوینی، امام غزالی اور امام فخر الدین رازی) کی دقیق مابعد الطبیعیات کا تھا۔
یونانی فلاسفہ کے اس نظریے کے مقابلے میں کہ مادہ ازلی ہے اور اس کی طبعی خصوصیات اس کی ذات کا لازمی حصہ ہیں، متکلمین نے ’’جوہرِ فرد‘‘ (Atomism) اور ’’عَرَض‘‘ (Accident) کا نظریہ پیش کیا۔
ان کا استدلال یہ تھا کہ مادی کائنات ناقابلِ تقسیم ذرات (جواہر) سے بنی ہے، اور ان ذرات کی تمام خصوصیات، جیسے رنگ، حرکت، سکون، ملاپ اور دوری، محض ’’اعراض‘‘ ہیں، اور فلسفۂ کلام کا بنیادی اصول تھا کہ ’’العرض لا یبقی زمانین‘‘، یعنی کوئی بھی عرض دو لمحوں تک خود بخود باقی نہیں رہ سکتا۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ وقت بھی مسلسل نہیں بلکہ discrete لمحوں (آنات) پر مشتمل ہے، اور کائنات کا پورا مادی وجود ہر لمحے عدم سے وجود میں لایا جا رہا ہے (تجدیدِ امثال / Continuous Re-creation)۔
اگر خالق کی تخلیقی قوت ایک لمحے کے لیے بھی اپنا فیض روک لے تو پوری مادی کائنات فوراً عدم میں تحلیل ہو جائے۔
تیسرا زاویہ صوفیانہ مابعد الطبیعیات کا تھا، جس میں شیخ الاشراق شہاب الدین سہروردی (مقتول 1191ء) نے اپنی کتاب ’’حکمۃ الاشراق‘‘ میں وجود کی بنیاد مادے کے بجائے ’’نور‘‘ اور اس کے مختلف درجاتِ ظہور کو قرار دیا، جبکہ محی الدین ابن عربیؒ (متوفی 1240ء) نے ’’فصوص الحکم‘‘ اور ’’الفتوحات المکیہ‘‘ میں ’’مراتب الوجود‘‘ کا فلسفہ پیش کرتے ہوئے یہ نکتہ اٹھایا کہ مادی دنیا (عالمِ ناسوت یا عالمِ شہادت) وجود کا سب سے نچلا اور کثیف درجہ ہے، جو دراصل اعلیٰ مراتب کے اسماء و صفات کا ظہور ہے۔
یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ متکلمین کا نظریۂ جوہرِ فرد اور صوفیا کا نظریۂ مراتب الوجود تجرباتی فزکس کے فارمولے نہیں تھے بلکہ الہیاتی اور فلسفیانہ ماڈلز تھے، لیکن انہوں نے صدیوں پہلے انسانی ذہن کو یہ سوچنے کی عادت ڈالی کہ جس مادی دنیا کو ہم ٹھوس اور خود قایم سمجھتے ہیں، اس کی بنیادیں غیر مادی اور ناپائیدار ہو سکتی ہیں۔
سترہویں صدی عیسوی میں جب یورپ میں جدید سائنسی انقلاب کا آغاز ہوا، تو حقیقت کے سوال نے ایک نیا اور خالصتاً ریاضیاتی موڑ لیا۔
اطالوی سائنس دان گلیلیو گلیلی (Galileo Galilei) نے 1623ء میں شائع ہونے والی اپنی مشہور کتاب ’’دی ایسیئر‘‘ (Il Saggiatore / The Assayer) میں ایک ایسا فلسفیانہ اور سائنسی اعلان کیا جس نے جدید طبیعیات کی بنیاد رکھ دی۔
گلیلیو نے لکھا کہ کائنات کی عظیم الشان کتاب ریاضی کی زبان میں لکھی گئی ہے اور اس کے حروف مثلث، دائرے اور دیگر ہندسی شکلیں ہیں، جن کو سمجھے بغیر انسان اس کا ایک لفظ بھی نہیں پڑھ سکتا۔
اسی کتاب میں گلیلیو نے اشیاء کی صفات کو دو حصوں میں تقسیم کیا، جسے بعد میں انگریز فلسفی جان لاک (John Locke) نے اپنی کتاب ’’این ایسے کنسرننگ ہیومن انڈرسٹینڈنگ‘‘ (1689ء) میں ’’بنیادی صفات‘‘ (Primary Qualities) اور ’’ثانوی صفات‘‘ (Secondary Qualities) کا نام دیا۔
گلیلیو کا استدلال تھا کہ کسی مادی شے کی اصل اور معروضی خصوصیات صرف اس کی جسامت، شکل، تعداد، مقام اور حرکت ہیں، جن کی پیمائش کی جا سکتی ہے؛ جبکہ رنگ، ذائقہ، خوشبو، آواز اور حرارت خود اس مادی شے کے اندر موجود نہیں ہیں بلکہ یہ صرف ہمارے حسی اعضا اور ذہن کے اندر پیدا ہونے والی کیفیات ہیں۔
اگر دنیا سے تمام دیکھنے، سننے اور سونگھنے والے جاندار ختم کر دیے جائیں، تو اشیاء کی شکل اور حرکت تو باقی رہے گی، لیکن کائنات سے رنگ، آوازیں اور خوشبوئیں بالکل غائب ہو جائیں گی۔
سرخ رنگ گلاب کی پتی میں نہیں ہے؛ گلاب کی پتی پر تو صرف ایک مخصوص طولِ موج (تقریباً 650 نینو میٹر) کی برقی مقناطیسی لہر ٹکرا کر منعکس ہوتی ہے، اور جب وہ لہر ہماری آنکھ کے ریٹینا سے گزر کر دماغ کے بصری مرکز (Visual Cortex) تک پہنچتی ہے تو ہمارا دماغ اسے ’’سرخ رنگ‘‘ کے احساس میں ترجمہ کرتا ہے۔
گلیلیو اور فرانسیسی فلسفی رینے ڈیکارٹ (René Descartes) کے اس ریاضیاتی اور میکانکی وژن کو سر آئزک نیوٹن نے اپنی معرکہ آراء تصنیف ’’فلاسفی نیچرلس پرنسپیا میتھمیٹیکا‘‘ (Philosophiæ Naturalis Principia Mathematica، مطبوعہ 1687ء) میں نقطۂ کمال تک پہنچا دیا۔
نیوٹن کی کلاسیکی فزکس نے ’’حقیقت‘‘ کا جو نقشہ کھینچا، وہ اتنا واضح، سادہ اور عملی طور پر کامیاب تھا کہ اگلی دو صدیوں تک پوری سائنسی دنیا نے اسے حتمی سچائی مان لیا۔
نیوٹنی فزکس کے مطابق کائنات کی حقیقت تین ستونوں پر کھڑی تھی۔
پہلا ستون ’’مطلق خلا‘‘ (Absolute Space) اور ’’مطلق وقت‘‘ (Absolute Time) تھا۔
نیوٹن نے ’’پرنسپیا‘‘ کے آغاز میں واقع اپنے مشہور ’’اسکولیم‘‘ (Scholium) میں لکھا کہ مطلق خلا اپنی نوعیت میں کسی بھی بیرونی شے سے بے نیاز ہو کر ہمیشہ ایک جیسا اور غیر متحرک رہتا ہے، اور مطلق وقت بھی کسی بیرونی شے سے متاثر ہوئے بغیر پوری کائنات میں ایک ہی رفتار سے برابر بہتا رہتا ہے۔
گویا خلا ایک عظیم الشان، خالی اور غیر متغیر اسٹیج ہے، اور وقت ایک ایسی کائناتی گھڑی ہے جو زمین پر ہو یا کروڑوں میل دور کسی ستارے پر، ایک ہی طرح ٹک ٹک کر رہی ہے۔
دوسرا ستون ’’مادہ‘‘ تھا، جو چھوٹے، ٹھوس، ناقابلِ تسخیر اور متعین ذرات پر مشتمل تھا، جو اس اسٹیج پر بلئیرڈ کی گیندوں کی طرح حرکت کرتے تھے۔
تیسرا ستون ’’جبریت‘‘ (Determinism) اور ’’مقامی حقیقت پسندی‘‘ (Local Realism) تھی۔
نیوٹن کے قوانینِ حرکت اور کششِ ثقل کے قانون نے یہ طے کر دیا کہ ہر ذرے کی ایک متعین پوزیشن اور رفتار ہے، چاہے کوئی اسے دیکھے یا نہ دیکھے، اور ہر واقعہ اپنے سے پچھلے مادی سبب کا سو فیصد لازمی نتیجہ ہے۔
جیسا کہ ہم نے پچھلی قسط میں پیئر سائمن لاپلاس کی 1814ء کی کتاب (Essai philosophique sur les probabilités) کے حوالے سے دیکھا تھا، اس کلاسیکی ماڈل میں کائنات ایک ایسی بند مشین بن گئی جس میں نہ کسی غیر متوقع امکان کی گنجائش تھی، نہ مشاہدہ کرنے والے کے شعور کا کوئی کردار تھا، اور نہ ہی کسی غیبی مداخلت کی ضرورت۔
حقیقت وہی تھی جو ٹھوس تھی، قابلِ پیمائش تھی، اور وقت و خلا کے مطلق پنجرے میں قید تھی۔
لیکن انیسویں صدی کے وسط سے لے کر بیسویں صدی کی پہلی تین دہائیوں تک، طبیعیات کی دنیا میں یکے بعد دیگرے تین ایسے زلزلے آئے جنہوں نے نیوٹن کی اس گھڑیال نما کائنات کے پرزے بکھیر کر رکھ دیے۔
پہلی دراڑ اس وقت پڑی جب مائیکل فیراڈے (Michael Faraday) کے تجربات اور جیمز کلرک میکسویل (James Clerk Maxwell) کی 1865ء کی مساواتوں (A Dynamical Theory of the Electromagnetic Field، شائع شدہ در فلاسفیکل ٹرانزیکشنز آف دی رائل سوسائٹی) نے ’’میدان‘‘ یعنی فیلڈ (Field) کا تصور متعارف کرایا۔
اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا کہ کائنات میں صرف ٹھوس ذرات اور خالی خلا ہے، لیکن فیراڈے اور میکسویل نے ثابت کیا کہ خلا خالی نہیں ہے بلکہ اس میں برقی اور مقناطیسی قوتوں کے غیر مرئی جال یعنی فیلڈز پھیلے ہوئے ہیں، اور روشنی خود اسی برقی مقناطیسی فیلڈ کی ایک لہر ہے۔
یہاں سے طبیعیات میں مادے کی جگہ غیر مرئی فیلڈز نے لینا شروع کی۔
دوسرا بڑا زلزلہ البرٹ آئن سٹائن نے برپا کیا۔
1905ء میں اپنے ’’نظریۂ اضافیتِ خاص‘‘ (Special Theory of Relativity، شائع شدہ در Annalen der Physik) اور 1915ء میں ’’نظریۂ اضافیتِ عامہ‘‘ (General Theory of Relativity) کے ذریعے آئن سٹائن نے نیوٹن کے مطلق خلا اور مطلق وقت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔
آئن سٹائن نے ریاضیاتی طور پر ثابت کیا، اور بعد کے بے شمار تجربات مثلاً ایٹمی گھڑیوں، میون ذرات (Muons) کی عمر، اور آج کے جی پی ایس (GPS) سیٹلائٹس نے اس کی قطعی تصدیق کی، کہ کائنات میں وقت کی کوئی ایک عالمگیر گھڑی موجود نہیں ہے۔
وقت اور خلا الگ الگ چیزیں نہیں ہیں، بلکہ وہ آپس میں بنے ہوئے ایک چار ابعاد والے تانے بانے (Four-dimensional Spacetime) کا حصہ ہیں۔
آپ جتنی تیز رفتاری سے سفر کریں گے یا جتنی شدید کششِ ثقل کے میدان میں موجود ہوں گے، آپ کے لیے وقت کی رفتار اتنی ہی سست ہو جائے گی اور خلا کے فاصلے سکڑ جائیں گے۔
دو واقعات جو زمین پر کھڑے ایک شخص کے لیے ایک ہی وقت میں (Simultaneously) رونما ہو رہے ہیں، خلائی جہاز میں تیز رفتاری سے گزرتے ہوئے ایک مسافر کے لیے الگ الگ وقت میں رونما ہوں گے، اور فزکس کی رو سے ان دونوں میں سے کسی ایک کا مشاہدہ بھی دوسرے سے زیادہ ’’سچا‘‘ نہیں ہے۔
جیسا کہ آئن سٹائن کے استاد ہرمن منکوسکی (Hermann Minkowski) نے 1908ء میں کولون میں اپنے تاریخی خطبے میں کہا تھا کہ آج کے بعد خلا بجائے خود، اور وقت بجائے خود، محض سایوں میں تحلیل ہونے کے لیے مقدر ہو چکے ہیں، اور صرف ان دونوں کا ایک ملاپ ہی اپنی آزاد حقیقت برقرار رکھ سکے گا۔
آئن سٹائن نے دکھایا کہ کششِ ثقل کوئی غیبی رسی نہیں ہے جو سورج سے نکل کر زمین کو کھینچ رہی ہو، بلکہ سورج کی کمیت اپنے اردگرد کے زمان و مکان (Spacetime) کی جیومیٹری میں خم پیدا کر دیتی ہے اور زمین اس خمیدہ خلا میں گردش کر رہی ہے۔
یوں ٹھوس مادے اور قوت کی جگہ خالص ہندسہ (Geometry) نے لے لی۔
تاہم، ان تمام انقلابی نظریات کے باوجود، آئن سٹائن اپنے فلسفیانہ مزاج میں آخر دم تک ایک ’’کلاسیکی حقیقت پسند‘‘ (Classical Realist) رہا۔ اس کا پختہ ایمان تھا کہ کائنات کی ایک معروضی، متعین اور خود مختار حقیقت ہے جو انسانی مشاہدے کی محتاج نہیں، اور فزکس کے قوانین کو حتمی طور پر جبری (Deterministic) ہونا چاہیے۔
مگر تیسرا اور سب سے مہلک زلزلہ، جس سے خود آئن سٹائن بھی عمر بھر الجھتا رہا، ’’کوانٹم انقلاب‘‘ تھا۔
اس کہانی کا آغاز دسمبر 1900ء میں ہوا جب جرمن ماہرِ طبیعیات میکس پلانک نے گرم اجسام سے خارج ہونے والی تابکاری (Black-body Radiation) کے مسئلے کو حل کرتے ہوئے مجبوراً یہ ریاضیاتی مفروضہ پیش کیا کہ توانائی مسلسل (Continuous) بہاؤ کی صورت میں خارج یا جذب نہیں ہوتی، بلکہ چھوٹے چھوٹے مخصوص پیکٹوں کی صورت میں منتقل ہوتی ہے جنہیں اس نے ’’کوانٹا‘‘ (Quanta) کا نام دیا۔
1905ء میں آئن سٹائن نے ضیا برقی اثر (Photoelectric Effect) کی وضاحت کرتے ہوئے ثابت کیا کہ روشنی، جسے میکسویل ایک مسلسل لہر ثابت کر چکے تھے، دراصل توانائی کے ذرات یعنی فوٹونز (Photons) کی طرح بھی برتاؤ کرتی ہے۔
پھر 1924ء میں فرانسیسی شہزادے اور ماہرِ طبیعیات لوئی ڈی بروگلی (Louis de Broglie) نے اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں اس تصور کو الٹ دیا اور کہا کہ اگر روشنی کی لہر ذرے کی طرح برتاؤ کر سکتی ہے، تو الیکٹران جیسے مادے کے ٹھوس ذرات بھی لہر کی طرح برتاؤ کرتے ہیں، اور جلد ہی ڈیوسن اور جرمر (Davisson and Germer، 1927ء) کے تجربات نے الیکٹران کی اس موجی فطرت کو تجربہ گاہ میں ثابت کر دکھایا۔
یہاں سے کلاسیکی عقل کا بحران شروع ہوا۔
ایک چیز یا تو ٹھوس گیند (ذرہ) ہو سکتی ہے جو خلا کے کسی ایک متعین نقطے پر موجود ہو، یا پھر تالاب میں اٹھنے والی لہر ہو سکتی ہے جو ایک وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہو۔
لیکن ایک ہی شے بیک وقت ذرہ اور لہر کیسے ہو سکتی ہے؟ 1925ء اور 1926ء کے دوران ورنر ہائزنبرگ (Werner Heisenberg) نے میٹرکس میکانکس اور ارون شروڈنگر (Erwin Schrödinger) نے اپنی مشہور موجی مساوات (Schrödinger Wave Equation) پیش کی، جس کے فوراً بعد میکس بورن (Max Born) نے واضح کیا کہ شروڈنگر کی مساوات میں موجود موجی تفاعل (Wave Function، جسے یونانی حرف \Psi سے ظاہر کیا جاتا ہے) کسی مادی لہر کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ یہ ’’امکانات کی لہر‘‘ (Wave of Probabilities) ہے۔
جب تک کسی الیکٹران یا فوٹون کی پیمائش نہ کی جائے، وہ خلا کے کسی ایک متعین نقطے پر موجود نہیں ہوتا، بلکہ وہ بیک وقت کئی ممکنہ حالتوں کے مجموعے میں ہوتا ہے جسے کوانٹم فزکس میں ’’سپر پوزیشن‘‘ (Superposition) کہا جاتا ہے۔
مساوات صرف یہ بتا سکتی ہے کہ اگر آپ پیمائش کریں گے تو اس ذرے کے فلاں جگہ ملنے کا ریاضیاتی امکان (Probability) کتنے فیصد ہے، لیکن پیمائش سے پہلے اس کا کوئی متعین مقام سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا۔
1927ء میں ورنر ہائزنبرگ نے جرمن جریدے (Zeitschrift für Physik، جلد 43، صفحات 172 تا 198) میں اپنا شہرہ آفاق ’’اصولِ عدم تعین‘‘ (Uncertainty Principle) شائع کیا، جس کی ریاضیاتی صورت \Delta x \Delta p \ge \frac{\hbar}{2} ہے۔
یہاں ہمیں اپنے ’’کلیم ویریفکیشن پروٹوکول‘‘ کے تحت ایک انتہائی عام مغالطے کی تصحیح کرنی چاہیے۔
اکثر عام فہم کتابوں اور لیکچرز میں ہائزنبرگ کے اس اصول کا یہ مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ چونکہ الیکٹران بہت چھوٹا ہے، اس لیے جب ہم اسے دیکھنے کے لیے اس پر روشنی کا فوٹون مارتے ہیں تو وہ فوٹون الیکٹران کو دھکا دے کر اس کی رفتار بدل دیتا ہے؛ گویا الیکٹران کی اپنی ایک متعین پوزیشن اور رفتار موجود تو تھی، بس ہمارے آلات کی مداخلت اور کمزوری کی وجہ سے ہم اسے بیک وقت ناپ نہیں سکتے۔
یہ تشریح سائنسی طور پر غلط ہے اور کوانٹم میکانکس کی اصل روح کو مسخ کرتی ہے۔
ہائزنبرگ کا اصول ہمارے آلاتِ پیمائش کی تکنیکی کمزوری یا محض انسانی لاعلمی (Epistemological limitation) کا بیان نہیں ہے، بلکہ یہ خود فطرت کی بناوٹ (Ontological structure) کا بنیادی قانون ہے۔
کوانٹم سطح پر کسی ذرے کے پاس پیمائش سے پہلے بیک وقت متعین مقام اور متعین معیارِ حرکت (Momentum) کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ جیسے ہی آپ اس کے مقام کا تعین کرتے ہیں، اس کی رفتار کا وجود ریاضیاتی اور طبعی طور پر غیر متعین ہو جاتا ہے۔
اس مقام پر ڈبل سلٹ تجربہ (Double-Slit Experiment) حقیقت کے اس معمے کو اپنی انتہائی صورت میں ہمارے سامنے لاتا ہے۔
روشنی کے اس تجربے کی بنیاد تو تھامس ینگ (Thomas Young) نے 1801ء ہی میں رکھ دی تھی، لیکن بیسویں اور اکیسویں صدی میں جب اسے ایک ایک الیکٹران، ایٹم اور یہاں تک کہ ساٹھ کاربن ایٹموں پر مشتمل بڑے مالیکیولز (Buckyballs، جیسا کہ اینٹون زیلنگر اور ان کے ساتھیوں نے 1999ء میں جریدہ ’’نیچر‘‘ جلد 401 میں شائع کیا) پر دہرایا گیا، تو نتائج نے ہر ذی شعور کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔
جب آپ ایک توپ سے ایک وقت میں صرف ایک الیکٹران فائر کرتے ہیں اور سامنے دو سوراخوں والی دیوار ہے، تو کلاسیکی عقل کہتی ہے کہ وہ ایک الیکٹران یا تو دائیں سوراخ سے گزرے گا یا بائیں سے، اور پیچھے لگی اسکرین پر دو سیدھی پٹیاں بنیں گی۔
لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔
جب تک آپ سوراخوں پر کوئی جاسوسی آلہ (Detector) نہیں لگاتے کہ الیکٹران کس سوراخ سے گزر رہا ہے، ہر اکیلا الیکٹران بیک وقت دونوں سوراخوں سے ایک امکانی لہر کی طرح گزرتا ہے، اپنے آپ سے ٹکراتا ہے، اور پیچھے اسکرین پر لہروں کی مداخلت کا نمونہ (Interference Pattern) بناتا ہے۔
اور جیسے ہی آپ سوراخوں کے پاس ایک آلہ نصب کرتے ہیں تاکہ یہ ’’معلومات‘‘ (Information) حاصل کی جا سکیں کہ الیکٹران کس راستے سے گیا، تو عین اسی لمحے وہ امکانی لہر ختم ہو جاتی ہے اور الیکٹران ایک شریف اور ٹھوس گیند کی طرح صرف ایک سوراخ سے گزرتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ حیران کن تجربہ امریکی ماہرِ طبیعیات جان آرچی بالڈ وہیلر (John Archibald Wheeler) کا تجویز کردہ ’’ڈیلیڈ چوائس تجربہ‘‘ (Delayed-Choice Experiment، 1978ء) تھا، جسے بعد میں جیکبز اور ان کے ساتھیوں نے 2007ء میں پیرس میں حقیقی فوٹونز پر کامیابی سے انجام دیا (شائع شدہ در جریدہ ’’سائنس‘‘، جلد 315، صفحات 966 تا 968)۔
اس تجربے میں یہ فیصلہ کہ فوٹون کے راستے کا مشاہدہ کرنا ہے یا نہیں، اس وقت کیا جاتا ہے جب فوٹون پہلے ہی سوراخوں سے گزر چکا ہوتا ہے!
اور تجربے نے ثابت کیا کہ حال میں کیا گیا آپ کا یہ فیصلہ کہ آپ پیمائش کس طرح کریں گے، اس بات کا تعین کرتا ہے کہ فوٹون نے ماضی میں ایک ذرے کے طور پر سفر کیا تھا یا دونوں سوراخوں سے ایک لہر کے طور پر۔
یہاں ایک بار پھر علمی دیانت اور سائنسی احتیاط کا تقاضا ہے کہ ہم انٹرنیٹ اور مقبولِ عام لٹریچر میں پھیلے ہوئے ایک بہت بڑے افسانے کا پردہ چاک کریں۔
سوشل میڈیا پر اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ڈبل سلٹ تجربے میں جب ’’انسانی آنکھ‘‘ الیکٹران کو دیکھتی ہے تو انسانی شعور کی جادوئی طاقت سے مادہ بدل جاتا ہے۔
یہ بات تجرباتی طبیعیات کی رو سے درست نہیں ہے۔
تجربہ گاہ میں الیکٹران کو کوئی انسان اپنی ننگی آنکھ سے نہیں دیکھ رہا ہوتا؛ وہاں پیمائش کا مطلب فوٹونز، مقناطیسی میدانوں یا الیکٹرانک ڈیٹیکٹرز کا اس کوانٹم سسٹم کے ساتھ طبعی تعامل (Physical Interaction) اور معلومات کا اندراج ہے۔
ہاں، یہ سوال ضرور اپنی جگہ ایک گہرا فلسفیانہ معمہ ہے، جسے فزکس میں ’’مسئلۂ پیمائش‘‘ (The Measurement Problem) کہا جاتا ہے، کہ اگر ڈیٹیکٹر اور کیمرہ بھی خود ایٹموں ہی سے بنے ہیں، تو پھر کوانٹم سپر پوزیشن کی زنجیر آخر کس مقام پر ٹوٹتی ہے؟
اسی سوال پر بیسویں صدی کے عظیم ریاضی دان جان فون نیومین نے اپنی 1932ء کی کتاب (Mathematical Foundations of Quantum Mechanics) میں اور نوبل انعام یافتہ ماہرِ طبیعیات یوجین وگنر نے اپنے 1961ء کے مضمون (Remarks on the Mind-Body Question) میں یہ فلسفیانہ استدلال پیش کیا تھا کہ پیمائش کی زنجیر اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک معلومات کسی باشعور ذہن کے ادراک میں نہ آ جائیں۔
لیکن یاد رکھیے کہ یہ کوانٹم میکانکس کی ایک ’’فلسفیانہ تعبیر‘‘ ہے، نہ کہ خود کوانٹم فزکس کا کوئی متفقہ تجرباتی قانون۔
آج ماہرینِ طبیعیات کی ایک بڑی تعداد ’’کوانٹم ڈی کوہیرنس‘‘ (Quantum Decoherence) کے میکانزم کے ذریعے اس کی وضاحت کرتی ہے کہ جب ایک خوردبینی کوانٹم ذرہ اپنے اردگرد کے اربوں کھربوں ماحولیاتی ذرات کے ساتھ الجھتا ہے، تو اس کی موجی خصوصیت ماحول میں بکھر جاتی ہے اور وہ ہمیں ایک کلاسیکی ٹھوس ذرے کی طرح نظر آنے لگتا ہے، چاہے وہاں کوئی انسان موجود ہو یا نہ ہو۔
لیکن کیا ڈی کوہیرنس نے کلاسیکی حقیقت پسندی کو بچا لیا؟
ہرگز نہیں۔
حقیقت کی نوعیت پر سب سے فیصلہ کن ضرب البرٹ آئن سٹائن اور نیلز بوہر کے تاریخی مکالمے کے نتیجے میں لگی۔ آئن سٹائن کو کوانٹم فزکس کا یہ تصور قطعی گوارا نہیں تھا کہ کائنات کی بنیاد امکانات اور غیر یقینی پر ہے، اور یہ کہ کسی شے کی خصوصیات پیمائش کے وقت ہی وجود میں آتی ہیں۔
آئن سٹائن کے نزدیک یہ ایسا ہی تھا جیسے کوئی کہے کہ چاند آسمان پر صرف اس وقت موجود ہوتا ہے جب کوئی چوہا اس کی طرف دیکھ رہا ہو (جیسا کہ اس نے اپنے رفیق ابراہم پائس سے چہل قدمی کے دوران طنزاً کہا تھا، ملاحظہ ہو Abraham Pais, Rev. Mod. Phys. 51, 863, 1979)۔
دسمبر 1926ء میں میکس بورن کے نام اپنے ایک خط میں آئن سٹائن نے وہ تاریخی جملہ لکھا جسے اکثر سیاق و سباق کے بغیر نقل کیا جاتا ہے:
’’کوانٹم میکانکس یقیناً متاثر کن ہے، لیکن ایک اندرونی آواز مجھ سے کہتی ہے کہ یہ ابھی اصل چیز نہیں ہے۔ یہ نظریہ بہت کچھ بتاتا ہے، لیکن یہ ہمیں اس پرانے وجود (The Old One / God) کے راز کے زیادہ قریب نہیں لاتا۔ بہرحال، مجھے پورا یقین ہے کہ وہ پانسہ نہیں پھینکتا۔‘‘
کوانٹم فزکس کو نامکمل ثابت کرنے کے لیے آئن سٹائن نے اپنے دو نوجوان ساتھیوں بورس پوڈولسکی اور ناتھن روزن کے ساتھ مل کر مئی 1935ء میں جریدہ ’’فزیکل ریویو‘‘ (Physical Review، جلد 47، صفحات 777 تا 780) میں تاریخِ سائنس کا ایک اہم ترین مقالہ شائع کیا جسے ’’ای پی آر پیپر‘‘ (EPR Paper) کہا جاتا ہے۔
اس مقالے کا عنوان ہی ہمارا آج کا موضوع تھا:
’’کیا طبعی حقیقت کی کوانٹم میکانکی تشریح کو مکمل سمجھا جا سکتا ہے؟‘‘ (Can Quantum-Mechanical Description of Physical Reality Be Considered Complete?)۔
اس مقالے میں آئن سٹائن نے ’’مقامی حقیقت پسندی‘‘ (Local Realism) کی دو نہایت معقول شرائط رکھی تھیں: اول ’’حقیقت پسندی‘‘ (Realism)، یعنی طبعی اشیاء کی خصوصیات (مثلاً پوزیشن، رفتار، اسپن) پیمائش سے پہلے بھی آزادانہ طور پر متعین حالت میں موجود ہوتی ہیں؛ دوم ’’مقامیت‘‘ (Locality)، یعنی کائنات کے ایک کونے میں کیا گیا کوئی عمل دوسرے کونے میں موجود کسی شے کو روشنی کی رفتار سے تیز متاثر نہیں کر سکتا۔
آئن سٹائن نے دکھایا کہ کوانٹم میکانکس کی مساواتوں کے مطابق، اگر دو ذرات ماضی میں ایک ساتھ پیدا ہو کر ایک دوسرے سے جڑ جائیں، جسے شروڈنگر نے ’’کوانٹم اینٹینگلمنٹ‘‘ (Quantum Entanglement) یعنی کوانٹم الجھاؤ کا نام دیا، اور پھر ایک ذرے کو زمین پر رکھا جائے اور دوسرے کو دس ارب نوری سال دور کسی کہکشاں کے کنارے بھیج دیا جائے، تو کوپن ہیگن تشریح کے مطابق جب تک زمین والے ذرے کی پیمائش نہیں کی جاتی، دونوں ذرات کی حالت غیر متعین ہے۔
لیکن جیسے ہی آپ زمین پر موجود ذرے کی پیمائش کرتے ہیں، عین اسی لمحے، بغیر کسی وقت کے وقفے کے، دس ارب نوری سال دور موجود دوسرے ذرے کی حالت بھی متعین ہو جاتی ہے۔
آئن سٹائن نے اسے ’’فاصلے پر پراسرار عمل‘‘ (Spooky Action at a Distance) کہہ کر رد کر دیا اور کہا کہ چونکہ ایسا ہونا ناممکن ہے، اس لیے یقیناً ان ذرات میں شروع ہی سے کچھ ’’پوشیدہ متغیرات‘‘ (Hidden Variables) موجود تھے جنہوں نے پہلے ہی سے طے کر رکھا تھا کہ کس ذرے کی کیا حالت ہوگی، اور کوانٹم فزکس چونکہ ان پوشیدہ متغیرات سے لاعلم ہے اس لیے یہ ایک نامکمل نظریہ ہے۔
تیس سال تک یہ بحث طبیعیات کے بجائے مابعد الطبیعیات اور فلسفے کا مسئلہ سمجھی جاتی رہی، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ لیبارٹری میں یہ کیسے جانچا جائے کہ آیا ذرات کی خصوصیات دیکھنے سے پہلے متعین ہوتی ہیں یا نہیں۔
بالآخر 1964ء میں شمالی آئرلینڈ کے ایک خاموش طبع ماہرِ طبیعیات جان اسٹیورٹ بیل (John Stewart Bell) نے سرن (CERN) میں بیٹھ کر ایک ایسا ریاضیاتی مقالہ لکھا جسے سائنس کی تاریخ میں ’’بیل کا قضیہ‘‘ (Bell’s Theorem، شائع شدہ در جریدہ Physics Physique Физика، جلد 1، صفحہ 195) کہا جاتا ہے۔
بیل نے ریاضی کی ایک ایسی عدم مساوات (Bell’s Inequality) دریافت کر لی جس نے آئن سٹائن کی ’’مقامی حقیقت پسندی‘‘ کو تجربہ گاہ کی میز پر لا کھڑا کیا۔
بیل نے ثابت کیا کہ اگر کائنات واقعی ویسی ہے جیسی آئن سٹائن اور ہماری کلاسیکی عقل سمجھتی ہے، یعنی ذرات کی خصوصیات مشاہدے سے پہلے ہی سے طے شدہ ہیں اور کوئی اثر روشنی سے تیز سفر نہیں کرتا، تو اینٹینگلڈ ذرات کے درمیان شماریاتی تعلق (Correlation) ایک خاص ریاضیاتی حد سے کبھی تجاوز نہیں کر سکتا۔
لیکن اگر کوانٹم میکانکس سچی ہے، تو یہ حد ٹوٹ جائے گی۔
اس کے بعد 1972ء میں جان کلاؤزر (John Clauser)، 1982ء میں فرانس میں ایلین ایسپیکٹ (Alain Aspect)، اور 1998ء سے لے کر 2015ء تک اینٹون زیلنگر (Anton Zeilinger) اور دنیا بھر کی دیگر ٹیموں نے انتہائی سخت، بےرحم اور تمام ممکنہ چور دروازے بند کرنے والے تجربات (Loophole-free Bell Tests) کیے، جس کے اعتراف میں ان تینوں سائنس دانوں کو 2022ء کا طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا۔
ان تجربات کا حتمی اور ناقابلِ تردید نتیجہ کیا نکلا؟
نتیجہ یہ نکلا کہ بیل کی عدم مساوات ٹوٹ گئی، آئن سٹائن کی مقامی حقیقت پسندی غلط ثابت ہوئی، اور کوانٹم میکانکس جیت گئی۔
یہ انیسویں اور بیسویں صدی کی سائنس کا سب سے بڑا مابعد الطبیعیاتی لمحہ تھا۔
تجرباتی سائنس نے خود اپنے ہاتھوں سے یہ ثابت کر دیا کہ ہماری کائنات بیک وقت ’’مقامی‘‘ (Local) اور ’’حقیقت پسندانہ‘‘ (Realist، بمعنی مشاہدے سے ماورا متعین خصوصیات رکھنے والی) نہیں ہو سکتی۔
یا تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ طبعی اشیاء کی خصوصیات اس وقت تک وجود نہیں رکھتیں جب تک ان کی پیمائش نہ کی جائے، یا پھر ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ کائنات اپنی گہری ترین سطح پر ’’غیر مقامی‘‘ (Non-local) ہے، یعنی خلا کے فاصلے ایک سطحی مظہر ہیں اور کائنات کے تمام اجزا ایک ایسی نادیدہ وحدت میں جڑے ہوئے ہیں جہاں فاصلے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
(یہاں بھی سائنسی صحت کے لیے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ’’نو کمیونیکیشن تھیورم‘‘ کے تحت اس کوانٹم الجھاؤ کے ذریعے انسان روشنی کی رفتار سے تیز کوئی پیغام یا سگنل نہیں بھیج سکتا، اس لیے اسے ٹیلی پیتھی کا ثبوت قرار دینا سائنسی مغالطہ ہے، مگر خود فطرت کا اندرونی ربط زمان و مکان کی کلاسیکی حدود سے ماورا ہے)۔
مشہور ماہرِ طبیعیات اینٹون زیلنگر اور ان کے ساتھیوں نے تو 2007ء میں جریدہ ’’نیچر‘‘ (جلد 446، صفحات 871 تا 875) میں ایک اور تجرباتی مقالہ (An experimental test of non-local realism) شائع کر کے لیگٹ کی عدم مساوات (Leggett’s inequality) کو بھی جانچا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہاں تک کہ بہت سے غیر مقامی پوشیدہ متغیرات کے ماڈلز بھی غلط ہیں، اور ہمیں کائنات میں ’’حقیقت پسندی‘‘ کے کلاسیکی تصور ہی سے دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے۔
آج جدید طبیعیات میں اس سوال پر کہ کوانٹم مساواتوں کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے، گہرا اختلاف پایا جاتا ہے:
کوپن ہیگن مکتبِ فکر کے نزدیک فزکس صرف ہمارے مشاہدات کے نتائج بتاتی ہے؛
ڈیوڈ بوہم (David Bohm) کے پائلٹ ویو نظریے کے مطابق ذرات تو حقیقی ہیں مگر پوری کائنات ایک غیر مقامی کوانٹم پوٹینشل سے جڑی ہے؛
ہیو ایوریٹ (Hugh Everett III) کے 1957ء کے ’’مینی ورلڈز‘‘ مفروضے کے مطابق ہر کوانٹم پیمائش پر کائنات لامحدود متوازی شاخوں میں تقسیم ہو جاتی ہے؛
جبکہ کارلو روویلی (Carlo Rovelli) کی ’’ریلیشنل کوانٹم میکانکس‘‘ (1996ء) کے مطابق کسی شے کی کوئی مطلق اور آزاد حالت ہوتی ہی نہیں، بلکہ ہر حقیقت صرف ایک نظام کا دوسرے نظام کے ساتھ ’’تعلق‘‘ (Relation) اور تعامل کا نام ہے۔
جب ہم خوردبینی دنیا کے اس حیران کن کوانٹم سفر سے باہر نکل کر خود انسانی ادراک اور کائنات کے مجموعی پیمانے پر نظر ڈالتے ہیں، تو حقیقت کے التباس کی ایک اور ہیبت ناک تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کائنات کو دیکھ رہے ہیں، لیکن جدید نیورو سائنس اور طبیعیات ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کائنات کے حوالے سے کس قدر اندھے ہیں۔
کائنات میں پھیلی ہوئی برقی مقناطیسی شعاعوں کے پورے طیف (Electromagnetic Spectrum)، جس میں گاما ریز، ایکس ریز، الٹرا وائلٹ، انفراریڈ، مائیکرو ویوز اور ریڈیو لہریں شامل ہیں، میں سے انسانی آنکھ صرف 380 نینو میٹر سے 750 نینو میٹر تک کی طولِ موج کو دیکھ سکتی ہے۔
یہ پوری برقی مقناطیسی حقیقت کے ایک کھربویں حصے سے بھی کم کی ایک ننھی سی کھڑکی ہے۔
اس کھڑکی سے بھی جو روشنی اندر آتی ہے، وہ براہِ راست ہمارے دماغ میں نہیں جاتی۔
ہمارا دماغ کھوپڑی کے ایک گھپ اندھیرے اور بند بکسے کے اندر قید ہے، جہاں نہ کبھی سورج کی روشنی پہنچی ہے اور نہ ہوا کی کوئی آواز۔
آنکھوں، کانوں اور جلد سے صرف برقی کیمیائی سگنلز (Electrochemical Signals) تاروں کی صورت میں اس تاریک بکسے کے اندر پہنچتے ہیں، اور ہمارا دماغ اپنے اندر موجود سابقہ مفروضوں کی مدد سے ایک سہ جہتی، رنگین اور بولتی ہوئی دنیا کی تصویر تخلیق کرتا ہے۔
جیسا کہ سسیکس یونیورسٹی کے معروف نیورو سائنس دان انیل سیتھ (Anil Seth) نے اپنی 2021ء کی کتاب ’’بیئنگ یو‘‘ (Being You: A New Science of Consciousness) میں تجرباتی شواہد کی روشنی میں لکھا ہے کہ ہمارا ادراک دنیا کی کوئی غیر جانبدارانہ فوٹو گرافی نہیں ہے، بلکہ یہ دماغ کی طرف سے کیا جانے والا ایک ’’منضبط التباس‘‘ (Controlled Hallucination) ہے۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی کے کوگنیٹو سائنس دان ڈونلڈ ہوفمین (Donald Hoffman) نے تو اپنی کتاب ’’دی کیس ایگینسٹ ریئلٹی‘‘ (The Case Against Reality، 2019ء) میں ارتقائی ریاضی کے ماڈلز کے ذریعے یہ تھیوری پیش کی ہے کہ حواسِ خمسہ ہمیں اصل حقیقت دکھانے کے لیے نہیں بلکہ صرف ہماری حیاتیاتی بقا کے لیے ملے ہیں۔
ہوفمین کے استعارے کے مطابق، ہماری حسی دنیا کمپیوٹر کی اسکرین پر بنے ہوئے ’’ڈیسک ٹاپ انٹرفیس‘‘ کی مانند ہے؛ اگر اسکرین پر آپ کو اپنی فائل کا ایک نیلا اور چوکور آئیکن (Icon) نظر آ رہا ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ کمپیوٹر کے اندر واقعی کوئی نیلی چوکور چیز رکھی ہے، کمپیوٹر کے اندر تو صرف ٹرانزسٹرز، وولٹیج کے اتار چڑھاؤ اور صفر اور ایک (0 and 1) کا ایک پیچیدہ نظام ہے، لیکن آپ کی آسانی کے لیے اسکرین نے اس پیچیدہ حقیقت کو چھپا کر ایک سادہ آئیکن دکھا دیا ہے۔
یہ محدودیت صرف ہمارے حیاتیاتی حواس تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے جدید ترین سائنسی آلات بھی کائنات کے ایک بہت بڑے حصے کے سامنے بے بس کھڑے ہیں۔
یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کی پلانک سیٹلائٹ کے حتمی ڈیٹا (Planck 2018 Results، شائع شدہ در جریدہ Astronomy & Astrophysics، جلد 641، 2020ء) کے مطابق، آج کی معیاری کونیات (Standard Model of Cosmology) ہمیں بتاتی ہے کہ پوری کائنات کی کل کمیت اور توانائی میں سے وہ تمام عام مادہ (Baryonic Matter)، جس سے میں اور آپ بنے ہیں، جس سے زمین، پہاڑ، سمندر، اربوں ستارے، کہکشائیں، گیس کے بادل اور ہمارے سائنسی آلات بنے ہیں، صرف 4.9 فیصد ہے!
کائنات کا تقریباً 26.8 فیصد حصہ ’’تاریک مادہ‘‘ (Dark Matter) کہلاتا ہے، جسے نہ دیکھا جا سکتا ہے، نہ چھوا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ روشنی یا کسی بھی برقی مقناطیسی لہر کے ساتھ کوئی تعامل ہی نہیں کرتا؛ ہم صرف کہکشاؤں کی تیز رفتار گردش (جس پر ویرا روبن نے 1970ء کی دہائی میں تاریخی کام کیا) اور کششِ ثقل کے عدسی اثر (Gravitational Lensing) کو دیکھ کر یہ قیاس کرتے ہیں کہ وہاں کوئی نادیدہ ثقل موجود ہے جس نے کہکشاؤں کو بکھرنے سے روک رکھا ہے۔
اور باقی 68.3 فیصد کائنات ’’تاریک توانائی‘‘ (Dark Energy) کے نام سے موسوم ہے، جو خلا کی اپنی ایک پراسرار خاصیت ہے اور پوری کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کو تیز تر کر رہی ہے۔
اگر ہم پوری علمی دیانت سے پوچھیں کہ یہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی اصل میں کیا ہیں، تو آج کی بلند پایہ سائنس کا سچا جواب صرف تین الفاظ پر مشتمل ہے:
’’ہم نہیں جانتے‘‘۔
وہ سائنس جو انیسویں صدی میں یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ اس نے حقیقت کا پورا نقشہ مکمل کر لیا ہے، آج اکیسویں صدی میں کھڑی ہو کر خود اعتراف کر رہی ہے کہ اسے کائنات کے پچانوے فیصد حصے کی ماہیت کا علم ہی نہیں ہے، اور جو پانچ فیصد حصہ معلوم ہے، اس کی بنیادی کوانٹم تہہ بھی زمان و مکان کے کلاسیکی تصورات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔
اسی گہری سائنسی حیرت میں سے بیسویں صدی کے اواخر میں دو ایسے نظریات ابھرے جنہوں نے مادے کی جگہ ’’معلومات‘‘ (Information) کو کائنات کی بنیادی اکائی قرار دیا: ایک جان وہیلر کا ’’اٹ فرام بٹ‘‘ (It from Bit) کا فلسفہ، اور دوسرا ’’ہولوگرافک اصول‘‘ (Holographic Principle)۔
جان وہیلر نے 1989ء میں اپنے مشہور مقالے (Information, Physics, Quantum: The Search for Links) میں یہ خیال پیش کیا کہ ہر طبعی شے، ہر ذرہ اور ہر قوت کا میدان، اپنی گہری ترین تہہ میں غیر مادی اور اطلاعاتی ماخذ رکھتا ہے، یعنی کائنات مادے سے نہیں بلکہ ’’ہاں یا ناں‘‘ کے کوانٹم سوالات اور معلومات (Bits) سے بنی ہے۔
دوسری طرف، 1970ء کی دہائی میں جیکب بیکنسٹائن (Jacob Bekenstein، Physical Review D، 1973ء) اور اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking، Communications in Mathematical Physics، 1975ء) نے بلیک ہولز کی تھرمو ڈائنامکس کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک حیران کن دریافت کی۔
انہوں نے دیکھا کہ جب کوئی چیز بلیک ہول میں گرتی ہے تو اس بلیک ہول کے اندر سما سکنے والی زیادہ سے زیادہ معلومات (Entropy) کی مقدار اس بلیک ہول کے اندرونی سہ جہتی حجم (3D Volume) کے تناسب سے نہیں، بلکہ اس کی بیرونی دو جہتی سطح یعنی ایونٹ ہورائزن کے رقبے (2D Surface Area) کے تناسب سے بڑھتی ہے۔
اس دریافت کی بنیاد پر نوبل انعام یافتہ ماہرِ طبیعیات جیرارڈ ٹی ہوفٹ (Gerard ‘t Hooft، 1993ء) اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے لیونارڈ سسکنڈ (Leonard Susskind، Journal of Mathematical Physics، 1995ء) نے ’’ہولوگرافک پرنسپل‘‘ پیش کیا، جس کو 1997ء میں ہوان مالڈاسینا (Juan Maldacena) نے اسٹرنگ تھیوری میں اپنے شہرہ آفاق ریاضیاتی ماڈل (AdS/CFT Correspondence) کے ذریعے ایک مضبوط نظریاتی بنیاد فراہم کی۔
یہ اصول کہتا ہے کہ خلا کے کسی بھی سہ جہتی (Three-dimensional) حصے کے اندر ہونے والے تمام طبعی واقعات اور کششِ ثقل کی مکمل معلومات دراصل اس خلا کی بیرونی دو جہتی (Two-dimensional) سرحد پر کوانٹم معلومات کی صورت میں بالکل اسی طرح کوڈ (Encode) ہو سکتی ہیں جیسے ایک چپٹے پلاسٹک کارڈ پر بنے ہولوگرام پر روشنی پڑنے سے سہ جہتی تصویر ابھرتی ہے۔
تاہم، یہاں ہمیں ایک بار پھر اپنے تحقیق اور تصدیق کے سخت اصول کو بروئے کار لانا ہوگا۔
عوامی حلقوں، یوٹیوب ویڈیوز اور نیم خواندہ روحانی بلاگز میں ’’ہولوگرافک یونیورس‘‘ کے نام پر یہ سنسنی خیز دعویٰ عام ہے کہ
’’سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ ہماری دنیا جھوٹی ہے، ہم کسی سینما کی اسکرین پر چلنے والی فلم یا کمپیوٹر گیم کے کردار ہیں، اور قرآن نے چودہ سو سال پہلے دنیا کو کھیل تماشا کہہ کر یہی ہولوگرافک تھیوری بیان کی تھی۔‘‘
یہ طرزِ استدلال علمی اور مذہبی دونوں اعتبار سے انتہائی سطحی اور گمراہ کن ہے۔
اول تو طبیعیات میں ہولوگرافک پرنسپل فی الحال کوانٹم گریویٹی اور اسٹرنگ تھیوری کا ایک انتہائی پیچیدہ ریاضیاتی مفروضہ (Theoretical Hypothesis) ہے، نہ کہ کوئی لیبارٹری میں ثابت شدہ تجرباتی حقیقت۔
دوم، مالڈاسینا نے یہ ریاضیاتی مساوات جس کائناتی جیومیٹری (Anti-de Sitter Space) کے لیے ثابت کی ہے، اس میں خلا کا خم منفی ہوتا ہے، جبکہ ہماری حقیقی کائنات مشاہداتی طور پر مثبت کونیاتی مستقل (Positive Cosmological Constant / de Sitter-like Space) رکھتی ہے، جہاں اس اصول کا اطلاق آج بھی ماہرینِ طبیعیات کے لیے ایک حل طلب مسئلہ ہے۔
سوم، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر فزکس کا ہولوگرافک اصول سو فیصد درست ثابت ہو بھی جائے، تب بھی اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کا جسم، آپ کا درد، یا آپ کے اعمال ’’جعلی‘‘ یا ’’وہم‘‘ ہیں؛ فزکس میں اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک ہی طبعی حقیقت کو بیان کرنے کے دو مساوی ریاضیاتی طریقے (Dual descriptions) موجود ہیں، ایک تین ابعاد میں کششِ ثقل کے ساتھ، اور دوسرا دو ابعاد میں کششِ ثقل کے بغیر۔
اس خالص ریاضیاتی مساوات کو اٹھا کر براہِ راست قرآنی آیات کا سائنسی ترجمہ قرار دینا نہ فزکس کے ساتھ انصاف ہے اور نہ قرآن کی عظمت کے شایانِ شان۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ قرآنِ مجید جب ’’حقیقت‘‘ اور ’’دنیاوی زندگی‘‘ کی ماہیت پر کلام کرتا ہے، تو اس کا اصل، مستند اور گہرا مفہوم کیا ہے؟
اور اس قرآنی بصیرت کا انسانی ادراک کی ان محدودیتوں کے ساتھ کیا حقیقی اور فلسفیانہ مکالمہ بنتا ہے؟ جب ہم قرآنِ مجید کا بغور اور سیاق و سباق کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ نظر آتی ہے کہ قرآن اس مادی کائنات کو ہرگز کوئی ’’جھوٹا فریب‘‘، ’’سفلی مایا‘‘ یا ’’بے معنی خواب‘‘ قرار نہیں دیتا۔
اس کے برعکس، قرآن پوری قوت کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق ’’حق‘‘ پر مبنی ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت 73 میں ارشاد ہوتا ہے:
(اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا؛ ہم نے ان دونوں کو نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے)۔
عربی لغت اور کلاسیکی تفسیری روایت، جیسے امام ابن جریر طبری کی ’’جامع البیان‘‘، امام قرطبی کی ’’الجامع لاحکام القرآن‘‘ اور علامہ ابن عاشور کی ’’التحریر والتنویر‘‘، کے مطابق یہاں ’’بالحق‘‘ کے دو گہرے معنی ہیں: ایک یہ کہ یہ کائنات ایک ٹھوس، مستحکم، منظم اور حقیقی قوانین پر استوار نظام ہے جس میں کوئی بے ترتیبی اور عبث پن نہیں ہے؛ اور دوسرا یہ کہ اس کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم اخلاقی اور روحانی مقصد کارفرما ہے۔
اب ذہن میں فوراً یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر قرآن سورۃ الدخان میں کہتا ہے کہ ہم نے کائنات کو کھیل کے طور پر نہیں بلکہ ’’حق‘‘ کے ساتھ بنایا ہے، تو پھر سورۃ العنکبوت کی آیت 64 کا کیا مطلب ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے:
(اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں ہے مگر دل بہلانے اور کھیلنے کی چیز، اور بے شک آخرت کا گھر ہی اصل اور کامل زندگی ہے، کاش وہ جانتے ہوتے)؟
یا سورۃ الحدید کی آیت 20 اور سورۃ آل عمران کی آیت 185 میں دنیاوی زندگی کو ’’مَتَاعُ الْغُرُورِ‘‘ (دھوکے کا سامان) کیوں کہا گیا ہے؟
اس بظاہر پیچیدہ نکتے کو چھٹی صدی ہجری کے عظیم مفسر اور فلسفی امام فخر الدین رازیؒ (متوفی 606ھ) نے اپنی معرکہ آراء تفسیر ’’مفاتیح الغیب‘‘ (تفسیرِ کبیر، زیرِ آیت العنکبوت 64 اور الدخان 38) اور علامہ جار اللہ زمخشری نے ’’الکشاف‘‘ میں جس علمی باریکی سے حل کیا ہے، وہ انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔
مفسرین واضح کرتے ہیں کہ قرآن نے ’’تخلیقِ کائنات‘‘ کو کبھی لہو و لعب نہیں کہا؛ کائنات کی تخلیق سراپا ’’حق‘‘ ہے۔
قرآن نے جس چیز کو لہو و لعب اور دھوکے کا سامان کہا ہے وہ ’’الحیاۃ الدنیا‘‘ ہے، یعنی انسان کا وہ طرزِ حیات اور وہ مسخ شدہ زاویۂ نگاہ جو اس قریب کی عارضی، ناپائیدار اور نامکمل زندگی ہی کو کل حقیقت اور حتمی منزل سمجھ بیٹھتا ہے۔
امام رازیؒ اور علامہ ابن عاشور اس آیت کی لغوی اور فلسفیانہ تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عربی زبان میں ’’لہو‘‘ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو وقتی لذت میں الجھا کر اس کے اصل اور بڑے مقصد سے غافل کر دے، اور ’’لعب‘‘ (کھیل) کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ کھلاڑی جب تک میدان میں کھیل رہا ہوتا ہے تو وہ اس کھیل کے فرضی قوانین، اس کی جیت اور ہار کو زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتا ہے، لیکن جیسے ہی کھیل کا وقت ختم ہوتا ہے، وہ سارا منظر نامہ تحلیل ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ تھکن کے سوا کچھ نہیں آتا۔
اس کے مقابلے میں قرآن نے آخرت کے لیے محض ’’حیاۃ‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ’’الْحَيَوَانُ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، جو عربی صرف و نحو میں ’’فَعَلَان‘‘ کے وزن پر مبالغے اور استمرار کا صیغہ ہے۔
امام رازیؒ لکھتے ہیں کہ ’’الحیوان‘‘ سے مراد وہ حقیقی، دائمی، خالص اور غیر مشروط زندگی ہے جس میں نہ کبھی موت کا شائبہ ہو، نہ زوال کا خوف ہو، اور نہ کسی مادی علت و معلول کی محتاجی۔
دنیا کی زندگی اس لیے کھلونا اور دھوکہ ہے کہ یہ تغیر پذیر ہے، ہر لمحے فنا کی طرف گامزن ہے، اور اس کی لذتیں عارضی ہیں؛ جبکہ انسان کی نادانی یہ ہے کہ وہ اس گزرگاہ کے سایوں کو مستقل مسکن سمجھ کر ان سے لپٹ جاتا ہے۔
قرآنِ مجید نے انسانی ادراک کے اس المیے کو سورۃ الروم کی آیت 6 اور 7 میں ایک ایسے علمیاتی اصول (Epistemological Principle) کے طور پر بیان کیا ہے جو آج کی سائنس، فلسفے اور روحانیت کے پورے مکالمے کا نچوڑ ہے:
(لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے؛ وہ دنیاوی زندگی کے صرف ظاہری پہلو کو جانتے ہیں، اور وہ آخرت یعنی حتمی انجام اور ماورائی حقیقت سے بالکل غافل ہیں)۔
ذرا اس آیت کے الفاظ پر غور کیجیے۔
قرآن نے یہ نہیں کہا کہ لوگ دنیا کو بالکل نہیں جانتے؛ قرآن نے تسلیم کیا کہ وہ جانتے ہیں، لیکن ان کا سارا علم دنیاوی زندگی کے ’’ظاہر‘‘ (The Outer Surface / Phenomenal Layer) تک محدود ہے۔
عبداللہ بن عباسؓ، امام طبریؒ اور امام ابن کثیرؒ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ انسان دنیا کی معیشت، کھیتی باڑی، تعمیرات اور مادی اسباب کے علم میں تو کمال درجے کی مہارت حاصل کر لیتا ہے، لیکن اس کی بصیرت اس ظاہری چھلکے کو چیر کر اس کے پیچھے موجود خالق کی حکمت اور اس کائنات کے اخلاقی و ابدی انجام تک نہیں پہنچ پاتی۔
اب اگر ہم اپنے تینوں علمی دائروں، سائنس، فلسفہ اور قرآن، کو بغیر کسی مصنوعی ملاوٹ کے آمنے سامنے رکھیں، تو ایک انتہائی روشن اور مربوط تصویر ابھرتی ہے۔
کلاسیکی فزکس سے لے کر کوانٹم فزکس، نظریۂ اضافیت، جدید کونیات اور نیورو سائنس تک کے تین سو سالہ سفر نے تجرباتی طور پر انسان کے کس غرور کو توڑا ہے؟
اس نے انسان کے اسی غرور کو توڑا ہے کہ
’’جو کچھ مجھے ظاہری حواس سے نظر آتا ہے، وہی کل حقیقت ہے‘‘۔
آج کی سائنس ہمیں بتا رہی ہے کہ تم جس میز کو ٹھوس سمجھتے ہو، وہ ایٹموں کے درمیان پھیلا ہوا خالی خلا اور برقی مقناطیسی فیلڈز کی مزاحمت ہے؛ جس وقت کو تم مطلق سمجھتے ہو، وہ رفتار اور کششِ ثقل کے تابع ایک لچکدار بعد ہے؛ جس روشنی کو تم سب کچھ سمجھتے ہو، وہ برقی مقناطیسی طیف کا ایک کھربواں حصہ ہے؛ جس مادے کو تم پوری کائنات سمجھتے تھے، وہ کائنات کی کل توانائی اور کمیت کا بمشکل پانچ فیصد ہے؛ اور جس ذرے کو تم ایک متعین گیند سمجھتے تھے، وہ کوانٹم سطح پر غیر مقامی امکانات، ریاضیاتی رشتوں اور معلومات کا ایک ایسا پراسرار رقص ہے جہاں سادہ لوح مادی حقیقت پسندی دم توڑ دیتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوانٹم فزکس نے آخرت کو ثابت کر دیا ہے یا ڈارک میٹر ہی عالمِ غیب ہے، ایسا کہنا علمی دیانت کے خلاف ہوگا کیونکہ ڈارک میٹر اور کوانٹم فیلڈز، خواہ وہ کتنے ہی پراسرار اور غیر مرئی کیوں نہ ہوں، پھر بھی اسی مادی اور طبعی کائنات (عالمِ خلق و شہادت) کے اندر کے قوانین ہیں جن کا مطالعہ طبعی آلات اور ریاضی سے کیا جاتا ہے۔
لیکن جدید سائنس کے اس سفر نے انسانی عقل کو ایک بہت بڑا فلسفیانہ سبق سکھایا ہے: اس نے ثابت کر دیا ہے کہ خود طبعی کائنات کی ساخت اس قدر تہہ در تہہ، لطیف اور حواس کی گرفت سے ماورا ہے کہ وہاں ظاہری مشاہدے (الظاہر) کو حتمی حقیقت سمجھ لینا سب سے بڑی سائنسی نادانی ہے۔
جب خود مادی دنیا کی پچانوے فیصد حقیقت اور اس کی بنیادی کوانٹم تہہ ہمارے حواسِ خمسہ سے اوجھل رہ کر پورے نظامِ کائنات کو چلا سکتی ہے، تو پھر اس مادی عقل کے پاس یہ کہنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے کہ اس طبعی کائنات کے ماورا کوئی عالمِ غیب، کوئی روحانی حقیقت اور کوئی حساب و کتاب کا ابدی نظام موجود نہیں ہو سکتا؟
سائنس نے ہمیں دکھایا کہ کائنات کا ظاہری خول محض ایک انٹرفیس ہے جس کے نیچے ریاضیاتی قوانین اور معلومات کی ایک گہری تہہ کام کر رہی ہے؛ اور قرآنِ مجید ہمیں اس سے ایک قدم اور آگے لے جا کر بتاتا ہے کہ یہ پوری طبعی اور ریاضیاتی کائنات بھی بذاتِ خود منزل نہیں ہے، بلکہ ایک ابدی اور زندہ حقیقت (الحی القیوم اور الدار الآخرۃ) کی طرف لے جانے والی ایک عظیم الشان گزرگاہ ہے۔
یہاں پہنچ کر انسانی شعور ایک عجیب دوراہے پر آ کھڑا ہوتا ہے۔
ایک طرف سائنسی تجربہ گاہوں کی وہ میز ہے جہاں انسان نے ایٹم کا جگر چیر کر کوانٹم امکانات کو تو دیکھ لیا، لیکن وہاں اسے ہائزنبرگ کے اصولِ عدم تعین، گوڈل کے نامکملیت کے قضیے (Gödel’s Incompleteness Theorems) اور کائناتی افق (Cosmological Horizon) کی صورت میں ایسی آہنی دیواریں نظر آئیں جو پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ انسانی پیمائش اور مشاہدے کی ایک حد ہے جس سے آگے تمہارے آلات کبھی نہیں جا سکتے۔
اور دوسری طرف قرآنِ مجید کا وہ اولین مطالبہ ہے جو سورۃ البقرہ کے آغاز ہی میں متقین کی سب سے پہلی صفت کے طور پر انسان کے سامنے رکھا گیا ہے: ’’الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ‘‘، وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔
لیکن یہ ’’غیب‘‘ آخر کیا ہے؟
کیا غیب سے مراد محض وہ سائنسی حقائق ہیں جو کل تک انسان کو معلوم نہیں تھے اور آج ٹیلی اسکوپ یا مائیکرو اسکوپ سے معلوم ہو گئے ہیں، یا غیب حقیقت کا کوئی ایسا دائرہ ہے جو اصولی طور پر ہی وقت، خلا اور طبعی آلات کی دسترس سے باہر ہے؟
جدید سائنس کی حتمی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور ’’علمِ غیب‘‘ کا اصل مفہوم کیا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جو ہمیں حقیقت کی بحث سے نکال کر علم کی حدود کے اس نازک ترین مقام پر لے جاتا ہے جہاں سے ہماری اگلی قسط کا آغاز ہوگا۔