ناول: میری قبر میرا گھر۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر عمران انجم

ناول: میری قبر میرا گھر

تحریر: ڈاکٹر عمران انجم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ناول: میری قبر میرا گھر۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر عمران انجم)ملکہ کے پرشکوہ دربار میں پھیلی ہوئی معطر فضا اچانک ایک گہرے، پراسرار سکوت میں ڈوب گئی، جیسے دانیال کے ان غیر متوقع اور بصیرت افروز الفاظ نے اس عظیم الشان جادوئی ایوان کے در و دیوار پر کوئی نادیدہ سحر طاری کر دیا ہو۔ اس دوسری ملکہ کی آنکھوں میں دانیال کا یہ انکار سن کر غضب یا ناگواری کے بجائے حیرت اور احترام کی ایک ایسی لہر دوڑی جس نے اس کے چہرے کے وقار کو مزید نکھار دیا۔ وہ چند لمحات کے لیے خاموش رہی، اور پھر اپنے زریں اور سنہری تخت سے ذرا سا آگے کی طرف جھکتے ہوئے، نہائت گہرے اور فکر انگیز لہجے میں گویا ہوئی:

"اے جوانمرد اور نورانی روح! ہمارے اس صدیوں پرانے، تاریک اور سحر زدہ جنگل میں اجل کے خونخوار عفریتوں اور کرتوس جیسی مکار ملکہ کے قہر سے بچ نکلنے کے بعد، ہر روح کی پہلی اور اخلاقی خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ اسے اس دشتِ بلا سے نجات ملے اور وہ اپنے جسدِ خاکی کو خاکِ پاک کے سپرد کر کے سکون کی ابدی منزل کی طرف کوچ کر جائے۔ مگر تو ایک عجیب اور نایاب مسافر ہے جو آزادی اور تسکین کے بالکل دہانے پر کھڑا ہو کر بھی، محض مظلوموں کے درد اور باطل کی سرکوبی کی خاطر اپنے اس کربناک سفر کو طول دینے پر بضد ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ تیری اس بے لوث قربانی اور ایمانی پختگی نے مجھے یہ ماننے پر مجبور کر دیا ہے کہ حق کا نور واقعی دنیا کی تمام سفلی طاقتوں کے مجموعے سے کہیں زیادہ زبردست اور جلیل القدر ہوتا ہے!”

دانیال نے اپنے نورانی اور لطیف وجود پر قائم ایمانی وقار کو قائم رکھتے ہوئے، اپنی نظریں اس رحمدل ملکہ کے چہرے پر جمائیں اور انتہائی ملائم مگر چٹان کی طرح مضبوط آواز میں عرض کیا، "محترم ملکہ! انسان کا یہ فانی جسم تو مٹی کی ایک عارضی ڈھیری ہے جو بالآخر مٹی ہی میں مل کر پیوندِ خاک ہو جائے گا، مگر روح کا سچا امتحان اور اس کی اصل عظمت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے خالق کے بندوں کو ظالموں کے چنگل سے چھڑانے کے لیے کس حد تک اپنے آرام کو قربان کر سکتی ہے۔ میں اپنی اس عبرت ناک قبر اور گلتے سڑتے جسم کی تکلیف کو اس وقت تک خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کو تیار ہوں، جب تک اس تاریک جنگل کی آخری گلی اور ہر سیاہ غار میں قید و بند کی صعوبتیں سہنے والے آخری مظلوم انسان کو آزادی کا مژدہ نہیں مل جاتا۔”

دانیال کے اس ایثار اور جذبے سے لبریز جواب نے اس بزرگ ساتھی روح کے وجود میں بھی عقیدت اور فخر کی ایک نئی لہر دوڑا دی، جس نے دانیال کے شانے پر اپنا نورانی ہاتھ رکھتے ہوئے ملکہ سے مخاطب ہو کر کہا، "ملکہ عالیہ! دانیال کا یہ فیصلہ جذبات کا عارضی طوفان نہیں، بلکہ اس رب العزت کی طرف سے ودیعت کردہ بصیرت کا نتیجہ ہے جو ہر دور میں حق کے مجاہدوں کو باطل کے گھتاٹوپ اندھیروں میں چراغِ ہدایت بنا کر کھڑا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنی تدفین کی تمنا میں اس وقت یہاں سے رخصت ہو گئے، تو ملکہ کرتوس کا وہ شیطانی انتقام اور سفلی طوفان ان دیگر بقیہ مظلوم قیدیوں کو نگل جائے گا جن کی آہیں اور سسکیاں ابھی بھی اس دشت کے سیاہ گوشوں سے ہمارے قلوب تک پہنچ رہی ہیں۔”

ملکہ نے دانیال اور اس بزرگ روح کے اس اٹل فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ کی نازک انگلی سے فضا میں ایک معلق، چمکتا ہوا دائرہ تخلیق کیا، جس میں سے نیلگوں شعلوں اور معطر دھویں کی لکیریں پھوٹنے لگیں۔ اس نے نہائت سنجیدگی سے دانیال کو خبردار کرتے ہوئے کہا، "اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے، تو پھر اب تمہیں ایک ایسے طوفان کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا جس کی ہولناکی کی مثال اس جنگل کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ملکہ کرتوس اپنے قالین کی رسوائی اور اپنے شیطانی لشکر کے پاؤں اکھڑنے کا بدلہ لینے کے لیے اس وقت اپنی سلطنت کے سب سے پرانے اور خوفناک سفلی جادوگر ‘اذرازول’ کی ناپاک روح کو بیدار کر رہی ہے۔ وہ ایک ایسا خونخوار عفریت ہے جس نے گزشتہ کئی صدیوں سے ہزاروں ارواح کو اپنے سیاہ طلسم کے سانچے میں ڈھال کر ان کی تمام تر نورانی قوتوں کو نچوڑ لیا ہے!”

اسی اثنا میں، صحرا کا وہ خطہ جہاں دانیال اور اس کے بزرگ ساتھی کی بے گور و کفن لاشیں زہریلی ریت قریب بکھری پڑی تھیں، اچانک ایک شدیید اور لرزہ خیز زلزلے کی لپیٹ میں آ گیا۔ زمین کے سینے سے سیاہ دھویں کے ایسے ہولناک مرغولے بلند ہونے لگے جن سے ابلنے والی تعفن اور تپش نے ارد گرد کی فضا کو کسی جلتے ہوئے دوزخ کی مانند بنا دیا۔ ملکہ کرتوس، جو اپنے جادوئی قالین پر غضبناک صورت بنائے معلق تھی، نے اپنے سامنے کھڑے اس دیو ہیکل اور بھیانک سیاہ وجود ‘اذرازول’ کو اشارہ کرتے ہوئے چیخ کر حکم دیا، "اے تاریکی کے بادشاہ! ان دونوں مغرور اور نورانی ارواح کے وجود کا ذرہ ذرہ اس طرح جلا کر راکھ کر دو کہ ان کی روحوں کی چیخیں بھی ازل تک اس جنگل کی فضا میں نہ سنائی دیں!”

اذرازول نے اپنی سرخ، انگاروں کی طرح دہکتی ہوئی آنکھوں سے دانیال کی لاش کی طرف دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے سیاہ شعلوں پر مشتمل ایک ایسا جادوئی جال پھینکا جو براہِ راست ان ارواح کی معنوی جڑوں کو کاٹنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ ناپاک اور سفلی جال دانیال کی لاش اور اس کی روح کی بالائی سرحدوں کو چھوتا، دانیال اور وہ بزرگ روح ہوا کی رفتار سے بھی تیز پرواز کرتے ہوئے اپنے جسدِ خاکی کی حفاظت کے لیے وہاں پہنچ گئے!

دانیال نے اپنے نورانی وجود کے تمام تر ایمان، توکل اور کلامِ حق کے جلال کو اپنے سینے میں مجتمع کیا اور ایک ایسی عالمگیر اور گرج دار اذان و تکبیر کی صدا بلند کی جس کی ہیبت سے نہ صرف وہ سیاہ جادوئی جال ہوا میں ہی ریزہ ریزہ ہو کر جھڑ گیا، بلکہ خود ‘اذرازول’ کا دیو ہیکل وجود بھی شدید روحانی جھٹکے سے پیچھے ہٹ کر دہاڑنے پر مجبور ہو گیا۔ جنگل کے وہ تمام درندے، شیاطین اور خبیث ارواح، جو کرتوس کے اشارے پر اس بھیانک تماشے کا حصہ بنے ہوئے تھے، اس آسمانی جلال کے سامنے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے زمین پر گر کر تڑپنے لگے۔

ملکہ کرتوس نے جب دیکھا کہ اس کا سب سے بڑا سفلی ہتھیار بھی دانیال کے ایمانی حصار کے سامنے بے بس ہو رہا ہے، تو اس کے چہرے سے تکبر کی آخری رمق بھی رخصت ہونے لگی اور اس کی جگہ ایک ایسے خوف اور ہولناکی نے لے لی جس کا اس نے اپنی صدیوں پرانی سلطنت میں کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا! مگر دوسری طرف، وہ دوسری رحم دل ملکہ بھی اپنے طاقتور عفریتوں کا لشکر لے کر افق پر نمودار ہو چکی تھی تاکہ حق اور باطل کے اس حتمی اور لرزہ خیز معرکے میں دانیال کی حمایت کر سکے۔

فضا میں ایک طرف سیاہ اور آتشیں سفلی منتروں کا زہریلا طوفان اٹھ رہا تھا، تو دوسری طرف دانیال کی نورانی روح سے نکلتی ہوئی سفید اور نیلگوں الشعاعیں اس پورے جنگل کو حق کی روشنی سے منور کر رہی تھیں—ایک ایسا سنسنی خیز اور اعصاب شکن موڑ، جہاں اب اس جنگل کی پوری ابلیسی سلطنت کا وجود ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹنے کی تاریک سرحد پر کھڑا تھا

حق اور باطل کی اس معرکہ آرائی میں اس قدیم اور ہیبت ناک جنگل کا جغرافیہ کسی دوزخی نقشے کی مانند پھیل چکا تھا۔ ایک طرف جہاں ملکہ کرتوس کی سفلی سلطنت واقع تھی، وہاں صد سالہ پرانے، خون آشام اور بچھوؤں کی طرح لپٹے ہوئے درختوں کا ایک گھنا جنگل تھا جن کے سیاہ تنوں سے تیزاب جیسا زہریلا رساؤ مسلسل ٹپکتا رہتا تھا۔ زمین پر بدبودار دلدلوں کا جابجا جال بچھا تھا، جہاں سے گندھک اور جلے ہوئے گوشت کا تعفن اٹھ کر فضا کو گھٹن زدہ بنا رہا تھا، جبکہ دوسری طرف دور افق پر رحمدل ملکہ کا معطر، زمردیں اور شاداب خطہ چمک رہا تھا مگر اس وقت وہ پُرِقہر فضا سیاہ اور نیلگوں بادلوں کی خونخوار لپیٹ میں آ چکی تھی۔

جنگ کا وہ ہولناک اور اعصاب شکن ماحول ہر زندہ اور غیر مادی وجود کو کپکپا دینے کے لیے کافی تھا۔ آسمان سے شعلوں اور سیاہ پتھروں کی ایسی کلاکارانہ بارش ہو رہی تھی جیسے کائنات کی ساری تاریکی اس وادی میں سمٹ آئی ہو۔ ملکہ کرتوس اپنے زریں قالین پر کھڑی، خون سے لت پت ہاتھوں کو فضا میں لہراتے ہوئے، ‘اذرازول’ اور اپنے ہزاروں بھیانک عفریتوں کی مدد سے اپنے تمام تر سفلی جادو، ابلیسی منتروں اور جلا دینے والی اگنی کا آخری طوفان دانیال کی طرف انڈیل رہی تھی۔ فضا میں خوفناک چیخوں، ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آوازوں اور گرج دار دھماکوں کا ایک ایسا شور برپا تھا کہ زمین کا سینہ پھٹنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔

مگر دانیال کی لطیف اور پرجلال روح نے اپنے رب العزت کی توحید اور کلامِ الٰہی کی تابانی پر ایسا کامل توکل قائم کر رکھا تھا کہ وہ اس کے سامنے ایک ناقابلِ تسخیر پہاڑ بن کر کھڑی رہی۔ دانیال نے اپنے دونوں ہاتھ فلک کی طرف بلند کیے اور اپنے قلب و روح کی اتھاہ گہرائیوں سے باطل کو لرزا دینے والے ایمان باللہ کے کلمات کی ایسی فلک شگاف صدا بلند کی کہ اس کی نورانی چمک سے وادی کے تمام ابلیسی منتر سائے کی طرح جھلسنے لگے۔ نیلگوں اور سفید روحانی روشنی کا ایک ایسا عالمگیر شعلہ پھوٹا جس نے ملکہ کرتوس کے تمام تر زہریلے حصاروں کو پلک جھپکتے میں بھسم کر دیا۔

ملکہ کرتوس نے جب دیکھا کہ اس کا صدیوں پرانا سفلی علم اور ابلیسی جادو اس پاکیزہ اور ربانی نور کے سامنے ریزہ ریزہ ہو رہا ہے، تو اس کے چہرے کی مکارانہ تمکنت شدید ہولناکی اور دردناک شکست میں بدل گئی۔ دانیال کی روح سے نکلتی ہوئی اس سچائی کی تپش نے کرتوس کے سفلی وجود کو اندر سے نچوڑ کر رکھ دیا۔ وہ اپنے جادوئی قالین سے توازن کھو کر زمین پر آ گری اور شدید کرب سے تڑپتی ہوئی، گھسٹتے ہوئے دانیال کی نورانی روح کے قدموں میں جا پڑی۔ اس کی آنکھوں میں التجا، ندامت اور موت کا گہرا سایہ صاف نظر آ رہا تھا—اور اسی بے بسی کے عالم میں، دانیال کے قدموں کے پاس ہی اس کا شیطانی وجود دم توڑ گیا۔

ملکہ کے اخری سانس لیتے ہی، زمین کے بطن سے ایک ایسا لرزہ خیز اور گھمبیر طوفان اٹھا جس کی کالی آندھی نے پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ زمین کے اندر سے سرخ اور سیاہ گرد کا ایک ایسا بونڈل ابھرا جس نے ملکہ کرتوس کی لاش کو گھیر لیا اور چند ہی ثانیوں میں، ایک فلک شگاف دھماکے کے ساتھ وہ بدبودار لاش ہوا میں بالکل غائب اور ناپید ہو گئی!

جس لمحے لاش غائب ہوئی، تو فضا کا تمام تعفن اور سحر زدہ بوجھ اچانک کافور ہو گیا۔ ملکہ کرتوس کے وہ تمام دیو ہیکل عفریت، شیطانی شیاطین اور وہ تمام جنگلی انسان جو سالہا سال سے اس کے سفلی جادو کی غلامی اور قید میں وحشی بنے ہوئے تھے، اس غیبی معجزے کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ ان پر جیسے ایک دم سچائی کا انکشاف ہوا؛ ان کے ہتھیار خود بخود ان کے ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پر گر گئے اور ان تمام ہزاروں عفریتوں اور جنگلی انسانوں نے نہایت ہی عقیدت، احترام اور عاجزی کے ساتھ دانیال کی چمکتی ہوئی نورانی روح کے آگے اپنے سر جھکا دیے! وہ سب ایک ساتھ جھک کر دانیال کی حاکمیت کا اعتراف کر رہے تھے اور ان کی خاموش نگاہوں میں آزادی کا تشکر جھلک رہا تھا۔

اس جذباتی اور سحر انگیز منظر کے دوران، وہ دوسری رحمدل ملکہ جو جنگ کی اس ہولناک گھڑی میں اپنے لشکر کے ساتھ دانیال کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، آہستہ سے دانیال کی نورانی روح کے قریب آئی۔ اس کے وقار سے بھرپور چہرے پر مسرت اور گہری عقیدت کا امتزاج تھا۔ اس نے دانیال کی طرف دیکھتے ہوئے نہائت شفقت اور احترام سے بھرپور لہجے میں کہا:

"اے پاکیزہ اور عظیم المرتبت ابنِ آدم! مبارک ہو کہ حق نے آج باطل کے اژدھے کا سر کچل دیا ہے۔ مگر دانیال! اب اس جنگل کے قوانین کے مطابق، تمہیں ایک دنیاوی جسم اور مکمل وجود کی شدید ضرورت ہے… تم نے یہاں کے ظالم حکمران کو زیر کر کے اس کی تاریک سلطنت کا خاتمہ کیا ہے، اور اس دشتِ قدیم کا صدیوں پرانا قانون یہی کہتا ہے کہ جو اس سلطنت کے جابر بادشاہ کو شکست دیتا ہے، وہی اس پوری وادی کا نیا حکمران اور تاجدار بنتا ہے۔ اب یہ تمام عفریت، یہ تمام آزاد ہونے والے انسان اور یہ وسیع و عریض جنگل تمہاری قلمرو میں آتے ہیں۔ یہاں اب تمہاری حکومت اور عدل کا پرچم لہرائے گا!”

ملکہ کے یہ الفاظ سن کر دانیال کی روح ایک بار پھر ایک گہرے تدبر، باطنی تحیر اور امتحانی احساس کے بھنور میں ڈوب گئی…

جاری ہے…